Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 12
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
0 Views
Episode no 12
’’تو پھر ہمارا اسکیچ کب بنا رہی ہیں آپ۔۔‘‘مصطفیٰ کہ اس قدر اچانک کہنے پر ثمرہ کو بے ساختہ ہنسی آئی تھی۔۔اس نے ناسمجھی سے اسکی جانب دیکھا جبکہ وہ اپنی مسکراہٹ چھپانے کی غرض سے چہرہ جھکا گئی۔۔ ’’کیا ہوا ؟آپ مسکرائی کیوں؟‘‘اس نے نا سمجھی سے پوچھا۔۔جبکہ اسے مسکراتا دیکھ دل میں سکون سا بھر گیا تھا۔وگرنہ اس روز آفس میں جس ثمرہ کو دیکھا تھا تو اسے لگا وہ گویا مسکرانا ہی بھول گئی ہو۔۔۔۔۔۔ ’’ایک منٹ!‘‘وہ ہنسی ضبط کرتی اٹھ کر اپنے کمرے کی جانب بڑھی۔۔مصطفیٰ بھی متجسس سا اٹھ کر اسکے ہمقدم ہوا۔۔جو اسے ایک لمحے کو ٹھہر کر دیکھتی پھر کمرے کی جانب بڑھی تھی۔۔اور سائیڈ ٹیبل پر رکھا اپنا موبائل اٹھایا جو وہ اپنے گھر سے ساتھ لائی تھی۔۔ ’’یہاں آئیں۔۔‘‘اب وہ بیڈ پر پر ہی بیٹھ گئی تھی۔جبکہ ہاتھ تیزی سے موبائل کی ٹچ اسکرین پر چل رہے تھے۔۔مصطفیٰ ناسمجھی سے قریب گیا اور ساتھ ہی بیٹھ گیا تھا۔۔ ’’یہ رہا آپ کا پہلا کیچ جو میں نے ،تب بنانے کی کوشش کی تھی جب آفس میں ہماری پہلی ملاقات ہوئی تھی۔۔‘اس نے اپنے ابتدائی زمانوں کے کارنامے سامنے کیے،جس میں اچھا خاصہ اناڑی پن چھلک رہا تھا۔۔ ’’یار سیم آپ نے میرے فیس فیچرز بالکل بھی اچھے نہیں بنائے ہیں اور یہ میری ناک۔۔ کیا کردیا ظالم۔۔۔‘‘ اس نے موبائل اسکرین زوم کر کہ بغور جائزہ لیتے ہنسی ضبط کرتی ثمرہ کی جانب دیکھا۔۔ ’’تو اس وقت مجھے اتنا تھوڑی معلوم تھا۔۔اور یہ تو بس ویسے ہی بنائی تھی۔۔تب تو میرے پاس آپ کی کوئی تصویر بھی نہیں تھی۔۔بٹ میں نے اسے سنبھال کر رکھا ہے کیونکہ اس میں آپ کی ناک بہت فنی لگ رہی ہے۔۔۔‘‘وہ اپنے کارنامے پر خود ہی بہت خوش ہورہی تھی۔۔مصطفیٰ نے ذرا ناراضی سے اسکی جانب دیکھا تھا۔۔ ’’مجھ جیسے ہینڈسم سے بندے کی لُک بگاڑ دی آپ نے تو۔۔‘‘اس نے ایک بار پھر تصویر زوم کر کہ دیکھی تھی۔۔اس بات میں کوئی شک نہیں تھا کہ وہ ایک اچھی کوشش تھی۔۔ ’’آپ یہ بھی تو دیکھیں ناں کہ میری یاداشت کتنی تیز تھی صرف ایک بار کی ملاقات میں کاغذ پر اتار دیا آپ کو۔۔‘‘وہ اپنی صلاحیت کا احساس کراتی ذرا مغرور ہوئی۔۔ ’’اب مجھے کیا معلوم کہ مجھ ہینڈسم بندے پر آپ کی پہلے ہی دن سے نیت خراب تھی۔۔‘‘وہ لبوں پر مٹھی جماتا معنی خیزی سے بولا تو ثمرہ کو یکدم اپنی بے ساختگی کا احساس ہوا۔۔ ’’زیادہ خوش فہمی میں رہنے کی ضرورت نہیں ہے ،میری عادت ہے ہر خوبصورت چہرے کو کینوس پر اتارنے کی۔۔‘‘اس نے ناک چڑھا کر کہتے اسکے ہاتھ سے اپنا موبائل لیا،جو مزے سے تصویریں آگے پیچھے کرتا اب اسکی سیلفیاں دیکھنے لگا تھا۔۔ ’’چلیں چھوڑیں آپ بھی کیا یاد کریں گے۔۔میں اپنا دوسرا شاہکار دکھاتی ہوں آپ کو۔۔‘‘کچھ یاد آنے پر وہ پھر سے پرجوش ہوئی۔۔ ’’ناٹ اگین ثمرہ۔۔میں اپنی ناک پر کوئی کمپرومائز نہیں کرسکتا۔۔‘‘مصطفیٰ نے انگشت شہادت اٹھا کر اسے باز رکھنا چاہا۔۔ ’’ارے صبر تو کریں بھئی۔۔پہلے سے ہی رائی کا پہاڑ بنا لیا۔۔‘‘اس نے ایک نظر ناراضگی سے دیکھ اسکرین اسکے سامنے کی تھی۔۔مصطفیٰ ایک لمحے کو ٹھہر گیا تھا۔۔۔یہ ان دونوں کا اسکیچ تھا۔۔ یہ آفس کی ایک پارٹی کی تصویر تھی جو ثمرہ نے زبردستی اسکے ساتھ بنائی تھی۔۔اور پھر اس نے اس قدر خوبصورتی سے پیپر پر اتارا تھا کہ یہ گماں کرنا مشکل تھا کہ واقعی اس کے ہاتھوں کا شاہکار تھا۔۔ ’’اچھی ہے نا۔۔۔‘‘اپنے کان کے بے حد نزدیک ابھرتی اس دلربا کی آواز پر اس پر چھایا فسوں ٹوٹ گیا تھا۔۔وہ جو مبہوت سا اسے تکے جارہا تھا ثمرہ کو خود کے اس قدر نزدیک دیکھ مسکرایا۔۔۔۔ ’’مسمرائزنگ !!!‘‘ثمرہ کے چہرے پر نظر جمائے وہ ٹرانس میں بولا تھا۔۔۔ ’’یہ۔۔۔‘‘اسکا چہرہ پکڑ کر سامنے نظروں سے اسکرین کی جانب اشارہ کرتے ثمرہ نے اپنی خفت چھاپانے کو ذرا ناراضگی سے کہا اور غیر محسوس انداز میں فاصلہ قائم کیا۔۔۔وہ باتوں باتوں میں خاصی نزدیک آگئی تھی۔۔جبکہ مصطفیٰ نے بمشکل اپنے جذبات پرضبط کیا تھا۔۔ ’’بہت پیاری ہے۔۔مگر میں اس شاہکار کو بنانے والی کے ہاتھ چومنا چاہونگا۔۔‘‘اس کی شرارتی رگ پھڑ چکی تھی۔۔ثمرہ نے سُرخ ہوتے چہرے پر ہاتھ پھیر کر بشمکل گھورا تھا۔۔ ’’چھوڑیں اسے۔۔ایک کام کرتے ہیں سیلفی لیتے ہیں۔۔میں آج فری ہوں۔۔آپ کی ایک اور فنی سی ناک بناؤنگی۔۔‘‘وہ اسکی توجہ بھٹکانے کو اپنے موبائل کا فرنٹ کیمرہ کھولنے لگی۔۔جبکہ مصطفیٰ بھی اسکے نارمل رویے پر سیدھا ہوکر بیٹھ گیا تھا۔۔۔ ’’اسمائل!‘‘ وہ جو کیمرے کا رخ اپنی جانب کئے بیٹھی تھی ،مصطفیٰ نے اسکی کمر میں ہاتھ دال کر اپنے قریب کیا تھا،اور بے ساختگی میں اپنے لب اسکی پیشانی پر رکھتے ساکت ہوئی ثمرہ کے ہاتھ سے موبائل لیتے خود پکچر کلک کی تھی۔۔۔ ’’ایسے لیتے ہیں کپل پکچر!‘‘اس نے سٹپٹائی سی ثمرہ کو آنکھ مارتے موبائل اسکی جانب بڑھایا تھا۔۔ ’’یہ ساری چیزیں یقیناً آپ کے والد صاحب کے گھر ہونگی رائٹ؟‘‘اس نے سوال کیا تو ثمرہ نے سر ہلا کر تصدیق کی تھی۔۔ ’’ پھر آج آپ کی ضرورت کا سارا سامان خریدنے چلتے ہیں۔۔اسی بہانے آؤٹنگ بھی ہوجائے گی۔۔چلیں اب باہر چلتے ہیں ،کُک نے ناشتہ تیار کردیا ہوگا۔۔‘‘ بیڈسے کھڑے ہوتے اسنے ہاتھ ثمرہ کی جانب بڑھایا،جو مسکرا کر تھام گئی۔۔ ’’چلیں۔۔۔‘‘وہ مسکرا کر اس کے ہم قدم ہوئی۔۔۔جبکہ کچن کی جانب جاتی زنیرہ کی نظر جب ثمرہ کے کمرے سے نکلتے مصطفیٰ پر گئی تو انکے چہرے پر ناگواری سی چھا گئی تھی۔اور وہ تیزی سے ان دونوں کی جانب بڑھیں۔۔ ’’مصطفیٰ!‘‘انکے اچانک سے سامنے آنے پر وہ دونوں ہی ٹھہر گئے تھے۔۔ثمرہ نے نا محسوس انداز میں اپنا ہاتھ آزاد کرانا چاہا۔۔ ’’گڈ مارننگ مام! اٹھ گئیں آپ۔۔‘‘ثمرہ کا ہاتھ آزاد کرتے اس نے آگے بڑھ کر ماں کے ماتھے پر بوسہ دیا۔۔ ’’تم اس لڑکی کے کمرے میں کیا کر رہے تھے؟‘‘انہوں نے کڑے تیوروں سے استفسار کیا۔۔۔شدید غصے کے باعث چہرہ سُرخ پڑ گیا تھا۔۔مصطفیٰ کی پیشانی پر بل نمودار ہوئے۔۔ ’’مام یہ کیا۔۔۔۔‘‘ ’’اور تم لڑکی۔۔شرم غیرت نام کی کوئی چیز ہے یا نہیں۔۔یا اگر تم سے صبر نہیں ہورہا تو ایک کام کریں مصطفیٰ کے کمرے میں شفٹ ہوجائیں آپ۔۔۔‘‘ ’’مام۔۔۔۔پلیز۔۔۔‘‘ثمرہ کا چہرہ ایسا تھا کہ کاٹو تو لہو نہیں ،جبکہ زنیرہ کا لہجہ آگ اگل رہا تھا۔۔مصطفیٰ اپنی ماں کے ایسے لفظوں پر خود شرم سے پانی پانی ہوگیا تھا۔سمجھ نہیں آرہا تھا کہ انہیں جواباً کیا کہے۔۔۔ ’’کیا مام!یقیناًاسی لڑکی نے تمہیں اپنے کمرے میں بلایا ہوگا۔۔سنو لڑکی کسی گماں میں نہ رہنا کہ تم مصطفیٰ سے کوئی بھی تعلق قائم کر کہ اس گھر میں اپنے قدم جما لوگی۔۔۔۔۔۔‘‘وہ ثمرہ کی جانب بڑھتی ناگواری سے غرائی تھیں۔ ۔۔ ’’مام پلیز خاموش ہوجائیں۔۔یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ۔۔آپ کو کچھ اندازہ بھی ہے۔۔ثمرہ بیوی ہے میری۔۔اگر میں انکے کمرے میں چلا بھی گیا تو کونسی قیامت آگئی۔۔ میں نے پہلے ہی کہا تھا یہ کوئی خون بہا میں آئی لڑکی نہیں ہیں ۔۔۔‘‘اس بار مصطفیٰ کا ضبط جواب دے گیا تھا اور وہ اپنی ماں کے لفطوں کی کاٹ پر بری طرح سے چنگھاڑا تھا۔۔زنیرہ نے بے یقینی سے جبکہ ثمرہ نے سہم کر مصطفیٰ کی جانب دیکھا تھا۔۔اور لڑکھڑاتے قدموں سے کمرے میں جاکر بند ہوگئی تھی۔۔ ’’یہ کس انداز میں بات کر رہیں مصطفیٰ آپ مجھ سے ۔۔میں ماں ہوں آپ کی۔۔‘‘ان کا چہرہ بیٹے کی بد تمیزی کے باعث سرخ پڑ گیا تھا۔۔ ’’مگر افسوس آپ یہ بھول گئیں ہیں کہ آپ اپنے بیٹے کے
