Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 09
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 19/05/2026
1 Views
Episode no 09
سے۔۔‘‘وہ دونوں ہی خاموش ہوگئے تھے۔۔ ’’کیا کرنا ہے کیا نہیں۔۔اس بات کا فیصلہ ہم بعد میں کریں گے۔۔مگر پہلے تمہاری بینڈج کرنا ضروری ہے۔۔‘‘اس کے لہجے میں سنجیدگی تھی۔۔ ’’بہت مہربانی آپ دونوں کی۔۔اب آپ تشریف لے جا سکتے ہیں۔‘‘وہ ناگوار لہجے میں غرایا۔۔ ’’اوکے!مگر پہلے بینڈج!‘‘وہ بھی اپنی ضد کا پکا ّتھا۔۔ ’’ہاں مجتبیٰ پہلے بینڈج کرالو۔۔میں تمہارے لئے ہلدی دودھ لے کر آتی ہوں۔۔‘‘وہ اپنی جگہ پر اہان کو بیٹھنے کے لئے جگہ دیتی خود ،بھاگ کے کچن کی جانب بڑھی تھی۔۔جبکہ اہان اپنی جگہ بنا کر جلدی سے بیٹھا تھا،کہیں یہ بد دماغ ہیرو پھر سے نخرے نہ شروع کردے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات کے ایک بج رہا تھا،جس وقت عریشہ گھر میں داخل ہوئی تھی۔ہر سو سناٹا سا چھایا ہوا تھا۔۔وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی کار پورچ کا حصہٰ عبور کرتی مصطفیٰ پیلس میں انٹر ہوئی تھی۔۔جہاں سامنے ہی وہ اسکی منتظر بیٹھی تھیں۔۔ ’’آنٹی آپ ابھی تک جاگ رہی ہیں؟‘‘وہ زنیرہ کو جاگتا دیکھ حیران ہوئی۔ ’’ہاں جاگنا پڑا۔۔‘‘وہ ذرا غصےٰ سے بولیں تھیں۔۔عریشہ نے کان کھجا کر سر جھکا لیا تھا۔۔ ’’میں نے منع کیا تھا نا آپ کو۔۔جانتی بھی ہیں مصطفیٰ کس قدر خفا ہورہا تھا مجھ پر۔۔۔‘‘عریشہ نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔۔ ’’آئی ایم رئیلی سوری آنٹی۔۔۔میری وجہ سے آپ کو مصطفیٰ کے سامنے شرمندہ ہونا پڑا۔۔‘‘وہ لب دانتوں تلے دبائے خفت ذدہ سی بولی،جن کی گھورتی نگاہیں اسی پر ٹکی ہوئی تھیں۔۔ ’’آپ اتنے سالوں بعد پاکستان واپس آئی ہیں۔۔جبکہ آپ یہ بات بہت اچھے سے جانتی ہیں کہ یہاں آپ کے کتنے دشمن ہیں۔۔‘‘وہ خاموش رہی۔۔ ’’جائیں جاکر آرام کریں۔۔اب صبح بات کریں گے۔۔‘‘وہ خودا ٹھ کر اپنے کمرے کی جانب چل دیں تھیں۔۔وہ دل کی بری عورت تو ہر گز نہیں تھیں۔۔مگر انہونے بھی جوان بیٹا کھویا تھا، اور ثمرہ کی یہاں موجودگی نے انہیں ضرورت سے زیادہ ہی تلخ کردیا تھا۔۔۔ان کی ذات کا جو پہلو مصطفیٰ گزشتہ دو چار روز سے دیکھ رہا تھا یہ کبھی ان کی شخصیت کا خاصہ نہیں رہا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات کا کھانا کھانے کے بعد جبران صاحب جلدی روم میں چلے آئے تھے۔۔۔جبکہ فرناز انہیں پریشانی سے کمرے میں مارچ کرتا دیکھ نخوت سے سر جھٹکتی اپنی سائیڈ پر لیٹتی گہری نیند میں سو گئیں تھیں۔۔ وہ انہیں ایک نظر دیکھ صوفے پر سر گرائے گزرے وقت میں کھو گئے تھے۔۔کتنے ہی آنسو تھے جو آنکھوں سے نکلتے کنپٹیوں میں جذب ہوگئے تھے۔۔ ’’وہ پیچھلے چار دن سے تھانے کچہریوں کے چکر لگا رہے تھے مگر شارق کی ضمانت کسی صورت منظور نہیں ہوسکی تھی۔۔ بیٹی کی قربانی بھی رائیگا گئی تھیں۔۔انہیں سوچ سوچ کر ہول اٹھ رہے تھے۔۔اب نجانے اسکے ساتھ وہاں کیا ہورہا تھا۔ یہی سوچتے سوچتے وہ نیند کی وادیوں میں اتر گئے تھے۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’لو جلدی سے پی لو۔۔۔تمہارا زخم جلدی بھر جائے گا۔۔‘‘مجتبیٰ نے ایک نظر اٹھا کر آئزل کو دیکھا جو ہمیشہ کی طرح اسکی فکر میں گھلی جارہی تھی۔ایک نظر سنجیدہ سے بیٹھے اہان پر ڈال وہ گلاس تھام چکا تھا۔۔جو بھی تھا مگر وہ اسکی اکلوتی بہن بھی تو تھی نا۔۔۔ ’’رات زیادہ ہوگئی ہے میں نکلتا ہوں۔۔‘‘ماحول میں عجیب سی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔۔آئزل وہیں کھڑی تھی۔۔جبکہ مجتبیٰ خاموشی سے چھوٹے چھوٹے سپ لے رہا تھا۔۔ ’’کہاں جا رہے ہو،،میں نے تم سے کچھ کہا ہے۔۔‘‘وہ ایک بار پھر غصےٰ سے بولا تھا۔۔اہان جو پلٹ کر جانے لگا تھا۔۔۔ایک گہری سانس بھرتا پلٹ کر اسکی جانب آیا تھا۔۔ ’’دو دن دے دو مجھے بس۔۔میں خود عزت سے آئزل کو یہاں سے رخصت کرا کر لے جاؤں گا۔۔‘‘اہان نے ایک نظر روتی ہوئی آئزل کو دیکھ تحمل سے کہا ،جو سرخ آنکھوں سے سر اٹھائے اسے ہی گھور رہی تھی۔۔ ’’دو دن کیا ،ایک لمحہ بھی نہیں۔۔جب نکاح کر لیا تو اب رخصتی بھی ابھی کرو۔۔‘‘اسے سوچ سوچ کر طیش آرہا تھا اسکی بہن اسکی بغیر اجازت بھلا اتنا بڑا قدم کیسے اٹھا سکتی تھی۔۔ ’’کیا تمہیں اچھا لگے گا کہ میں تمہاری بہن کو یوں رات کے اندھیرے میں چوری چھپے رخصت کراکر لے جاؤں؟کیا عزت رہ جائے گی اس کی ؟ساری زندگی لوگوں کی فضول باتیں سننے کو ملیں گی۔۔اور قصور ہی کیا ہے اسکا یا میرا۔۔کہ ہم نے نکاح کیا ہے بس؟؟؟وہ بھی تم سب سے تنگ آکر۔۔‘‘ اس بار اہان کو اسکے رویہ پر غصہٰ آیا تھا۔۔ ’’تو آگر تمہارے ماں،باپ رشتے کے لئے نہیں راضی ہورہے تو میں زبردستی اپنی بہن تمہارے حوالے کردوں؟‘‘مجتبیٰ یکدم ہی طیش میں آتا اسکا گریبان تھام چکا تھا۔۔ ’’مجتبیٰ!‘‘آئزل کی چیخ نکلی تھی۔۔ ’’تمہارا بھائی پاگل ہو چکا ہے۔رات کے اس پہر ناجانے کونسا تماشہ لگانا چاہتا ہے۔۔‘‘وہ خفا ہوا تھا۔۔مجتبیٰ نے ایک جھٹکے سے اسکا گریبان آزاد کیا تھا۔۔ ’’بہتر ہے کہ تم یہاں سے اپنی بیوی کو ساتھ لے جاؤ۔۔‘‘وہ ایک بار پھر اپنی بات پر آگیا تھا۔۔ ’’بس کردو مجتبیٰ! یہ گھر میرے باپ کا ہے۔۔اور تم مجھے یہاں سے نہیں نکال سکتے۔۔۔میں بڑی ہوں تم سے۔۔اپنی زندگی کے لئے اگر کوئی فیصلہ لے لیا تو کوئی گناہ نہیں کیا ہے میں نے سمجھے۔۔‘‘اس بار آئزل اسے بازوؤں سے پکڑ کے ذرا پیچھے دھکیلتی غصےٰ سے بولی تھی۔۔ ’’صحیح کہہ رہی ہو تم۔۔تمہارا جو مرضی دل آئے وہ کرو۔۔اس شخص سے نکاح تو کر ہی چکی ہو۔۔باقی بھی تمہاری مرضی ہے۔۔اسکے گھر میں اب ساری زندگی زلت کی گزارنا کیونکہ انکی والدہ تو اپنے ننھے کاکے بیٹے کے لئے تمہاری جیسی بڑی عمر کی لڑکی کو کبھی قبول نہیں کریں گی۔۔‘‘وہ آئزل کی بات پر شدید رنج کا شکار غصےٰ سے پھنکارا تھا۔۔ ’’مجتبیٰ یہ نکاح ہم نے اپنی مرضی سے نہیں کیا۔۔بلکہ ہمارا نکاح۔۔۔‘‘ ’’اہان رہنے دیں۔۔کوئی ضرورت نہیں ہے اسے صفائیاں دینے کی۔۔یقین کرنا ہے تو کرے نہیں کرنا تو اسکی مرضی۔‘‘وہ اہان کو خاموش کرتی اس پر ایک غصےٰ بھری نگاہ ڈالتی ،تیز قدموں کی چاپ چھوڑتی اپنے کمرے میں بند ہوگئی تھی۔۔ ’’مجھ پر نہیں تو اپنی بہن پر یقین کرلے بھائی۔۔تجھے لگتا ہے وہ کچھ ایسا ویسا کرسکتی ہے؟‘‘اس بار اہان کے لہجے میں تاسف در آیا تھا۔۔ ’’جب تیرے جیسا شیطان صفت آدمی ہو تو کوئی بھی معصوم لڑکی بہک سکتی ہے۔۔‘‘اس بار وہ دانت پیس کر گویا ہوا تو اس قدر سیریس سچوئشن میں بھی اہان کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھوا تھا۔۔ ’’انسان بن جا ورنہ ضائع ہوجائے گا مجھ سے۔۔‘‘مجتبیٰ نے دانت پیسے۔۔ ’’اچھا یہ بتا کس سے لڑ کر آیا ہے؟‘‘وہ اسکے لہجے میں نرمی محسوس کر شیر ہوا تھا۔۔ ’’دو دن صرف دو دن کا وقت ہے تیرے پاس۔۔عزت کے دائرے میں اپنے ماں باپ کو یہاں لے کر آ آئزل کا رشتہ مانگنے۔۔ورنہ بھول جانا کہ یہاں کوئی تمہاری بیوی بھی رہتی ہے۔۔‘‘وہ دانت پیس کر ذرا جتاتے لہجے میں بولا تھا۔۔۔ اہان نے گھور کر دیکھا تھا۔۔ ’’جتنا تو اڑیل کھڑوس ہے نا،اللہ کرے کوئی ضدی قسم کی ہی عورت تیرا نصیب بنے آمین۔۔۔‘‘وہ آسمان کی جانب رخ کر کہ ہاتھ اٹھا کر دعا مانگتا جلدی سے منہ پر ہاتھ پھیر کر آمین بولتا مسکراہٹ ضبط کرتا گھر سے نکل گیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ثمرہ کی پوری رات آنکھوں میں ہی کٹ گئ تھی،کل اس نے زنیرہ کو عریشہ کی فکر میں بہت پریشان دیکھا تھا، مصطفیٰ کا بھی کئی بار فون آیا تھا ،وہ اس سے بھی اُسکی خیریت پوچھتا رہا تھا۔۔ کتنی لکی تھی وہ،بھلے اسکے پاس سگے رشتے نہیں تھے مگر احساس کرنے والے اس قدر پیارے رشتے موجود تھے،جو اسکی ذرا سی غیر
