Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 07
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 17/05/2026
1 Views
Episode no 07
ہارا جنون از_ہما_قریشی قسط_نمبر_7 ’’ماما!‘‘فرناز اورجبران میں ایک عجیب سی جنگ چھڑ گئی تھی۔کل رات سے ہی وہ دونوں ایک دوسرے کو مخاطب نہیں کر رہے تھے۔۔اور اب شام ہونے کو آئی تھی۔۔ ’’ہمم بولو!‘‘وہ کچن میں کھڑی ملازما کو ڈنر کے حوالے سے ہدایت کر رہی تھیں۔ ’’وہ میں سوچ رہی تھی کہ میں احد مصطفیٰ کے گھر کا چکر لگالوں۔۔کم از کم ثمرہ کا سامان ہی وہاں پہنچادیا جائے۔۔‘‘ماں کی گھورتی نگاہیں محسوس کر وہ گڑبڑائی۔۔ ’’کوئی ضرورت نہیں۔۔اس کا شوہر ایک لینڈ لارڈ آدمی ہے۔تمہیں لگتا ہے کہ وہ اسے ضرورت کی چیزیں فراہم نہیں کر سکتا؟‘‘انہونے بیٹی کو کینہ توز نگاہوں سے گھورا تھا۔ ’’مگر ماما!‘‘اس نے دوبارہ کچھ کہنا چاہا۔۔ ’’بس خاموش!صبح سے تمہارے باپ کے مزاج نہیں مل رہے۔گویا میں نے ان کے دونوں بچوں کی زندگی خراب کی ہو۔اب الٹا اب تم دماغ خراب کرنے کے لئے آگئی ہو۔۔‘‘وہ ذرا غصےٰ سے بولتی گھورتی ہوئی وہاں سے واک آوٹ کر گئیں تھیں۔جبکہ قصویٰ اپنا سا منہ لے لر رہ گئی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات کا اندھیرا ہر سو اپنے پنکھ پھیلا رہا تھا۔۔آج مصطفیٰ کو آفس سے لوٹنے میں خاصی دیر ہوگئی تھی۔۔اس وقت شام کے اٹھ بج رہے تھے۔اور ملازمائیں ڈنر ٹیبل سیٹ کر رہی تھیں کیونکہ مصطفیٰ پیلس میں ڈنر کا یہی وقت مقررہ تھا۔اسے گھر آئے دو گھنٹے ہونے کو آئے تھے،مگر ثمرہ اسے کہیں نظر نہیں آئی تھی۔پتہ نہیں وہ صبح سے کہاں چھپی بیٹھی تھی،،جبکہ عریشہ کی باتوں سے لگ رہا تھا کہ اسکی بھی ثمرہ سے ملاقات نہیں ہوئی۔وگر نہ وہ اسکے بابت مصطفیٰ سے ضرور پوچھتی۔ ’’تمہیں پتہ ہے مجھے اتنی سخت نیند آرہی تھی کہ میں سوئی تو تمہارے آفس کی واپس کا سُن کر ہی جاگی ہوں۔ورنہ مجھے تو کوئی ہوش ہی نہیں تھا۔۔سامان کی پیكنگ پھر فلایٹ کی تھکن ۔۔افف۔۔۔۔‘‘وہ مسلسل کچھ نہ کچھ بول رہی تھی۔۔جبکہ ثمرہ کمرے کے دروازے سے ٹیک لگائے کھڑی باہر کی آوزیں سُن رہی تھی۔۔اسکا رُوم نیچے ہونے کے باعث لاؤنج کی آوازیں باآسانی سنی جا سکتی تھیں۔۔ ’’سر کھانا لگ گیا ہے!‘‘ملازم نے مصطفیٰ کو آکر پیغام دیا تھا۔ ’’الماس خالہ!ثمرہ کو بھی بلا لیں!‘‘مصطفیٰ نے وہیں سے ہانک لگائی تھی۔وہ نہیں چاہتا تھا کہ کسی مہمان کی موجودگی میں اسے اپنا آپ کمتر محسوس ہو۔۔جبکہ وہ و صبح سے دل ہی دل میں ُکڑ ری تھی۔۔مصطفیٰ کے منہ سے اپنا نام سن کھل سی گئی تھی۔ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ وہ بھاگ کر آئینے کے سامنے گئی تھی۔۔تاکہ اپنا حلیہ درست کرسکے۔۔۔ ’’مصطفیٰ بیٹا!ثمرہ کو رہنے دیجئے۔انکی طبیعت ذرا ٹھیک نہیں ہے تو وہ کھانا کھا کر اپنے روم میں آرام کر رہی ہیں۔‘‘یہ زنیرہ بیگم کی آواز تھی۔مصطفیٰ کی پیشانی پر بل نمودار ہوئے۔جبکہ ثمرہ جو دروازہ کھول کر باہر آرہی تھی۔اپنے قدم وہیں روک گئی۔ ’’گائز یہ ثمرہ کون ہے؟‘‘عریشہ نے ذرا ناسمجھی سے دریافت کیا تھا۔ ’’میری۔۔۔۔۔۔۔‘‘مصطفیٰ کے لفظ لبوں میں ادھورے ہی رہ گئے تھے۔جبکہ زنیرہ نے بات بیچ میں ہی اُچک لی تھی۔ ’’میری بھتیجی ہے۔۔ہمارے پاس رہنے آئی ہوئی ہے۔‘‘مصطفیٰ نے ناسمجھی سے ماں ہی جانب دیکھا،اب وہ ماں کو جھٹلا بھی نہیں سکتا تھا۔ ’’اوہ۔۔‘‘وہ سمجھ کر سر ہلا گئی۔ ’’خیریت ہے ممی!کل تک تو وہ ٹھیک تھیں۔‘‘اس کے لہجے سے فکر عیاں تھی،عریشہ نے بغور اسکا چہرہ دیکھا تھا۔وہ کبھی صنف نازک میں دلچسپی نہیں لیتا تھا۔ان دونوں کی دوستی ہی بڑی مشکل سے ہوئی تھی۔۔ ’’جی بیٹا!بس ویسے ہی۔تم کیوں پریشان ہورہے ہو۔۔۔‘‘ان کے لہجے میں تنبیہ واضح تھی۔۔وہ عریشہ کی موجودگی کے باعث خاموش ہوگیا تھا۔دماغ مختلف سوچوں میں الجھا ہوا تھا۔جبکہ اب ان لوگوں نے ہلکی پھلکی گفتگو کے دوران کھانا ختم کرلیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ثمرہ پلٹ کر آتی بستر پر ڈھنے کے آنداز میں لیٹی تھی۔۔اور زنیرہ کی بات سچ کرنے کی خاطر بغیر کھانا کھائے ہی آنکھیں موند کر لیٹ گئی تھی،تاکہ اسے نیند آجائے۔۔ کروٹیں بدلتے ایک گھنٹے سے زیادہ کا وقت گزر گیا تھا۔۔اب باہر سے آوزیں آنا بند ہوگئی تھیں۔وہ چھت کو گھور رہی تھی۔۔۔آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔کمرے کی بتی وہ بجھا چکی تھی۔۔۔وہ اپنی سوچوں میں ڈوبی ہوئی تھی۔جبھی کھٹکے کی آواز کے ساتھ دروازہ کھلا تھا،اور ساتھ روشنی بھی کمرے میں داخل ہوئی تھی۔۔۔اور دروازے کے عین وسط میں کوئی ہیولہ سا نمودار ہوا تھا۔۔ ’’ثمرہ آپ سو گئیں ہیں۔۔‘‘کمرے کا دروازہ کھولتے ہی پہلی نگاہ بیڈ پر چت لیٹی ثمرہ کے چہرے پر گئی تھی۔۔جو آنکھیں موندے شاید سو رہی تھی۔۔اپنی انا بالائے طاق رکھتا وہ اسکی خیریت دریافت کرنے روم میں آگیا تھا۔۔ ’’شاید آپ واقعی سورہی ہیں۔۔رات کا پہر،اور پھر اس طرح اسکی بے خبری میں اسے کمرے میں داخل ہونا مناسب نہیں لگا تھا، وہ دروازے سے ہی پلٹ آیا تھا۔۔جبکہ کمرے کا دروازہ بند ہوتے ہی ثمرہ نے آنکھیں کھول لیں تھیں اور کتنے ہی آنسو تھے جو آنکھوں سے نکلتے کنپٹی میں جذب ہوگئے تھے۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نیم تاریکی میں ڈوبے کشادہ کمرےکی بالکنی میں موجود مصطفیٰ کسی گہری سُوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔۔شعلے بھڑکاتا سگریٹ لبوں میں دبائے وہ خاصہ مضطرب دکھائی دے رہا تھا۔رات کی تاریکی ہر سو اپنے پنکھ پھیلائے خود میں ایک عجیب سی بیزاریت سموئے ہوئے تھی،بالکنی سےگھر کے وسیع و عریض لان کا منظر واضح نظر آرہا تھا۔سیکیورٹی ریزنز کی وجہ سے گھر کی زیادہ تر لائٹس رات میں بجھادی جاتی تھیں۔کسی غیر مرئی نقطے پر نظریں جمائے وہ مسلسل ثمرہ کو سُوچ رہا تھا۔ کبھی دماغ مزمل میں اُلجھ جاتا تو کبھی اپنی ماں کے آنسو یاد آجاتے،تو کبھی ثمرہ، جو پرسو اپنے ماں باپ کے گھر میں اسکے حصار میں کھڑی بلک بلک کر رُو رہی تھی۔۔وہ اُس معاملے میں کس قدر بے بس تھی،اس بات کا اندازہ وہ بخوبی لگا سکتا تھا۔۔ زنیرہ کسی طور اس رشتے کو قبول کرنے کو راضی نہیں تھیں،مگر وہ ایک ہی شرط پر مانی تھیں کہ وہ ثمرہ کی رخصتی اسی صورت میں ہی دیں گی جب وہ اسکے بھائی کو سزا دلوائیگا اپنے بھائی کا بدلہ لے گا،اور ثمرہ چاہتی تھی کہ وہ اس کے بھائی کو معاف کردے۔۔ فی الحال حقیقت یہی تھی کہ اس کے دل میں ثمرہ اور اس نئے رشتے کے حوالے سے کسی قسم کے جذبات بیدار نہیں ہوئے تھے، اپنی چاہت اور محبت پر اس وقت بھائی کی محبت اور ماں کی التجائیں غالب تھیں۔۔ وہ یونہی رات نجانے کتنی دیر تک سیگریٹ پھونکتا رہا تھا،اور یہ عادت بھی اسے پانچ سال قبل ہی لگی تھی۔۔یہ واحد شے تھی جو اسکی تنہائیوں کی ساتھی تھی۔ وہ تیسری سیگریٹ جلا رہا تھا کہ جبھی اسے گماں ہوا کہ جیسے لان میں کوئی تھا۔۔اس کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے،ریلنگ پر ذرا جھک کر بغور دیکھنے کی کوشش کی تو وہ ہیولہ اب چلتا ہوا دکھائی دیا تھا،سیگریٹ بجھاتاوہ سائیڈ ٹیبل پر رکھا اپنا موبائل اٹھا کر ٹراؤزر کی جیب میں ڈالتا اب قدم نیچے کی جانب قدم اُٹھا رہا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ساری رات آنکھوں میں یونہی جاگتے ہوئے کٹ گئی تھی۔۔اپنے باپ کی بے رخی یاد کر کے دل خون کے آنسو رو رہا تھا، کبھی بھائی کی یاد ستانے لگتی،تو کبھی باپ کی بے یقینی یاد آجاتی ،اس کے باپ نے اسے بدکردار کہنے میں ایک لمحہ نہیں لگایا تھا۔یہ دُکھ برداشت سے باہر تھا۔۔ کہنیوں کے بل اٹھ کر پاس رکھا موبائل اٹھا کر چیک کیا تو گھڑی تین کا ہندسہ عبور کر رہی تھی،اب تو پیٹ میں بھی چوہے دوڑنے لگے تھے۔بھوک کے مارے برا حال تھا،مگر یہاں بھلا
