Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 12
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
0 Views
Episode no 12
ہارا جنون از_ہما_قریشی قسط_نمبر_12 "ویٹ واٹ۔۔۔ کہنا کیا چاہتے ہو تم؟؟‘ اہان کی فضول گوئی پر مجتبیٰ کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے تھے۔۔ ’’یار اتنا سیریس کیوں ہورہا ہے۔۔میں صرف اتنا کہہ رہا ہوں بس ایک ماہ انتظار کر لے۔۔پھر میں رخصتی کے سارے انتظامات خود دیکھ لونگا۔۔‘‘اہان نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔ ’’جسٹ شٹ اپ!تم نے مجھے کیا بے غیرت سمجھ کر رکھا ہے۔۔یا پھر اتنا کنگلا سمجھ لیا ہے کہ میں اپنی بہن کی رخصتی نہیں کر سکتا۔۔"مجتبیٰ کے ماتھے پر سینکڑوں بل نمودار ہوئے تھے۔۔اہان نے گہرا سانس بھرا۔۔۔۔۔ ’’میرے بھائی تیری وجہ سے ہی کہہ رہا ہوں۔۔ابھی کوئی جاب بھی نہیں ہے تیرے پاس۔۔‘‘اہان نے اسے حقیقت کا آئینہ دیکھایا۔۔ ’’اس کی فکر نہ کریں اہان صاحب۔۔۔میں سارے انتظامات کر چکا ہوں۔۔آپ صرف بارات لانے کی تیاری کریں۔۔‘‘وہ ذرا ناگوار لہجے میں گویا ہوا۔۔۔ ’’ٹھیک ہے پھر جیسی تیری مرضی!’’اس نے کندھے اچکائے۔۔مگر وہ چاہ کر بھی اسے حقیقت نہیں بتا سکا تھا کہ اسکی ماں کسی طور اس رشتے کے لیے راضی نہیں ہو ر ہی تھیں۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سکندر ہاؤس میں اس وقت تحمینہ بیگم اپنے شوہر اور بیٹے کے عین سامنے بیٹھیں بحث و مباحثہ میں مصروف مسلسل اپنی ضد پر ڈٹی ہوئی تھیں۔۔۔ ’’ مہروز صاحب آپ میری بات کیوں نہیں سمجھ رہے۔۔وہ لوئر کلاس لڑکی۔۔کسی بھی طرح ہمارے اسٹینڈرڈز سے میچ نہیں کرتی ہے۔۔‘‘ وہ ایک بار پھر درشتگی سی بولی۔۔ ’’مام بس ۔۔اب آپ آئزل کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہیں گی۔۔۔میں برداشت نہیں کرونگا۔۔‘‘وہ خفا ہوا۔ ’’واہ بیٹا واہ! جو لڑکی ابھی اس گھر میں آئی نہیں ہے۔۔اس کی اتنی طرفداری۔۔‘‘انہوں نے نخوت بھرے لہجے میں کہا۔۔ ’’بابا پلیز سمجھائیں انہیں!‘‘اس بار اہان بیزاریت سے بولا۔۔ ’’مجتبیٰ کے گھر جانے کی تیاری کرو۔۔ہم آج ہی جاکر مجتبیٰ کو رخصتی کی تاریخ دے دیں گے۔۔‘‘ اس بار مہروز صاحب سختی سے بولے تھے۔۔۔تحمینہ نے گھور کر اپنے شوہر کو دیکھا تھا۔۔ ’’بس کردیں تحمینہ ہر بار آپ کی مرضی نہیں چلے گی۔۔جوان بیٹے کی زندگی کا معاملہ ہے۔۔وہ محبت کرتا ہے آئزل سے۔۔آپ کیوں جاہل عورتوں والی حرکتیں کر رہی ہیں۔۔ابھی بچے کوئی غلط قدم اٹھالیں گے تو پھر ٹھیک رہیں گی آپ۔۔‘‘اس بار مہروز کا لہجا انتہا کا سخت تھا۔۔اور بس یہی انکے لئے آخری وارننگ تھی۔۔۔جبکہ جاہل عورتوں سے تشبیہ دینے پر وہ تڑپ اٹھی تھیں۔۔ ’’ٹھیک ہے پھر جیسا آپ دونوں باپ بیٹے کو ٹھیک لگے۔‘‘وہ بیٹے کی موجودگی کے باعث شوہر کو ناراض نگاہوں سے دیکھ منہ بنا گئی۔۔ ’’ماما میں چاہتا ہوں کہ آپ میری خوشی میں دل سے راضی ہوں۔۔‘‘اہان نے انکا ہاتھ تھام کر آنکھوں سے لگایا تھا۔۔ ’’ہاں بہت خوش ہوں میں۔۔‘‘وہ ناراضگی کا اظہار کرتیں وہاں سے واک آوٹ کر گئیں۔۔اہان نے بے چارگی سے مہروز صاحب کی جانب دیکھا تھا۔۔جو کندھے اچکا گئے۔۔۔ ’’بابا!"اس کے لہجے میں التجا تھی۔۔۔ ’’چھوڑو اپنی ماں کو۔۔۔تم شادی کی تیاریاں پوری رکھو۔۔بس سادگی سے رخصتی کریں گے۔۔۔مجتبیٰ پر کسی قسم کا بوجھ ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔‘‘انہوں نے اسے تحمل رکھنے کا کہا تو وہ خاموش ہوگیا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عریشہ اس وقت اپنے روم میں بیڈ پر اُوندھے منہ لیٹی خواب و خرگوش کے مزے لوٹ رہی تھی۔۔آج چھٹی کا دن تھا اور مصطفیٰ گھر میں ہی موجود تھا۔۔اور عریشہ رات دیر تک جاگنے کے باعث اپنی نیندیں پوری کرنے میں مصروف تھی۔۔ ’’افف! دس بج گئے۔۔۔‘‘الارام کی چنگھاڑتی آواز پر عریشہ چونک کر بیدار ہوئی تھی۔۔پھر کسملندی سے آنکھیں مسلتی بستر سے اٹھ کر واشروم کی جانب بڑھی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ فریش ہوکر باہر آئی تو ایک بار پھر اسکا موبائل بری چنگھاڑ اٹھا تھا۔۔ ’’السلام علیکم!اس نے زرا گلا کھنکھار کر کال ریسو کی تھی۔۔ ’’واہ لڑکی واہ!تم تو پاکستان جاکر ماں کو ایسے بھولی ہو جیسے میں مر گئی ہوں۔۔‘‘عریشہ کو انکی آواز سن کر بیزاری سی ہوئی۔۔ ’’کیا کام ہے۔۔‘‘اس نے نخوت بھرے لہجے میں استفسار کیا تھا۔۔ ’’میں پاکستان آنا چاہتی ہوں۔۔‘‘عریشہ کی پیشانی پر بل نمودار ہوئے۔۔ ’’بٹ وائے!‘‘اسے انکی منطق سمجھ نہ آئی۔۔ ’’کیا مطلب وائے۔۔بس مجھے بھی تمہارے پاس آنا ہے۔۔‘‘ ’’کیوں آپ کے اس بوائی فرینڈ کا دل بھر گیا آپ سے؟‘‘اس بار وہ تلخ ہوئی۔۔ ’’جسٹ شٹ اپ! تم ہوتی کون ہو مجھ سے یہ سوال کرنے والی۔۔‘‘وہ بھپر گئیں تھیں۔۔ ’’میں جو بھی ہوتی ہوں مگر پلیز۔۔۔مجھ سے اب کسی قسم کی اُمید لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔اور بہتر ہے آئندہ مجھے کال نہ کیجئے گا اللہ حافظ!‘‘وہ تیز چنگھاڑتے لہجے میں بولتی رابطہ منقطع کر گئی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مصطفیٰ صبح سویرے جاگنگ سے لوٹنےکے بعد لاؤنج میں لیپ ٹاپ گود میں لئے بیٹھا مصروف نظر آرہا تھا۔۔وہ عادت کے مطابق صبح سویرے اٹھنے کا عادی تھا۔۔البتہ اس وقت ثمرہ سمیت سب ہی گہری نیند سو رہے تھے۔۔۔۔ زنیرہ بیگم فجر میں جاگی تھیں مگر پھر آرام کی غرض سے واپس لیٹ گئی تھیں۔۔۔ وہ پیشانی پر بل ڈالے لیپ ٹاپ پر سکرین پر جھکا بیٹھا تھا،جبھی اسے سامنے سے ہلکے بسکٹی رنگ جوڑے میں ملبوس نکھری نکھری سی ثمرہ اپنی جانب بڑھتی دکھائی دی تھی۔ہلکے نم بالوں کو ہاف کیچر میں قید رکھا تھا۔۔۔جبکہ سانولہ چہرہ ہر قسم کی مصنوعی آرائش و زبائش سے پاک تھا۔۔۔ ’’السلام علیکم! گڈ مارننگ!‘‘اس نے خوش دلی سے کہتے پہل کی تھی۔۔مصطفیٰ نے اپنے تاثرات درست کرتے مسکرا کر اسے سلام کا جواب دیتے وش قبول کیا تھا۔۔۔ ’’آپ جلدی جاگ گئے تھے مصطفیٰ!‘‘وہ اس سے ذرا فاصلے پر ساتھ ہی بیٹھتی خوش گوار لہجے میں سوالیہ گویا ہوئی۔۔۔۔ ’’جی بس کچھ کام تھا۔۔۔آپ بتائیں نیند پوری ہوگئی۔۔‘‘وہ لیپ ٹاپ ایک طرف کو رکھتا اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔ ’’جی ! میں تو ویسے بھی جلدی سونے کی عادی ہوں۔۔‘‘وہ سمجھ کر سر ہلاگیا ساتھ ہی ملازمہ کو آواز لگائی تھی۔۔ ’’کُک سے کہیں میڈم کا اور میرا ناشتہ تیار کریں۔‘‘اس نے حکم صادر کیا ،تو ثمرہ خاموش رہ گئی۔۔۔ ’’میں بنا دیتی ہوں مصطفیٰ!آپ بتا دیں ناشتے میں کیا لیں گے۔۔‘‘ملازمہ کے جاتے ہی ثمرہ نے اپنی خدمات فراہم کرنا چاہی۔۔دو دن قبل ہوئی تلخی کا اثر خود ہی زائل ہوگیا تھا۔۔ ’’ہمم! رہنے دیجئے۔۔کُک کا کام ہے وہ خود کرلے گا۔۔‘‘اس نے ثمرہ کا ہاتھ پکڑ کر واپس بیٹھایا،تو وہ خاموشی اختیار کر گئی۔۔۔ ’’آپ کو معلوم ہے ثمرہ قصویٰ آپ سے ملنے یہاں آئی تھیں۔۔‘‘وہ جو خاموش بیٹھی ہتھیلیاں مسل رہی تھی۔۔مصطفیٰ کی آواز پر چونکی۔۔ ’’قصویٰ؟ْمگر کب؟‘‘اس کی پیشانی پر بل نمودار ہوئے تھے۔ ’’کچھ روز قبل۔۔‘‘ثمرہ خاموش رہ گئی تھی۔۔۔ ’’وہ آپ سے ملنا چاہتی تھیں۔۔کیا آپ اپنے گھر والوں سے ملاقات کرنا چاہتی ہیں۔۔‘‘ثمرہ کے چہرے کے سپاٹ تاثرات دیکھ اسنے کھوجتی نگاہوں سے اسکی جانب دیکھ کر سوال کیا۔۔ ’’نہیں!بلکہ میں اس بارے میں کوئی بات ہی نہیں کرنا چاہتی۔۔‘‘وہ اپنے تاثرات بحال کرتی ازلی نرم لہجے میں گویا ہوئی تو مصطفیٰ سمجھ کر سر ہلا گیا۔۔وہ ویسے بھی مزمل یا پھر کسی دوسرے کا ذکر کر کہ ث مرہ اور اپنا وقت خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔ ’’اور بتائیے ،یہاں آنے سے قبل کیا مصروفیات تھیں آپ کی؟‘‘مصطفیٰ نے بات کو طول دینے سوالیہ نظروں سے دیکھا تو ثمرہ جو کسی گہری سوچ میں گم تھی یکدم چونکی،پھر اسکی جانب دیکھ ہلکا سا مسکرائی جس کی نگاہوں میں ہمیشہ والا نرم تاثر قائم تھا۔۔ ’’کچھ خاص نہیں۔۔بس ویسے ہی کبھی کبھی دل چاہتا ہے تو پیٹنگ یا پھر اسکیچنگ کر لیتی تھی۔۔ ورنہ ہماری تنہائیوں کی ساتھی تو بکس ہی ہیں۔۔‘‘اس نے ہولے سے مسکرا کرجواب دیا تھا۔۔۔۔
