Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 08
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 18/05/2026
1 Views
Episode no 08
کی رُونقیں عروج پر تھیں، پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ پھنسائے وہ اس وقت ماتھے پر بل ڈالے مسلسل ثمرہ کا نمبر ڈائل کر رہا تھا،جس پر مسلسل بيل ہورہی تھی۔۔۔ ’’یہ لڑکی نہیں سدھر سکتی۔۔‘‘تاسفی آنداز میں بڑبڑاتا ،اب وہ اپنی سیکریڑی کا نمبر ڈائل کر رہا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ثمرہ نے ناشتہ بھی بس ایسے ہی کیا تھا،اور اسکے بعد وہ سارا دن کمرے میں بند رہی تھی۔دپہر کا کھانا بھی اُس نے خود ہی کچن میں جاکر کھایا تھا۔۔اور ابھی وہ کمرے سے باہر تھی مگر زنیرہ کی نظروں میں حقارت دیکھ وہ واپس روم میں آگئی تھی۔۔۔ جبھی اسکی توجہ اپنے موبائل کی جانب گئی ، اس نے آگے بڑھ کر موبائل اٹھایا تو انٹرنیشنل نمبر سے سینکڑوں مسڈ کالز آئی ہوئی تھیں۔۔ ابھی وہ چیک ہی کر رہی تھی کہ موبائل ایک بار پھر سے رنگ ہوا تھا۔۔ ’’کہاں ہیں آپ ؟کب سے کال کر رہا ہوں۔۔۔‘‘دوسری جانب سے جھنجھلائی ہوئی آواز سماعتوں سے ٹکرائی تھی۔۔ ’’وہ میرا موبائل کمرے میں تھا۔۔‘‘ثمرہ کے ٹھرے ہوئے لہجے پر اسکا غصہٰ ،جھنجھلاہٹ بھک سے اُڑا تھا۔۔۔۔ ’’کیسی ہیں آپ؟‘‘جب دونوں جانب خاموشی چھائی رہی تو مصطفیٰ کو ہی پہل کرنی پڑی تھی۔۔ ’’ٹھیک۔۔‘‘ اس نے سپاٹ سے لہجے میں یک لفظی جواب دیا۔۔ ’’مجھے ارجنٹ نکلا پڑا تھا۔ورنہ آپ سے ملاقات کئے بغیر نہیں آتا۔۔‘‘وہ مزید بولا۔۔ ’’ ہمم!‘‘ ’’مجھ سے نہیں پوچھیں گی کہ میں کیسا ہوں۔۔‘‘ گھمبیر لہجے میں کئے گئے شکوے پر وہ ایک لمحے کو سٹپتائی تھی۔۔ ’’کیسے ہیں آپ؟‘‘لب چباتی ، وہ سوالیہ ہوئی۔ ’’میں سوچ رہا ہوں جس ثمرہ کو میں آج سے پانچ سال پہلے جانتا تھا وہ باتیں کرنے کی شوقین لڑکی تھی۔۔خاص کر مجھ سے بات کرنا انکا پسندیدہ مشغلہ تھا۔"وہ جیسے شکوہ کر رہا تھا۔۔۔ ’’پانچ سال قبل ثمرہ جبران ایک یونیورسٹی کی طالبہ علم امیچور لڑکی تھی۔۔جیسے شاید غیر مردوں سے بات کرنا بہت زیادہ فینٹسائز کرتا تھا۔۔‘‘وہ اس قدر تلخی سے سخت لفظوں میں گویا ہوئی تھی کہ ایک لمحے کو تو مصطفیٰ خاموش رہ گیا تھا۔۔مگر پھر گہری سانس بھرتا خود پر ضبط کر گیا۔۔۔ ’’تو آگر اب آپ میچور بن ہی گئی ہیں تو اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ جب دوسر ے ملک میں بیٹھے شوہر کا فون آئے تو اس سے اچھی اچھی باتیں کرتے ہیں تاکہ بیوی کی کمی نہ محسوس ہو۔۔‘‘ وہ ایک بار پھر جذبات سے بوجھل بھاری لہجے میں گویا ہوا تھا۔ ’’کم آن مصطفیٰ!ہمارے درمیان ایسا کوئی ریلشن نہیں ہے جو میں ان چونچلو میں وقت ضائع کروں۔۔‘‘ اسے بلاوجہ ہی غصہٰ آرہا تھا یا پھر زنیرہ کی تلخ باتوں کا اثر تھا۔۔ ’’آگر آپ کوئی ریلیشن بنانا چاہتی ہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔‘‘اس بار ہاتھوں کے طوطے اڑنے کی باری ثمرہ کی تھی،اسکے لبوں پر تالا سا لگا تھا۔۔ ’’ آپ نے فضول میں تکلف کیا ہے۔۔‘‘وہ بہت سمجھ داری سے بات گھماگئی،مصطفیٰ سمجھا نہیں تھا۔ ’’کیسا تکلف!‘‘اس کی پیشانی پر بل نمودار ہوئے۔ ’’مجھے ان چیزوں کی ضرورت نہیں تھی۔‘‘وہ مزید بولی تو مصطفیٰ نے ایک گہری سانس خارج کی تھی، پھر وہ ایک آہ خارج کرتا ونڈو کے پاس سے ہٹتا بستر پر ڈھنے کے سے آنداز میں لیٹا تھا۔۔ ’’ضرورت تو تھی۔۔کیونکہ کل رات آپ میں اور ملازمہ میں کوئی فرق نہیں لگ رہا تھا۔۔‘‘وہ لب دانتوں تلے دبائے شرات سے بولا۔۔ ’’تو اپنی آنکھوں کا علاج کرائیں۔‘‘وہ خفا ہوئی۔ ’’جب آپ اپنی شخصیت کا بیڑا غرق کرلیں گی تو شوہر کیا کوئی بھی آپ کی ذات کو لے کر مشکوک ہوسکتا ہے۔۔‘‘وہ اب مزید شرات پر آمادہ تھا۔۔ ’’آپ نے کال کیوں کی تھی۔‘‘وہ یکایک تلخ ہوئی۔ ’’آپ کو نیند آرہی ہے؟‘‘ٓس نے گھڑی دیکھی ،جہاں رات کے آٹھ بج رہے تھے۔۔ ’’نہیں۔۔۔‘‘ ’’تو پھر مجھ سے بات کرتی رہیں۔۔میرا وقت تو کٹ ہی نہیں رہا۔۔ایک دن اتنا لمبا ہوگیا ہے کہ کاٹے نہیں کٹ رہا۔۔۔"اسکا آنچ دیتا لہجہ ہتھیلیاں بھیگا گیا تھا۔۔۔ ’’ کمال ہے مصطفیٰ صاحب ،میرے بغیر پانچ سال کاٹ لئے ،اب ایک دن نہیں کاٹا جارہا۔۔‘‘وہ طنزیہ طور پر بولی تھی۔۔۔ ’’وہ آپ کا اپنا فیصلہ تھا ثمرہ!‘‘وہ کہنیوں کے بل تھوڑا سا اٹھتا،ذرا سنجیدگی سے بولا۔۔ ’’میرے فیصلے کی کتنی پاسداری کی تھی آپ نے۔۔‘‘وہ طنزیہ پھنکاری۔۔۔ ’’تو کیا چاہتی ہیں آپ؟آپ کی خاطر آپ کے باپ سے دشمنی مول لے لیتا۔۔یا پھر آپ کو گھر سے بھگا لے جاتا۔۔‘‘اس بار مصطفیٰ کا میٹر شارٹ ہوا تھا۔ ’’مجھے نیند آرہی ہے احد!‘‘اس کے لہجے میں خفگی محسوس کر وہ خاموش ہوگیا۔۔وقت گزر گیا تھا،ویسے بھی وہ گزرے وقت کو رونے والوں میں سے ہر گز نہیں تھا۔۔۔۔ ’’کھانا کھا لیا آپ نے؟‘‘وہ سوالیہ گویا ہوا۔۔۔ ’’نہیں!‘‘وہ ہنوز خفا لہجے میں بولی۔۔۔ ’’کھانا لازمی کھا لیجئے گا۔۔میری واپسی ایک دو روز میں ہے۔۔آگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو مجھے ٹیکسٹ کردیجئے گا۔۔‘‘ وہ اوکے کہتی موبائل آف کر گئی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’عریشہ بیٹا!اتنی رات کو کہاں جا رہی ہیں آپ؟‘‘ زنیرہ بیگم نے رات گئے عریشہ کو تیار شیار دیکھ ذرا حیرانگی سے استفسار کیا۔۔ ’’وہ دراصل آنٹی مجھے ایک ضروری کام سے جانا تھا۔‘‘وہ اس وقت جینز کی پینٹ اور شارٹ شرٹ میں ملبوس سلکی بالوں میں کیچر لگائے جانے کے لئے تیار کھڑی تھی۔۔ ’’مگر بیٹا!اس وقت؟‘‘انہونے گھڑی مین وقت دیکھا۔ ’’کم آن انٹی ۔۔آسٹریلیا میں اکیلی رات کو گھوما کرتی تھی۔۔‘‘اس نے ذرا شرارت سے کہا۔۔ ’’مگر بیٹا پھر بھی۔۔مصطفیٰ بھی گھر نہیں ہیں۔۔‘‘انہونے پریشانی کا اظہار کیا۔۔ ’’آپ بے فکر رہیں۔۔میں بس اپنے ایک دوست سے ملنے جارہی ہوں۔اور ٹینشن نہ لیں ،گارڈز ساتھ لے جارہی ہوں۔‘‘اس نے اس بار انہیں مطمئن کیا۔ ’’اچھا!خیر سے جائیں۔‘‘ وہ سر ہلا گئی۔۔ ’’ اوکے بائے !!!!وہ ہاتھ ہلاتی مصطفیٰ پیلس سے نکل آئی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ثمرہ اپنے روم سے باہر آئی تو اس اسکی پہلی نگاہ زنیرہ سے ٹکرائی تھی،جو شاید ڈنر لگانے کو بول رہی تھیں۔۔ ’’سنو لڑکی!‘‘وہ ٹھری۔۔ ’’یہ اپنا حلیہ درست کرو ذرا۔۔گھر میں لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔۔۔مصطفیٰ نے جب صبح تمہارے لئے ہر چیز منگوا دی تھی تو اب یہ مظلوم بن کر کیوں گھوم رہی ہو۔۔اس گھر میں رہنے ہے تو تو اس گھر کے قاعدے قانون کا پاس رکھنا ہوگا ۔سمجھیں۔۔۔‘‘اس بار انہونے ناگواری سے بولتے اسکی طبیعت بھی صاف کی تھی۔۔۔ ’’جی بہتر!‘‘وہ سر جھکا گئی۔۔ ’’جاؤ اب!‘‘وہ واپس پلٹنے لگی۔۔ ’’اور سنو!خبردار جو تم مجھے بلا ضرورت مصطفیٰ کے آس پاس بھی نظر آئیں۔۔یا میرے خلاف اسکے کان بھرنے کی کوشش بھی تو۔۔۔‘‘وہ تیز لہجے میں بولتیں ایک بار پھر اسکی طبیعت صاف کر چکی تھیں۔۔ ’’جاؤ اب۔۔‘‘وہ سر جھکا تی وہاں سے نکل آئی تھی۔۔جبکہ وہ بھی سر جھٹکتی اپنے روم میں جاکر بندہو گئی تھیں۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اس وقت ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی ،متوازن انداز میں سڑک پر گاڑی بھگاتی گنگناتی ہوئی اپنی مطلوبہ منزل کی جانب گامزن تھی۔۔گاڑڈز کی گاڑی ذرا فاصلے سے ساتھ ہی چل رہی تھی ،جبکہ وہ سنسان سڑکوں سے گزر رہی تھی۔۔ جبھی اسکا موبائل رنگ ہوا تھا۔۔۔اسکرین پر نگاہ گئی تو سامنے ہی انٹرنیشل نمبر جگمگ کر رہا تھا۔۔۔ ’’ہیلو!‘‘اس نے کال ریسیو کر کہ موبائل کان سے لگایا تھا۔۔ ’’اتنی رات کو گھر سے باہر جانے سے پہلے ایک بار مجھ سے پوچھ لیا ہوتا تو بہت مہربانی ہوتی آپ کی۔‘‘دوسری جانب سے مصطفیٰ کی تھکی اور غصےٰ میں ڈوبی آواز سماعتوں سے ٹکرائی تھی۔۔ ’’کم آن یار!اب تم بھی شروع ہوجاؤ گے کیا۔۔‘‘وہ ذرا بیزاریت سے بولی تھی۔۔ ’’تم بھول رہی ہو
