Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 08
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 18/05/2026
1 Views
Episode no 08
ہارا جنون از_ہما_قریشی قسط_نمبر_8 تقریباً کوئی سات اٹھ شاپنگ بیگز تھے،ساتھ ہی نگاہ پیچھے گھمائی تو نظر صوفے پر رکھے مزید شاپنگ بیگز کی جانب گئی تھی،وہ متعجب سی اب بیگز میں جھانکنے کے سے آنداز میں دیکھتی ساری چیزیں دیکھ رہی تھی،وہ سارے لیڈیز سوٹ تھے۔۔ان بیگز میں تقریباً ہر رنگ کا جوڑا موجود تھا،جو آرام سے گھر میں پہنا جا سکتا تھا۔۔ وہ ایک گہری تاسفی سانس خارج کرتی اب قدم اٹھا کر صوفے کی جانب بڑھی۔۔۔ ان بیگز میں پارٹی وئیر ڈریسز تھے۔ہلکے کام والی،ایک سرخ رنگ فراک نکال کر دیکھتی پہلے پہل وہ دھیرے سے مسکرائی،اور پھر ایک سوچ آنے پر اسکے مسکراتے لب یکدم سمٹ سے گئے تھے۔۔۔فراک خود پر سے ہٹاتی گاؤن اور باقی سب پرسنلز چیزوں پر ایک نگاہ ڈالتی سٹپٹا سی گئی تھی۔۔۔۔ ’’حد ہوگئی!میں آگر شاپنگ پر نہیں گئی تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ ،خود ہی سب خرید لیا جائے۔۔‘‘وہ ابھی سرخ پڑتی سوچ بچار میں گمُ تھی کہ جبھی دروازے پر دستک ہوئی تھی۔۔ ’’آجائیں!‘‘سب کچھ واپس بیگ میں بھرنے کے آنداز میں ڈالتے آندر آنے کی اجازت دی گئی تھی۔۔ ’’ السلام علیکم میڈم!‘‘ ثمرہ نے بغور اس لڑکی کا جائزہ لیا تھا،جو ہاتھ میں فلور بکے لئے آفس ڈریس کوٹ میں موجود تھی،جو یقیناً مصطفیٰ کے آفس میں کام کرتی تھی۔۔ایک نظر میں اس حسین لڑکی کا جائزہ لیتے سر ہلا کر سلام کا جواب دیا گیا تھا۔۔ ’’وعلیکم السلام!‘‘ ’’گڈ مارننگ! میڈم یہ سر نے آپ کے لئے بھجوایا ہے۔۔‘‘ثمرہ نے خوشدلی سے مسکراتے بُکے تھام لیا تھا،اس کی اس پیش قدمی پر دل میں گدگدی سی ہوئی تھی۔۔ ’’اور یہ سیل فون بھی۔۔‘‘ایک لمحے کو پلٹ کر باہرکھڑی ملازمہ سے موبائل فون کا ڈبا تھام کر لیتے ثمرہ کی جانب بڑھایا تھا۔۔ ’’مصطفیٰ کہاں ہیں؟‘‘ اس نے سرسری سے لہجے میں ذرا متجسس ہوکر پوچھا۔۔ ’’میڈم سر کی کچھ دیر میں دبئی کی فلائٹ ہے،وہ اس وقت آئیر پورٹ پر ہونگے۔۔مگر سر نے کہا کہ وہ وہاں پہنچتے ہی آپ کو کال کریں گے۔موبائل میں سم اور گھر کے تمام افراد اور ضروری نمبر نوٹ کر دئیے ہیں۔‘‘اس کی مصطفیٰ کے بابت اطلاع دینے پر چمکتا چہرہ بجھ سا گیا تھا۔۔ ’’کتنے دن میں واپسی ہے؟‘‘لب چباتی وہ مزید گویا ہوئی تھی۔ ’’دو سے تین دن۔۔‘‘اس نے مختصر سا جواب دیا تھا۔۔ ’’یہ شاپنگ۔۔۔‘‘اس نے دانستہ جملہ ادھورا چھوڑا تھا۔۔دل زورو سے دھڑک رہا تھا۔۔ ’’یہ شاپنگ سر نے کہا تھا آپ کے لئے کرنے کو۔۔اس کے علاوہ آپ کو جس چیز کی بھی ضرورت ہو آپ بتا سکتی ہیں۔۔۔اور آگر آپ کمفرٹیبل ہوں تو میرے ساتھ شاپنگ پر چل سکتی ہیں۔۔‘‘ثمرہ کی جان میں جان آئی تھی۔ ’’ تھینک یو۔۔‘‘اُس نے ہولے سے مسکرا کر کہا۔۔ ’’آپ؟؟‘‘اب وہ اسکی پوسٹ جاننے کے لئے متجسس ہوئی۔ ’’میں سر کی سیکرٹری !‘‘اس کے تعارف پر کچھ لمحے پہلے کھلی مسکراہٹ پل میں سمٹ سی گئی تھی۔۔۔ ’’اوہ اچھا!ٹھیک۔۔تھینک یو۔۔۔اب آپ جاسکتی ہیں۔۔‘‘اس کے یکایک بدلتے کھردُرے لہجے پر وہ ایک لمحے کو چونکی پھر اُوکے میڈم کہتی کمرے سے ہی نکل گئی تھی۔۔۔۔ ’’ہمم! اتنی خوبصورت سیکریٹری رکھنے کی بھلا کیا ضرورت پیش آگئی۔۔۔‘‘وہ دل ہی دل میں بڑبڑاتی،مصطفیٰ کی بھیجی گئی تمام چیزیں ایک طرف رکھتی ملازمہ کا دیا گیا جوڑا لے کر واشروم میں گھس گئی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’عریشہ بیٹا!آپ کی ماں پاکستان ساتھ کیوں نہیں آئیں۔۔‘‘وہ اس وقت سیٹنگ ایریامیں بیٹھیں عریشہ سے باتوں میں مشغول تھیں ،جوصبح سویرے جلدی اُٹھنے کی عادی تھی۔۔۔ ’’نہیں آنٹی!وہ میری سگّی ماں تو ہیں نہیں۔۔اور پھر میں ان پر زبردستی بھی تو نہیں کر سکتی نا۔۔‘‘ لوز سے ٹراؤزر شرٹ میں ملبوس،مغربی رنگ و روپ والی عریشہ، زنیرہ کے سوال پر فوری سنجیدہ ہوگئی تھی۔۔ ’’ہمم یہ تو ہے۔۔۔‘‘وہ دونوں باتوں میں مصروف تھیں۔۔ ’’ السلام علیکم!‘‘ وہ دونوں سماعتوں سے ٹکراتی آواز پر چونک سی گئی تھیں۔۔ ’’وعلیکم السلام!صبح ہوگئی تمہاری؟‘‘زنیرہ کا لہجا یکایک تبدیل ہوا تھا۔۔ثمرہ کو کچھ کھٹکا سا ہوا تھا۔۔ ’’جی !بس وہ رات نیند نہیں آئی تو ۔۔۔‘‘عریشہ نے بغور اسکے سراپے کا جائزہ لیا تھا۔۔۔۔۔ ’’اچھا!ناشتہ کروگی ۔۔‘‘انہونے رکھائی سے پوچھا۔۔ثمرہ خاموش رہی۔۔اب وہ کیا کہتی ، کہ صبح اٹھ کر ناشتہ نہیں کرےگی کیا۔۔ ’’کُک دوپہر کے کھانے کی تیاری کر رہا ہے۔آگر بھوک لگ رہی ہے تو کچن میں جاکر خود بنا لو۔‘‘ثمرہ کو نجانے کیوں اس انجان لڑکی کے سامنے شرمندگی سی ہوئی تھی۔۔۔ ’’آنٹی یہ آپ کی؟؟‘‘اس نے آندازً دریافت کیا تھا۔۔کپڑوں سے تو وہ ملازمہ سے بھی گئی گزری لگ رہی تھی۔مگر شکل و صورت اور ہیئر کٹ اسکی ذات کی واضح عکاسی کر رہا تھا۔۔۔ ’’بیٹا یہ میری کوئی رشتہ دار نہیں ہے۔۔اور احد کا تو آپ کو معلوم ہی ہے۔۔کتنا درد مند ہے۔۔ہر اِیرے غیرے کو ہمدردی کے تحت گھر میں جگہ دے دیتا ہے۔۔‘‘ثمرہ نے آنکھیں پھاڑ کر انہیں دیکھا تھا،پھر فوری ہی سنبھل بھی گئی تھی۔۔۔آخر اُس نے سُوچ بھی کیسے لیا تھا کہ وہ اسے قبول کرلیں گی۔۔ ’’اوہ!ویری سیڈ!‘‘اس نے تاسف کا اظہار کیا،اسکا حلیہ دیکھ وہ پہلے اسے کوئی ملازمہ ہی سمجھی تھی۔۔ ثمرہ نے بغور اُسکا جائزہ لیا تھا۔مناسب قد کاٹھ،مغربی رنگ و روپ والا چہرہ،نازک سے مومی گڑیا جیسے نین نقش،بڑی بڑی سبز آنکھیں ، اٹھی ہوئی ناک،لوز سے ٹراؤزر شرٹ میں ملبوس ڈراک بلونڈ کلر بالوں کی لٹیں انگلی پرلپیٹتی وہ جانچتی نگاہوں سے ثمره کے سراپے کا جائزہ لے رہی تھی۔آنکھوں میں عجیب سا تاثر تھا۔۔۔۔ ’’خیر تم بتاؤ۔تمہاری اور مصطفیٰ کی دوستی کیسے ہوئی۔۔مصطفیٰ بہت باتیں کرتا ہے تمہاری۔۔‘‘ثمرہ تھکے قدموں سے کچن کی جانب بڑھ ہی رہی تھی کہ سماعتوں سے ٹکراتی زنیرہ کی چہکتی آواز پر وہ پلر کی آڑس ہونے کے باعث ٹھر گئی تھی۔۔ ’’میری اور مصطفیٰ کی دوستی!!!! افف آنٹی۔۔اتنا کوئی نکچڑا ہے نا آپ کا بیٹا۔۔۔کہ میں آپ کو کیا بتاؤں۔۔۔اتنی مشکل سے مانا تھا دوستی کے لئے۔۔‘‘عریشہ نے چہک کر کہا تھا۔۔ ’’ یعنی تم مصطفیٰ کو لائیک کرتی ہو۔۔۔۔"انہیں زاتی طور پر عریشہ پسند تھی یا نہیں مگر یہ بات انہونے خاص کر ثمرہ کو جتانے کے لئے چھیڑی تھی۔۔ ’’اہمم!میں نے تو لڑکی ہوکر آپ کے بیٹے کو پرپوز بھی کیا تھا،مگر وہ مانا ہی نہیں۔۔کہتا ہے سوچ کر جواب دونگا۔‘‘اس نے ذرا منہ بنا کر بولا۔۔جبکہ ثمرہ کی آنکھوں میں مرچیں سی مچنے لگی تھیں۔۔۔ ’’چلو کوئی بات نہیں،اب مل کر راضی کرلیں گے۔۔ورنہ اس نے تو فضول سے لوگوں کی وجہ سے کنوارا ہی رہ جانا ہے۔۔ویسے بھی میرا بڑا ارمان ہے اپنے بیٹے کو دلہا بنا دیکھنے کا۔۔‘‘ثمرہ کے دل کو کچھ ہوا تھا۔۔آنکھوں سے زارو قطار آنسو بہنے لگے تھے۔۔وہ جلدی سے قدم اُٹھاتی کچن کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔۔۔ ’’ویسے آنٹی مائینڈ نہ کیجئے گا ایک بات کہوں۔۔‘‘اس نے گلا کھنکھار کر کہا۔۔۔۔۔۔ ’’کہو نا بیٹے۔‘‘ ’’اس طرح کی جو لڑکیاں ہوتی ہیں ناں انہیں گھر میں نہیں رکھتے ،یہ مظلوم بن کر مردوں پر دوڑے ڈالنے لگتی ہیں۔‘‘ اس نے ذرا رازداری سے کہا تھا۔۔۔۔۔۔ ’’فکر مت کرو۔۔ابھی میں زندہ ہوں۔۔یہ محترمہ آئی ہی مصطفیٰ کے ییچھے ہیں، مگر میں کبھی بھی اس لڑکی کو اسکے منصوبوں میں کامیاب نہیں ہونے دونگی۔‘‘انہونے ذرا ناگواری سے کہا تھا۔۔ ’’سریسلی آنٹی!‘‘اس نے ہونقوں کی مانند آئی برو اُٹھائے۔۔۔ ’’شکل سے کتنی معصوم لگتی ہے۔۔۔‘‘اس نے حیرانگی کا اظہار کیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دبئی کی بلند و بالا بلڈنگ کے اپنے ذاتی پینٹ ہاؤس میں موجود گلاس وُنڈو کے پاس کھڑا مصطفیٰ آج سارا دن میٹنگز میں مصروف رہا تھا۔۔۔ دبئی
