Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 03
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 13/05/2026
12 Views
Episode no 03
ہارا جنون از_ہما_قریشی قسط_نمبر_3 ’’بابا پلیز!تھوڑا عقل سے کام لیں،ثمرہ وہاں جاکر کیا کرے گی۔۔‘‘وہ ہنوز اپنی بات پر ڈٹی ہوئی تھی۔۔ ’’قصویٰ تم خاموش رہو بیٹا!جیسا ہم کہتے ہیں بس ویسا ہی کرو۔‘‘فرناز ثمرہ کو شولڈر بیگ بھامے تیار دیکھ ناگواری سے بولیں۔ ’’ڈرائیور باہر تمہارا انتظار کر رہا ہے۔‘‘وہ سر ہلاتی آنکھوں پر سیاہ گلاسز چڑھاتی وہاں سے واک آوٹ کر گئی تھی۔۔ جبکہ قصویٰ نے افسوس سے اپنی ماں کو دیکھا تھا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح کا وقت تھا،یہ شہر کا متوسط علاقہ تھا،جہاں وہ اپنےجنگ کا میدان بنےکمرے کٹ شٹ سے تیار ایک بار پھر جاب تلاش کرنے کی غرض سے اپنے ڈاکومنٹس ترتیب دیتا،اب اپنا ایک پاؤں کا جوتا تلاش کر رہا تھا۔۔۔ ’’ایزل!ایزل سُنو یار!‘‘وہ بیزاری سے تیز آواز میں بہن کو پکارنے لگا۔۔۔ ’’اب کیا ہوا؟‘‘وہ جو کچن میں کھڑی اس کے لئے ناشتہ ریڈی کر رہی تھی،یکدم گڑبڑا کر اسکی جانب آئی۔۔ ’’میرا ایک جوتا کہاں گیا یار!‘‘وہ اس سے عمر میں دو سال چھوٹا تھا،اور اسکی حرکتیں بھی کسی چھوٹے بچے جیسی ہی تھیں۔۔ ’’’یہیں کہیں ہوگا۔۔۔ صحیح سے تلاش کرو۔۔۔‘‘ وہ بول کر واپس رخ کچن کی جانب کر گئی۔۔ ’’کہاں ہے بھئی۔۔‘‘وہ جھنجھلایا گھڑی پر نگاہ ڈالی تو وہاں گھڑی اٹھ کا ہندسہ عبور کر رہی تھی۔۔ ’’واپس آ کر انسانوں کی طرح ترتیب سے رکھو تو ملے گی ناں تمہیں کوئی چیز جگہ پر!واپس آکر اُسے ہوا میں چیزیں اُچھالتے ہو جیسے دوبارہ کہیں جانا ہی نہ ہو۔۔‘‘وہ دانت پیس کر غصےٰ سے غرائی تھی۔۔ ’’ابے یار لیکچر نہیں دو۔۔میرا شوز ڈھونڈ کر دو جلدی مجھے آفس سے لیٹ ہورہا ہے۔۔نو بجے میرا انٹرویو ہے۔۔‘‘سنگھار آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر اسنے ایک بار پھر اپنی تیاری پر نگاہ دوڑائی تھی۔۔ صاف ستھری رنگت، سنجیدہ چہرہ،سیاہ گہری آنکھیں،اور توانا جسا مت، ویٹ لفٹنگ کر کر کہ باڈی کسی ریسلر جیسی کرلی تھی،گھنے گھنگریالے بال،جنہیں سلیقے سے پیچھے سمیٹ کر پو نی ڈال رکھی تھی۔۔ ٹی شرٹ سے اُبھرتا سینہ ،وہ ایک مضبوط جسامت کا مالک ہینڈسم مرد تھا۔۔ ’’میں تو تم سے بہت پریشان آگئی ہوں بھئی!‘‘وہ پر پٹختی واپس کمرے میں آتی بیڈ کے نیچے سے ڈھونڈ ڈھانڈ کر جوتا نکالتی اسے ایک گھورتی نگاہ سے نوازتی واپس کمرے سے باہر نکلی تھی۔۔ ’’میں جارہا ہوں۔اپنا یہ انڈے پراٹھوں کا ناشتہ خود ہی کرلینا۔ اور پلیز میرا کمرہ صاف کردینا،رات کو یہاں چوہے پارٹی کر رہے تھے۔۔‘‘ وہ سنو سنو ہی کرتی رہے گئی تھی۔ جبکہ وہ یہ جا اور وہ جا۔۔ جبکہ وہ پر پٹختی آنکھیں میچ کر رہ گئی۔۔ چار سال قبل ایک روڈ حادثے میں ان دونوں نے اپنے ماں ،باپ کو گنوا دیا تھا،جب سے وہ دونوں ہی بہن بھائی اکیلے زندگی کی گاڑی کو دھکا دینے پر معمور تھے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سنجیدہ چہرے پر سوچ کی لکیرے واضح تھیں،وہ محو سا لیپ ٹاپ اسکرین پر نظریں جمائے بیٹھا کام میں مگن تھا،ایک ہاتھ کی مٹھی بنا کر لبوں پر جما رکھی تھی،کسی کی دستک پر وہ اسنے یونہی مصروف سے آنداز میں آندر آنے کی اجازت دی تھی۔۔ ’’کم آن۔۔‘‘دروازہ کھلتے ہی وجود سے پہلے بینگنی رنگ آنچل دیکھ اسنے ذرا ناسمجھی سے نظر اٹھا کر دیکھا،اور وہ جو مخمصے کا شکار دروازے پر ہی ٹھہر سی گئی تھی ،آفس میں پہلا قدم رکھتے ہی اسکا چہرہ دیکھ تھم سی گئی۔۔۔ مصطفیٰ کی نظر اٹھی تھی اور اسکے چہرے پر ٹھہر سی گئی تھی،نظریں ٹھہری تھیں یا پھر ان دونوں کے درمیان وقت ٹھہر گیا تھا،مصطفی ٰ یہ بات سمجھنے سے قاصر تھا۔پانچ سال بعد،ہاں آج پورے پانچ سال بعد وہ ظالم لڑکی اسکے رُوبرو تھی،وہ یونہی ٹرانس کی سی کیفیت سے دوچار دو قدم لیتی آفس میں داخل ہوچکی تھی،جبکہ نگاہیں مصطفیٰ کی ساکت نگاہوں پر ہی تھیں،جو اپنا ہر کام ترک کرتا محو سا بس اسے ہی تکے جا رہا تھا۔۔۔اسکی یہاں موجودگی بالکل غیر متوقع تھی۔۔۔ ’’السلام علیکم!‘‘بے خیالی اور بے خودی کے چند لمحات تھے،جو اسکی دھیمی آواز پر تھم سے چکنا چور ہوئےتھے۔۔اس نے آنکھیں میچ کر کھولیں تھیں۔۔ ’’وعلیکم السلام!آپ یہاں۔۔۔خیریت۔۔‘‘اس بار اس نے اپنی بے ساختگی پر خود کو کوستے سنجیدگی سے استفسار کیا،جو مزید دو قدم بڑھاتی ٹیبل کے اس پار بالکل نزدیک چلی آئی تھی۔۔ ’’بیٹھیں ثمرہ!‘‘آج سالوں بعد سماعتوں سے اسکی آواز میں اپنا نام ٹکرایا تھا،مقابل کی آنکھوں میں ہلکورے لیتے اجنبی پن پر وہ لب دباتی چئیر کا رخ ترچھا کر بہت دقت کے بعد بیٹھ گئی تھی۔۔ ’’جی کہیں مس ثمرہ۔۔کیسے آنا ہوا۔۔‘‘وہ جو بمشکل اپنے لفظوں کو ترتیب دے رہی تھی،اب جاکر لگ رہا تھا کہ ساری ہمت ہوا ہوگئی ہو۔۔ مصطفیٰ نے بغور اسکے تاثرات کا جائزہ لیا تھا۔۔۔۔۔ ’’مصطفیٰ وہ!‘‘ ’’کال می احد!احد نام ہے میرا۔۔۔مصطفیٰ پکارنے کی اجازت صرف میرے اپنوں کو ہے۔۔‘‘وہ اسکی بات کاٹتا یکدم کھردرے لہجے میں بولا تھا۔۔ثمرہ کتنے ہی پل بے یقینی سے اسے دیکھتی رہی،پھر تیزی سے جگہ چھوڑتی پلٹنے لگی۔۔ ’’کہاں جارہی ہیں؟‘‘وہ اسے جاتا دیکھ حیران ہوا۔۔ ’’جو میں کہنا چاہتی ہوں وہ کہنا اب بے کار ہے۔‘‘وہ یونہی رُخ پھیر کر جانے لگی تھی۔۔ ’’ بیٹھ جائیں ثمرہ!‘‘ثمرہ کے پاس اس کے علاہ کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ ’’میں ایسے ہی ٹھیک ہوں۔‘‘اس بار اس نے رخ پھیر کر اسکی جانب دیکھا۔ ’’ ثمرہ بیٹھ جائیں پلیز!‘‘اس بار اسکے لہجے میں نرمی تھی۔۔وہ چارو نچار بیٹھی ضرور تھی،مگر نگاہیں ابھی بھی جھکا رکھی تھی۔دونوں ہاتھوں کو آپس میں مسلتی وہ مسلسل تذبذب کا شکار تھی۔۔۔مصطفیٰ نے بغور اسکی گھبراہٹ کا جائزہ لیا تھا۔۔۔ ’’آپ ریلیکس ہوجائیں۔۔اور جو بھی کہانا چاہتی ہیں بے جھجھک ہوکر کہیں۔۔جیسے پہلے کہتی تھیں۔‘‘ اس کے ماضی کا حوالہ دینے پر اسکے لبوں پر تلخ مسکراہٹ سی کھل گئی تھی۔۔جو اسکی زیرک نگاہوں سے مخفی نہیں رہ سکی تھی۔۔۔ ’’آپ خون بہا کے لئے مان جائیں۔۔۔‘‘شدید ضبط کے بعد بمشکل الفاظ ادا ہوئے تھے۔۔مصطفیٰ جو کچھ کچھ اسکا یہاں آنے کا مقصد سمجھ رہا تھا،اسکی بات پر بمشکل اپنا غصہٰ دباپآیا تھا۔۔ ’’آپ یہی کہنے آئی تھیں یہاں؟‘‘ اسکی ماتھے پر شکنوں کا جال سا بنا تھا،ثمرہ نے ضبط سے سرخ پڑتی بھیگی آنکھیں اٹھا کر اسکی سپاٹ نظروں کو دیکھا۔ ’’جی۔۔۔کیونکہ شارق بھائی سے۔۔۔۔‘‘ٓاس نے ذرا آگے کو ہوکر مزید لفظوں کو ترتیب دیتے کچھ کہنا چاہا تھا۔۔ ’’بس کریں ثمرہ!پلیز۔۔۔۔میں ایسا نہیں چاہتا۔۔مگر آگر آپ یہاں پر صرف اپنے بھائی کی حمایت کرنے آئی ہیں تو ،آپ یہاں سے جا سکتی ہیں۔۔‘‘ثمرہ کے آندر کچھ چھن سے ٹوٹا تھا۔وہ اعتبار تھا یا مان،مگر ٹوٹ جانے کی کرچیوں نے اسے لہو لہان کر دیا تھا۔۔ ’’مصطفیٰ!‘‘اس ضد ی لڑکی نے ایک بار پھر اس کے زخموں کو تازہ کردیا تھا۔۔ ’’ثمرہ جائیں پلیز!‘‘وہ رُخ پلٹ گیا تھا۔۔ثمرہ اسے چاہ کر بھی نہیں بتا سکی تھی کہ وہ کتنی مجبور تھی وہ بھی اپنے ہی سگے رشتوں کے ہاتھوں۔۔۔ ’’مصطفیٰ میری بات سن لیں پلیز!شارق بھائی سے غلطی ہوگئی۔۔‘‘وہ حیرانگی سے اسکی جانب پلٹا۔۔ ’’ثمرہ آپ قتل کو غلطی کہتی ہیں؟‘‘لہجے میں بے یقینی سی بے یقینی تھی۔۔ ’’نہیں!میرا مطلب تھا۔۔۔‘‘ وہ یکدم گڑبڑائی۔ ’’بس ثمرہ۔۔۔یہ آپ تھیں جو اتنا بول گئیں اور میں نے برداشت کرلیا۔۔ مگر اب میرے ضبط کو نہ آزمائیں،اور بہتر ہے کہ آپ یہاں سے چلی جائیں۔۔۔‘‘وہ ایک بار پھر اسکی جانب سے رُخ پلٹ گیا تھا۔۔۔ثمرہ کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔۔جو شخص کبھی اسکی ایک جھلک کے لئے آفس میں گھنٹوں اسکا انتظار کیا کرتا تھا،آج وہ اُسکی صورت تک دیکھنے کا روادار نہیں تھا۔۔۔ ’’مصطفیٰ پلیز!خون
