Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 12
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
0 Views
Episode no 12
مقابل کھڑی ہیں۔۔اور جو آپ کہہ رہی ہیں وہ میں کسی صورت برداشت نہیں کرونگا۔میں اس گھر میں ثمرہ کو نکاح کر کہ لایا ہوں کوئی ناجائز تعلق نہیں ہے ہمارا۔۔دوسری بات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ’’یہ کس انداز میں بات کر رہے ہیں مصطفیٰ آپ مجھ سے ۔۔میں ماں ہوں آپ کی۔۔‘‘ان کا چہرہ بیٹے کی بد تمیزی کے باعث سرخ پڑ گیا تھا۔۔ ’’مگر افسوس آپ یہ بھول گئیں ہیں کہ آپ اپنے بیٹے کے مقابل کھڑی ہیں۔۔اور جو آپ کہہ رہی ہیں وہ میں کسی صورت برداشت نہیں کرونگا۔میں اس گھر میں ثمرہ کو نکاح کر کہ لایا ہوں کوئی ناجائز تعلق نہیں ہے ہمارا۔۔دوسری بات ثمرہ میری بیوی ہیں۔۔اور اب مجھے لگتا ہے کہ مجھے جلد از جلد اس رشتے کے حوالے سے کوئی بڑا فیصلہ ضرور کر لینا چاہئے۔‘‘وہ انتہائی درشت لہجے میں بولا تھا۔۔ ’’کیا کہا تم نے مصطفیٰ؟پاگل ہوگئے ہو تم۔۔اس قاتل کی بہن کو اس گھر کی عزت بنانا چاہتے ہو۔۔۔تم شاید بھول گئے ہو کہ یہ لڑکی تمہارے بھائی کی قاتل ہے۔۔‘‘وہ ضبط کھوتیں بری طریقے سے چنگھاڑی تھیں۔۔مصطفیٰ نے لب بھینچ لئے تھے۔۔ ’’مام پلیز! بس کردیں۔۔میں نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ میں آپ کے بیٹے کے قاتل کو سزا ضرور دلاؤنگا۔لیکن ثمرہ اب میری بیوی ہیں۔۔میں چاہتا تو اسی روز رخصتی کر سکتا تھا ثمرہ کو اپنے روم میں رکھ سکتا تھا۔ مگر میں نے ایسا نہیں کیا کہ کہیں میری ماں کی فیلنگز ہرٹ نہ ہوجائیں۔۔جانتا ہوں۔۔بہت اچھے سے جانتا ہوں۔ اور سمجھتا بھی ہوں کہ ثمرہ آپ کے بیٹے کے قاتل کی بہن ہیں۔۔۔۔۔انہیں بہو کے طورپر قبول کرنا بہت مشکل ہے آپ کے لئے۔۔ مگر اس کا یہ مطلب تو ہرگز نہیں ہے کہ آپ ان کے ساتھ زیادتی کریں یا پھر کردار کشی پر اُتر آئیں۔جانتی ہیں نہ کسی پر بے بنیاد الزام لگانا کتنا بڑا گناہ ہے پھر میری ماں ایسا کیسے بول سکتی ہیں۔۔۔ وہ آپ کو اپنی ماں کی جگہ سمجھتی ہیں۔۔۔بلکہ وہ خود ہی دماغ سے پیدل ہیں۔۔خون بہا کی رٹ لگا کر رکھی ہوئی ہے۔ مگر وہ کوئی خون بہا میں آئی لڑکی نہیں ہیں۔۔آگر آپ کو لگتا ہے کہ میں ان سے اپنی دلی خواہش کے تحت نکاح کیا ہے تو ہاں ایسا ہی ہے۔۔اپنی محبت کو اپنانے کا اس سے اچھا موقع مجھے کبھی نہیں مل سکتا تھا۔‘‘وہ اچانک ہی سختی سے بولا تھا اور پھر بولتا ہی چلا گیا تھا۔۔ثمرہ اپنے کمرے کے دروازے سے ٹیک لگائے بیٹھی ہچکیوں سے رو رہی تھی۔۔۔مصطفیٰ کے لفظوں پر رُونے میں مزید تیزی آگئی تھی۔۔ ’’تم میرے بیٹے نہیں ہو۔۔میرے مصطفیٰ نے کبھی مجھ سے اونچی آواز میں بات تک نہیں کی تو بدتمیزی کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔۔اس لڑکی نے۔۔۔اس لڑکی نے بھڑکایا ہے نا تمہیں تاکہ یہ اپنے بھائی کو بھی بچا لے اور اس گھر میں بھی قدم جما لے۔۔‘‘وہ اب تک بد گمانی سے بول رہی تھی۔۔اس بار مصطفیٰ نے آنکھیں میچ کر خود پر ضبط کیا تھا۔۔اور پھر نرمی سے بڑھتا زنیرہ کو تھام گیا جو نڈھال سی بڑبڑاتی ہوئی اپنے آنسو خشک کر رہی تھیں۔۔
