Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 09
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 19/05/2026
1 Views
Episode no 09
موجودگی پر پریشان ہوگئے تھے۔۔جبکہ دوسری جانب ایک وہ تھی۔جو سگے باپ ،بھائی کے ہوتے ہوئے بھی پیچھلے چار دنوں سے لاوارثوں کی مانند زندگی گزارنے پر مجبور تھی۔۔ ’’فجر کا وقت ہو گیا تھا، مساجد سے آتی اذانوں کی آواز اب سماعتوں سے ٹکراتی اسکی لایعنی سُوچوں میں خلل پیدا کر چکی تھی۔۔ وہ تھکی تھکی سی اُٹھ کر بیڈ پر بیٹھ گئی تھی۔۔ پورے وجود میں عجیب سا درد سرائیت کر رہا تھا، اگر یوں کہا جاتا کہ وہ گزرے پانچ سالوں میں زہنی مریضہ بن گئی تھی تو یہ غلط نہ تھا۔۔اور اب رہی سہی کثر اس حادثے نے پوری کردی تھی۔۔ ایک گہری سرد آہ خارج کرتی وہ بستر سے اٹھ کر پاؤں میں چپل اُڑستی وضو کی غرض سے واشروم کی جانب بڑھ ہی رہی تھی کہ جبھی نگاہ ان شاپنگ بیگز پر گئی تھیں اور پھر کان میں مصطفیٰ کی ماں کے الفاظ گونج اٹھے تھے۔۔ دانتوں تلے لب چباتی ان بیگز سے ایک مناسب سمپل سے لیونڈر کلر کا جوڑا نکالتی وہ واشروم میں بند ہوگئی تھی۔۔ تھوڑی دیر بعد وہ شاور لیتی سیدھی واشروم سے باہر آئی تھی۔۔ اور مصلہ پچھا کر نماز فجر ادا کی تھی۔۔۔ دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو لبوں پر لفظ ٹھر سے گئے تھے۔۔آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے تھے۔ لب کپکپا اٹھے تھے۔۔دل میں درد سا بڑھ گیا تھا۔۔وہ چاہ کر بھی اپنے جذبات پر قابوں نہیں کر سک رہی تھی۔دعا کے لئے اٹھائے گئے ہاتھ کپکپا سے گئے تھے۔۔ ’’یا اللہ میری مشکل آسان کر دے۔۔۔‘‘وہ دیر تک آنسو بہانے کے بعد وہ بس اتنا ہی بول سکی تھی۔۔۔سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اللہ سے کیا مانگے،مصطفیٰ کی محبت جو پہلے ہی اسکا ہاتھ تھامنے کا منتظر تھا یا پھر بھائی کی زندگی جو بیچ منجھدار میں پھنس سی گئی تھی۔۔۔ ’’یا اللہ مجھے صبر دے۔۔‘‘ سسکتے سسکتے ایک بار پھر لفظ لبوں سے آزاد ہوئے تھے۔۔اور پھر وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی جائے نماز پر ہی سجدہ میں گری رونے لگی تھی۔۔۔دل پر بوجھ سا تھا جو اب آنسوؤں کے راستے نکل رہا تھا۔۔۔ وہ ایک بار پھر اپنی تنہائیوں کے سہارے اپنے رب سے ہم کلام تھی کہ ایک بس وہی تھا جو اسکی ہر بات سنتا تھا،اور کبھی اسے اپنے در سے خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مصطفیٰ اپنی عادت کے مطابق صبح صبح جاگنے کا عادی تھا،ساری رات سو نہیں سکا تھا مگر اسکے باوجود وہ جلد بیدار ہوگیا تھا۔۔۔ سب سے پہلا خیال ثمرہ کا آیا تھا جسے وہ نماز ادا کرنے کے بعد کال کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔موبائل ایک طرف کو رکھتے اپنے پی اے کے میسجز چیک کرتا وہ واشروم کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ جارے ہے
