Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 10
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 20/05/2026
1 Views
Episode no 10
نے بتایا نہیں مصطفیٰ!‘‘ اس نے ایک بار پھر سوال دہرایا تھا۔۔اب وہ کمرے میں آگئی تھی۔۔۔لباس مکمل بھیگا ہوا تھا۔۔ ’’ہمم!شاید دو دن مزید لگے گے۔۔‘‘اس نے ماتھا کھرچ کر کہا۔۔ ’’کیا آپ میرا انتظار کر رہی ہیں؟‘‘وہ اچانک سے سوالیہ لہجے میں گویا ہوا تھا۔۔ ثمرہ جو دوپٹے سے اپنے ہاتھ خشک کر رہی تھی۔۔ایک لمحے کو ٹھہری۔مگر خاموش رہی۔۔ ’’کیا آپ میرا انتظار کر رہی ہیں ثمرہ۔۔۔۔‘‘اس نے ایک بار پھر مزید سوال کیا تھا۔۔۔اسکے لہجے میں نرمی ہی نرمی تھی۔۔ثمرہ کا دل کیا چیخ کر بول دے کہ وہ واقعی اسکی منتظر تھی۔۔ ’’آپ خیر سے آئیں مصطفیٰ!آنٹی اور عریشہ آپ کی کمی محسوس کر رہی ہیں۔۔‘‘وہ بات کو گول کر گئی۔۔مصطفیٰ کے لبوں کر مسحور کن مسکراہٹ کھل گئی تھی۔۔ ’’مطلب آپ کو میری کمی بالکل بھی محسوس نہیں ہورہی۔۔‘‘ وہ اب شرارت پر اتر آیا تھا۔۔ ’’آنٹی آج کافی رو رہی تھیں مزمل کو یاد کر کہ۔۔‘‘ثمرہ نے اسکی ذومعنی باتوں سے پیچھا چھڑانے کے لئے جان بوجھ کر مزمل کا ذکر چھیڑا تھا۔۔دوسری جانب مصطفیٰ کے لبوں سے نہ صرف مسکراہٹ جدا ہوگئی تھی بلکہ وہ پریشان بھی ہوگیا تھا۔۔۔ ’’ رو کیوں رہی تھیں۔۔۔میں بات کرتا ہوں۔۔‘‘اس کا لہجا سپاٹ سا ہوگیا تھا۔۔دونوں جانب خاموشی سی چھا گئی تھی۔۔ ’’ آپ کے والد صاحب ،آپ کے بھائی کے لئے کافی پریشان ہیں۔۔وہ روز نت نئی سفارشیں لگا رہے ہیں کہ کسی بھی طرح شارق کی ضمانت ہوجائے۔۔‘‘ثمرہ نے آنکھیں میچ لی تھیں۔۔وہ اس ذکر کو چھیڑ کر اپنے لئے مشکل کر گئی تھی۔۔ ’’ مگر شاید وہ جانتے نہیں ہیں کہ جب انکی طرف سے بھیجی گئی اتنی بڑی سفارش کسی کام نہ آئی تو باقی تو کسی گنتی میں ہی نہیں آتیں۔۔‘‘مصطفیٰ ناچاہتے ہوئے بھی تلخ ہوا تھا۔۔یہ ذکر چھیڑ کر ثمرہ نے خود اپنے ساتھ زیادتی کی تھی۔۔وہ جتنا چاہ رہا تھا انکا ریلیشن نارمل رہے ثمرہ اسکے لئے اتنی ہی مشکل پیدا کر دیتی تھی۔۔ ’’شاید آنٹی مجھے بلا رہی ہیں احد!آپ آجائیں پھر بات ہوگی۔۔‘‘وہ جان چھڑانے والے لہجے میں ذرا جتا کر بولتی اسکی طرف کا جواب سنے بغیر موبائل آف کر گئی۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’مجتبیٰ کہیں جارہے ہو کیا؟‘‘ وہ رات سے ہی اس سے خفا خفا سا تھا۔۔نہ بات کر رہا تھا اور نہ ہی کسی بات کا جواب دے رہا تھا۔۔ ’’مجتبیٰ!‘‘اس نے پاس آکر روہانسے لہجے میں پکارا تھا۔۔ ’’کیا مسٔلہ ہے آئزل! تمہیں نظر نہیں آرہا۔۔ جاب تلاش کرنے جارہا ہوں۔۔اور شام میں گھر میں کچھ اچھا سا انتظام کرلینا، اہان اپنے والدین کے ساتھ رشتہ مانگنے آئے گا۔۔‘‘ آئزل کی آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی۔۔ ’’ابھی رخصتی کی جلدی کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ابھی یہ سب جھنجھٹ نہ بڑھاؤ۔۔‘‘اس نے سمجھانا چاہا۔۔وہ اپنے بھائی کے مالی حالات سے خوب واقف تھی۔۔ ’’ تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔ میں نے اپنے ایک دوست سے بات کی ہے کچھ ادھار رقم کی ۔تمہاری رخصتی تو اچھے سے ہوہی جائے گی فکر نہ کرو۔۔‘‘وہ سنجیدگی سے گویا ہوا تھا۔۔ ’’مجتبیٰ !اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے میرے بھائی۔۔۔تم بالکل ٹینشن نہ لو۔۔۔‘‘وہ صفائیہ لہجے میں بولنے ہی لگی تھی کہ مجتبیٰ خاموش کراگیا۔۔ ’’آئزل دروازہ اندر سے لاک کرلو۔۔اور کسی کے لئے دروازہ کھولنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کوئی آئے تو مجھے کال کرنا۔۔میں آجاؤنگا۔۔‘‘اُس کے لہجے میں ایسا کچھ ضرور تھاجو آئزل کو خواہ مخواہ ہی شرمندہ کر گیا تھا۔۔ خیر سے جاؤ۔‘‘وہ لب دبا کر بولتی خود دروازہ اَندر سے مقفل کر گئی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ نوکری کی تلاش میں صبح ہی گھر سے نکل گیا تھا۔اور اس وقت وہ کئی جگاہوں پر انٹرویوز دیتا کسی دوسری فرم میں جارہا تھا۔۔اس وقت دوپہر کے بارہ بج رہے تھے۔۔وہ بس کے انتظار میں کھڑا تھا۔۔مگر بس تھی کہ آکر ہی نہیں دے رہی تھی جبھی وہ رکشہ لینے کی غرض سے روڈ کراس کرتا جانے والے روڈ پر آگیا تھا۔۔اور ہاتھ دے کر ایک رکشہ روکا تھا۔۔ ’’کیا چار سو روپے؟؟ اوہ بھائی کیا ہوگیا یہاں دو قدم پر ہی تو ہے آفس۔۔‘‘وہ اس وقت اپنی دوسری منزل سے کوئی تقریباً دو کلو میٹر کی دوری پر ہی تھا۔۔۔اور رکشہ والا علاقہ کے حساب سے منہ کھول رہا تھا۔۔۔ ’’تو بھائی دو قدم پر ہے تو رکشہ کیوں کر رہا ہے۔۔پیدل ہی چلا جا۔۔‘‘رکشہ والا بھی کوئی بل گیٹس کی اولاد تھا۔دو کھری کھری سناتا یہ جا اور وہ جا۔۔۔۔ ’’اس ملک کے غریب بھی صرف نام کے غریب ہیں۔۔ذرا سا اللہ ہاتھ پکڑ لے فوراً آپے سے باہر ہو جاتے ہیں۔۔ایک ہم جیسے مڈل کلاس ہیں۔۔جن کی پوری زندگی بھرم قائم رکھنے میں ہی گزر جاتی ہے۔۔پیٹ میں روٹی نہ ہو مگر بھرم لاکھ پتی والا ہونا چاہئے۔۔‘‘وہ خود ساختہ قیاس کرتا تیز ٹریفک کے باعث سائیڈ پر ہوا تھا۔۔ تیز چلچلاتی ہوئی دھوپ پہلے ہی نام پتہ پوچھ رہی تھی سونے پر سہاگا یہ رکشہ والا۔۔ وہ شدید پریشانی کے باعث اپنے پاس رُکنے والی گاڑی بھی نوٹس نہیں کر سکا تھا۔۔۔۔ ’’اوئے ہیرو۔۔۔ کدھر!‘‘عریشہ جو آج دوبارہ ٹکراؤ پر ذرا حیران ہوئی تھی۔۔خود کو گاڑی سے باہر آنے سے رُوک نہیں سکی تھی۔۔۔ ’’افف!اب یہ کہاں سے آگئی۔۔‘‘اس کے کل والے طرز تخاطب کے بعد وہ ایک بات تو بخوبی سمجھ ہی گیا تھا کہ یہ لڑکی بہت پہنچی ہوئی چیز تھی۔۔جو اسے لحیم شحیم مرد کو لیڈیز طبیعت کہہ سکتی تھی اس سے کوئی بعید نہیں تھی۔۔وہ اور کیا کیا کہہ ڈالتی۔۔ ’’رکشہ!‘‘اس نے ہاتھ دے کر رکشہ والے کو روک دیا تھا۔۔عریشہ نے منہ کھول کر ہونقوں کی مانند اسکا نظر انداز کرنا ملاحظہ کیا تھا۔۔ ’’کیا ہوگیا ہے بھائی۔۔میں مریخ پر جانے کی بات نہیں کر رہا ہوں یہیں قریب میں آفس ہے۔۔آپ سے پہلے والا چار سو مانگ رہا تھا اور اب آپ چھ سو۔۔بھئی واہ۔۔‘‘مجتبیٰ تو ان رکشے والوں کی فرمائشوں پر عش عش کر اُٹھا تھا۔۔۔ ’’ تو بھائی صاحب ڈی ایچ اے میں کھڑے ہوکر بھی حساب لگا رہے ہو۔۔روڈ دیکھ رہے ہو۔یہاں اور کوئی پبلک ٹرانسپورٹ نہیں چلتی۔۔۔اور یہاں سے گزرنے والے سب رئیس زادے ہیں۔۔۔ ان امیر باپ کی اولاد سڑکوں پر بیچ میں گاڑی چلانا خود کو موت کے منہ میں دینے کے مترادف ہے۔۔‘‘وہ رکشے والا بھی کوئی بہت ہی گھاگ قسم کا بندہ تھا۔۔ مجتبیٰ نے ایک نظر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی عریشہ پر ڈالی جو بغور رکشے والے کی باتیں سن رہی تھی۔۔ ’’کہہ تو آپ بالکل ٹھیک رہے ہیں بھائی۔۔ یہ لوگ واقعی میں ان سڑکوں کو اپنے باپ کی سڑک سمجھتے ہیں۔۔سڑک پر چلنے والے انسان کم اور کیڑے مکوڑے زیادہ لگتے ہیں۔‘‘وہ رات والا واقعہ یاد کر طنزیہ بولتا اس چھ سو والے رکشے میں ہی بیٹھ گیا تھا۔۔جبکہ عریشہ نے نوٹس کیا تھا وہ ابھی بھی لنگڑا کر چلتا اس سے پیچھا چھڑانے کی غرض سے وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا۔۔۔ ’’بیوقوف پاکستانی۔پہلے چار سو میں نہیں مان رہا تو اور اب چھے میں چلا گیا۔۔۔۔‘‘وہ بڑبڑاتی ہوئی واپس گاڑی میں بیٹھ گئی تھی۔۔آج وہ مصطفیٰ اور زنیرہ کی تنبیہ کے باث دن میں باہر نکلی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کراچی کے پوش علاقے میں بنے سفید سنگ مرر سے بنے سکندر ولا میں اس وقت گھمسان کا رَن چھڑا ہوا تھا۔۔ اہان مسلسل اپنی ماں کو آئزل کے لئے راضی کرنے میں کوشاں تھا ،جبکہ وہ تھیں کہ اپنی ضد پر اڑی ہوئی تھیں۔۔ ’’ممی پلیز! آخر کب تک ضد لگا کر رکھیں گی۔۔۔آئی لو ہر۔۔۔میں شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔اب پلیز اس
