Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 14
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 24/05/2026
1 Views
Episode no 14
کو لینے آئے ہیں۔۔بھئی ویسے تو ہم نے سوچا تھا شادی کا جوڑا آپ اور اہان خود جاکر اپنی مرضی سے لے لیجئے گا مگر اب چونکہ اہان یہاں موجود نہیں ہے۔۔سو ہمیں ہی یہ کام کرنا ہوگا۔۔ہماری مجتبیٰ سے بات ہوگئی ہے۔آپ ہماے ساتھ چلیں شاپنگ پر۔۔۔‘‘انہوں نے نرمی سے کہا۔۔۔ ’’اچھا!‘‘اس نے لب دبائے۔۔ ’’کوئی پریشانی ہے؟‘‘انہوں نے متفسر انداز میں دریافت کیا۔ ’’ میں ایک بار مجتبیٰ سے پوچھ لوں۔۔‘‘تحیمنہ نے ناک چڑھا کر سر جھٹکا۔۔ ’’ضرور پوچھیں بھئی۔۔بلکہ اچھی بات ہے بھائی کو اعتماد میں لئے بغیر کوئی کام کرنا درست نہیں۔۔‘‘انہوں نے دھیرے سے مسکرا کر کہا تھا۔۔ ’’ہاں نکاح بھلے چھپ چھپا کر کرلو۔۔‘‘وہ دھیمی آواز میں طنزیہ بڑبڑائی تھیں۔۔ آئزل کا چہرہ شرمندگی سے سرخ پڑا تھا۔۔ ’’جاؤ بیٹا آپ جاؤ۔۔۔‘‘مہروز صاحب نے اسے جانے کا اشارہ کیا۔تو وہ خاموشی سے لب چباتی وہاں سے نکل آئی تھی۔۔ ’’تحمینہ حد کرتی ہو۔۔ بچوں نے یہ فیصلہ خود نہیں کیا تھا۔۔میں تمہیں بتا چکا ہوں کہ اگر اہان کو اپنے ہاتھ میں رکھنا ہے تو اسکی پسند نہ پسند کو اہمیت دو۔۔‘‘مہروز صاحب انکے کان کے قریب سختی سے غرائے تھے۔۔جو اب پنکھا چلنے کے باوجود گرمی لگ رہی ہے کا تاثر دیتیں اٹھ کھڑی ہوئیں تھیں۔۔ ’’آپ چڑھائے اس دو ٹکے کی لڑکی کو سر پر۔مجھ سے یہ ناز برداریاں نہیں ہوتیں۔۔اور میں آپ کو بتا رہی ہوں بھلے یہ ساری زندگی اہان کے ساتھ رہے مگر میں اہان کی شادی اپنے اسٹیٹس کے لوگوں میں لازمی کراؤنگی۔۔‘‘مہروز صاحب نے اپنی جذباتی بیوی کو دیکھ سر جھٹکا۔۔ ’’ہاں تمہارا لاڈلا تو جیسے چابی والا گڈا ہے نا جسے تم چابی دو گی اور وہ اس رخ کو چل پڑے گا۔۔‘‘وہ دانت پیس کر بولے جبکہ وہ سر جھٹک گئیں۔۔ ’’آئزل بیٹا !اور کتنی دیر ہے؟‘‘انہوں نے وہیں سے بیٹھے بیٹھے آواز لگائی۔۔ ’’جی بس آگئی انکل۔۔‘‘وہ مجتبیٰ سے اجازت لینے کے بعد کپڑے بدلتی چادرسر پر لیتی پندرہ منٹ بعد کمرے سے باہر آئی تھی۔۔ ’’چلیں؟‘‘انہوں نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔۔ ’’جی ضرور چلیں۔۔‘‘اب وہ تینوں آگے پیچھے ہی گھر سے نکلے تھے۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’عریشہ اس وقت اپنے آفس میں بیٹھی کام میں غرق تھی جبھی اسے ایک انجان نمبر سے کال موصول ہوئی تھی۔۔ ’’ہیلو!‘‘ چہرے پر نا سمجھی کے تاثرات تھے۔ ’’عریشہ سکندر؟‘‘دوسری جانب سے تصدیق کی گئی۔ ’’جی بات کر رہی ہوں۔۔‘‘اس کا ماتھا ٹھنکا۔۔۔ ’’کیسی ہیں ڈئیر کزن ۔۔‘‘دوسری جانب سے شوخ سی آواز ابھری تھی۔۔عریشہ کی پیشانی پر شکنوں کا جال سا نمودار ہوا۔۔ ’’تمہارے پاس میرا نمبر کہاں سے آیا؟‘‘ اس نے کڑے تیوروں سے پوچھا۔۔ ’’یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے۔۔یہ بتائیے آپ ہمارے گھر کب چکر لگا رہی ہیں؟‘‘ وہ سوالیہ لہجے میں گویا ہوا تھا۔۔ ’’کبھی بھی نہیں۔۔اور آئندہ مجھے کال نہ کرنا۔۔‘‘عریشہ نے غصے سے موبائل پٹختے رابطہ منقطع کردیا تھا۔۔۔ ’’کیا ہوا لڑکی۔۔اتنے غصے میں کیوں ہو؟‘‘آفس ڈور دھکیل کر اندر آتے مصطفیٰ نے اچبھنے سے اسکا یہ انداز نوٹس کیا تھا۔۔ ’’ بس ویسے ہی۔۔تم بتاؤ خیریت؟‘‘اسے ورکنگ آورز میں اپنے آفس میں دیکھ وہ ذرا حیران ہوئی۔۔ ’’ہاں سب خیریت ہی ہے۔۔دراصل مجھے اپنی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی۔۔اس سے پہلے کہ میں زیادہ بیمار ہوجاؤں اور کل کی میٹنگ اٹینڈ نہ کرسکوں اس لئے میں گھر جارہا ہوں۔۔تھوڑا ریسٹ کرونگا ۔۔‘‘وہ اپنا ماتھا کھجا کر ذرا تھکے ہوئے لہجے میں بولا تھا۔۔۔ ’’اوہ ہو۔۔تو آپ فوری گھر جائیں بھئی۔۔اور اپنی زوجہ سے اپنی کچھ خدمتیں کروائیں۔۔‘‘وہ ازلی شرارت سے بولی تھی تو مصطفیٰ ہولے سے مسکرایا۔۔ ’’سدھر جاؤ تم۔۔خیر میں نکلتا ہوں۔۔آج آفس کی بوس تم ہو۔۔‘‘ ’’اوکے باس!آپ فکر نہ کریں۔ہم سب کو تیر کی طرح سیدھا کردیں گے۔۔‘‘وہ بھی شرارتی لہجے میں بولی تو وہ تھمبز اپ کا اشارہ کرتا خود کوٹ جھٹکتا آفس سے باہر نکل گیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ثمرہ اس وقت لان میں بیٹھی کسی کتاب کا مطالعہ کرنے میں غرق تھی۔۔جبھی کار پورچ میں گاڑی رکنے کی آواز سنائی دی تھی۔۔ ثمرہ نے ذرا چونک کر اسکی گاڑی کو دیکھا تھا۔۔مصطفیٰ آج جلدی گھر واپس آ گیا تھا۔۔ جبکہ وہ آنکھوں پر سن گلاسز چڑھاتا اب اسی کی جانب قدم بڑھا رہا تھا۔۔وہ فوری سیدھی ہوکر بیٹھی تھی۔۔ آلمنڈ کلر کے پینٹ کوٹ میں ملبوس مصطفیٰ کی چھپ ہی نرالی تھی۔۔وہ پہلے سے زیادہ ہینڈسم اور پرکشش ہوگیا تھا۔۔یا یہ صرف اسکی محبوبانہ نگاہوں کا دھوکہ تھا۔۔وہ قریب آتا اب اسکے پاس ہی بیٹھ گیا تھا۔ ’’آپ اس وقت یہاں کیا کر رہی ہیں؟‘‘ اگر چہ دوپہر ڈھل چکی تھی۔۔مگر پھر بھی دھوپ میں ابھی تپش باقی تھی۔۔ ’’کچھ نہیں بس ویسے ہی باہر آگئی تھی۔۔‘‘ وہ مصطفیٰ کی آواز پر گڑبڑ اکر ہوش میں آئی ،تو وہ سمجھ کر سر ہلاگیا۔۔ وہ اس وقت سرُخ رنگ جوڑے میں ملبوس اداس گلاب لگ رہی تھی۔۔ ’’آج آپ جلدی واپس آگئے۔۔‘‘ہاتھ میں پکڑی کتاب ذرا جھک کر سامنے پڑی میز پر رکھی تھی۔۔جس کے باعث بالوں کی آبشار پھسل کر کندھوں سے نیچے آگری تھی۔۔ ’’جی بس ذرا طبیعت ڈاؤن لگ رہی تھی۔۔‘‘اس نے اس بار ماتھا مسلا تھا۔۔ ’’ تو آپ پھر ریسٹ کریں نا۔۔‘‘ وہ متفکر ہوئی۔۔ ’’جی روم میں ہی جارہا ہوں۔۔آپ ایک کام کیجئے الماس خالہ سے بولیئے گا میرے روم میں ایک کپ اسٹرونگ سی کافی پہنچا دیں۔۔‘‘وہ بولنے کے ساتھ ہی اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔۔ثمرہ کو اسکا یوں اجنبی رویہ بری طرح چبھا تھا۔۔ ’’میں بنا دیتی ہوں مصطفیٰ!‘‘وہ جو پلٹ کر جارہا تھا،اسکی آواز سن مزید کچھ کہے بغیر گھر کے اندرونی حصے کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔ جبکہ لب چباتی ثمرہ اسکی فکر میں تیزی سے پیچھے گئی تھی۔۔ اس رات کے بعد سے ناچاہتے ہوئے بھی ان دونوں کے درمیان ایک خلش سی آگئی تھی۔۔ مصطفیٰ کی یہ بیگانگی اب اسے کچوکے لگا رہی تھی۔۔مگر جو وہ چاہتا تھا اب وہ یہ سب کرنے سے قاصر تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’مجتبیٰ!‘‘وہ جو اپنی پوری توجہ سے سکرین پر نگاہیں جمائے اپنے کام میں غرق تھا،اپنے برابر والے کولیگ کی آواز پر چونکا۔۔۔ ’’کیا ہوا؟‘‘اس نے سوالیہ نگاہوں سے اسکی جانب دیکھا۔ ’’تمہیں سر نے بلوایا ہے۔۔‘‘ اس کی پیشانی پر بل نمودار ہوئے۔۔ ’’اچھا! چلو میں دیکھتا ہوں۔۔‘‘وہ اٹھ کر آفس کی جانب بڑھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’مے آئی کم ان سر!‘‘اس نے اجازت چاہی۔ ’’یس کم ان!‘‘فوری اجازت دی گئی۔وہ لب چباتا انکے سامنے ڈیسک کے سامنے جا کھڑا ہوا،مقابل فائلز ادھر ادھر پلٹا شیشے کے بھی کش لگا رہا تھا۔۔ ’’ مجتبیٰ آپ جس پروجیکٹ پر کام کر رہے تھے۔۔وہ کمپلیٹ ہوگیا؟‘‘انہوں نے کڑے تیوروں سے پوچھا۔۔ ’’نو سر!ابھی صرف چار دن ہی تو ہوئے ہیں۔۔میرا کلائینٹ سے وعدہ تھا کہ ہم انہیں یہ پروجیکٹ ٹین ٹو ففٹین ورکنگ ڈئیز میں فائنل کر کے دیں گے۔۔‘‘مجتبیٰ ذرا حیران ہوا۔۔ ’’ٹین ٹو ففٹین ڈیز؟؟آر یو ان سینسز مسٹر مجتبیٰ؟کلائینٹ ہمیں ڈالرز میں پے کر رہا ہے ہم زیادہ سے زیادہ سیون ورکنگ ڈیز میں اپنا آرڈر کمپلیٹ کر لیتے ہیں۔۔۔‘‘وہ استہزائیہ مسکرائے۔۔ ’’یو آر رائٹ سر!بٹ وہ ٹیم ورک ہوتا ہے۔۔یہ جتنا بڑا پروجیکٹ ہے میں اس پر اکیلا ہی ورکنگ کر رہا ہوں۔۔آپ میرے ساتھ تین سے چار بندوں کی ٹیم لگا دیں۔۔ آئی پرومس میں یہ پروجیکٹ دو دن میں آپ کے ہینڈ آور کردونگا۔۔۔‘‘مجتبیٰ کی پیشانی پر بل پڑے۔۔ ’’تو آپ کو کس لئے رکھا ہے یہاں۔۔آپ کو ِسیلری کس بات کی دے رہے ہیں؟‘‘ انہوں نے گھورا۔۔ ’’سوری سر!بٹ مجھے ڈیڑہ ماہ سے زیادہ ہوگیا ہے لیکن آپ نے ابھی تک سنگل پینی
