Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 05
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 15/05/2026
1 Views
Episode no 05
پھر ڈنر سب ساتھ ہی کریں گے۔۔‘‘وہ کیا کہتی،انکے حکم پر سر ہلا گئی۔۔اور پھر بے یقینی سے سوچتی صوفے پر ٹک گئی تھئ۔۔زنیرہ بیگم کے رویے میں اس قدر اچانک تبدیلی اسے ہضم ہی نہیں ہورہی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’الماس خالہ!‘‘وہ کچن میں آیا جہاں ملازمین اپنے کاموں میں مصروف تھے۔ ’’جی بابا!‘‘وہ فوری اسکے قریب آئیں۔ ’’ثمرہ کہاں ہیں؟‘‘اس نے سب پر ایک طائرانہ نگاہ ڈال کر سوالیہ لہجے میں پو چھا۔۔ ’’بابا وہ نیچے گیسٹ روم میں ہیں۔‘‘مصطفیٰ کی پیشانی پر بل نمودار ہوئے، گیسٹ رومز تو دور پرے کے مہانوں کے لئے یوز ہوتے تھے۔جبکہ گھر میں اور بھی بہت سے کمرے تھے۔جن میں ثمرہ ٹھہر سکتی تھی۔۔ ’’اچھا۔۔۔ڈنر ریڈی ہے؟‘‘اس نے کک کو سبزیاں اور مصالحے بھونتے دیکھ سوال کیا۔۔ ’’جی بابا بس دس منٹ اور چاہئے۔‘‘وہ سر ہلاتا اب ثمرہ کے گیسٹ روم کی جانب بڑھا تھا۔۔وہ صبح اس کے آفس آئی تھی ۔جب سے نہ اس نے لنچ کیا تھا اور یقیناً نہ ہی ثمرہ نے کیا ہوگا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بغیر دستک دیئے ہی رُوم میں داخل ہوا تھا۔۔وہ اس وقت گھر میں آرام دہ ٹراؤزر شرٹ میں ملبوس انتہا کا پرکشش لگ رہا تھا۔۔وجیہہ چہرے پر سنجیدگی رقم تھی۔۔۔ ثمرہ جو ذرا کمر سیدھی کرنے کی غرض سے بیڈ پر آڑی ترچھی سی لیٹی ہوئی تھی۔۔مصطفٰی کو یوں اَچانک اپنے روم میں دیکھ ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھی تھی۔۔ساتھ ہی دوپٹہ اٹھا کر گلے میں ڈالا تھا۔۔ ’’میں نے آپ کو ڈسٹرب تو نہیں کردیا ناں؟‘‘اس نے اسے بوکھلاتے دیکھ جیبوں میں ہاتھ پھنسا کر متوازن لہجے میں پوچھا تھا۔۔۔ ’’نہیں۔۔بالکل نہیں۔۔۔‘‘وہ اب بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔۔نکاح میں ہونے کے باوجود دونوں کے مابین آجنبیت کی ایک عجیب سی دیوارحائل ہوگئی تھی۔جو پہلے کبھی نہیں رہ تھی۔یہ شاید گزرے پانچ سالوں کے انتظار کا اَثر تھا۔۔۔ ’’خیر میں اپنے کچھ دیر قبل والے رویے کے لئے بہت معذرت خواہ ہوں۔۔اس وقت میں بہت ٹینشن میں تھا۔۔آپ بتائیے کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ہے؟‘‘اس نے سوالیہ ابرو اٹھائے۔۔ ’’فی الحال نہیں۔۔۔آگر ضرورت محسوس ہوئی تو میں آنٹی سے کہہ دونگی۔‘‘وہ یونہی بے تاثڑ آنداز میں بولی،مصطفیٰ کچھ دیر کھڑا اسکے بولنے کا منتظر رہا مگر وہ ہنوز خاموش رہی تھی۔اس نے بغور اسکا جائزہ لیا تھا،اب تک صبح والے کپڑوں میں ملبوس تھیں ۔۔جن میں اب ڈھیروں شکنیں پڑ گئی تھی۔۔اداس چہرہ ،الجھے ہوئے بالوں کو اب جوڑے میں لپیٹ لیا تھا۔۔آنکھیں اب پہلے جیسی چمکتی ہوئیں نہیں تھیں۔۔اس نے ہمیشہ اپنی موجودگی میں اَن آنکھوں کو بہت روشن دیکھا تھا۔۔مگر اب وقت جیسے ہر احساس اور جذبے پر زنگ لگا گیا تھا۔۔۔ ’’ڈنر میں ابھی تھوڑی دیر ہے ۔۔آپ کو بھوک تو نہیں لگ رہی ؟؟"اس نے بات کو طول دینے کو مزید استفسار کیا تھا۔مگر وہ نفی میں سر ہلاتی خاموش رہی ۔۔۔جبھی وہ ایک گہری نظر ڈالتا پلٹنے لگا۔۔ ’’مصطفیٰ!‘‘اس کی دھیمی آواز کی پکار پر قدم خود بخود ٹھر سے گئے تھے۔۔ ’’جی!‘‘وہ گھوم کر دو قدموں کا فاصلہ سمیٹتا ذرا نزدیک آیا تھا۔۔ ’’آنٹی کو میرے لئے منانے کے لئے شکریہ۔۔آج جو کچھ بھی ہوا میں اس کے لئے بہت شرمندہ ہوں۔۔میں معافی۔۔۔‘‘وہ بمشکل اٹک اٹک کر اپنا جملہ مکمل کرسکی تھی۔ ’’اس سب ک ضرورت نہیں ہے ثمرہ۔۔ویسے بھی آپ یہاں مہمان ہیں۔سومہمانوں کے ساتھ میری ماں ویسے بھی برا رویہ اختیار نہیں کرتیں۔۔۔"اسکا لہجہ کچھ عجیب سا تھا۔۔۔ثمره کا سانس سینے میں اٹکا تھا۔۔بے یقینی سے اسکی جانب دیکھا تھا۔۔۔ ’’مہمان۔۔۔۔کیا مطلب ہے اس بات کا ؟؟"س نے ذرا اچنھبے سے پوچھا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے
