Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 06
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 16/05/2026
1 Views
Episode no 06
سیٹ سے ٹیکاتی جذب کے عالم میں بولی تھی۔۔ ’’سو تو ہے،میں بھی جب پانچ سال بعد پاکستان واپس آیا تھا تو سب سے ملنے کی خوشی ہی الگ تھی۔‘‘وہ اپنی واپسی کا دن یاد کر سنجیدہ ہوگیا تھا۔۔ ’’تمہارے بھائی کے قاتل کا کیا بنا؟‘‘وہ خیال آنے پر ایک دم بولی ۔مصطفیٰ نے ایک گہری سرد سانس خارج کی۔۔۔ ’’حوالات میں ہے۔۔کیس چل رہا ہے ابھی۔۔‘‘اس نے باخبر کیا۔۔ ’’اللہ پاک تم لوگوں کو صبر دے۔۔۔آنٹی کیسی ہیں؟‘‘وہ مزید بولی۔۔ ’’کیسی ہوسکتی ہیں؟جس ماں نے اپنا جوان بیٹا کھویا ہو وہ بھلا کیسی ہوسکتی ہے۔‘‘وہ اپنی ماں کا رونا بلکنا یاد کر ضبط سے بولا۔ ’’واقعی!تم لوگوں کا دکھ بہت بڑا ہے۔۔۔‘‘اب وہ وہ دونوں ہی خاموش ہوگئے تھے۔مصطفیٰ کی کار کا رخ مصطفیٰ پیلس کی جانب تھا،جبکہ عریشہ کا دماغ اپنی ماں میں اٹکا ہوا تھا۔جو اپنے بوائی فرینڈ کے گھر شفٹ ہو چکی تھیں۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ثمرہ بیٹا!!! تیار ہوجائیں شاپنگ پر چلتے ہیں؟‘‘وہ روم میں آکر کل ملازمہ کی جانب سے دیا گیا جوڑا دوبارہ مانگ پر پہن چکی تھی۔ ’’نہیں آنٹی۔۔اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔‘‘اس نے سلیقہ سے انکار کیا تھا۔۔مصطفیٰ کچھ بھی کہتا مگر وہ یہاں خون بہا میں آئی تھی،تو وہ اسی آنداز میں رہنا بھی چاہتی تھی۔ ’’مگر مصطفیٰ نے کہاتھا کہ آپ کو شاپنگ پر لے جاؤں۔‘‘اس بار انہیں اسکا نخرے دکھانا ایک آنکھ نہیں بھایا تھا۔ ’’شکریہ ۔۔مگر مجھے ضرورت نہیں ہے آنٹی۔‘‘وہ نظریں جھکائے بولی۔ ’’چلو تمہاری مرضی!‘‘وہ ایک نظر اس کے حلیے پر ڈال کر، کمرے سے باہر نکل گئیں تھیں۔۔جبکہ اب وہ آئینے کے سامنے آکھڑی ہوئی تھی۔۔جو لباس اس نے پہن رکھا تھا ، اس سے ہزار درجہ اچھا جوڑا تو وہ یونہی ملازمہ کو دے دیا کرتی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’آئزل!آئزل!‘‘ مجتبیٰ عادتً اَپنی کوئی شرٹ تلاش کرتا تیز آواز میں پکار رہا تھا۔ ’’ کیا ہوگیا؟‘‘ وہ بھاگ کر کمرے میں آئی۔ ’’یار میری نیلی شرٹ کہاں گئی۔‘‘آئزل نے گھور کے دیکھا تھا۔ ’’تم کب سدھرو گے مجتبیٰ؟چھوٹے بچے ہو کیا۔۔وہ دیکھو سامنے۔۔اس نے اسکی توجہ استری اسٹینڈ کے پاس رکھی شرٹ کی جانب کروائی تھی۔۔ ’’اوہ شٹ!کب سے ڈھونڈ رہا ہوں۔‘‘ وہ سر پر ہاتھ مارتا شرٹ پہننے لگا۔ ’’ویسے آج تم کسی انٹرویو پر نہیں گئے؟‘‘ اس نے دروازے سے ٹیک لگاتے آئی برو اٹھائے۔ ’’فضول ہے۔۔میں سوچ رہا ہوں پاس پورٹ بنوا لوں،بس اب باہر جاؤنگا۔اس ملک میں کوئی جاب نہیں رکھا۔۔فضول کی خواری نصیب میں لکھی ہوئی ہے بس۔۔‘‘وہ اب انٹرویوز دے دے کر تھک چکا تھا۔۔ ’’اور میں؟؟میں کیا یہاں اکیلے رہونگی؟‘‘آئزل کی آواز بھرا گئی تھی۔۔اسکا بھائی کیسے ملک چھوڑنے کی بات کر رہا تھا۔۔مجتبیٰ نے ٹھٹھک کر اسکی جانب دیکھا تھا۔۔ ’’پاگل تمہیں بھی وہیں بلا لونگا۔مگر کچھ عرصہ خالہ کے پاس رہ لینا۔ایکدم تو ساتھ نہیں لے جاسکتا۔۔‘‘اس نے جلدی سے آگے بڑھ کر اسے کندھے سے لگایا تھا۔ ’’نہیں مجتبیٰ! میں کسی کے گھر پر نہیں رہنا چاہتی،تم یہیں کوئی جاب تلاش کرو۔‘‘وہ روہانسو ہوگئی تھی۔ ’’تو پھر میں تمہاری شادی کر دیتا ہوں۔‘‘اس نے جان کر چھیڑا۔ ’’میں شادی نہیں کرونگی۔سمجھے۔‘‘ اس نے گھور کر اسکی جانب دیکھا تھا۔ ’’کیوں بھئی۔۔شادی تو کرنی پڑے گی۔اماں،باوا زندہ ہوتے تو اب تک تمہارے ہاتھ پیلے ہو چکے ہوتے۔‘‘مجتبیٰ کو احساس تھا کہ اسکی شادی کی عمر نکلی جارہی تھی۔۔ ’’ بس پتہ چل گیا مجھے،کہ بہن بوجھ لگنے لگی ہے آپ کو۔‘‘ وہ یکدم سنجیدہ ہوتی طنزیہ لہجے میں بولی تھی۔۔ ’’سو تو ہے۔۔میرے باہر جانے میں رکاوٹ بن رہی۔‘‘اس نے شرارت سے چھیڑا۔ ’’اب تو بیٹا تم باہر جانے کے خواب اپنے زہن سے نکال دو ،کیونکہ میں تو یہیں رہونگی ،تمہارے سر پر سوار ہوکر۔‘‘وہ نروٹھے پن سے بولی۔ ’’اچھا بابا!میں ذرا ایک دوست سے ملنے جارہا ہوں۔۔وہ ائیریا میں ہوٹل کا سیٹ اپ ڈالنے کا سوچ رہا ہے۔سوچ رہا ہوں فی الحال اسی کے ساتھ لگ جاتا ہوں۔‘‘اس نے اظہار خیال کیا۔ ’’چلو ٹھیک ہے جاؤ پھر۔۔‘‘وہ خود اپنے کمرے کی جانب بڑھی،جبکہ وہ دروازہ لاک کرتا گھر سے نکل آیا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مصطفیٰ کی گاڑی کار پورچ میں آکر ٹھری تو عریشہ اور وہ ساتھ ہی کار سے باہر نکلے تھے۔۔زنیر بیگم جو دروازے پر انہیں ریسو کرنے کے لئے کھڑی تھیں۔ عریشہ انہیں دیکھ مسکرائی۔۔ ’’السلام علیکم آنٹی!کیسی ہیں آپ؟‘‘وہ بھاگ کر انکے گلے سے لگی تھی۔ ’’میں ٹھیک ہوں بیٹے۔۔آپ کیسی ہیں؟‘‘ انہونے سوالیہ آنداز میں پوچھا۔ ’’پہلے بس ٹھیک تھی۔۔مگر اب آپ سے مل کر بہت اچھی ہوگئی ہوں۔۔۔‘‘مصطفیٰ اسکے جواب پر مسکرایا تھا۔۔ ’’چلیں بھئی آندر چلئے۔۔کیا ساری باتیں،یہیں کھڑے کھڑے کریں گی۔‘‘وہ مسکرا کر گھر میں داخل ہوئے تھے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ثمرہ صبح سے اپنے کمرے میں بند تھی۔۔اب باہر سے کسی لڑکی کے ہنسنے بولنے کی آوازیں آرہی تھیں۔جو کبھی زنیرہ بیگم سے مخاطب تھی تو کبھی مصطفیٰ کو بھی ساتھ کھینچ رہی تھی۔۔جبکہ وہ بھی بہت اچھے مزاج میں لگ رہا تھا۔۔اور اسکا یہی آنداز سوچ سوچ کر تو ثمرہ کو ہول اٹھ رہے تھے۔۔۔ ’’اوکے لیڈیز!آپ لوگ بیٹھیں گپ شپ لگائیں۔میں آفس جارہا ہوں۔بس میڈم کو پک کرنا تھا تو میٹنگنز کا شیڈول آگے پیچھے کرنا پڑا۔۔‘‘وہ اب کلائی پر بندھی گھڑی میں وقت دیکھتا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔جبکہ ایک سرسری سی نگاہ ثمرہ کے کمرے کی جانب ڈالی تھی،اور پھر وہ رخ پلٹتا آفس کے لئے نکل گیا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے
