Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 06
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 16/05/2026
1 Views
Episode no 06
ہارا جنون از_ہما_قریشی قسط_نمبر_6 ’’مہمان!‘‘اس نے ذرا اچھنبے سے پوچھا تھا۔ ’’جی مہمان !کیونکہ میں تو اس رشتے کو پورے دل سے نبھانے کے لئے تیار ہوں،مگر جب کچھ عرصے بعد، آپ کے بھائی کو اس کے کئے کی سزا مل جائے گی تو پھر آپ اس رشتے کو نبھانے میں دلچسپی رکھیں گی یا نہیں۔۔اس کا مجھے علم نہیں،ویسے مجھے ستر فیصد یقین ہے ایک مجبوری میں بنائے گئے شوہر کی محبت کے سامنے بھائی کی محبت بازی لے جائے گی۔۔‘‘پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ اڑستا وہ سنجیدہ لہجے میں گویا ہوا تھا۔ثمرہ نے بے یقینی سے اسکی جانب دیکھا تھا۔۔ ’’مصطفیٰ نہیں۔۔یہ زیادتی ہے میرے ساتھ۔۔میں ۔۔۔میں اس گھر میں خون بہا کے طور پر میں آئی ہوں۔اب آپ اس قتل کا بدلہ میرے بھائی سے نہیں لے سکتے۔۔۔آپ کو شارق بھائی کو معاف کرنا ہی ہوگا۔۔‘‘وہ اسکی بات بھول کر ،اپنے بھائی کے لیے تڑپ اٹھی تھی۔۔ ’’دیکھا میرا آندازہ بالکل درست تھا۔۔‘‘وہ سر جھکا کر استہزائیہ مسکرایا تھا۔۔ ’’میں کچھ نہیں جانتی۔۔آپ بھائی پر سے کیس ختم کرائیں۔۔میں آئی تو ہوں یہاں سزا کاٹنے۔۔اب اور کیا چاہئے آپ کو؟‘‘وہ یکدم ہی آپے سے باہر ہوئی تھی۔۔اپنے بھائی کو پھانسی کے پھندے پر چڑھا سوچ کر ہی اوسان خطا ہوگئے تھے۔۔ ’’آپ کو یہ خوش فہمی کیوں ہے کہ آپ یہاں خون بہا میں آئی ہیں؟؟‘‘اس کی ایک ہی گردان سُن وہ زَچ ہوا تھا۔۔ ’’تو پھر۔۔۔میں یہاں کیوں لائی گئی ہوں۔۔‘‘اس کا دماغ اب پھٹنے کے در پر تھا۔۔ ’’یہ سوال تو آپ خود سے کیجئے نا ثمرہ۔۔کیونکہ میں تو آپ کو یہاں قطعاً خون بہا کی نیت سے نہیں لایا ہوں۔۔‘‘اس بار اسکا لہجا سخت تھا۔ ’’ تو پھر میں یہاں کیا کر رہی ہوں؟آگر خون بہا نہیں ہوں تو یہ سلوک کیوں ہے میرے ساتھ۔۔‘‘اسکا اشارہ کمرے سے بے دخل کئے جانے پر تھا۔۔ ’’کیسا سلوک روا رکھا ہے ہم نے آپ کے ساتھ؟؟ذرا روشنی ڈالنا پسند کریں گی؟‘‘اس نے سینے پر بازو لیپٹے۔۔ ’’ٓاوہ پلیز مسٹر احد مصطفیٰ وجدان اب یہ نہ کہیے گا کہ آپ نے مجھ سے یہ نکاح اپنی مرضی سے کیا ہے؟‘‘وہ سر جھٹکتی استہزائیہ مسکراتی سوالیہ گویا ہوئی تھی۔۔۔آنکھوں میں نمی اُتر آئی تھئ۔۔ ’’تو کیا لگتا ہے آپ کو ؟میں نے یہ نکاح کیونکر کیا ہے؟کیونکہ احد مصطفیٰ کو مجبور کرنے والا تو ابھی اس دنیا میں کوئی پیدا نہیں ہوا۔۔‘‘ دو قدم چل کر نزدیک آتا وہ خاصے پُراسرار لہجے میں بولا تھا۔ثمرہ نے ذرا گھبرا کر دو قدم پیچھے لئے تھے۔۔ ’’اب نگاہیں کیوں چرا رہی ہیں مسز!بتائیے کہ میں نے یہ نکاح کس مقصد کے تحت کیا ہے؟‘‘وہ یونہی اسکے بے انتہا قریب کھڑا تھا۔۔ثمرہ کو گھبراہٹ سی ہونے لگی۔۔ ’’اپنی بے عزتی کا بدلہ لینے کے لئے۔‘‘ خود کو مضبوط ظاہر کرتی وہ سختی سے غرائی۔وہ سر پیچھے پھینکتا کھوکھلا سا قہقہہ لگا گیا۔۔ ’’ اوہ رئیلی مسز احد مصطفیٰ !‘‘وہ ایک لمحے کو سانس روک گئی۔اسکا حوالہ کس قدر خوبصورت تھا نا۔۔۔ ’’آپ کو لگتا ہے کہ جس لڑکی سے خون بہا یا بقول آپ کے بدلہ لینے کے لئے نکاح کیا جائے،اس کے ساتھ یہ سلوک کیا جاتا ہے۔۔نہ صرف دل میں بلکہ اسے گھر کے ایک بہترین گوشے میں پناہ دی جاتی ہے۔اسکے کھانے پینے کا دھیان رکھا جاتا ہے،اس گھر میں جو ممکن ہوسکے عزت دی جاتی ہے۔۔جہاں تک مجھے علم ہے،ہمارے گھٹیا معاشرے میں ایک خون بہا میں آئی لڑکی کے ساتھ تو انسانیت کے درجے سے گرا ہوا سلوک کیا جاتا ہے۔۔کیا آپ کو ابھی بھی لگتا ہے کہ یہ ایک انتقامی شادی ہے۔۔‘‘اس کے لہجے میں سوال تھا یا پھر ملال،وہ سمجھ ہی نہ سکی تھی۔مگر اسکا پہلا جملہ ڈھڑکنوں کی رفتار بڑھانے کے لئے کافی تھا۔۔۔ ’’میں کچھ نہیں جانتی مصطفیٰ!میں اس گھر میں صرف اسی صورت میں رہونگی۔ جب آپ شارق بھائی کو رہائی دلوائیں گے۔‘‘وہ ہنوز ضدی لہجے میں بولی تھی،اور اسکی ذات کا یہ پہلو بھی آج پہلی بار صرف مصطفیٰ کے سامنے واضح ہوا تھا،وگرنہ ضد کس بلا کا نام تھا،وہ تو اس سے سرے سے ہی ناواقف تھی۔۔ ’’ مرضی ہے آپ کی ثمرہ!کیونکہ میرے گھر کے دروازے آپ کے لئے ہمیشہ کھلے رہیں گے۔۔آپ ٹھہرنا چاہتی ہیں تو ضرور ٹھہریں،یہ آپ کا اپنا گھر ہے،آپ کے شوہر کا گھر ہے ،اور آگر آپ واپس پلٹنا چاہتی ہیں تو میری طرف سے آپ اپنے ہر فیصلے میں آزاد ہیں۔ مگر ہاں ایک بات یاد رکھئے گا اب میرا ،آپ کے کسی بھی معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔آپ کا جو دل چاہتا ہے وہ کیجئے،،کیونکہ میں کسی خون بہا اور انتقامی شادی پر بلیو نہیں رکھتا،میرے نزدیک شادی، شادی ہوتی ہے اور جب نکاح کرلیا جائے تو بس اسے نبھایا جاتا ہے،مگرمیں مقابل پر زبردستی کرنے کا قائل نہیں۔۔‘‘ وہ دو قدم پیچھے لیتا ،لہجے میں ناراضی سموئے سرد آنداز میں بولتا ثمرہ کی ڈھڑکیں ساکت کرگیا تھا،یہاں سے واپس پلٹنے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا،وہ پلٹنے لگا تھا جبھی وہ یکدم آگے بڑھ کر اسکا بازو تھام کر اسے روک چکی تھی،مقصد بس مصطفیٰ کو کسی بھی صورت زبردستی کے خون بہا کے لئے قائل کرنا تھا،آگر وہ نہ مانتا تو اسکی یہ قربانی تو رائیگا چلی جاتی اور اسکے بھائی کو بھی یہی لگتا کہ اس نے بھائی کی آڑ میں اپنی محبت کی تکمیل کی ہے۔۔ ’’آپ یا پھر آنٹی میرے ساتھ جو سلوک رواں رکھنا چاہیں مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔بھلے آپ مجھے سرونٹس کوارٹڑ میں ٹھہرا دیں۔۔میرے ساتھ بالکل ویسا ہی سلوک کریں جو ایک خون بہا میں آئی لڑکی کے ساتھ ہوتا ہے ذلیل کریں،زیادتی ۔۔۔۔۔۔‘‘ ’’انف ثمرہ۔۔۔شٹ اپ جسٹ شٹ اپ!خبردار جو اب آپ کی زبا ن سے ایک ہی لفظ نکلا تو میں برداشت نہیں کرونگا۔۔‘‘وہ اسکے سخت لفظوں پر بمشکل خود پر قابوں کرتا دھیمی آواز میں غرایا تھا،اور غصےٰ سے اپنا بازو اسکی گرفت سے آزاد کرایا تھا،جو وہ بہت مان سے تھامے کھڑی تھی۔۔ ’’آئندہ آگر اس قسم کی بکواس کی نا تو یہ زبان کاٹنے مین زیادہ دیر نہیں لگے گی مجھے۔۔اور میں نے پہلے بھی کہا تھا ۔۔آج پھر اپنی بات دھراتا ہوں،میں ان ذلیل مردوں میں سے نہیں ہوں ثمرہ جبران جو مردوں کے کئے کی سزا اس خاندان کی عورت سے لیتے ہیں۔یہ خون بہا اُس صورت میں ہوتا جب یہ تقاضہ مصطفیٰ خاندان کی طرف سے کیا جاتا،اور بے فکر رہیں ہماری سات نسلوں میں بھی ایسا کوئی بے غیرت مرد ابھی پیدا نہیں ہوا جو مرد کے کئے کی سزا عورت کو تکلیف پہنچا کرلیں۔‘‘اسکا خود کو ثمرہ جبران پکارنا کسی نشتر کی مانند سینے میں جا لگا تھا،شام تک اس رشتے کو لے کر کشمشکش میں دکھائی دینے والا وہ شخص کچھ دیر قبل اپنے نام کا حوالہ دے کر معتبر کرگیا تھا،مگر اب ایک بار پھر اسے اپنا آپ بے مول لگنے لگا تھا۔۔ ’’آپ کی جو مرضی وہ کریں۔لیکن اب مجھ سے کسی بھی قسم کی اچھائی کی توقع نہ رکھئے گا،کیونکہ آپ بھی اپنے باپ ،بھائی کی طرح ایک مطلبی لڑکی ہیں۔جنہیں بس اپنی اور اپنے خاندان کی فکر ہے،بھلے سے سامنے والے کے جذبات ،خلوص اور محبت کا جنازہ نکل جائے۔۔‘‘وہ درشت لہجے میں تنبیہ آنداز میں بولتا بے یقینی میں گھری کھڑی ثمرہ کو یونہی ساکت و صامت دیکھ وہاں سے نکل آیا تھا۔۔جبکہ وہ اب تک سکتہ میں تھی یہ مصطفیٰ اسکی محبت کیا کہہ گیا تھا۔کیا وہ ایک مطلبی لڑکی تھی؟اپنی روح
