Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 07
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 17/05/2026
1 Views
Episode no 07
نرمی،آنکھوں میں محبت۔۔وہ سابقہ انداز و اطوار،وہ ایک لمحے کو ٹھر گئی تھی۔۔ ’’بھائی کو معاف کردیں مصطفیٰ!مجھے اس کے علاوہ کچھ نہیں چاہئے۔۔۔‘‘وہ اسکے ہاتھوں میں موجود اپنے ہاتھوں کی گرفت سخت کرتی آنکھوں میں آس سمو کر بولی تھی۔۔۔۔مصطفیٰ نے ایک لمحے کو آنکھیں موندلیں تھیں۔۔ ’’شاید کھانا گرم ہوگیا ہے۔۔۔‘‘ٹائمر اینڈ ہوگیا تھا،وہ اسکے ہاتھوں سے اپنے ہاتھ چھڑواتا کھردرے لہجے میں بولتا،ایک بار پھر فاصلہ بنا گیا۔۔۔ ’’جبکہ وہ بے یقینی میں گھری اپنے خیالی ہاتھ دیکھتی رہ گئی تھی،جہاں ابھی بھی اسکا چاہت سے لبریز لمس آباد تھا۔۔ ’’ثمرہ کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے۔‘‘ اسے ساکت و صامت دیکھ مصطفیٰ نے اُسے احساس کرایا۔۔۔ ’’میری بھوک مر گئی!‘‘وہ ناگواری سے بولتی ایک بار پھر پلٹنے لگی تھی۔۔ ’’آگر آپ یہاں سے کھانا کھائے بغیر ہلیں توآئندہ مجھ سے کسی قسم کی نرمی کی کوئی امید مت رکھئے گا۔‘‘مصطفیٰ نے اس بار سختی سے کہا تھا۔ ’’مجھے آپ سے کوئی امید ہے بھی نہیں احد مصطفیٰ۔۔۔‘‘ وہ بول کر پھر پلٹنے لگی۔اس بار مصطفیٰ غصےٰ میں آگے بڑھتا اسکا ہاتھ تھام کر جھٹکے سے ہائی چئیر پر بیٹھاتا خود نزدیک ہی کھڑا ہوتا چمچ میں چاول بھر کر اسکے منہ تک لایا تھا۔ ’’اچھی بات ہے کسی سے بھی بلاوجہ کی امید رکھنی بھی نہیں چاہئے۔۔اب کھانا کھائیں۔۔‘‘ اسنے اسکی زبردستی پر آنکھیں پھاڑ کر مقابل کو دیکھا تھا،وہ اچھا خاصہ سنجیدہ اور میچور مرد تھا،مگر اس وقت نجانے کیوں اسکے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑگیا تھا۔۔ ’’ثمرہ منہ کھولیں۔۔‘‘اس کی تیز آواز پر وہ پورے وجود سے اُچھلتی تیزی سے منہ وا کرگئی۔۔گلے میں آنسوؤں کا گولہ سا پھنس گیا تھا۔ اب وہ چمچ پلیٹ میں رکھتا ساتھ رکھی چئیر پر بیٹھ گیا تھا،جبکہ اب وہ اس سے جان چھڑانے کی خاطر جلدی جلدی نوالے زہر مار کر رہی تھی،گلاس میں پانی نکال کر پیتے مصطفیٰ کو اسکی اسپیڈ دیکھ اس قدر گھمبیر صورت حال میں بھی ہنسی آئی تھی۔۔لبوں پر دلکش مسکراہٹ رقص کر رہی تھی۔سیاہ آنکھیں اسکے سر کے بالوں پر جمعی ہوئیں تھیں۔۔۔ ’’آرام سے!‘‘نوالوں کے ساتھ ساتھ کتنے ہی آنسو تھے جو حلق میں اُتارے تھے۔۔مصطفیٰ نے تنبیہہ ضروری سمجھی۔۔۔ ’’ثمرہ آرام سے کھائیں۔۔‘‘وہ پلیٹ پر جھکی مسلسل جلدی جلدی کھا رہی تھی۔۔اس بار مصطفیٰ نے نرمی سے ٹیبل پر رکھا ہاتھ دبا پر اسے احساس کرانا چاہا،وہ اپنی اسپیڈ برقرار رکھتی غصےٰ سے ہاتھ جھٹک گئی۔۔اور پانچ منٹ میں چاول کی پلیٹ خالی کر چکی تھی۔۔ اس پر ایک غصےٰ بھری نگاہ ڈالتی، بغیر پانی پیے چئیر سے اترتی بھاگتے قدموں سے اپنے روم میں جاکر بند ہوگئی تھی۔اسکی اس حرکت پر وہ ناچاہتے ہوئے بھی پریشان ہوا تھا،سرخ چہرہ اسکے ضبط کا گواہ تھا،اب وہ یقیناًکمرے میں جاکر رونے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔مگر وہ کیا کرتا آخر کیسے سمجھاتا اس بیوقوف لڑکی کو۔۔۔۔ایک تاسفی سانس خارج کرتا وہ بھی پانی کا آدھا گلاس کاؤنٹر پر رکھتا اپنے کمرے کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح ثمرہ کی آنکھ کھلی تو نگاہ سیدھی چھت سے لٹکتے پنکھے پر گئی تھی۔ وہ کچھ دیر ناسمجھی سے چھت کو گھورتی رہی،جیسے جیسے حواس بیدار ہوتے گئے گزری شب کے تمام مناظر نگاہوں کے سامنے چلنے لگے تھے۔۔ایک لمحہ کو اسے شرمندگی نے آن گھیرا تھا۔۔وہ مصطفیٰ کے سامنے کیسی بچکانہ حرکتیں کر رہی تھی۔۔پھر سر جھٹکتی اُٹھ کر بیٹھی تو نگاہ بیڈ کی دوسری جانب رکھے شاپنگ بیگز کی جانب اُٹھی تھی۔۔ وہ ناسمجھی سے بیڈ سے اُترتی پاؤں میں چپل اُڑس کر گھوم کر دوسری جانب آئی تھی۔۔ جاری ہے
