Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 06
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 16/05/2026
1 Views
Episode no 06
کوگروی رکھنا کیا مطلبی ہونا ہوتا ہے؟‘‘خود سے سوال کرتی وہ یکدم ڈھنے کے سے آنداز میں زمین پر بیٹھتی چلی گئی تھی،اور پھر خود کو بے انتہا بے بس محسوس کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رُودی،یہاں کوئی ایسا نہیں تھا جو اُسکی پوزیشن کو سمجھتا،کوئی اسکی بے بسی سمجھنے کا تیار ہی نہیں تھا،سب کو لگ رہا تھا وہ مطلبی ہے۔۔۔اور یہ دکھ اب آندر ہی آندر دم گھونٹ رہا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مصطفیٰ غصےٰ میں تیز قدم اٹھاتا واپس اپنے روم میں آگیا تھا۔پھولے تنفس سے سوچتا وہ شدید غصےٰ میں دکھائی دے رہا تھا۔۔بیڈ پر بیٹھتا وہ بالوں میں ہاتھ گھمتا خود پر کنٹرول کررہا تھا.۔۔وہ سب کچھ سوچنے کے باوجود ثمره کے حق میں فیصلہ دینے سے خود کو باز نہیں رکھ سکا تھا ۔۔اپنی ماں کو منانا ایک مشکل مرحلہ تھا مگر وہ انہیں بھی راضی کرچکا تھا ۔۔مگر وہ لڑکی۔۔۔۔۔۔ کیا ثمرہ نے اسے اتنا گرا ہوا مرد سمجھ لیا تھا کہ وہ اس کے بھائی سے بدلا لینے کے لئے اب اسکی ذات کا استعمال کرتا،اسے تکلیف پہنچاتا جیسے دکھ دینا ہی اسکے اس دل کو گوارہ نہیں۔۔کیونکہ وہ دل تو اس لڑکی سے صرف محبت کرنا جانتا تھا۔ وہ ہمیشہ ہی ایسا کرتی تھی،اپنی خود غرضی میں اسکا دل توڑ دیا کرتی تھی۔آج سے پانچ سال قبل بھی تو اس نے یہی کیا تھا،اور آج پھر وہ اسکی ذات کو بے مول کر گئی تھی۔۔ ’’اب آپ اپنی خود ساختہ سوچوں کے ساتھ ہی رہیں ثمرہ جبران ،کیونکہ مصطفیٰ وجدان تو اب آپ کو کسی صورت نہیں ملنے والا۔۔‘‘بالوں میں ہاتھ پھیر کر خود کوکمپوذڈ کرتا وہ سائیڈ ٹیبل کی جانب بڑھا۔۔ ’’میڈم کے روم میں کھانا پہنچائیں فوراً،اور انکی ضروریات کا جو بھی سامان ہے اور کل ہر حالت میں انکے روم میں موجود ہونا چاہئے۔۔اس ڈیٹ کلئیر۔۔"انٹرکوم کے زریعے ملازمہ کو ہدایت کرتا وہ ایک بار پھر بیڈ پر گر سا گیا تھا،دماغ ابھی تک اسی میں الجھا ہوا تھا،جو آنکھوں میں آنسو لئے بڑی آس سے اسکی جانب دیکھ رہی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح صادق سے طلوع ہوتا سورج اپنے جوبن پر تھا،گزری شب بہت بھاری ہی سہی مگر گزر ہی گئی تھی۔کیوکہ یہی حقیقت تھی کہ رات چاہے کتنی ہی بھاری کیوں نہ ہو سویرا ہوکر رہتا ہے،مگر گزری سیاہ شب کا روشن سویرہ ہونے میں ابھی وقت تھا۔۔۔۔ قصویٰ کی ساری رات آنکھوں میں کٹ گئی تھی۔۔آنکھوں سے بہتے آنسو کنپٹیوں میں جذب ہورہے تھے۔۔ ایک دفعہ کی ملاقات میں وہ جس شخص پر اپنا دل ہار گئی تھی،وہ سالوں سے اسکی بہن کی محبت میں مبتلہ تھا اور کل بلاخر وہ اسکے نام کے ساتھ جڑ گئی تھی۔۔ ’’احد مصطفیٰ تمہارا ہی نصیب تھا ثمرہ جبران،تم خود کو ہمیشہ سیاہ نصیب کہتی تھیں،جبکہ در حقیقت سیاہ نصیب تو میں نکلی ہوں،جو اپنی محبت کو پانے کے لئے کچھ بھی نہ کر سکی۔‘‘اسے آج بھی وہ دن یاد آتا جب پاکستان کا بلینئیر احد مصطفیٰ اپنے شاہانہ آنداز میں اسکی کم صورت بہن کا رشتہ لے کر آیا تھا،اور اسکی ماں نے ایک پرانی خاندانی دشمنی کے تحت انہیں،انکے خاندان اور خلوص کا جلوس نکال دیا تھا،اور بس وہی دن تھا جب قصویٰ نے اپنی خاموش محبت کو یونہی دل کے ایک کونے میں دفن کردیا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’جبران صاحب واٹس رانگ ود یو!کیا بیٹی کی جدائی کا صدمہ سرچڑھ گیا ہے۔۔دن چڑھ آیا ہے اور آپ اب تک کمرے سے ہی نہیں نکلے ہیں۔‘‘وہ کل سے خاموش بیٹھے مسلسل ایک غیر مرئی نقطے کو گھور رہے تھے۔ ’’جبران صاحب میں آپ سے مخاطب ہوں۔‘‘خودکا فراموش کیا جانا ایک آنکھ نہیں بھایا تھا۔ ’’لیکن میں آپ سے ہر گز بھی مخاطب نہیں ہوں۔‘‘وہ ہنوز اسی پوزیشن میں بیٹھے بے تاثر لہجے میں گویا ہوئے تھے۔ ’’تو پھر کیا سو چ رہیں ہیں ،اپنی اس آوارہ بیٹی۔۔۔‘‘فرناز کے لفظ لبوں میں ادھورے ہی تھے۔۔ ’’بس فرناز!خبردار جو اب آپ نے میری بیٹی کے خلاف کوئی بات کی تو۔میں پہلے ہی اس کے ساتھ بہت زیادتی کر چکا ہوں۔صحیح کہتی ہے قصویٰ میں تو اسکا سگا باپ ہوں،مجھے تو اسکی فریاد سننی چاہئے تھی۔‘‘وقت گزر جانے کے بعد ہی سہی،مگر شکر تھا کہ انہیں خیال تو آیا تھا۔۔ ’’لو اب انہیں بیٹی یاد آرہی ہے۔وہ بیٹی جو اپنی ماں کی طرح آپ کی عزت کی دھجیاں اڑا گئی۔پتہ نہیں احد مصطفیٰ کو کون کون سی ادائیں دکھائیں تھیں۔‘‘وہ نخوت بھرے لہجے میں گہرا طنز کر گئیں تھیں۔ ’’بس فرناز خاموش ہوجاؤ۔اس کے قبل کے میرا ضبط جواب دے جائے۔۔‘‘انکی کی کڑک دار آواز نے ایک لمحے کو فرناز کو سہما کر رکھ دیا تھا۔۔۔۔ ………………… صبح صادق سے نکلتا سورج اپنے جوبن پرَ تھا۔ثمرہ کی تمام تر رات آنکھوں میں ہی کٹ گئی تھی۔۔۔وہ بیڈ پر نیم درازی کی پوزیشن میں لیٹی گزری رات کے بابت سوچ رہی تھی۔۔جب مصطفیٰ نے ملازمہ کے ہاتھ کھانے کی ٹرالی اور سختی سے ہدایت پہنچائی تھیں کہ وہ کھانا لازمی کھا لے۔چار و نچار اس نے بڑی مشکل سے کھانا زہر مار کیا تھا۔۔ اور ابھی وہ بیڈ پر خاموش سے لیٹی غیر مرئی نقطے پر نظر جمائے ہوئے تھی کہ جبھی دستک دے کر کوئی روم میں داخل ہوا تھا۔۔وہ چونکی اور جلدی سے سیدھی ہوکر بیٹھی۔۔ ’’السلام علیکم آنٹی !آپ یہاں۔۔‘‘دروازے سے نمودار ہوتا چہرہ دیکھ ،وہ جلدی سے سیدھی ہوئی۔۔ ’’بیٹا آپ کل رات سے کمرے سے باہر نہیں آئیں۔۔کھانا بھی کمرے میں کھایا تھا۔۔‘‘ان کا نرم لہجا اسے ایک بار پھر شرمندہ کر گیا تھا۔۔ ’’ائی ایم سوری!بس ویسے ہی۔۔‘‘اس نے لب چبائے۔ ’’خیر باہر آجائیں۔۔ناشتہ ساتھ کرتے ہیں۔مصطفیٰ صبح گھر سے جلدی نکل گئے تھے۔شاید انہیں کہیں جانا تھا۔‘‘انہونے ہدایت دینے کے ساتھ ساتھ مصطفیٰ کے بابت اطلاع دی تھی۔۔ ’’میں۔۔آتی ہوں۔۔‘‘وہ جلدی سے کھڑی ہوگئی تھی۔۔دل اندر ہی اندر خوف زدہ بھی تھا۔۔ ’’جی جلدی آجائیں۔۔پھر ہم نے شاپنگ پر بھی جانا۔۔‘‘انہونے قدم باہر کی جانب بڑھاتے باور بھی کرایا تھا۔۔جبکہ وہ خاموشی سے انکی پیروی میں باہر آئی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عریشہ اس وقت جناح انٹرنیشنل آئیرپورٹ کراچی سے پر موجود اپنی سامان کی ٹرالی گھسیٹ کر لاتی ابھی باہر آئی تھی۔جبھی اسے سامنے مصطفیٰ کھڑا نظر آیا تھا۔۔جو شاید اسکا ہی منتظر تھا۔۔مصطفیٰ کو دیکھ چہرے پر خوش کن مسکراہٹ کھل گئی تھی۔۔وه جوش سے ہاتھ ہلاتی اسکی جانب بڑھی۔۔۔ ’’ہائے بڈی !کیسے ہو یار!‘‘وہ یکدم آگے بڑھتی عادتً اسکے سینے سے لگی تھی۔۔مصطفیٰ نے نرمی سے اسے خود سے جدا کرتے فاصلے پر کیا تھا۔۔مصطفیٰ کا یہ گریز وہ ہمیشہ ہی محسوس کرتی تھی ،مگر وہ بھی انتہا کی ڈھیٹ تھی۔۔جو بارہا منع کرنے کے باوجود کبھی باز نہیں آتی تھی۔۔۔ ’’میں بالکل ٹھیک!سفر کیسا رہا۔۔‘‘وہ ملازم کو سامان اٹھانے کا اشارہ کرتا،استفساریہ گویا ہوا۔۔۔ جبکہ اب قدم ایگزٹ ڈور سے باہر ہی جانب بڑھ رہے تھے۔۔۔ ’’اچھا رہا!تم سناؤ۔۔مجھے لینے آنے کی وجہ سے تمہیں کوئی مسٔلہ تو نہیں ہوا نا؟‘‘وہ سوال کر رہی تھی۔۔ ’’آگر ہوا بھی تو اب کیا کیا جاسکتا ہے ڈئیر!‘‘وہ اپنی فراری میں بیٹھتا شرارت سے بولا،جبکہ وہ ذرا گھور کر فرنٹ سیٹ کا ڈور کھولتی ساتھ ہی بیٹھ گئی تھی۔۔۔ ’’ویسے اتنے سالوں بعد پاکستان واپس آکر کیسا لگ رہا ہے؟‘‘اس نے موڑ کاٹے سوالیہ پوچھا،جبکہ گارڈز کی گاڑی ساتھ ہی پیچھے آرہی تھی۔۔ ’’ہمم!سچ بتاؤں تو اپنے وطن واپس آکر ایک سکون سا مل رہا ہے۔۔جیسے جب کوئی بہت دنوں بعد اپنے گھر جاتا ہے تو اسے ایک سکون سا محسوس ہوتا ہے بالکل ویسا۔۔‘‘وہ آنکھیں موند کر
