Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 10
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 20/05/2026
1 Views
Episode no 10
اسٹیٹس اور عمر کے فرق سے باہر آجائیں۔۔‘‘ گہری سیاہ آنکھیں ضبط کے باعث سرخ پڑ رہی تھیں۔۔۔جبکہ وہ تھیں کہ ہنوز اپنی ضد پر اڑی ہوئی تھیں۔۔ ’’مہروز صاحب کچھ سمجھائیے اپنے لاڈلے کو۔۔۔کہ وہ لڑکی ہمارے خاندان میں کسی صورت ایڈجسٹ نہیں کر سکتی۔۔‘‘ شیفون کی پلین ساڑھی زیب تن کئے وہ اس عمر میں بھی خاصی پرکشش اور گریس فل خاتون تھیں۔۔ ’’ بیگم! گھر کی بچی ہے۔۔اب آپ اپنی ضد چھوڑ دیں۔۔‘‘ انہونے تحمل مزاجی کا مظاہرہ کیا تھا۔۔ ’’گھر کی بچی؟ آپ کے دوست کی بیٹی ہے تو گھر کی بچی ہوگئی ،بھئی واہ اور میری بھانجی اسکا کیا۔‘‘وہ ذرا خفا ہوئیں۔ ’’آپ اکلوتے لاڈلے بیٹے کی پسند پر بھی تو نظر ثانی کریں ذرا۔۔‘‘ انہونے بیٹا کو غصہٰ ضبط کرتا دیکھ کہا۔۔ ’’شام میں ، میں اور بابا مجتبیٰ کے گھر جا رہے ہیں آئزل کا ہاتھ مانگنے۔اور آپ کو بھی ہمارے ساتھ چلنا ہوگا۔۔‘‘وہ اپنی ضد کا کتنا پکا تھا یہ بات ان دونوں میاں بیوی کے علاوہ اور کون جان سکتا تھا۔۔ ’’اہان میں اس لوئر کلاس لڑکی کو کبھی اپنی بہو تسلیم نہیں کر سکتی۔ پہلے ہی مجھے تمہاری اور تمہارے باپ کی یہ دوستیاں ہضم نہیں ہوتیں تھیں کجاکہ اب تمہاری ضد۔۔‘‘انہونے ناراضگی کا اظہار کیا۔۔۔ ’’مام پلیز! بابا سمجھائیں انہیں۔۔‘‘اس نے بے چارگی سے باپ کی جانب دیکھا۔۔ ’’تم بے فکر ہوجاؤ۔شام میں ہم ضرور تمہارے ساتھ جائیں گے۔۔‘‘ انہوں نے اُسکی مشکل آسان کی تھی۔۔۔ ’’میں پھر مجتبیٰ کو کنفرم کردوں نا۔۔‘‘ اس نے تصدیقی لہجے میں پوچھا۔۔ ’’ہاں بھئی کردو۔ شادی کرنی ہے یا نہیں اس بات کا فیصلہ ہم بعد میں کریں گے۔‘‘اس بار تحمینہ بیگم نے بات ختم کی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ منظر ہے مصطفیٰ پیلس کے باورچی خانے کا جہاں زنیرہ بیگم کُک کی چھٹی کر چکی تھیں،اور ملازمین کو باقی تمام کام سونپ گئیں تھیں۔جبکہ روز کے کپڑے دھونے کے ساتھ ساتھ کھانا بنانے کی زمہ داری بھی اب ثمرہ کے زمہ تھی۔۔۔ اس وقت بھی وہ پسینے سے شرابور رات کے کھانے کا اہتمام کرنے میں جتی ہوئی تھی۔ گندمی رنگت مسلسل تین گھنٹے سے چولہے کے پاس کھڑے ہونے کے باعث سرخ ہورہی تھی، نازک ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے تھے۔۔جن ہاتھوں نے کبھی ہل کر پانی بھی نہ پیا تھا اب نہ جانے کیا کیا کر رہے تھے۔۔مصطفیٰ کی صبح کال آئی تھی۔مگر وہ چاہ کر اسے یہاں کے حالات کے بارے میں آگاہ نہیں سکی تھی۔۔ ’’دلہن !‘‘یہ الماس خالہ تھیں،جو چار روز کی چھٹی کے بعد آج لوٹی تھیں۔۔ ’’السلام علیکم خالہ!‘‘اس نے انہیں دیکھ خوش دلی سے کہا جبکہ ہاتھ تیزی سے الٹی سیدھی پیاز کاٹنے میں لگے تھے۔۔۔آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔۔ ’’یہ سب کیا کر رہی ہیں آپ۔کک کہاں گیا؟‘‘اس کی حالت دیکھ انہیں حیرانگی ہوئی تھی۔۔ ’’پتہ نہیں ، میں بس رات کا کھانا بنا رہی تھی۔۔‘‘وہ صرف پیاز کی جلن کا پانی نہیں تھا۔۔ رندھی آواز اسکے درد کی گواہ تھی۔۔ ’’آپ یہ سب چھوڑیں ۔۔آرام سے بیٹھیں میں کرتی ہوں۔۔‘‘ انہوں نے تیزی سے اسکے ہاتھ سے چھری لی تھی۔۔جبھی وہان زنیرہ انٹر ہوئی تھیں۔۔ ’’آپ یہاں کیا کر رہی ہیں الماس !‘‘زنیرہ کی آواز پر ثمرہ سہم سی گئی تھی۔۔ ’’وہ بیگم صاحبہ۔۔دلہن اکیلے۔۔‘‘انہونے صفائی میں کچھ کہنا چاہا،جبکہ ثمرہ اب دوسرا چولہا جلاتی چکن کا سالن بنانے میں مصروف ہوگئی تھی۔۔ ’الماس دلہن کا اپنا گھر ہے۔۔گھر کے کچن میں گھر کی بہو بیٹیاں کام نہیں کریں گی تو کون کرے گا۔۔آپ بے فکر رہیں۔۔اور انہیں انکا کام کرنے دیں ۔۔‘‘انہوں نے رسانیت سے جتاتے لہجے میں کہا،نظریں ثمرہ کے سرخ چہرے پر مرکوز تھیں۔۔ ’’مگر بیگم صاحبہ ثمرہ بی بی کو تو ان سب کاموں کی عادت بھی نہیں ہے۔۔‘‘انہوں نے حیرانگی کا اظہار کیا۔۔ ’’عادت نہیں ہے تو اب ہوجائے گی۔۔‘‘ الماس خاموش رہیں تھیں۔۔ ’’آپ میرے ساتھ آجائیں۔۔گھر کے بہت سے کام ہیں جو آپ کے انتظار میں اَدھورے پڑے ہیں۔۔۔‘‘وہ اُنہیں لئے باہر کی جانب بڑھ گئیں تھیں۔۔ جبکہ پیچھے موجود ثمرہ نے بیدردی سے اپنے گال رگڑ ڈالے تھے،اس زندگی کا انتخاب کرنا اسکا ذاتی فیصلہ تھا۔۔اور اب اسے اسی زندگی کے ساتھ نبھا بھی کرنا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’قصویٰ ملازمین کی ہمراہی میں مصطفیٰ پیلس کے مہمان خانے تک آئی تھی۔ ’’میڈم آپ یہاں بیٹھیں۔۔ میں بیگم صاحبہ کو آپ کی آمد کی اطلاع پہنچا دیتی ہوں۔۔‘‘ قصویٰ نے سر ہلایا۔۔۔جبکہ اب جانچتی نگاہیں ارد گرد کا جائزہ لے رہی تھیں۔۔ احد مصطفیٰ کا یہ محل نما گھر اسکی شخصیت کی ہی طرح بے حد خوبصورت اور شاندار تھا۔۔۔ دیواروں پر لگی نایاب پینٹنگز، شوپیس ،چھت پر لگا جھومر ہر چیز ہی بیش قیمت اور انٹیک تھی۔۔ ’’کیسا آنا ہوا لڑکی؟‘‘وہ ایک لمحے میں پہچان گئیں تھیں کہ وہ لڑکی ثمرہ کی بہن تھی۔۔ ’’وہ آنٹی!میں ثمرہ سے ملنا چاہتی تھی۔۔‘‘وہ انکی آمد پر احتراماً نشست چھوڑ کر کھڑی ہوگئی تھی۔۔ ’’کون ثمرہ؟وہ خون بہا میں آئی لڑکی۔۔۔تم اس ثمرہ کی بات کر رہی ہو؟‘‘وہ سخت الفاظ میں لہجے میں بے پناہ حقارت سموئے گویا ہوئیں تھیں۔۔جبکہ اپنے بیٹے کے قاتل کی دوسری بہن کو اپنے گھر کی چھت تلے دیکھ غصّہ آسمان چھو رہا تھا۔۔۔ ’’خون بہا؟آنٹی میرا بھائی ابھی تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے تو یہ خون بہا کیسے ہوگیا۔۔ویسے بھی احد مصطفیٰ نے یہ نکاح اپنی مرضی سے کیا تھا۔۔۔۔۔‘‘قصویٰ کا دماغ گھوم گیا تھا۔۔ ’’بہتر یہی ہے لڑکی کہ تم یہاں سے چلی جاؤ۔۔‘‘انہوں نے رسانیت سے کہا۔۔ ’’میں اپنی بہن سے ملنا چاہتی ہوں۔۔‘‘اس نے ٹھوس لہجے میں کہا۔۔ ’’آپ کی بہن تھی۔۔اب اس گھر میں وہ خون بہا کی حثیت سے موجود ہے۔۔اور کسی خوش فہمی میں رہنے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے کہ مصطفیٰ نے یہ شادی محبت میں کی ہے۔۔بلکہ مصطفیٰ تو گزشتہ چار روز سے دبئی میں ہیں اور ثمرہ کو وہ خود سرونٹس کواٹر میں چھوڑ کر گئے ہیں۔۔کیونکہ تمہاری بہن نے خود اپنا آپ انکے سامنے پیش کیا تھا۔۔۔اب بھگتو۔۔‘‘وہ انتہائی ناگواری سے بولیں تھیں۔۔اسے حیرت ہوئی کیونکہ وہ ایسی تو نہ تھیں۔۔ ’’آنٹی اب آپ زیادتی کر رہی ہیں۔۔‘‘اس نے احساس دلانا چاہا۔۔ ’’زیادتی تو تمہارے بھائی نے کی ہے میرے جوان سال بیٹے کو موت کے گھاٹ اتار کر۔۔‘‘وہ یکدم ہی آپے سے باہر ہوئیں تھیں۔۔قصویٰ سہم سی گئی تھی۔۔ ’’لڑکی بہتر یہی ہے کہ تم یہاں سے اپنی شکل لے کر چلی جاؤ،ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔۔میں پہلے ہی بہت مشکلوں سے تمہاری بہن کا وجود اس گھر میں برداشت کر رہی ہوں۔۔‘‘وہ لہجے میں بے پناہ ناگواری سموئے درشتگی سے گویا ہوئیں تھیں۔۔ ’’مگر آپ ایک بار تو ملنے دیں مجھے ثمرہ سے۔۔‘‘اب وہ منتوں پر اتری تھی۔۔ ’’میں نے کہا نا لڑکی۔۔یہاں سے اپنی شکل لے کر چلی جاؤ۔۔سمجھ نہیں آرہا تمہیں۔۔‘‘وہ غصہٰ ہوئیں۔۔ جارے یے
