Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 14
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 24/05/2026
1 Views
Episode no 14
بھی سیلری کے نام پر نہیں دی۔۔بلکہ آپ ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ ہم بھی نیو ہیں آہستہ آہستہ سب ہوجائے گا۔۔اسٹاف کے نام پر دس لوگ ہیں یہاں وہ بھی گزشتہ ڈیڑھ ماہ میں دو بار بدل چکے ہیں۔۔ ایک میں فرد واحد ہوں جو پرانا ہوں،باقی آپ کا اسٹاف تو ہر دس دن بعد تبدیل ہوجاتا ہے۔۔کیونکہ مجتبیٰ آصف کے سوا کوئی بیوقوف تو نہیں جو بغیر سیلری کے کام کرے گا۔‘‘مجتبیٰ کی بس ہوئی تھی۔۔۔ ’’مسٹر مجتبیٰ ایک نون گریجوئٹ کو میرے علاوہ کوئی جاب دے گا بھی نہیں۔۔‘‘مجتبیٰ ہولے سے مسکرایا۔۔ ’’ مانا کہ مجبور ہوں مگر اتنا بھی نہیں کہ آپ جیسے فراڈی شخص کے پاس کام کرتا رہوں۔۔مہینے کی دس کو آؤنگا اپنی سیلری لینے۔۔ ‘‘وہ غصے سے بول کر جانے لگا۔۔ ’’کونسی سیلری بھئی؟؟‘‘انہوں نے نظریں ایسے پھیری تھیں گویا کعبے سے بت پھر گئے ہوں جیسے۔۔ ’’اوہ رئیلی کونسی سیلری؟؟بات سُنیں میری۔۔اُس آفس میں جتنے لوگ بیٹھے ہیں نا انہیں ابھی جاکر کہونگا کہ تم یہاں بیٹھ کر سب سے مفت میں اپنا کام نکلوا رہے ہو۔۔ اور یہاں آفس میں بیٹھ کر کیمرے سے لڑکیوں کے ہر ایکٹ پر نظر رکھی ہوئی ہے اور بعد میں انہیں بلیک میل بھی کروگے۔‘‘ وہ درشت لہجے میں ڈیسک بجا کر بولا تو مقابل ذرا چونک کر پیچھے ہوا۔۔ ’’بلکہ نہیں میں ایسا ہی کرونگا۔۔‘‘وہ کچھ سوچ کر باہر کی جانب بڑھا۔۔ ’’مسٹر مجتبیٰ ہم بیٹھ کر بات کرلیتے ہیں۔۔‘‘وہ جلدی سے پیچھے بھاگا۔۔ ’’ہیلو گائز۔۔بات سنیں میری ۔۔آپ یہاں جتنے لوگ موجود ہیں آپ سب نیو ہیں۔کیونکہ کوئی پرانا ان کے پاس ٹکتا ہی نہیں ہے۔۔‘‘سب اسکی جانب متوجہ ہوگئے تھے۔۔دوسری اور اہم بات۔۔ ’’یہ یہاں بیٹھ کر اسکیم کر رہے ہیں۔۔باہر سے کلائیٹ لیتے ہیں ہم سے کام کراتے ہیں۔۔ڈالرز میں پیمنٹ ریسیو کرتے ہیں۔۔اور کسی کو کوئی سیلری وغیرہ نہیں دیتے۔تو اب آپ لوگ جو یہاں کام کرنا چاہتا ہے اسکی مرضی ہے۔جبکہ میں یہاں دو ماہ سے کام کرہا ہوں اور انہوں نے مجھے سیلری کے نام پر پھوٹی کوڑی بھی نہیں دی۔۔۔‘‘وہ درشت لہجے میں بولا تھا۔۔جبھی اسکی پرسنل اسٹنٹ لڑکی بھاگتی ہوئی اسکی جانب آئی۔۔ جو شاید چھ ماہ پرانی تھی۔۔اور بوس کی زیادہ ہی منہ چڑی تھی۔۔ ’’سر بات سنیں۔۔آپ اس طرح نہیں کر سکتے،،ورنہ ہم پولیس کو کال کریں گے۔۔‘‘اس لڑکی نے دھمکانا چاہا۔۔سب خاموشی سے یہ تماشہ ملاحظہ کر رہے تھے۔ ’’پولیس کو کال کرونگا میں۔۔اور آپ خاتون ہیں لحاظ کر رہا ہوں۔زیادہ شاہ سے زیادہ شاہ کی وفادار بننے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔‘‘ مجتبیٰ نے انگشت شہادت اٹھا کر باز رکھا۔تو وہ لڑکی دو قدم پیچھے ہوئی۔۔ ’’ لڑکی ہیں اپنی عزت و وقار کا خیال رکھیں۔پیسے کے پیچھے اتنی اندھی نہ ہوں کہ صحیح غلط کا فرق بھول جائیں۔۔وہ شخص آپ کے باپ کی عمر کا ہے۔اگر کوئی مجبوری ہے بھی تو ڈھنگ کی جاب تلاش کرو۔۔‘‘مجتبیٰ کی صاف گوئی پر اس لڑکی کا چہرہ لہو رنگ ہوگیا تھا۔۔اور وہ پھر پیچھے ہٹتی چلی گئی تھی۔۔جبکہ سب اسٹاف ایک نظر ایک دوسرے کو دیکھ اپنا سامان سمیٹنے لگے تھے۔۔جب اس جگہ کا موجودہ حساب سے سب سے پرانا بندہ ہی یہ فرم چھوڑ گیا تھا تو باقی سب کا یہاں کیا کام تھا۔۔جبکہ اسکی پرسنل اسٹنٹ لڑکی سرخ چہرہ لئے آنکھوں میں ڈھیروں نمی لئے خاموش کھڑی رہ گئی۔۔
