Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 08
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 18/05/2026
1 Views
Episode no 08
شاید کہ اس شہر میں تمہارے بہت سے دشمن ہیں۔۔جنہیں اب تک خبر لگ چکی ہوگی کہ تم اپنے شہر واپس آگئی ہو۔۔‘‘ وہ ناگواری سے بولا تھا۔۔۔ ’’تو ؟میں ڈرتی نہیں ہوں کسی کے باپ سے بھی۔۔میرے باپ نے مجھے بہت اسٹرونگ بنایا ہے۔‘‘اس کا دماغ گھوم گیا تھا۔۔ ’’اوہ میرے خدا!لڑکی تم سمجھتی کیوں نہیں ہو۔۔‘‘ مصطفیٰ کا دل چاہا،اپنا سر دیوار میں مار لے یہ ساری ضدی اور جذباتی لڑکیاں کیا اسی کے نصیب میں رہ گئیں تھیں۔۔ ’’میں سمجھ گئی ہوں۔۔‘‘اس نے ناک سے مکھی اڑائی۔ ’’اگر سمجھ گئی ہو تو ذرا اپنے دائیں طرف نظر ڈالو۔۔جو گاڑی تمہارے ساتھ چل رہی ہے ،اس میں تمہارے مخالفین موجود ہیں۔ وہ پچھلے ایک گھنٹے سے تمہارے تعاقب میں آرہے ہیں۔۔‘‘مصطفیٰ کی غیر متوقع بات پر اس نے حیرانگی سے نظر ترچھی کر گردن گھما کر چاروں جانب دیکھا۔۔۔ ’’ گارڈز ساتھ ہیں تمہارے ریلیکس! فوری کار گھر کے راستے پر ڈالو۔۔جہاں جانا ہے میرے پاکستان واپس آنے کے بعد جانا۔۔از ڈیٹ کلئیر! ابھی تمہارا اکيلے گھر سے نکلنا سيو نہیں۔۔۔‘‘اس بار سخت لہجہ سنجیدگی میں لپٹا ہوا تھا۔۔ ’’اوکے!پتہ نہیں میرے باپ کے ساتھ بھی کیا مسلہ تھا۔۔۔نجانے اور کتنے سانپ آستین میں پال رکھے ہیں۔۔‘‘وہ نفرت سے بڑبڑاتی کھٹ سے موبائل بند کر گئی تھی۔۔اور جان کر گاڑی انجان راستوں پر ڈالی تھی۔۔پہلے وہ اپنے تعاقب میں آتی مخلوق کو ذرا مزہ چکھانا چاہتی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات کی سرخی مائل تاریکی ہر سو اپنے پنکھ پھیلاتی کائنات پر تھکن سی سوار کر گئی تھی۔۔چاند کی روشنی کے باعث ماحول میں ایک سحر سا طاری تھا۔۔اور اس رات کا بھی اپنا ہی احساس تھا جو صرف حساس طبیعت یا نیچر سے محبت کرنے والے لوگ ہی محسوس کر سکتے تھے۔۔ ’’آئزل گھر میں بنے چھوٹے سے پانچ چھے فٹ پر مشتمل گارڈن ایریا میں پڑے تخت پر بیٹھی پھولوں کی خوشبو خود میں اترتی محسوس کررہی تھی۔جو اسکی ماں نے کچھ گملے اور پانی کی بوتلوں میں پیڑ کی جڑیں لگا کر بنا رکھا تھا۔۔۔۔جبکہ مجتبیٰ ابھی تک گھر سے باہر تھا۔۔۔رات کے دس بجنے والے تھے مگر وہ نجانے کہاں کہاں رزق کی تلاش میں بھٹکتا پھر رہا تھا۔۔جبھی اسے محسوس ہوا جیسے گھر میں کوئی داخل ہوا تھا۔۔ ’’کون؟‘‘اس نے ناسمجھی سے پیچھے پلٹ کر دیکھتے سوالیہ انداز میں پوچھا۔کہیں نہ کہیں دل کو اطمینان تھا کہ اسکے سوا بھلا کون ہوسکتا تھا۔۔۔ ’’میں ہوں ایزی!‘‘اس کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے تھے۔۔جھٹکے سے پلٹنے باعث لمبے بالوں میں گندھی چٹیا سینے پر آگری تھی۔۔ ’’سکون نہیں تمہیں؟‘‘وہ آنکھیں چن دھیا کر گھورتی،نزدیک گئی تھی،جو بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہولے سے مسکرایا تھا۔۔آئزل نے نظر بھر کر اسے دیکھا تھا۔۔۔ چھ فٹ سے نکلتا ہوا قد،کسرتی مضبوط جسم، توانامردانہ سینہ،جو سیاہ رنگ ٹی شرٹ میں واضح تھا۔جم کر کر کہ وہ اپنی اچھی خاصی باڈی بنا چکا تھا۔۔ جاذب نظر چہرے پر مقناطیسی گھور سیاہ چمکتی ہوئی آنکھیں ،عنابی لبوں پر رقص کرتی شرارتی مسکراہٹ مقابل کھڑا شخص وجاہت و شجاہت کا نمونہ ایک ہینڈسم مرد تھا۔۔۔۔۔ ’’تم سکون کہاں لینے دیتی ہو یار!‘‘وہ مزے سے بولتا پاس رکھے تخت پر گرنے کے انداز میں لیٹا تھا۔۔اس نے گرڑبڑا کر نظروں کا زاویہ بدلہ۔۔۔ ’’ میں سکون نہیں لینے دیتی؟‘‘وہ کمر پر ہاتھ باندھ کر لڑاکا عورتوں والے انداز میں گھور کر بولتی ،خود بھی ساتھ ہی بیٹھ گئی تھی۔ ’’ظاہر سی بات ہے اور کون۔‘‘سینے پر ہاتھ باندھ کر پاؤں تخت سے نیچے لٹکا کر لیٹا وہ شرارتی لہجے میں بولا،جس کی شوخ نگاہیں اسکے سراپے کا جائزہ لینے میں مصروف تھیں۔۔جو گلابی رنگ سادھ سے سوٹ میں ملبوس رات کی تاريكی اور چاند کی روشنی میں مہکتا گلاب ہی لگ رہی تھی۔۔بالوں کو کس کر چٹیا میں باندھ رکھا تھا۔کتھئی آنکھیں اسکی شوخ نگاہوں سے خائف ادھر ادھر گھما رہی تھی۔۔۔جبکہ وہ ماتھے پر سینکڑوں بل سجائے خشمگیں نگاہوں سے گھورتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔ ’’اوئے کہاں جارہی ہو یار!‘‘اس نےاسے پلٹتا دیکھ سوالیہ انداز میں پوچھا۔۔لہجے سے بےچینی عیاں تھی۔۔ ’’دروازہ لاک کرنے۔۔اگر مجتبیٰ آگیا نا تو ساری زندگی کے لئے تمہارا سکون غارت ہوجائے گا۔‘‘ناچاہتے ہوئے بھی اسکے لبوں پر ایک خوبصورت سی مسکان کھل گئی تھی۔۔ ’’کتنی تیز ہو نا تم!‘‘وہ واپس پلٹ کر آئی تو ذرا گھور کر بولا۔ ’’اچھا میں تیز ہوں۔۔تو پھر آج صبر کرو اور مجتبیٰ کو آجانے دو۔۔‘‘اس نے گویا چیلنج کیا تھا۔۔ ’’سالے صاحب سے ڈرتا کون ہے بے بی۔۔‘‘اس نے شرارت سے آنکھ ماری تھی۔۔۔ جاری ہے
