Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 05
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 15/05/2026
1 Views
Episode no 05
ذرا منہ بنایا۔۔ ’افف انسان کو اتنا بھی غریب نہیں ہونا چاہئے یار!کہ انٹرویو دینے جانے کئے لئے ایک ڈھنگ کا کپڑا بھی میسر نہ ہو۔۔‘‘اس نے ذرا ناگوار لہجے میں کہتے شکوہ کیا تھا۔۔ ’’ایسے شکوے اور مایوسی کی باتیں لڑکیاں کرتی ہیں،مردکرتے اچھے نہیں لگتے۔۔اب جلدی آجاؤ میں کھانا نکال رہی ہوں۔۔‘‘اس نے وہیں سے ہانک لگائی تھی۔۔ ’’آرہا ہوں بھئی آرہا ہوں۔۔۔تھوڑا صبر کرلو۔۔تم نے کونسا کھانے میں مٹن کڑاہی تیار کر رکھی ہے۔۔میری تو سُن کر بھی بھوک مر گئی ہے۔۔‘‘ وہ وہیں سے بڑبڑاتا ہوا اپنے کمرے کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اب تک یونہی اَحد کے کمرے میں صوفے پر سُکڑی سمٹی سی بیٹھی تھی،اور رُوتے رُوتے نجانے کب اُس کی آنکھ لگ گئی تھی،اُسے خبر ہی نہ ہوسکی تھی۔۔مصطفیٰ ماں کے پاس سے فارغ ہوتا سیدھا اپنے روم میں آیا تھا جو نیم اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔۔ ۔۔وہ گلے سے ٹائی کھینچ کر نکالتا بیڈ پر اچھالتا اب شرٹ کے بٹن کھول رہا تھا۔۔۔عجیب وحشت سی ہورہی تھی۔۔۔بٹن کھول کر خود کو ریلیکس فیل کرتا وہ بیڈ پر ٹکتا غصےٰ سے پاؤں سے جوتا نکالتا زمین پر اچھال چکا تھا،اور اس سب کارروائی میں وہ ثمرہ کے وجود سے بالکل غافل تھا،کمرے میں ہلکی سی کھٹ پٹ کی آواز پر یکدم بیدار ہوئی تھی۔۔ابھی وہ پینٹ سے بیلٹ نکالتا پلٹا ہی تھا کہ نگاہ ہونق بنی کھڑی ثمرہ سے ٹکرائی تھی۔۔نگاہوں کا تصادم ہوا تھا،اور وہ دونوں ہی اپنی اپنی جگہ سٹپٹائے تھے۔۔ ’’آپ۔۔۔۔آپ یہاں کیا کر رہی ہیں ثمرہ!‘‘اس نے جلدی سے پلٹ کر اپنی شرٹ کے بٹن لگائے تھے۔۔ ’’وہ ۔۔میں۔۔۔میرا مطلب میں کہاں جاتی پھر۔۔۔‘‘ مصطفیٰ نے آگے بڑھ کر کمرے کی لائٹ آن کی تھی۔۔جبکہ وہ اب تک اپنی جگہ پر ہی ٹک کر کھڑی تھی۔۔۔نظریں فرش پر جمارکھی تھیں۔۔ کیا مطلب!تو آپ یہاں۔۔۔پلیز ثمرہ جائیں یہاں سے۔۔ابھی میں مزید کوئی بھی بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔۔‘‘وہ سردگی سے بولتا آگے بڑھ کر تیز قدم اٹھاتا واشروم میں بند ہوگیا تھا،جبکہ وہ لب چباتی کمرے سے باہر نکل آئی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ارے دلہن!!آ پ یہاں کیا کر رہی ہیں؟‘‘الماس خالہ کے طرز ِتخاطب پر اُسے کرنٹ لگا تھا۔۔وہ جو کمرے سے نکلتی اَپنی سُوچوں میں گمُ چلتی چلی جارہی تھی۔۔یکدم چونک کر ٹھری تھی۔۔ ’’وہ میں۔۔۔میرا مطلب کہ۔۔۔یہاں گیسٹ روم کہاں ہے؟‘‘انہیں نجانے کس نے کیا بتایا تھا۔۔مگر وہ بوکھلا کر بس اتنا ہی پوچھ سکی تھی۔۔ ’’گیسٹ روم۔۔میرے ساتھ آجائیں۔۔ابھی بیگم صاحبہ نے بھی یہی کہا تھا۔۔کہ آپ کو گیسٹ روم میں ٹھرا دوں۔۔‘‘ وہ یکدم شیریں لہجے میں گویا ہوئیں تھیں۔۔۔ ’’جی چلیں۔۔‘‘وہ مرے مرے قدموں سمیت اُنکی پیروی میں کمرے کی جانب بڑھی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مصطفیٰ بیڈ کے کنارے اپنا سر تھامے بیٹھا تھا۔۔دماغ میں ٹیسیں سی اُٹھ رہی تھی۔۔۔آج سب کچھ اتنا اچانک سے ہوا تھا کہ مصطفیٰ چاہ کر بھی اپنی حواس پر قابوں نہیں کر سک رہا تھا۔۔ ’’افف!یہ میں کہا ں پھنس گیا ہوں۔۔‘‘اس نے پیشانی مسلتے خود ساختہ قیاس کیا۔۔ ’’کاش مزمل تم نے مما کی بات مان لی ہوتی،اور یہ فضول سا شوق چھوڑ دیا ہوتا تو آج حالات مختلف ہوتے۔۔‘‘بھائی کی یاد میں ایک بار پھر اسکی آنکھیں بھیگ گئیں تھیں۔۔ پھر سر جھٹکتا بیڈ پر نیم دراز ہوگیا تھا۔۔۔وہ کچھ دیر آرام کرنا چاہتا تھا تاکہ پھر پرسکون آنداز میں کچھ سُوچ بچار کر سکے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ثمرہ الماس خالہ کی ہمراہی میں ہی گیسٹ روم تک آئی تھی۔۔یہ ایک درمیانے سائز کا ویل فرنشڈ اور صاف ستھرا كمره تھا۔۔کمرے میں ایک بیڈ اور ڈریسنگ ٹیبل کے علاوہ زیادہ فرنچر نہیں تھا۔۔مگر صد شکر تھا کہ ُاسے یہاں ایک علیحدہ کمرے فراہم کردیا گیا تھا۔۔ ’’وہ مجھے۔۔۔کپڑے بھی۔۔۔‘‘وہ ابھی اتنا ہی بول پائی تھی کہ سامنے سے کمرے میں داخل ہوتی زنیرہ کو دیکھ وہ خاموش ہوگئی۔۔اور نظریں جھکا لیں تھیں۔۔۔ ’’الماس بی بی آپ جائیں۔۔۔بہو کو میں خود دیکھ لونگی۔۔‘‘ثمرہ کی تو بس بے ہوش ہونے کی دیر رہ گئی تھی۔۔آخر لہجے میں اتنی نرمی کیسے آن سمائی تھی۔۔۔ ’’جی اچھا بیگم صاحبہ!‘‘وہ سر ہلاتی وہاں سے نکل آئی تھیں۔جبکہ اب زنیرہ کا رُخ ثمرہ کی جانب ہی تھا۔۔جو حیرت سے اُنہی کا چہرہ تک رہی تھی۔۔ ’’ثمرہ بیٹا!کچھ چاہئے آپ کو؟‘‘ان کے اس قدر شفیق لہجے پر وہ غش کھا کر گرتے گرتے ہی تو بچی تھی۔۔ ’’نہیں۔۔نہیں۔۔۔جی میرا مطلب۔۔۔وہ کپڑے۔۔۔ابھی میرے پاس کوئی کپڑے نہیں ہیں۔۔۔‘‘اس نے لب دانتوں تلے دبائے بمشکل انکا یہ رویہ ہضم کیا تھا۔۔ ’’تو کوئی بات نہیں میری جان!ہم کل شاپنگ پر جاکر لے آئیں گے۔۔۔ابھی فی الحال الماس بی سے بولتیں ہوں وہ کوئی انتظام کردیں گی۔۔‘‘اس نے محض سر ہلانے پر اکتفا کیا تھا۔۔ ’’تم سوچ رہی ہوگی کہ یوں اچانک میں بدل کیسے گئی؟‘‘ثمرہ کی سوالیہ نگاہیں محسوس کر وہ خود ہی بولی تھیں۔مگر ثمرہ خاموش رہی۔۔ ’’مصطفیٰ نے مجھے ساری بات بتائی ہے بیٹا!اس وقت میں غصےٰ میں تھی۔۔۔ بہت کچھ بول گئی مگر تم بھی تو دیکھو نا میں نے اپنا جوان بیٹا کھویا ہے۔اس طرح اتنا چانک سب کچھ ہوا کہ میرا ذہن یہ حقیقت قبول کرنے کو تیار ہی نہیں تھا۔۔مگر اب مصطفیٰ نے مجھے آپ کے گھر کے حالات بتائے تو مجھے بہت افسوس ہوا،سگی ماں سگی ہی ہوتی ہے۔۔آگر آج وہ ہوتی تو کوئی آپ کے ساتھ اس طرح کی زیادتی نہیں کر سکتا تھا۔۔‘‘اس کے نرم رویے پر اسکی آنکھ سے آنسو بہنے لگے تھے۔۔ ’’روئیں نہیں بیٹا!اللہ سب بہتر کرے گا۔۔۔بس مصطفیٰ ابھی ذہن ی طور پر اس رشتے کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔۔تو فی الحال آپ اس گیسٹ روم میں آرام سے رہیں۔۔اور کوئی بھی پریشانی ہو تو آپ مجھے ضرور بتائیے گا۔۔‘‘اسکا گال ہولے سے تھپکتی وہ بہت محبت سے گویا ہوئیں تھیں۔۔ ’’ تھینک یو آنٹی۔۔۔تھینک یو سو مچ!میں آپ کا یہ احسان کبھی بھی نہیں بھولوں گی۔۔‘‘وہ عقیدت و محبت سے انکا ہاتھ چومتی محبت سے گویا ہوئی تھی۔۔تو وہ دھیمے سے مسکرائیں تھیں۔۔ ’’خوش رہو۔۔میں الماس کو بھیجتی ہوں۔۔‘‘وہ ہولے سے مسکراتی کمرے سے نکل آئیں تھیں۔۔جبکہ ثمرہ ایک ٹھنڈی گہری سانس بھرتئ بیڈ پر گرنے کے آنداز میں لیٹی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر لیٹا نیند میں اتر گیاتھا۔۔ذہن پر اس قدر بوجھ سوار تھا کہ وہ بے وقت ہی سو گیا تھا۔۔اس کی نیند میں خلل پیدا کرتی موبائل کی چنگھاڑی ہوئی آواز پر وہ جھنجھلا کر بیدار ہوا تھا۔۔ ’’افف!اَب کون ہے۔۔‘‘اس نے ذرا ناگواری سے بڑبڑاتے بغیر اسکرین دیکھے ،موبائل اُٹھا کر کان سے لگایا تھا۔۔ ’’ہیلو!‘‘دوسری جانب سے کسی صنف نازک کی خوبصورت آواز سماعتوں سے ٹکرائی تھی۔۔ ’’یار تم آجاؤ۔۔میں یہاں سب دیکھ لونگا۔۔پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔‘‘دوسری طرف سے کسی بات پر پریشانی کا اظہار کیا گیا تھا۔۔ ’’اوکے میں تمہیں آئیر پورٹ پک کرنے آجاؤنگا۔۔ڈانٹ وری۔۔‘‘وہ اٹھ کر روم سے باہر جاتا ہنوز باتوں میں مصروف تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’دلہن بیگم یہ میری چھوٹی بیٹی کا نیا جوڑا ہے،جو باجی نے عید پر دیا تھا،ابھی اس نے ایک بار بھی نہیں پہنا،آپ فی الحال یہ پہن لیں۔۔‘‘ثمرہ نے ایک نظر اس جوڑےکو دیکھا پھر انکا خلوص دیکھ سر ہلاگئی،خیر جوڑا دس بار کا دھلا نیا تو کہیں سے بھی نہیں لگ رہا تھا۔۔ ’’بہت شکریہ خالہ بی!مگر میں انہی کپڑوں میں ٹھیک ہوں۔۔کل آنٹی کے ساتھ جاکر شاپنگ کرلونگی۔ویسے بھی یہ میرے سائز کا نہیں۔‘‘اس نے نرمی سے انکار کیا تھا۔ ’’چلیں ٹھیک ہے پھر،آپ کی مرضی جی۔۔خیر بیگم صاحبہ نے کہا تھا کہ آپ فریش ہوجائیں
