Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 05
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 15/05/2026
1 Views
Episode no 05
ہارا جنون از_ہما_قریشی قسط_نمبر_5 ’’آنٹی آپ غلط سمجھ رہی ہیں۔۔مصطفیٰ آپ آنٹی کو یہ بات کلئیر کیوں نہیں کرتے۔۔کہ میں یہاں آپ کی بیوی کی حثیت سے نہیں بلکہ خون بہا میں آئی ہوں۔۔بے فکر رہیں،آپ کا بیٹا آج بھی آپ کا ہی بیٹا ہے۔۔‘‘ ثمرہ مصطفیٰ کے پیچھے سے نکلتی سامنے آکر نڈر لہجے میں بولی تھی۔۔ ’’لڑکی تم نے مجھے پاگل سمجھ رکھا ہے؟؟؟‘‘وہ استہزائیہ مسکرائیں،تو اس نے ناسمجھی سے انکی جانب دیکھا۔۔ ’’جو اپنی ماں کے سامنے تمہاری ڈھال بن کر کھڑا ہوگیا،وہ تمہیں خون بہا میں لایا ہے؟؟میں مان ہی نہیں سکتی۔۔ضرور تمہارے خاندان نے کوئی سازش کی ہوگئی ،اور تمہاری جیسی منحوس لڑکی کو ہمارے سر منڈ دیا۔۔‘‘اس بار وہ نفرت سے غرائی تھیں۔۔ ’’ممی!کیا ہوگیا ہے آپ کو۔۔۔آپ تو پلیز اس طرح کی دقیانوسی باتیں نہ کریں۔۔اور یہ حقیقت ہے کہ ثمرہ سے میں نے اپنی مرضی سے نکاح کیا ہے۔۔لیکن میں آپ کو کوئی دکھ نہیں دینا چاہتا۔۔۔ ‘‘وہ چاہ کر وہ لفظ نہیں بول پایا تھا،جو اس نے غصےٰ میں ثمرہ سے کہے تھے۔۔ ’’اچھا!تو یہ لڑکی خون بہا کی صورت ہمارے گھر میں آئی ہے؟‘‘انہونے ابرو اٹھائے۔ ’’جی بالکل ایسا ہی آنٹی۔‘‘ ’’ثمرہ آپ خاموش رہیں پلیز۔۔‘‘ ’’ایسا نہیں ہے مما!یہ کوئی خون بہا نہیں ہے۔۔ مزمل کا قاتل شارق ہے اور سزا بھی اسے ہی ملے گی،مگر ثمرہ سے نکاح میں نے اپنی خوشی اور رضامندی سے کیا ہے،کیونکہ یہی میری خوشی اسی لڑکی میں ہے۔۔اور وقت اور حالات کا تقاضہ بھی یہی تھا۔۔لیکن میں اس رشتے کو جب تک کوئی نام نہیں دونگا ،جب تک آپ کے بیٹے کے مجرم کو سزا نہ دلوادوں۔۔اب پلیز آپ دونوں کوئی بحث نہیں کریں گی۔۔‘‘اس بار وہ ذرا سختی سے گویا ہوا تھا،زنیرہ ایک نظر بیٹے کو دیکھ صوفے پر بیٹھ کر بری طرح سے رونے لگی تھیں۔۔۔ ’’ماں۔۔‘‘وہ ٹرپ کر آگے بڑھا، ’’مصطفیٰ اس لڑکی سے کہو،چلی جائے یہاں سے۔۔میں اس لڑکی کا وجود ہر گز بھی نہیں برداشت کر سکتی۔۔پلیز جائیں یہاں سے۔۔‘‘چہرہ پر دوپٹہ رکھتیں ہو نفرت سے بولیں،تو ثمرہ صورت حال سمجھتی کمرے سے نکل آئی تھی،جبکہ اب مصطفیٰ رُوتی ہوئی ماں کو سنبھال رہا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’السلام علیکم بی بی!آپ ثمرہ بی بی ہیں نا؟جنہیں مصطفیٰ بابا پسند کرتے تھے؟‘‘ الماس خالہ نے اسے دیکھ پر تجسس آنداز میں پوچھا تھا۔وہ پہلے بھی ایک دو بار مصطفیٰ کے ساتھ گھر تک آ چکی تھی۔۔۔وہ نہیں جانتی تھیں کہ شارق ثمرہ کا ہی بھائی تھا۔۔ ’’جی۔۔‘‘ثمرہ ہولے سے مسکرائی تھی۔۔ایسا کونسا شخص تھا،جو انکے رشتے سے واقفیت نہ رکھتا ہو۔۔۔ ’’تو آپ یہاں؟؟سب خیریت ؟‘‘اس بار وہ مزید جاننے کے لئے متجسس ہوئیں۔ ’’جی سب خیریت ہی ہے۔وہ مصطفیٰ کا کمرہ کہاں ہے؟‘‘وہ جلد از جلد ان سے جان چھڑا کر جانا چاہتی تھی۔کیونکہ اب وہ عجیب نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔۔ ’’جی وہی پرانا والا ہے۔۔‘‘وہ سرہلاتی ،تیز قدم لیتی مصطفیٰ کے کمرے میں چلی گئی تھیں،جہاں وہ پہلے بھی دو بار فائل ڈھونڈنے کی غرض سے جا چکی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ دروازے کے پاس آکر ٹھہرتی ایک گہری سانس لیتی تھم سی گئی تھی۔۔۔آج اس کمرے میں جاتے ایک عجیب سی جھجھک آڑے آگئی تھی۔۔اس نے کب سوچا تھا کہ ایسے بھی حالات ہونگے۔۔۔پھر گہرا سانس بھرتی کمرے میں داخل ہوگئی تھی۔۔۔ کمرہ نیم تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔۔کھڑکیوں پر پردے ڈلے ہونے کے باعث سورج کی روشنی کمرے میں آنے سے قاصر تھی،کمرہ کا ایک حصہٰ مکمل تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا،وہ لب چباتی دھیرے سے چلتی ہوئی ایک طرف کو رکھے صوفے پر سکڑ سمٹ پر بیٹھتی،اب آنسو بہانے لگی تھی۔۔۔خود پر کیا ضبط ٹوٹا تھا،اور وہ ہچکیوں سے رونے لگی تھی۔۔۔ اپنے باپ کا بیگانہ پن یاد کر دل میں درد سا اُٹھ رہا تھا۔۔۔کیا تھا آگر اس کا باپ اسکی ڈھال بن جاتا،مگر نہیں۔۔۔اسکا گناہ بس اتنا ہی تھا کہ وہ اپنی ماں جیسی نظر آتی تھی۔۔اور اسکے کردار کو سب نے اسکی ماں جیسا ہی سمجھ لیا تھا۔۔ ’’اس سے تو اچھا یہ تھا کہ میں پیدا ہوتے ہی مرجاتی۔۔۔کم از کم یہ سب تو سہنا نہ پڑتا۔۔‘‘خود ساختہ بڑبڑاتی وہ پھپھک پھپھک کر رونے لگی تھی۔۔۔آنکھوں سے بےشمار آنسو رواں تھے۔۔۔مگر اسے پھر بھی اطمینان تھا کہ اس چھت کے نیچے اسکے ساتھ اتنا برا نہیں ہوسکتا تھا جتنا برا اسکے باپ کے گھر میں ہوا تھا۔۔۔وہ مسلسل روتی سسکیاں بھر رہی تھیں۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ملبرن میں ایک اور سنہری شام اُتر آئی تھی۔۔اگست کے اوائل دن تھے۔موسم انتہا کا سرد تھا۔۔۔وہ کھلے جینز شرٹ پر گرم کوٹ پہنے گھر میں داخل ہوتی سیدھی اپنے کمرے کی جانب قدم بڑھا رہی تھی،جب اپنی ماں کی آواز پر اسے قدم رُوکنے پڑے تھے۔۔ ’’تو پھر تم نے اپنے باپ کی ساری جائیدداد بیچ دی؟‘‘وہ اپنے کمرے کے دروازے کے فریم سے ٹیک لگائے کھڑیں سوالیہ آنداز میں دریافت کر رہی تھیں۔۔ ’’جی کردی۔۔۔اور جو رہ گئی ہے وہ بھی کچھ عرصے میں کردونگی۔۔۔فی الحال دو دن بعد کی میری فلائٹ ہے۔۔جتنا جلدی ہوسکے آپ اپنا بندوبست کرلیں کیونکہ میں یہ گھر سیل کر چکی۔۔‘‘اس بار انہونے نخوت سے اسکی جانب دیکھا تھا۔ ’’تم ایسا نہیں کر سکتیں عریشہ۔۔تمہارا باپ میرا شوہر تھا۔‘‘انہونے جتانا ضروری سمجھا۔۔ ’’جی وہی شوہر جس کی بیوہ بن کر زندگی گزارنا آپ کو بہت مشکل لگ رہا ہے۔تو پھر آپ کا خرچہ بھی اب وہی اٹھائے گا جو آپ کاشوہر ہوگا۔‘‘انہونے باور کراتے لہجے میں کہا تھا۔ ’’ اچھا!چلو جاؤ تم پاکستان۔۔ میں بھی دیکھتی ہوں کہ اس کلچر میں تم کیسے ایڈجسٹ کروگی،اور کب تک اکیلے سروئیو کر سکوگی۔۔کچھ جانتی بھی ہو پاکستان کے بارے میں؟؟‘‘انہونے نخوت سے سر جھٹکتے اسے ڈرانا چاہا۔۔ ’’وہ آپ کا کنسرن نہیں ہے۔۔میں اکیلے رہ سکتی ہوں۔۔آپ اپنے بوائی فرینڈ کے ساتھ لائف انجوائے کریں۔۔‘‘ناگواری سے کہتی وہ اپنے کمرے میں جاکر بند ہوگئی تھی۔۔۔ ’’بیوقوف لڑکی۔‘‘وہ بڑبڑا کر کمرے میں واپس پلٹتیں،اپنی باقی کی پیکنگ کرنے لگیں،کیونکہ کچھ ہی دیر میں انکے ادھیڑ عمر آسٹریلیا کے ایک ناموار بزنس مین بوائی فرینڈ کی گاڑی انہیں پک کرنے آرہی تھی۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ایزل!‘‘وہ انٹرویو سے فری ہوتا ابھی گھر میں داخل ہوا تھا۔گھر میں بالکل سناٹا چھایا ہوا تھا۔اور وہ کہیں نظر بھی نہیں آرہی تھی۔۔ ’’آگئی آگئی!کیا ہوا خیریت تھی نا سب؟‘‘اس نے ذرا حیرانگی سے استفسار کیا۔ ’’ہاں سب خیریت ہے۔۔کہاں تھیں تم۔۔۔میں کب سے آوازیں لگا رہا ہوں۔۔‘‘اس نے فائل ایک طرف کو رکھتے ذرا تھکے ہارے لہجے میں کہا تھا۔۔ ’’یہیں تھی۔۔تم یہ بتاؤ جاب مل گئی؟‘‘اسنے صحن میں پڑے تخت پر ساتھ بیٹھتے سوالیہ آنداز میں پوچھا تھا۔۔ ’’ نان گریجوئٹ کو کون جاب دے گا یار!‘‘وہ لہجے میں بے پناہ بیزاری سمو کر بولا تھا۔۔ ’’اوہ ہو۔۔۔تم ہر وقت مایوسی کی باتیں کیوں کرتے رہتے ہو۔۔اللہ سے اچھے کی امید رکھو۔۔تم دیکھنا۔۔۔تمہیں بہت جلد ایک اچھی جاب آفر ہو گی۔۔ ’’اس نے بھائی کو دلاسہ دیا۔۔ ’’ہمم!دیکھتے ہیں۔۔ویسے مجھے ایسا کچھ لگتا تو نہیں ہے۔۔‘‘ اس نے منہ بنایا۔۔ ’’تم تو ہمیشہ مایوسی کی ہی باتیں کرنا۔۔آگر یہ باڈی بنانے کے بجائے اپنی پڑھائی پر توجہ دی ہوتی نہ تو آج یوں دھکے نہ کھا رہے ہوتے۔‘‘اس نے صحیح سے لتاڑا تھا۔۔ ’’اچھا یہ بتاؤ کھانے میں کیا بنایا ہے۔بہت بھوک لگی ہے۔۔۔ چھ جگہ انٹرویو زدے کر آرہا ہوں۔۔مگر کہیں سے کوئی پوزیٹو رسپانس نہیں ملا۔۔‘‘وہ پاؤں سے جوتا نکال کر ہوا میں اچھالتا ازلی لاپرواہی سے بولا تھا۔۔ ’’کریلے بنائیں ہیں۔۔یہ کپڑے چینج کرلو۔۔میں تمہاری یہ اکلوتی شرٹ روز روز نہیں دھو سکتی۔۔‘‘ااس نے
