Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 07
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 17/05/2026
1 Views
Episode no 07
کس کو اسکی پرواہ تھی۔۔۔ وہ صبح سے کمرے میں بند تھی،اب تو اس کمرے میں عجیب سی وحشت ہونے لگی تھی۔کچھ دیر کھلی فضا میں سانس لینے کی غرض سے وہ بیڈ سے اٹھ کر پاس رکھا نارنجی رنگ کا دوپٹہ گلے میں ڈالتی پاؤں میں چپل اُڑس کر کچھ دیر چہل قدمی کی غرض سے وہ بیک سائیڈ ڈور سے لان میں آگئی تھی۔۔ ابھی اسے چہل قدمی کرتے کچھ ہی لمحے گزرے تھے کہ اپنے پیچھے آہٹ سی محسوس ہوئی،رات کا تیسرا پہر،انجان گھر، ثمرہ کو یکدم اپنی حماقت کا احساس ہوا تھا۔۔سانس سینے میں اٹکا تھا۔بغیر پیچھے مڑے اس نے جلدی سے یہاں سے بھاگنے کے لئے پر تولے تھے۔۔جبھی عقب سے ابھرتی شناسہ سی آواز پر رُکا ہوا سانس مزیدساکت ہوگیا تھا۔۔۔ ’’کون ہے؟‘‘اسکے لباس سے وہ اندازہ نہیں لگا سکا تھا۔اسے لگا شاید کوئی ملازمہ تھی۔وہ خاصہ تاریکی میں ڈوبے حصےٰ میں کھڑے تھے، چاند کی روشنی کے باعث ہلکا سا عکس واضح تھا،روشن بلب کی روشنی اُجالا کرنے میں ناکام ٹہر رہی تھی۔۔۔ ’’کون ہے۔۔میری طرف گھومیں؟‘‘وہ چند قدموں کے فاصلے پر ٹھر گیا تھا،جبکہ ثمرہ نے رکا ہوا سانس بحال کرتے،آنکھیں زور سے میچ کر کھولیں تھیں،اس کے تو وہم و گماں میں بھی نہیں تھا کہ مصطفیٰ اس وقت جاگ سکتا تھا۔۔ ’’محترمہ!میں نے کہا میری طرف رُخ کیجئے!کون ہیں آپ۔۔اور اس وقت یہاں کیا کر رہی ہیں؟‘‘اس نے آنکھیں چھوٹی کئے چندھیا کر بغور اس خاتون کا جائزہ لیا تھا،اِس قد کاٹھ کی تو شاید ہی کوئی عورت ان کے گھر کام کیا کرتی تھی۔۔ ثمرہ نے ڈرتے ڈرتے رُخ پلٹا تھا۔۔ ’’مصطفیٰ میں ہوں!‘‘اسے ٹراؤزر کی پاکٹ میں ہاتھ ڈال کر کچھ نکالتا دیکھ،اُس نے جھٹ سے روانگی میں کہا تھا اور وہ جو ایک لمحے کو نگاہیں جھکا کر ٹارچ جلانے کی غرض سے موبائل نکال رہا تھا ثمرہ کی آواز اور پھر چاند کی روشنی میں واضح ہوتے اسکے روشن چہرے پر نگاہ پڑتے ہی ایک لمحے کو ٹہرا۔۔۔گندمی رنگت میں پیلاہٹ گھل گئی تھی ۔۔ ’’آپ اس وقت یہاں کیا کر رہی ہیں ثمرہ؟‘‘رات کے اس پہر اسکی یہاں موجودگی اُسے ناگوار گزری تھی،اپنے چہرے کے حیران کن تاثرات پر قابو کرتا وہ ذرا سنجیدہ لہجے میں سوالیہ گویا ہوا تھا۔۔ثمرہ نے ایک نظر ڈال نگاہیں جھکا لی تھیں۔۔۔زبان پر گویا قفل پڑ گیا تھا۔۔ ’’آپ نے میری بات کا جواب نہیں دیا!‘‘وہ ایک دو قدم اٹھاتا ذرا نزدیک آیا تھا۔۔ ’’بس ویسے ہی نیند نہیں آرہی تھی تو یہاں آگئی۔۔‘‘گردن ترچھی کر نگاہوں کا رُخ پھیر کر سپاٹ لہجے میں جواب دیا تھا۔۔ ’’جب سارا دن کمرہ بند کر کہ سوتی رہیں گی تو ظاہر سی بات ہے ، رات میں نیند کیسے آئے گی۔۔۔۔‘‘اسکا گریز واضح محسوس کر وہ خود ہی چار قدم پیچھے لیتا موجودہ فاصلہ برقرار کرگیا تھا۔ ’’ہمم!‘‘وہ ہنوز رُخ ترچھا کئے کھڑی تھی، مصطفیٰ کی نظریں چاند کی روشنی میں چمکتے چہرے پر ٹکی تھیں،آج وہ چہرہ ہر تاثر سے عاری تھا۔۔ ’’رات کے اس پہر آپ کا یہاں اکیلے کھڑا ہونا درست نہیں۔۔‘‘اس نے گلا کھنکھار کر ایک بار پھر بات کا آغار کیا۔ ’’کیوں کیا آپ کا گھر بھی میرے لئے غیر محفوظ ہے؟‘‘اس نے لمحوں میں ُرخ پلٹےذرا ناگواری سے تیز لہجے میں طنزیہ طور پر کہا تھا۔مصطفیٰ کی کشادہ پیشانی پر بل سمٹ آئے تھے۔ ’’یہ گھرآپ کے والد صاحب کے گھر سے زیادہ محفوظ ہے آپ کے لئے۔‘‘اس نے جتانا ضروری سمجھا،وہ کچھ سوچ کر استہزائیہ مسکرائی۔۔۔ ’’اور یہ آپ کا اپنا گھر ہے،آپ جہاں چاہیں کھڑی ہوسکتی ہیں۔مگر یہ وقت درست نہیں۔۔آئندہ خیال رکھئے گا۔‘‘اس نے بھی متوازن لہجے میں باور کرایا تھا۔ ’’اچھا!‘‘وہ اتنا بول کر رخ پلٹ کر جانے لگی،جبھی مصطفیٰ کی سماعتوں سے ٹکراتی آواز نے اسکے پلٹے قدموں کو زنجیر کیا تھا۔ ’’میں جانتا ہوں کہ آپ اس وقت جاگ رہی تھیں۔‘‘اپنی چوری پکڑی جانے پر ،اس نے آنکھیں میچیں۔۔ ’’کس وقت!‘‘رخ واپس پلٹتے وہ مضبوط لہجے میں کہتی جان کر بھی انجان بنی۔ ’’چھوڑیں اس بات کو۔۔شاید آپ کو بھوک لگنے کی وجہ سے نیند نہیں آرہی۔۔‘‘اس نے بحث کرنا مناسب نہیں سمجھا تھا۔لہجے سے فکر عیاں تھی۔ثمرہ نے ذرا ٹھر کر اسکی آنکھوں میں دیکھا تھا،وہ لاکھ انکاری ہوجائے مگر اپنی محبت چھپا نہیں سکتا تھا،اسکے ہر عمل سے محبت واضح چھلکتی دکھائی دیتی تھی۔ ’’نہیں مجھے بھوک نہیں۔۔‘‘وہ رسمی سے انداز میں بولتی پلٹنے لگی تھی۔ ’’میں نے آپ سے پوچھا نہیں ہے ثمرہ۔۔اور میں یہاں آپ کو بھوکا مارنے کے لئے ہر گز نہیں لایا ہوں۔جو ظلم میں اور میری ماں آپ پر کرنے کے روادار نہیں، وہ ظلم میں آپ کو خود بھی نہیں کرنے دونگا۔۔‘‘آگے بڑھ کر اسے کہنی سے تھام کر جھٹکے سے نزدیک کھینچتے ذرا جتاتے لہجے میں کہا گیا تھا،اچانک افتاد پر وہ سٹپٹا سی گئی تھی،دونوں کے درمیان اب ہاتھ بھر کا فاصلہ تھا، اگرچہ وہ فاصلے بنانے جانتا تھا سمیٹنا بھی خوب جانتا تھا۔۔۔ مصطفیٰ بغیر کچھ کہے یونہی اسکا ہاتھ تھامے اب گھر کے اندورنی حصےٰ کی جانب قدم بڑھا رہا تھا،جبکہ وہ ہاتھ چھڑانے کی تک و دو میں پریشان سی مسلسل مزاحمت کر رہی تھی۔۔ ’’مصطفٰی میرا ہاتھ چھوڑیں!‘‘وہ کچن کی جانب قدم بڑھا رہا تھا،جبھی وہ زچ ہوتی ذرا ناگواری سے بولی۔ ’’کیوں ؟میرا ہاتھ آپ نے اپنی مرضی سے تھاما تھا۔۔۔ تو ایک بات یاد کریں میں نے یہ ہاتھ بھلے آپ کی مرضی سے تھاما تھا لیکن چھوڑونگا آپ کی مرضی سے نہیں۔‘‘وہ نجانے کیا جتانا چاہ رہا تھا۔ثمرہ کو اسکے لہجے کی بختگی سے خوف آیا تھا۔۔ ’’میں نے آپ کا ہاتھ صرف مجبوری میں تھاما تھا۔۔‘‘وہ ناچاہتے ہوئے بھی تلخ ہوئی تھی۔۔ ’’جانتا ہوں۔لیکن میری کوئی مجبوری نہیں تھی۔‘‘اب نرمی سے اسکا ہاتھ چھوڑ کر کچن کی لائٹ جلاتا وہ ذرا جتاتے لہجے میں بولا تھا۔ ’’ہاں آپ نے تو میری مجبوری کا فائدہ اٹھایا ہے۔۔‘‘اس کے یوں خیال کرنے پر دل کا غبار باہر نکالنے لگی تھی، فرج کھول کر کھڑے مصطفیٰ نے آئی برو اٹھا کر اسکی جانب دیکھا تھا،جو ایک شکوہ کناں نظر ڈالتی ہائی چئیر پر جاکر بیٹھ گئی تھی۔مطلب بھوک تو واقعی زور کی لگی تھی۔۔اب کیا ہی نخرہ دیکھایا جائے۔۔ ’’آپ ایسی تو کبھی نہیں تھیں ثمرہ!‘‘ افغانی پلاؤ ایک پلیٹ میں ڈالتے مائیکرو ویو میں گرم ہونے کے لئے رکھتے اس نے ذرا تاسفی انداز میں کہا تھا۔۔ ’’ کیسی؟‘‘وہ متجسس سے گویا ہوئی۔ ’’ضدی،اور بد مزاج!‘‘اس نے بغیر کسی لگی لپٹی رکھے اسکے رویہ کا احساس کرایا تھا۔ ’’میں شروع سے ایسی ہی ہوں۔۔‘‘آنکھیں خود با خود بھر آئیں تھیں۔مصطفیٰ بغور اسکے چہرے کے بدلتے تاثرات کا جائزہ لے رہا تھا۔۔ ’’جو ہو گیا سو گیا۔۔آپ اپنی ضد چھوڑ دیں۔‘‘اسکے لہجے میں التجا تھی۔۔ ’’میں کوئی ضد نہیں لگا رہی ، صرف ایک گزارش کر رہی ہوں ،زندگی میں پہلی بار آپ سے کچھ مانگا ہے، مگر افسوس میرے باپ کی طرح ،آپ بھی مجھے کچھ بھی دینے کے روادار نہیں۔‘‘آنکھوں میں در آئی نمی بیدردی سے رگڑتی وہ رندھے ہوئے لہجے میں گویا ہوئی تھی۔۔ ’’آپ جو مانگ رہی ہیں،وہ میرے بس میں نہیں ہے سیم۔۔۔مگر میرا وعدہ ہے اس کے سوا آپ کچھ بھی مانگ لیں۔آگر یہ قتل میرا ہوتا تو آپ کی خاطر کب کا معاف کردیتا مگر میں اپنی ماں کے آنسو اور معصوم بھائی کا خون فراموش نہیں کر سکتا۔۔۔‘‘وہ قدم اٹھا کر نزدیک آتا ہاتھ پکڑ کر اپنے مقابل کھڑا کرتا اسکا سانس روک گیا تھا،لہجے کی
