Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 14
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 24/05/2026
1 Views
Episode no 14
ہارا جنون از_ہما_قریشی قسط_نمبر_14 دیکھتے ہی دیکھتے ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزر گیا تھا۔۔اس دن کے بعد سے مصطفیٰ اور ثمرہ میں بمشکل ایک یا دو بار ہی ملاقات ہو سکی تھی۔۔وہ دونوں اپنی جگہ خاموش تھے ۔۔رات کا کھانا عموما ساتھ ہی کھایا جاتا تھا۔۔مگر اب مصطفیٰ اسکی طرف سے بالکل لاتعلق ہوگیا تھا۔۔۔ ویسے بھی ثمرہ زنیرہ بیگم کے رویہ کی وجہ سے ہر اس جگہ سے غائب ہوجاتی تھی جہاں مصطفیٰ ہو۔۔انہیں اگر نہیں پسند تھا کہ وہ انکے بیٹے کے ارد گرد رہتی تو وہ بھی پیچھے ہٹ گئی تھی۔۔مصطفیٰ بھی آج کل کورٹ کی پیشیاں بھگتانے اور بزنس میں مصروف تھا۔۔عریشہ نے مصطفیٰ کے ساتھ ہی بزنس میں انویسٹ کر دیا تھا ،اور اب وہ ساتھ میں فورٹی پرسنٹ کی پارٹنر بن گئی تھی۔۔ شارق کی رہائی ابھی تک نہیں ہوسکی تھی۔۔جبران کو بزنس میں دن با دن لاس ہوتا چلا جا رہا تھا۔۔قصویٰ گھر کے ماحول سے تنگ آکر اپنی دوستوں کے ساتھ پکنک پر چلی گئی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’آنٹی کھانے میں کیا بنے گا؟؟‘‘ خود کو مصروف رکھنے کی خاطر اب باقاعدہ طور پر کچن کی بہت سی زمہ داریاں اس نے اپنے سر لے لیں تھیں۔۔زنیرہ نے بھی اسے مصطفیٰ سے فاصلے پر دیکھ چپ سادہ لی تھی۔۔ ’’جو مرضی چاہے بنا لو۔۔۔‘‘انہوں نے نخوت بھرے لہجے میں کہا۔۔ ’’کیا آپ مجھ سے اپنی ناراضی ختم نہیں کر سکتیں۔۔اب تو میں اپنے بھائی کی رہائی کی ضد بھی چھوڑ چکی۔۔مصطفیٰ مجھے اپنے نکاح میں لینے کے لئے ہر گز بھی راضی نہیں تھے۔۔یہ تو بس میں ہی تھی جو مصطفیٰ کو اموشنلی بلیک میل کر رہی تھی بس اسی لئے وہ مجھے اپنے نکاح میں لینے کے لئے مجبور ہوگئے۔۔‘‘ثمرہ نے خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارتے زنیرہ کو اس حقیقت سے آگاہ کیا تھا جو مصطفیٰ نے پردے میں رکھی تھی۔۔ ’’کیا کہا تم نے لڑکی؟‘‘انہوں نے کڑے تیوروں سے پوچھا۔۔ ’’آنٹی مصطفیٰ کی کوئی غلطی نہیں ہے۔‘‘ثمرہ نے ایک بار پھر صفائی پیش کی۔۔ ’’اچھا۔۔۔جاؤ یہاں سے۔۔انہوں نے فوری اسے چلتا کیا۔۔جبکہ وہ ناسمجھی سے انہیں دیکھتی کمرے سے نکل آئی تھی۔۔جو اب سائیڈ ٹیبل سے مزمل کی تصویر اٹھاتی اسے یاد کر ایک بار پھر سے رونے لگی تھیں۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’جبران صاحب۔۔شارق کی ضمانت کا کیا بنا؟‘‘فرناز بیگم اپنے شوہر کے برابر میں آکر بیٹھی تھیں۔۔ ’’ ابھی ممکن نہیں۔۔‘‘انہوں نے نڈھال لہجے میں کہا۔۔ ’’تو کیا آپ اپنے اکلوتے بیٹے کو پھانسی کے پھندے پر چڑھنے دیں گے؟‘‘جبران صاحب نے ایک قہر بھری نگاہ ڈالی،جو دل مٹھی میں لینا خوب جانتی تھیں۔۔ ’’اگر تم میری کسی پریشانی کا کوئی ہل نہیں نکال سکتی نا تو بہتر ہے اپنا منہ بند رکھو۔‘‘انہوں نے درشت لہجے میں کہا تھا۔۔ ’’اچھا مرضی ہے آپ کی۔۔ویسے وہ ہمارے گھر ملازمہ نہیں آتی تھی کام کرنے کے لئے۔۔اس سے ملاقات ہوئی تھی میری ۔۔۔مصطفیٰ کے گھر میں ملازمت کر رہی ہے اب وہ۔۔۔‘‘انہوں نے تہمید باندھی۔۔ ’’تو؟؟‘‘انہوں نے ناسمجھی سے اپنی بیوی کو دیکھا۔۔ ’’تو یہ کہ وہ مجھے بتا رہی تھی کہ ثمرہ وہاں بہت خوش ہے۔۔ احد مصطفیٰ اور ثمرہ نے یہ نکاح اپنی مرضی سے کیا ہے۔۔وہ پلکوں پر بیٹھا کر رکھتا ہے ثمرہ کو۔یہاں تک کے اپنی ماں تک سے لڑ جاتا ہے۔۔ وہاں بہت عیش میں ہے آپ کی بیٹی۔۔۔۔‘‘انہوں نے نگاہیں چرا کر شوہر کو مرچ مصالحہ لگا کر آ گاہ کیا تھا۔۔ ’’آپ کے کہنے کا مطلب ہے کہ ثمرہ نے اپنی مرضی سے نکاح کیا ہے؟؟تو پھر وہ کیا تھا جو قصویٰ نے کہا۔۔۔اور جو احد مصطفیٰ نکاح کے فوراً بعد ثمرہ کو یہاں لایا تھا؟‘‘انہوں نے درشت لہجے میں استفسار کیا۔۔ ’’وہ تو صرف زنیرہ کا رویہ اچھا نہیں ۔ ثمرہ تو احد مصطفیٰ کے ساتھ بہت خوش ہے۔۔اور زنیرہ تو ویسے بھی ساس ہیں۔۔اور ساس تو ایسے ہی ہوتی ہیں۔۔دوسری بات کہ جو بھی ہے اب مزمل انکا بیٹا تھا۔۔‘‘فرناز نے ناک بھنوئیں سمیٹی تھیں۔۔ ’’میں تو کہہ رہی ہوں آپ احد مصطفیٰ سے اونچی سورسز کا استعمال کریں۔۔اور شارق کی ضمانت لگا لیں،ساتھ ہی ہم وکیل کو ساتھ لے کر جائیں گے اور ثمرہ کو بھی اپنے ساتھ لائیں گے۔۔آگر ثمرہ وہاں رہی تو مستقبل میں وہ ہمیں اس کے تھرو بلیک میل کر سکتے ہیں۔۔‘‘کچے کانوں کے جبران صاحب فوری اپنی بیوی کی من گھرٹ کہانیوں پر ایمان لے آئے تھے۔۔ ’’اچھا چلیں چھوڑیں۔۔میں آپ کو بتاتی ہوں آگے کا لائحہ عمل۔۔۔‘‘وہ شوہر کو گہری سوچ میں ڈوبا خاموش دیکھ اپنا زہنی فطور انکے گوش گزار کرنے لگی تھیں۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’مصطفیٰ!‘‘عریشہ اسکے عین مقابل بیٹھی ،آفس میں موجود تھی۔۔جو لیپ ٹاپ اسکرین پر جھکا تیزی سے کچھ ٹائپ کرنے میں مصروف تھا۔۔ ’’ہمم!‘‘اس نے ہنکار بھرا۔۔۔ ’’میں اگر کچھ کہوں تو تم مائنڈ تو نہیں کرو گے؟‘‘وہ ذرا جھجھک کر بولی۔۔ ’’ کہو۔۔‘‘وہ اب باقاعدہ طور پر اسکی جانب متوجہ ہوا تھا۔۔ ’’ کیا تمہارے اور ثمرہ کے درمیان سب کچھ نارمل ہے۔۔‘‘مصطفیٰ نے ایک گہری سرد آہ خارج کی تھی۔۔وہ سمجھ گیا تھا کہ وہ کیا کہنا چاہتی تھی۔۔ ’’کچھ عرصے میں ایک گرینڈ پارٹی میں ،میں ہماری شادی انونس کردونگا۔۔ماں ابھی مزمل کے صدمے سے گزری ہیں،،بس اسی لئے میں نے کوئی بھی فنکشن کرنے سے اجتناب کیا ہے۔۔لیکن ظاہر سی بات ہے اپنے اکلوتے بیٹے کی شادی کے حوالے سے بہت سے ارمان ہیں انکے۔۔اور میں ان سے انکی خوشیاں چھیننا نہیں چاہتا۔۔بس اسی لیے یہ میرا اور ثمرہ کا مشترکہ فیصلہ ہے کہ ہم جب تک الگ رومز میں رہیں گے۔۔‘‘اس نے اصل بات بتانے سے گریز ہی کیا تھا۔۔ اچھا! لیکن ثمرہ مجھے مینٹلی اسٹیبل نہیں لگتی۔۔اور آنٹی کے بھی کچھ اچھے تاثرات نہیں ہیں تمہارے رشتے کو لے کر۔۔‘‘اس نے ذرا جھجھک کر اپنی رائے کا اظہار کیا تھا۔۔ تم اس کی فکر نہ کرو۔۔۔میں ہوں نا۔‘‘اس نے گویا بات ختم کی تھی۔۔ ’’ویسے تمہیں پتہ ہے۔۔کل پھر سے مجھے میرے رشتے داروں کے چیلے فالو کر رہے تھے۔‘‘ ’’اوہ۔۔۔وہ لوگ آخر چاہتے کیا ہیں؟‘‘مصطفیٰ کی پیشانی پر بل نمودار ہوئے۔ ’’یہی کہ میں کسی بھی طریقے سے انکے لاڈلے سے شادی کرلوں اور ان ڈائیریکٹلی یہ ساری جائیداد انکے نام ہوجائے۔۔‘‘وہ استہزائیہ مسکرائی تھی۔۔ ’’اوہ گاڈ۔۔‘‘ہمارے لوگ پتہ نہیں اس سیاست سے کب باہر آئیں گے۔‘‘اس نے تاسف کا اظہار کیا۔۔ ’’خیر تم چھوڑو۔۔میں تمہارے لئے ایک باڈی گاڑد کا انتطام کروا دیتا ہوں۔۔جو ہر لمحہ سائے کی طرح تمہارے ساتھ ہوگا۔۔‘‘وہ ذرا شرارت سے بولا۔۔ ’’اوہ کم آن مصطفیٰ۔۔‘‘وہ ہولے سے مسکرائی تو وہ بھی مسکرا کر اپنے کام میں غرق ہوگیا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آئزل اور اہان کی شادی کی تیاریاں زورو شور سے جاری تھیں۔۔اہان کو ایمرجنسی میں ملک سے باہر جانا پڑا تھا۔۔بس اسی وجہ سے رخصتی ایک ماہ تاخیر کا شکار ہو گئی تھی۔۔مجتبیٰ اپنی جاب پر تھا۔۔ جبکہ آئزل معمول کے مطابق گھر کے کاموں میں مصروف تھی۔جبھی کسی نے دروازہ پر دستک دی۔۔ ’’کون؟‘‘آئزل نے جلدی سے سرپر دوپٹہ اُوڑھتے دروازے کے پاس ٹھہر کر پوچھا۔۔ ’’بیٹا ہم ہیں۔۔انکل آنٹی۔۔‘‘باہر سے اسے مہروز صاحب کی آواز سنائی دی تھی۔۔آئزل نے جھٹ دروازہ کھول دیا تھا۔۔ ’’السلام علیکم!‘‘وہ خوش دلی سے بولی۔۔تحمینہ نے اسے ایک نظر دیکھ نگاہوں کا رُخ پھیر لیا تھا۔۔ ’’کیسی ہیں بیٹا؟‘‘مہروز نے شفقت بھرے لہجے میں استفسار کیا تھا۔۔ ’’اللہ کا کرم!آپ پلیز بیٹھیں ناں۔۔‘‘وہ انہیں لے کر گھر کے مہمان خانے میں آگئی تھی۔۔ ’’آپ کیا لیں گے ٹھنڈا یا گرم؟‘‘ اس نے مہمان نوازی نبھائی۔۔ ’’ارے کچھ بھی نہیں۔۔دراصل ہم آپ
