Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 09
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 19/05/2026
1 Views
Episode no 09
’’اوکے!‘‘عریشہ بھی کچھ دیر قبل والا رویہ ایک طرف رکھتی رکھائی سے گویا ہوئی۔ ’’شہر میں نئی ہیں؟‘‘مجتبیٰ کی آواز پر چونکی۔ ’’تم کیوں پوچھ رہے ہو؟‘‘وہ مشکوک ہوئی۔ ’’ آگر نئی ہیں تو آئندہ اتنی رات کو اس علاقے میں اکیلے گاڑی لانے سے گریز کیجیے گا۔دوسری بات چاہے حالات جیسے بھی ہوں،یوں کیسی اجنبی کو اپنی گاڑی میں نہیں بیٹھاتے۔‘‘عریشہ کو یکدم ہی اپنی حماقت کا احساس ہوا تھا۔۔۔ ’’معلوم ہے مجھے۔۔تم شکل سے شریف لگے تھے اس لئے بیٹھا لیا۔۔اور پھر تمہارا ایکسیڈینٹ بھی تو میری گاڑی سے ہوا ہے نا تو بس اب حساب برابر۔‘‘وہ اپنی خفت مٹانے کو ذرا جتاتے ہوئے لہجے میں بولی ،نا چاہتے ہوئے بھی مجتبیٰ کے لبوں پر محظوظ کن مسکراہٹ کھل سی گئی تھی۔۔۔ ’’آپ کسی سے بھاگ رہی ہیں؟‘‘اُسے بار بار رخ پھیر کر پیچھے دیکھتے دیکھ اس بار وہ تفتیشی لہجے میں بولا تھا۔ ’’ہاں۔‘‘وہ نا چاہتے ہوئے بھی کہہ گئی۔ ’’آپ کا گھر کہاں ہے؟‘‘وہ سوالیہ بولا۔ ’’میں یہاں اپنے ایک دوست کے گھر ہوں۔۔وہ ڈی ایچ اے میں رہتا ہے۔‘‘ مجتبیٰ سر ہلا گیا۔ ’’آپ گاڑی اپنے گھر کے راستے پر ڈال لیں۔۔ اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔۔میں وہاں سے گاڑی لے لونگا۔‘‘وہ سمجھ گیا تھا کہ وہ لڑکی شہر میں نئی تھی۔ ’’اس مہربانی کے لئے شکریہ مگر میرے ساتھ گارڈز کی گاڑی ہے۔اب یونہی تو ایک انجان مرد کو گاڑی میں نہیں بیٹھالیا نا۔۔وہ جو پیچھے تیزی سے گاڑی میری طرف آرہی ہے۔۔اس میں میرے ہی گارڈز موجود ہیں۔۔‘‘مجتبیٰ نے ذرا حیرانگی سے گردن گھما کر پیچھے دیکھا تھا۔۔۔۔ایک بات کا اندازہ تو وہ بخوبی لگا چکا تھا کہ وہ کسی اچھے گھر سے تعلق رکھتی تھی۔۔۔ ’’یہ اچھی بات ہے۔۔۔چلیں مجھے بس یہیں اُتار دیجئے۔‘‘مجتبیٰ سامنےاسٹاپ آنے پر اتر گیا تھا،جبکہ وہ ایک لمحے کی بھی تاخیر کئے بغیر گاڑی زن سے بھگا لے گئی تھی۔۔ ’’آج کل عجیب ہی کوئی پاگل لڑکیاں آرہی ہیں مارکیٹ میں۔۔‘‘وہ تاسف سے بڑبڑاتا دکھتے پاؤں کے باعث بس کی جگہ رکشہ لیتا اب سیدھا گھر کے لئے نکلا تھا۔۔۔دل مسلسل آئزل کی وجہ سے پریشان تھا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجتبیٰ سیدھا گھر پہنچا تھا، دروازہ کھٹکھٹانے پر دروازہ کھل گیا تھا، مگر سامنے جو چہرہ نمودار ہوا تھا اس نے اُسکا دماغ گھما کر رکھ دیا تھا۔۔جبکہ آئزل اسکے سینے سے لگی کھڑی رو رہی تھی۔۔مجتبیٰ کی آنکھوں میں چنگاریاں سی مچنے لگی تھیں۔۔ ’’مجتبیٰ تم ٹھیک تو ہو ناں۔۔‘‘وہ بھاگ کر اسکے سینے سے لگی،جو آئزل کو پیچھے دھکیل کر لنگڑا کر چلتا ہوا گھر میں داخل ہوا تھا۔ ’’تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے گھر میں داخل ہوکر، میری بہن کو ہاتھ لگانے کی۔۔‘‘وہ ایک لمحے میں اہان کا گریبان پکڑچکا تھا۔۔ اس بار وہ دونوں ہی بوکھلا گئے تھے۔۔ ’’اہان یہ کیا کر رہے ہو۔۔۔‘‘اہان خاموش کھڑا تھا،جبھی آئزل بھاگ کر قریب گئی تھی۔۔ ’’تمہارے بڑے ہونے کا لحاظ کر رہا ہوں آئزل۔۔مجھے بتاؤ یہ یہاں کیا کر رہا ہے؟‘‘ وہ اتنی شدت سے دھاڑا تھا کہ ڈری سہمی کھڑی آئزل پورے وجود سے اچھل پڑی تھی۔۔۔ ’’مجتبیٰ میری بات!!‘‘ اس کے لفظ لبوں میں ادھورے ہی رہ گئے تھے۔۔ ’’کیا کر رہے ہو تم یہاں۔۔میری غیر موجودگی میں، تمہاری ہمت کیسے ہوئی گھر میں داخل ہونے کی؟‘‘اسکی سیاہ آنکھیں شدید غصےٰ کے باعث سرخ پڑگئی تھیں۔اہان نے ایک نظر روتی سسکتی آئزل پر ڈال کر بولنا شروع کیا تھا۔۔ ’’ مجتبیٰ بات سُنو میری! اس نے اسے تحمل مزاجی کا مظاہرہ کیا تھا۔ ’’کیا بات سنوں تمہاری ہاں۔۔تم میرے دوست ہوکر میری غیر موجودگی میں، میرے گھر میں کھڑے ہوکر میری بہن کو سینے سے لگائے کھڑے ہو۔۔کیا بے غیرت مرد سجھ کر رکھا ہے تم نے۔۔‘‘وہ غصےٰ سے پاگل ہوتا ایک مکا اسکے منہ پر جڑ چکا تھا۔۔آئزل نے خوف سے لبوں پر ہاتھ رکھ لئے تھے۔۔ ’’مجتبیٰ میری بات سن لے پہلے! آئزل ڈر گئی تھی۔۔انہیں لگا تیرا ایکسیڈینٹ ہوگیا ہے۔۔اس لئے مجھے کال کر کہ بلایا تھا۔۔‘‘اس بار مجتبیٰ نے اسے پیچھے دھکیلتے چلا کر اپنا دفاع کیا تھا۔ جبکہ دور کھڑی آئزل تھر تھر کانپ رہی تھی۔۔ ’’تو مدد کے لئے اگر میری بہن نے تجھے بلا ہی لیا تو ،تو نے کس حق سے ہاتھ لگایا تھا اُسے۔۔‘‘وہ درشتگی سے چلایا۔۔ ’’اپنی بکواس بند کر۔۔آئزل بیوی ہے میری۔۔نکاح میں ہے میرے۔۔۔تو کیا دنیا کی کوئی بھی طاقت مجھے اسکے قریب جانے سے نہیں روک سکتی سمجھا۔۔‘‘اس بار وہ اسکی ایک ہی گردان پر ،مجتبیٰ کو پیچھے دھکیل کر ایک جھٹکے سے اپنا گریبان آزاد کراتا ناگوار لہجے میں دھاڑتا مجتبیٰ کے قدموں تلے زمین کھینچ گیا تھا۔۔جو بے یقینی سے کبھی آئزل کو دیکھ رہا تھا تو کبھی اہان کو۔۔۔۔ ’’تم ۔۔۔تم دونوں نے میرے یقین کا ناجائز فائدہ اٹھایا ہے۔۔اور آئزل تم۔۔۔۔مجھے تم سے یہ اُمید نہیں تھی۔۔‘‘اس نے بے یقینی سے بہن کی جانب دیکھتے تاسفی انداز میں دکھ کا اظہار کیا تھا،ساتھ ہی وہ لنگڑا کر چلتا تخت پر گرنے کے انداز میں بیٹھا تھا۔۔ ’’نہیں مجتبیٰ! ایسا نہیں ہے میرے بھائی۔۔‘‘وہ بھائی کو دہری تکلیف میں مبتلہ دیکھ تڑپ کر قریب آئی تھی۔۔ ’’آئزل چلی جاؤ میری نظروں کے سامنے سے۔۔‘‘اس نے رخ پھیر لیا۔۔ ’’مجتبیٰ میرے بھائی۔۔۔‘‘وہ مسلسل رو رہی تھی۔۔جبکہ اہان بالکل خاموش کھڑا تھا۔۔ ’’اگر گھر کے بڑے اس رشتے کے لئے نہیں مانے تو تم لوگوں نے یہ رستہ تلاش کرلیا۔۔اس سے تو مجھے کوئی امید نہیں ہے مگر آئزل تم۔۔ اتنا بڑا قدم اٹھانے سے پہلے تمہیں ایک بار بھی میرا خیال نہیں آیا۔۔‘‘وہ سرخ آنکھوں میں شکوہ لئے رنجیدگی سے بولا تھا۔۔ ’’مجتبیٰ ایک بار ہماری بات۔۔۔‘‘ ’’اپنی بہن سے بات کر رہا ہوں میں۔۔بہتر ہے کہ تو یہاں سے اپنی شکل لے کر دفعہ ہوجا۔۔‘‘ پاس بیٹھی آئزل سہم گئی تھی،ساتھ ہی نظر گھٹنوں سے پھٹی ہوئی پینٹ پر گئی تھی۔۔ ’’مجتبیٰ تمہارے چوٹ لگی ہے۔۔اہان ڈاکٹر کو بلاؤ پلیز!‘‘وہ سب کچھ نظر انداز کرتی اسکے پاؤں میں بیٹھ گئی تھی۔۔ ’پیچھے ہٹو آئزل!‘‘اس نے ناگواری سے کہا ،وہ اسکی بڑی بہن تھی اور اسے قطعی گوارہ نہیں تھا کہ وہ اسکے پاؤں کو ہاتھ لگاتی۔۔ ’’اس وقت تو کوئی ڈاکٹر نہیں ملے گا مجتبیٰ میرے ساتھ ہسپتال چل۔۔ ‘‘اہان بھی ذرا پریشان سا نزدیک آیا۔۔ ’’میں نے کہا نا دور رہو تم دونوں مجھ سے۔۔‘‘وہ انتہائی ضبط سے غرایا تھا۔ ’’نکاح کیا ہے ہم نے ۔۔۔کوئی گناہ نہیں کیا۔۔اور یہ نکاح ،کب ،کہاں،کیسے،اور کس نے کرایا تھا یہ بھی میں جلد بتاؤنگا۔۔‘‘اس بار اہان مجتبیٰ کے کندھے پر سختی سے ہاتھ جماتا ایک ایک لفظ چبا کر بولا تھا، ساتھ ہی آئزل کا بازو پکڑ کر اسے تخت پر بیٹھایا تھا،جو بھائی کی تکلیف میں تڑپی جارہی تھی۔۔ ’’مجتبیٰ دیکھو اب تو خون بھی جم گیا ہے۔۔۔ہسپتال چلے جاؤ اہان کے ساتھ۔۔‘‘تیزی سے دونوں سرخ پڑتے گال بیدردی سے رگڑتی وہ بہت آس بھرے لہجے میں گویا ہوئی تھی۔۔ ’’ آئزل جاؤ ابھی یہاں سے۔۔ ۔۔۔‘‘مجتبیٰ رُخ پھیر گیا ،جبھی اہان فرسٹ ایڈ باکس ڈھونڈ کر لانے کی غرض سے پلٹا ہی تھا کہ مجتبیٰ کی سخت آواز سماعتوں سے ٹکرائی تھی۔۔ ’’ کہاں جارہے ہو؟ جہاں بھی جارہے ہو اپنی بیوی کو ساتھ لے کر جاؤ۔۔‘‘آئزل نے بے یقینی سے اسکی جانب دیکھا تھا۔۔ ’’مجتبیٰ یہ کیا کہہ رہے ہو؟‘‘اہان اسکی بات نظر انداز کرتا خود کمرے کی جانب بڑھا تھا،جبکہ آئزل نے شکوہ کناں نظروں سمیت اسکی جانب دیکھا تھا۔۔ ’’پھر کیا کہوں؟ چوری چھپے نکاح کرلیا ۔۔ تو اب رخصتی بھی کرو۔۔اور جاؤ یہاں
