Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 03
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 13/05/2026
12 Views
Episode no 03
ایک بار بھی سوچا مجھ پر یا میری ماں پر کیا گزرے گی جب ہم اپنے گھر اپنے ہی بیٹے اور بھائی کے قاتل کی بہن کو گھومتا دیکھیں گے ؟؟؟"مصطفیٰ کی بات پر اسکا چہرہ تاریک پڑا تھا۔۔ "کیا مطلب ہے آپ کا۔۔۔میں اب یہاں کیسے رہ سکتی ہوں مصطفیٰ۔۔بابا مجھے گھر آنے کی اجازت نہیں دیں گے۔۔"اس نے گھبرا کر اسے کندھوں سے تھامنا چاہا۔۔جبکہ وہ ہاتھ بیچ میں ہی روک گیا۔۔۔ "پلیز !!"وہ ہاتھ پیچھے کر گئی۔۔۔جبکہ وہ گاڑی سے باہر نکلتا گھوم کر آتا اسکی سائیڈ کا دروازہ کھول کر کھڑا تھا۔۔۔ "باہر آئیں فوراً...."وہ لب چباتی گاڑی سے باہر آئی تھی۔ "میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ اسکا ہاتھ پکڑتا اپنے ساتھ زبردستی گھسیٹتا ہوا گھر کو اندر لے جانے لگا۔۔۔ "آپ کے والد صاحب کو بھی تو علم ہونا کہ بے عزتی ہوتی کیا ہے ۔۔۔"وہ رُوتی سسکتی کسی بے جان گڑیا کی مانند کھینچی چلی جارہی تھی۔۔۔۔آج وہ شخص انتہا کا ظالم بنا ہوا تھا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ لاؤنج میں موجود جبران صاحب اور باقی سب نے ذرا حیرانگی سے گھر میں داخل ہوتے مصطفیٰ کو دیکھا تھا جس کا ہاتھ مرے قدموں سے ساتھ کھینچی چلی آتی ثمره کے ہاتھ میں تھا۔۔۔ "یہ کیا بدتمیزی ہے مصطفیٰ وجدان ہاتھ چھوڑیں ثمره کا ۔۔۔"جبران صاحب غصّے سے غرائے تھے۔۔ "کیوں ؟آخر آپ نے ہی تو بھیجا تھا اپنی بیٹی کو میرے پاس۔۔تو اب میں جو مرضی چاہے کرو۔۔۔"وہ حد سے زیادہ تیز لہجے میں غرایا تھا ۔۔۔ ویسے معاف کیجئے گا جبران صاحب ۔۔۔بڑے بڑے بے غیرت دیکھے مگر آپ کا تو لیول ہی الگ ہے ۔۔۔مطلب جب آپ سے بات نہ بن سکی تو اپنے گھر کی عورت کو آگے کردیا کہ اب تو احد مصطفیٰ کو مانتے ہی بنے گی۔۔۔""وہ استہزائیہ لب و لہجے میں گویا ہوا تھا۔۔فرناز نے پہلو بدلہ تھا جبکہ جبران صاحب کا چہرہ ضبط کی زیادتی سے سرخ پڑگیا تھا۔۔۔۔ "بکواس بند کرو مصطفیٰ وجدان۔۔۔تمہاری ہمّت کیسے ہوئی میری بیٹی کا ہاتھ پکڑنے کی۔۔"اپنی جھینپ مٹانے کو وہ دھاڑے تھے۔۔ "تحمل رکھیے سسر صاحب۔۔کیونکہ اب آپ کی بیٹی میری بیوی ہے۔۔آپ کو کیا لگا تھا خون بہا میں اس معصوم کو دے کر آپ اپنے عیاش مزاج بیٹے کو بچالیں گے۔۔۔نہیں نہیں ایسا نہیں ہوسکتا۔۔۔"فرنازکا منہ حیرت کے باعث کھل گیا تھا۔۔ثمرہ نے بھی بے یقینی سے اسکی جانب دیکھا۔۔۔۔ "یہ میری بیوی ہے اور جب تک میرا دل رخصتی کے لئے آمادہ نہیں ہوجاتا یہ یہیں آپ کے پاس رہے گی۔۔اور ہاں اسے خون بہا سمجھنے کی غلطی نہ کیجئے گا کیونکہ شارق علوی کو پھانسی کے پھندے پر چڑ ھائے بغیر سکون سے تو میں ہر گز نہیں بیٹھونگا۔۔"وہ بلند و بالا آواز میں غرایا تھا۔۔۔ "اور میرے خاندان والوں کے سامنے کیا کہا تھا آپ نے پانچ سال قبل کہ اپنی بیٹی کو تمہارے ساتھ بیاہنے سے بہتر ہے کہ میری بیٹی ساری زندگی کنواری میرے گھر میں دیلیز پر بیٹھی رہے۔۔اب آپ کو اپنے بڑے بولو کا اندازہ ہوگا،کہ بے عزتی ہوتی کیا ہے۔جب بیاہی بیٹی گھر کی دہلیز پر رہے تو پھر اندازہ ہوگا آپ کو کہ میں اور میرا خاندان کس تکلیف سے گزرے تھے۔۔۔۔"ثمرہ کی آنکھوں میں بے یقینی سے اتر آئی تھی۔۔۔ "مصطفیٰ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ۔۔۔آپ نے کہا تھا کہ۔۔"ایک خوفزدہ نگاہ باپ پر ڈال اس نے کپکپاتے لہجے میں کچھ کہنا چاہا تھا۔۔۔ "ثمره آپ نے ہی تو کہا تھا کہ آپ کے گھر کے دروازے آپ پر بندھ ہوچکے ہیں ۔۔مگر اب ایسا نہیں ہوگا۔۔کیونکہ اب آپ میری عزت ہیں۔۔اور احد مصطفیٰ کی بیوی کو آگر کسی نے ہاتھ لگانے کی جرات بھی کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔۔یاد رکھئےگا۔۔اب آپ یہاں آرام سے رہیں ۔اب آپ پر کسی کا کوئی دباؤ نہیں ہے۔۔"وہ سب کو حیرت سے گنگ کھڑا دیکھ مزید وہاں ٹھہرا نہیں تھا بلکہ سب کو ایک قہر بھری نگاہ سے نوازتا علوی ہاؤس سے نکل آیا تھا۔۔ جاری ہے
