Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 09
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 19/05/2026
1 Views
Episode no 09
ہارا جنون از_ہما_قریشی قسط_نمبر_9 ’’انکل کی طبیعت کیسی ہے اب ۔۔‘‘‘ وہ نگاہوں کا زاویہ بدلتی، بات گھما گئی۔۔ ’’ٹھیک ہیں ۔۔مگر تمہیں بہت یاد کرتے ہیں۔۔‘‘آئزل اس سے نگاہیں چراتی خاموش رہ گئی تھی۔۔ ’’اور آنٹی!‘‘رات کی تاریکی میں آنگن میں بیٹھے وہ دونوں نفوس گزرے وقت کی تلخیاں بھلائے ،اپنا آج حسین بنانے میں مگن تھے۔۔ ’’ٹھیک ہیں۔۔بس آج کل زورو شوروں سے بہو کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔‘‘آئزل نے ابرو اٹھائے۔ ’’ اور تمہارے کیا خیالات ہیں؟‘‘وہ جانچتی نگاہوں سے سوالیہ بولی۔۔ ’’میرے تو کوئی خیالات نہیں ہیں۔۔یہ بتاؤتمہارا بھائی کب راضی ہوگا؟‘‘اس نے لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ابرو اٹھائے۔ ’’جب تم انسانوں کی طرح میرا رشتہ مانگنے آؤگے۔‘‘وہ ناراضگی سے بولی۔۔۔۔۔ ’’پہلے بھی تو انسانوں کی طرح ہی رشتے کی بات کی تھی۔۔‘‘اس نے گھورا۔ ’’مطلب اپنے والدین کے ساتھ،عزت سے کب رشتہ لے کر آؤگے۔۔ویسے بھی اب مجتبیٰ میری شادی کرنا چاہتا ہے۔‘‘ اس بار وہ ذرا پریشانی سے بولی۔ ’’چلو بھاگ چلتے ہیں۔۔‘‘وہ یکدم بھی اٹھ کر اسکے نزدیک ہی پاؤں میں بیٹھتا آس بھرے لہجے میں بولا تھا۔۔ ’’پلیز اہان !ایسی باتیں نہ کیا کرو۔۔‘‘وہ نروٹھے پن سے بولتی رخ پھیر گئی۔۔ ’’تو پھر میں کیا کروں یار! تمہارے بھائی کے ساتھ بھی عجیب مسلے ہیں۔۔۔ادھر ممی نہیں مانتیں۔۔تو پھر اب کیا چاہتی ہو تم مجھ سے۔‘‘ وہ ہنوز خفا لہجے میں گویا ہوا تھا۔۔ ’’کچھ مت کرو تم!‘‘وہ ہاتھ چھڑا گئی۔ ’’اچھا ریلیکس!یہ بتاؤ مجتبیٰ کتنی دیر میں آجائے گا۔۔‘‘وہ سوالیہ گویا ہوا۔۔ ’’ بس ابھی تھوڑی دیر تک۔۔‘‘اس نے ناسمجھی سے بتایا۔۔ ’’اوکے!تو پھر تم ایک کام کرو، کھانا لگاؤ۔۔آج میں سالے صاحب سے بات کر کہ ہی گھر واپس جاؤنگا۔۔‘‘آئزل نے آنکھیں پھاڑ کر مقابل شخص کو دیکھا تھا۔۔ ’’دماغ خراب ہوگیا ہے تمہارا!‘‘آئزل کو پریشانی ہوئی۔ ’’اس میں داماغ خراب ہونے والی کیا بات ہے؟‘‘ اُس نےابرو اٹھائے۔۔ ’’مجتبیٰ کیا سوچے گا۔۔میں اس کے پیچھے میں ۔۔۔‘‘وہ شرمندہ ہورہی تھی۔۔ ’’اچھا تم ریلیکس کرو۔۔۔ میں جا رہا ہوں۔۔۔ایک گھنٹے بعد واپس آتا ہوں۔۔‘‘اسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرتا وہ محبت بھر ے لہجے میں بولا تھا۔۔ ’’ہاں یہ ٹھیک ہے۔۔‘‘وہ یکدم کھل سی گئ تھی،، "اتنی چھوٹی چھوٹی سی باتوں پر پریشان مت ہوا کرو،تم آہان سکندر کی محبّت ہو۔۔اور مجھے اپنی ایزی ہمیشہ مسکراتی ہوئی اچھی لگتی ہے۔‘‘وہ محبت سے اسکا سرخیاں چھلکاتا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرتا ماتھے پر مہر محبت ثبت کرتا نرم خوئی سے گویا ہوا تھا۔۔وہ پلکیں جھکا گئی۔۔اس کی جھکی جھکی سی مژگان اسے مزید گستاخی پر اکسا رہی تھیں۔۔تبھی وہ خود پر ضبط کے کڑے پہرے بیٹھائے تیزی سے گھر سے نکلتا گلی کے نکڑ پر کھڑی اپنی کار میں بیٹھتا گاڑی زن سے بھگا لے گیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجتبیٰ اپنے ایک دوست سے ملاقات کے بعد تیز تیز قدم اٹھاتا بس اسٹاپ کی جانب جارہا تھا،تاکہ جلد از جلد گھر پہنچ سکے۔۔آئزل گھر پر اکیلی ہوتی تھی،مگر وہ بھی کیا کرتا وقت کے ہاتھوں مجبور تھا۔۔۔پاس کوئی بائیک بھی نہیں تھی۔اور نہ جاب۔۔۔۔۔ ’’ہیلو!‘‘اس نے چلتے چلتے ہی آئزل کا نمبر ڈائل کیا تھا۔۔ ’’ہاں یار! ریلیکس کرو۔۔میں بس گھر ہی آرہا ہوں۔۔راستے میں ہوں۔‘‘وہ ہر گھنٹے بعد اسکی خیریت دریافت کرتا رہتا تھا۔۔ ’’تمہیں اگر نیند آرہی ہے تو تم سوجاؤ۔۔میں کھانا خود گرم کر کے کھا لونگا۔۔‘‘اس نے اسکی مشکل آسان کرنی چاہی تھی۔۔ ’’اچھا اچھا!چلو ٹھیک ہے میں بس آرہا ہوں۔۔‘‘ وہ ابھی بولتا ہوا ہی چل رہا تھا کہ جبھی ایک تیز رفتار گاڑی اپنی جانب آتی دکھائی دی تھی۔۔وہ رہائشی علاقے سے نکل رہا تھا ، جہاں اچانک ہی موڑ کاٹتی گاڑی اندھا دھند اسکی سمت بھاگی چلی آرہی تھی۔۔۔ ’’میں تم سے بعد میں بات۔۔۔۔‘‘اس کے لفظ لبوں میں ادھورے ہی رہ گئے تھے۔۔جبھی وہ تیز رفتار گاڑی سیدھی اس سے آٹکرائی تھی۔۔۔ مقابل نے دور سے دیکھتے ہی بریک لگایا تھا مگر بچاتے بچاتے بھی اچھا خاصہ ایکسیڈینٹ ہوگیا تھا۔۔۔ ’’اوہ مائی گاڈ!اندھے ہو کیا؟؟‘‘ کار سے باہر نکلتی عریشہ اسے زمین پر پڑا کراہتے ہوئے دیکھ درشتگی سے دھاڑی،مجتبیٰ جو ٹانگ میں چوٹ لگنے کے باعث ضبط سے اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ سماعتوں سے ٹکراتی کسی صنف نازک کی آواز پر برے طریقے سے چونکا۔۔۔۔ ’’ میڈم غلطی آپ کی ہے۔۔۔ آپ کو رہائشی حصےٰ میں ذرا دیکھ کر گاڑی چلانی چاہئے تھی۔۔‘‘وہ ذرا ناگواری سے غرایا۔۔ ’’تو تم اندھے کیڑے مکوڑوں کی طرح اتنی رات کو سڑک پر کیوں رینگ رہے ہو۔۔‘‘عریشہ اتنی بد لحاظ تو کبھی نہیں رہی تھی،مگر آج نجانے کیوں اسے طیش آرہا تھا۔۔ ’’ واٹ؟ْمیڈم۔۔۔لگتا ہے آپ کو اپنے پیسے کا کچھ زیادہ ہی گھمنڈ ہے۔‘‘وہ ناگواری سے بولا۔۔۔ ’’ بلڈی پور مین!اب اٹھو کیا لڑکیوں کی طرح زمین پر ہی پڑے ہائے ہائے کرتے رہو گے۔۔‘‘پیچھے دیکھتی وہ ذرا پریشانی سے بولی تھی۔۔ ’’ اگر آپ مجھے کیڑا مکوڑا سمجھنے کے بجائے انسان سمجھ کر کھڑا ہونے میں تھوڑی سی مدد کردیں گی تو بڑی مہر بانی ہوگی محترمہ کی ۔‘‘وہ پاؤں سمیٹتا طنزیہ طور پر بولا تھا۔۔ ’’ مشکل وقت میں ہیرو کی گاڑی سے مظلوم ہیروئن ٹکراتی ہے۔میری گاڑی سے یہ كنگلا لیڈیز طبیعت مرد ٹکراگیا ہے۔"وہ کراہتے ہوئے مجتبیٰ کو اُٹھنے میں مدد دیتی،اس قدر گھمبیر صورتحال میں اس ٹکراؤ پر ناگواری سے بڑبڑائی تھی۔۔جبکہ لنگڑا کر کھڑا ہوتا مجتبیٰ اپنی توانا جسامت کو دیکھ خود کو لیڈیز طبیعت قسم کا مرد تصور کرتا پورے وجود سے اُچھل کر رہ گیا تھا۔۔۔ ’’میں آپ کو کس اینگل سے لیڈیز طبیعت لگ رہا ہوں۔۔‘‘اسکی نازک سی گرفت سے ایک جھٹکے سے اپنا مضبوط توانا ہاتھ چھڑاتا وہ دانت پیس کر سوالیہ گویا ہوا تھا۔۔ ’’ہر اینگل سے۔۔اتنی دیر میں تو مرد اٹھ کر گاڑی والے پر چڑھ دوڑتے ہیں اور تم ہائے ہائے ہی کئے جارہے ہو۔۔‘‘ وہ ناگواری سے گویا ہوتی مسلسل پیچھے دیکھ رہی تھی۔۔ ’’نیکی کا تو زمانہ ہی نہیں ہے۔مطلب میڈم آپ کے خاتون ہونے کا لحاظ کرلیا ہے میں نے۔‘‘مجتبیٰ کے سر پر لگی تھی اور تلوؤں پر بجھی تھی۔۔ ’’ اوہ رئیلی!تو پھر ہٹو میرے راستے سے۔۔اس وقت میں بہت مشکل میں ہوں۔۔‘‘وہ بغیر لحاظ کئے واپس گاڑی میں بیٹھی تھی۔۔وہ اپنے حریفوں کو چکما دینے کے چکر میں گارڈز کی گاڑی بھی کہیں پیچھے ہی چھوڑ آئی تھی۔۔ ’’اوہ ہیلو میڈم!مجھے اسٹاپ تک تو چھوڑ دو۔۔۔اس حالت میں ،میں روڈ کیسے کراس کرونگا۔۔‘‘مجتبیٰ نے گڑبڑا کر مدد مانگی تھی۔۔ ’’بائیک وغیرہ بھی کہیں مار دی ہے۔۔۔یا حقیقتاً کنگلے ہو۔۔‘‘کھڑکی سے سر باہر نکالتی وہ تصدیق کرنے کی غرض سے سوالیہ بولی۔ ’’رات کے اس پہر سڑکوں پر خواری کاٹنے کا شوق تو مجھے بھی نہیں ہے۔۔بالکل صحیح سمجھی ہیں آپ !! محترمہ میں شدید قسم کا کنگلا مرد ہوں،اور بقول آپ کے لیڈیز طبیعت بھی۔۔۔۔ تو آپ خود ہی بتائیے کہ اس حالت میں روڈ کیسے کراس کیا جائے۔‘‘وہ کبھی اس بد دماغ لڑکی سے مدد نہ مانگتا اگر اسے گھر میں اکیلی اپنی بہن کی فکر نہ ہوتی۔اس حالت میں لنگڑا کر چلتے اس نے یہیں کہیں چکرا کر گر جانا تھا۔۔ ’’جلدی بیٹھو گاڑی میں۔۔‘‘مجتبیٰ فرنٹ سیٹ پر بیٹھنے لگا تو عریشہ نے گھورا۔۔ ’’انسان بن کر پیچھے جاکر بیٹھو۔۔‘‘مجتبیٰ ایک سرد آہ خارج کرتا گھوم کر پیچھے کا دروازہ کھولتا بیک سیٹ پر بیٹھ گیا تھا۔۔ ’’گھر کہاں ہے تمہارا!‘‘اس کی نظریں مسلسل ارد گرد کا جائزہ لے رہی تھیں۔ ’’آپ مجھے بس اسٹاپ تک چھوڑ دیں۔‘‘اب وہ دوبارہ سے سنجیدہ ہوگیا تھا۔۔یہ سنجیدگی اسکی شخصیت کا خاصہ تھی۔۔
