Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 10
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 20/05/2026
1 Views
Episode no 10
ہارا جنون از_ہما_قریشی قسط_نمبر_10 وہ موبائل کی آواز پر چونک کر بیدار ہوئی تھی۔۔۔اپنے آنسو پونچھ کر کھڑی ہوتی وہ سائیڈ ٹیبل پر رکھے اپنے موبائل کی جانب بڑھی تھی۔۔جہاں سامنے اسکرین پر مصطفیٰ کا نمبر جگمگ کر رہا تھا۔۔ ’’ السلام علیکم!‘‘ نماز کا بندھا دوپٹہ لوز کرتے دھیرے سے لہجے میں سلام کیا تھا،وہ جو کچن میں کھڑا اپنے لئے جوس بنا رہا تھا ثمرہ کی آواز سن لبوں پر ایک خوش کن مسکراہٹ کھل گئی تھی۔۔ ’’وعلیکم السلام! گڈ مارننگ مسز!‘‘اسکے لہجے میں بیتے زمانوں کی بشاشت محسوس کر وہ ہولے سے مسکرائی تھی۔۔ ’’گڈ مارننگ! کیسے ہیں مصطفیٰ!‘‘وہ ہمیشہ والے لہجے میں بولی تھی۔ ’’رات جیسا ہی ہوں سیم۔۔ویسے میرا نام احد ہے آپ ہمیشہ مصطفیٰ ہی کیوں پکارتی ہیں؟‘‘ثمرہ جو اپنے دوپٹے کے ٹسلز سے کھیل رہی تھی،اسکے سوال پر لب دانتوں تلے دبا گئی،وہ پہلے بھی کئی بار یہ سوال کر چکا تھا۔۔صرف اسکے اپنے ہی تھے جو اسے اس نام سے پکارتے تھے اور ثمرہ کو چھیڑنے میں اسے مزاح آتا تھا۔۔۔ ’’آج کوئی میٹنگ نہیں ہے آپ کی؟‘‘رات کی باتوں کا اثر تھا کہ وہ اس وقت متوازن لہجے میں مخاطب تھی۔ ’’آپ نے جواب نہیں دیا۔۔۔‘‘پروٹین شیک کا گلاس لبوں سے لگاتا اب اسکا رُخ لاؤنج کی جانب تھا۔۔ ’’کیا جواب دوں؟‘‘وہ خواہ مخواہ ہی جذبذ ہوئی۔ ’’وہی جو میں سننا چاہتا ہوں۔۔‘‘اسکے لہجے کی گھمبیرتا پر ہتھیلیاں پسیج گئی تھی۔۔۔ ’’کیا ہم ویڈیو کال پر بات کر سکتے ہیں؟‘‘دوسری جانب سے خاموشی محسوس کر وہ آس بھرے لہجے میں سوالیہ بولا۔۔ ’’اس وقت؟ نہیں۔۔میرا مطلب۔۔میں باہر جارہی ہوں۔۔‘‘وہ اس تقاضے پر یکدم ہی گھبرا کر پہلو بچانے کی کرنے لگی۔۔ ’’اس وقت باہر جاکر کیا کریں گی؟‘‘وہ مسرور سے لہجے میں سوالیہ گویا ہوا۔۔ ’’وہ مجھے بھوک لگ رہی ہے۔۔ناشتہ کرنے جارہی ہوں۔۔‘‘وہ جلدی سے گھبرا کر بولی تھی۔۔ ’’اوکے! میں بھی ریڈی ہونے جارہا ہوں۔کچھ دیر میں میٹنگز ہیں میری۔۔شام کو بات ہوتی ہے۔۔اپنا خیال رکھئے گا۔۔اللہ حافظ!‘‘وہ اس کے لہجے میں گھبراہٹ محسوس کر سنجیدگی سے بولتا رابطہ منقطع کرگیا۔۔ جبکہ ثمرہ ایک لمحے کو ٹھہر گئی تھی۔۔کیا وہ اس سے ناراض ہوگیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دپہر کے بارہ بج رہے تھے۔۔وہ ناشتہ کرنے کے بعد جو روم میں آکر بند ہوئی تھی۔۔ابھی تک کمرے سے باہر نہیں نکلی تھی۔۔۔ دپہر کا وقت ہونے والا تھا۔۔۔بھوک سے برا حال تھا۔۔ وہ نجانے کیوں زنیرہ بیگم کا سامنہ کرنے سے کترا سی رہی تھی۔۔۔وہ مسلسل کمرے میں مارچ کر رہی تھی۔۔۔صبح کے بعد سے مصطفیٰ کی بھی کوئی کال موصول نہیں ہوئی تھی۔۔۔شاید نہیں یقیناً وہ کام میں بزی تھا۔۔وہ اپنی ہی سوچ بچار میں گم تھی کہ جبھی کوئی ملازمہ دروازہ کھٹ کھٹا کر روم میں داخل ہوئی تھی۔۔۔ ’’جی!‘‘اس نے ذرا چونک کر پوچھا۔۔ ’’میڈم نے باہر بلوایا ہے آپ کو۔۔‘‘اب ثمرہ کو ٹینشن ہونے لگی تھی۔۔ ’’آپ چلیں میں آتی ہوں۔‘‘وہ لب چباتی باہر کی جانب بڑھی۔۔ ’’افف!اب نجانے آنٹی کیا کہنے والی ہیں۔۔‘‘وہ ان کے سخت لہجے کے باعث خائف خائف سی تھی۔۔۔پھر گہری سانس بھرتی قدم باہر کی جانب اُٹھا چکی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زنیرہ بیگم ملازمین کو لائن سے کھڑا کئے انہیں کچھ ہدایات کر رہی تھیں۔۔جبکہ لاؤنج میں پڑے صوفوں پر لاپرواہی سے بیٹھی عریشہ اپنے موبائل میں مصروف تھی۔۔۔ ’’جی آنٹی آپ نے بلایا؟‘‘اسنے قریب آکر دھیمی سی آواز میں پوچھا۔۔زنیرہ نے ایک نظر اسکے سراپے پر ڈالی تھی جو مصطفیٰ کی گئی عنایتوں کے باعث دمک رہی تھی۔۔ وہ صبح سے ہی انکی آنکھوں میں کھٹک رہی تھی۔۔مصطفیٰ تو اسکے عام سے عین نقش اور سراپے کا دیوانہ تھا اور اب تو وہ مکمل طور پر اسکی پسند میں ڈھلی ہوئی تھی۔۔۔ ’’جائیں آپ لوگ اپنا کام کریں۔۔‘‘تمام ملازمین سر جھکائے اپنے کاموں میں مصروف ہوگئے تھے،جبکہ اب وہ باقاعدہ طور پر قدم اُٹھاتی نزدیک چلی آئی تھیں۔۔اور تنقیدی نظروں سے اسکے سراپے کا جائزہ لیا تھا۔۔گندمی نین نقش میں عجیب سی کشش تھی۔۔ ’’تم اس گھر میں کس حیثت سے موجود ہو؟‘‘انکا سوال انتہائی غیر متوقع تھا۔۔ثمرہ نے ایک نظر پیچھے بیٹھی عریشہ کو دیکھا جو موبائل سائیڈ پر رکھتی اب باقاعدہ طور پر انکی جانب متوجہ ہوئی تھی۔۔ ’’کچھ پوچھا ہے میں نے۔۔‘‘اسکی خاموشی پر انہونے سوال دہرایا تھا۔ ’’جانتی تو ہیں آپ؟‘‘اس نے نگاہیں جھکا لی تھیں۔۔ ’’تو پھر ہر وقت کمرے میں مہارانی بن کر کیوں گھسی بیٹھی رہتی ہو؟؟گھر کے کام کاج کون کرے گا؟ کیا مصطفیٰ کی ہمدردی کو محبت سمجھ رہی ہو؟یا اپنی اوقات بھول گئی ہو؟‘‘عریشہ کے سامنے اس قدر بے عزتی پر ثمرہ کو شدید شرمندگی محسوس ہوئی تھی۔۔ ’’بولو اپنی اوقات بھول گئی ہو کیا؟؟کیا کہا تھا تم نے مجھ سے کہ آنٹی میں یہاں۔۔۔۔۔‘‘وہ اپنا جملہ مکمل کرنے ہی لگیں تھیں۔۔ ’’آنٹی پلیز!جو بھی کام ہے آپ مجھے بتا سکتی ہیں۔۔۔میں سب کردونگی۔۔‘‘وہ نہیں چاہتی تھی کہ عریشہ کے سامنے اُسے سبکی اُٹھانی پڑے۔۔ ’’اچھا تو اب گھر کے کاموں کی فہرست بھی۔۔میں تمہیں فراہم کرونگی؟؟‘‘وہ تیز لہجے میں بولیں تو ثمرہ سہم کر نگاہیں جھکا گئی۔۔۔ ’’ لانڈری ایریا میں جاؤ اور میشین لگاؤ۔۔۔آج سے گھر کے سارے کپڑے دھونے کی زمہ داری تمہاری ہے۔۔لیکن مصطفیٰ کے کپڑوں کو ہاتھ لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔ایک بات اور۔۔۔ یہ بات مصطفیٰ کو پتہ نہیں لگنی چاہئے۔۔ورنہ تمہارے ساتھ بالکل اچھا نہیں ہوگا۔۔‘‘ثمرہ نے بے یقینی سے انکی جانب دیکھا تھا،یہ وہی عورت تھیں جو پانچ سال قبل بڑے محبت سے اسے بہو بنانے کی چاہ لئے انکی دہلیز پر سوالی بن کر آئی تھیں۔۔ ’’اب کھڑی کھڑی شکل کیا دیکھ رہی ہو ۔۔۔ جاؤ جاکر کام دیکھو۔۔‘‘ ثمرہ پورے وجود سے اچھل پڑی تھی۔اور پھر تیز قدموں سے وہاں سے نکلتی چلی گئی تھی۔۔۔جبکہ عریشہ کندھے اچکاتی واپس سے موبائل پر لگ گئی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ثمرہ واشنگ ایریا میں موجود کپڑے مشین میں ڈال رہی تھی۔۔۔دپہر سے بھوکی پیاسی وہ محنت مشقت میں لگی ہوئی تھی۔اور اب شام کے پانچ بج رہے تھے۔۔مسلسل تین گھنٹے کھڑے ہوکر کپڑے ڈالنے اور نکالنے کے باعث کمر اکڑ سی گئی تھی۔۔۔باپ کے گھر زندگی جیسی بھی صحیح مگر اس نے کبھی یہ کام نہیں کئے تھے،اور اب تمام کام کرتے اُس کے اعصاب جواب دے گئے تھے۔۔۔ ’’ثمرہ بی بی!‘‘وہ جو چھوٹے سے اسٹول پر بیٹھی کپڑے نچوڑ کر ڈرائیر میں ڈال رہی تھی، ملازمہ کی آواز پر یکدم چونکی۔۔ ’’بی بی یہ آپ کا موبائل کب سے کمرے میں بج رہا ہے۔۔‘‘ثمرہ نے جلدی سے آگے بڑھ کر گیلے ہاتھوں سے اسکے ہاتھ سے موبائل لیا تھا۔۔جہاں مصطفیٰ کالنگ جگمگ کر رہا تھا۔۔ ’’السلام علیکم!وہ قدم اٹھا کر ذرا فاصلے پر آگئی تھی۔۔۔ ’’وعلیکم السلام !کیسی ہیں آپ۔۔اور میں کب سے کال کر رہا ہوں،آپ میری کال کیوں نہیں ریسیو کر رہی ہیں؟‘‘دوسری جانب سے اُبھرتی تفشیش بھری آواز پر ناچاہتے ہوئے بھی اُسکی آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی۔۔۔ ’’وہ۔۔۔۔دراصل میں آنٹی لوگ کے ساتھ تھی۔۔‘‘اس نے ناچاہتے ہوئے بھی لہجا ہشاش بشاش بنانا چاہا۔۔ ’’ ثمرہ سب خیریت ہے؟‘‘اس کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔۔وہ ریلیکس نہیں ہوا تھا۔۔ ’’جی۔۔۔آپ بتائیں۔کب واپس آرہے ہیں۔‘‘اس بار اس نے خود ہی بات کو طول دیا تھا۔۔ ’’یہ بیک گراؤنڈ میں اتنا شور کیو ں ہورہا ہے؟‘‘ہلکی زوں کی آواز اسے متحوش کر گئی تھی۔۔ ’’وہ دراصل میں کچن کے پاس کھڑی ہوں۔۔صبر کریں۔۔میں روم میں جارہی ہوں۔۔‘‘اس نے بولنے کے ساتھ ہی گھبرا کر قدم اپنے کمرے کی جانب بڑھائے تھے۔۔ ’’اچھا!باقی سب ٹھیک ہے۔۔‘‘وہ مزید چانچتی آواز میں بولا تھا۔۔۔ ’’جی جی۔۔۔آپ
