Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 03
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 13/05/2026
12 Views
Episode no 03
بہا کے لئے مان جائیں۔۔آپ جو چاہیں گے بابا آپ کو وہ دینے کے لئے تیار ہیں۔۔مگر پلیز شارق بھائی کی غلطی کو معاف کردیں۔۔مجھے مزمل کے لئے بہت دکھ ہے۔۔۔مگر میں مجبور ہوں۔۔میں کچھ نہیں کرسکتی۔۔‘‘اس بار اسکی آواز آنسوؤں سے بھیگ سی گئی تھی۔۔۔مصطفیٰ کو ایک بار پھر اسکے باپ ،بھائی پر غصہٰ آیا تھا ،جو اپنا مطلب نکلوانے کے لئے اپنی بیٹی کو آگے کر گئے تھے۔۔۔۔اسے یقین نہیں آیا کہ کیا کوئی باپ اتنا بے غیرت بھی ہوسکتا تھا۔۔۔ ’’آخر آپ چاہتی کیا ہیں؟؟میں اپنے معصوم بھائی کا قتل معاف کردوں؟کیا آپ کو نہیں لگتا کہ آپ مجھ سے اس قسم کا تقاضہ کر کہ زیادتی کر رہی ہیں۔۔‘‘ وہ طیش میں اسکی جانب رُخ پلٹتا درشتگی سے بولا تھا۔۔ثمرہ خوف سے پیچھے سیٹ سے جالگی تھی۔۔۔وہ شخص تو غصہٰ کرنا ہی نہیں جانتا تھا تو اب۔۔۔۔اسے روتا سسکتا دیکھ وہ اپنا ماتھا مسلنے لگا۔۔ ’’ثمرہ جائیں پلیز!میں نہیں چاہتا کہ میں غصےٰ میں آپ سے مس بیہو کروں۔۔‘‘ اس نے ایک بار پھر خود پر ضبط کے کڑے پہرے بیٹھائے تھے۔۔ ’’ نہیں جاسکتی۔۔۔میں یہاں سے خالی ہاتھ لوٹ کر نہیں جاسکتی۔۔۔ مجھ پر میرے ہی گھر کے دروزے بند ہوچکے ہیں۔۔‘‘وہ بھی شدت سے روتی اپنی بے بسی بیان کرتی پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی تھی۔۔جبکہ اب وہ خاموشی سے اسے سسکتا دیکھ رہا تھا۔۔ رو رو کر آنکھیں سرخ ہوگئی تھیں۔۔تھوڑی کپکپانے لگی تھی۔۔جبکہ پورا سراپا ہی عجیب سے خوف کے حصار میں تھا۔۔۔ ’’مصطفیٰ پلیز!۔۔۔۔۔آپ۔۔۔جو کہیں گے۔۔۔میں آپ کی بات ماننے کو تیار ہوں۔آپ خون بہا کرلیں پلیز۔۔۔بابا آپ۔۔کو خون بہا میں سب کچھ دینے کو تیار ہیں۔۔آپ کچھ بھی مانگ لے لیں ،مگر میرے بھائی کو بخش دیں پلیز!‘‘اس بار وہ روتی ہوئی ہاتھ جوڑ گئی تھی۔مصطفیٰ نظریں پھیر گیا۔۔ ’’کچھ بھی ؟؟‘‘وہ کچھ سوچ کر پلٹتا سرسراتے لہجے میں سوالیہ بولا۔۔ ’’جی کچھ بھی ۔۔۔۔آپ کو جو چاہئے مجھے بتائیں۔۔میں بابا سے کہونگی ، وہ آپ کی ہر ڈیمانڈ پوری کرنے کے لئے تیار ہیں۔۔‘‘اس نے نیم راضی دیکھ تیزی سے آنکھیں خشک کی تھیں۔۔۔ ’’مجھے اپنی عزت واپس چاہیئے۔۔ مجھے اس بے عزتی کا بدلہ چاہئے جو پانچ سال قبل اس رشتے سے انکار کر کہ آپ کے بابا نے میری اور میرے خاندان کی تھی۔۔کیا آپ کے اونچی ناک والے بابا جان خون بہا میں مجھے میری عزت واپس لوٹائیں گے۔۔کیا وہ خون بہا میں مجھے اپنی بیٹی دیں گے؟؟ْ‘‘ مصطفیٰ کے کرب ذدہ لہجے میں کئے گئے تقاضے پر ثمرہ کا سانس ایک پل کے لئے تھم سا گیا تھا۔۔۔آنکھوں کی سیاہ پتلیاں حیرت کے باعث پھیل سی گئیں تھیں۔۔۔ ’’نہیں کر سکتے نا۔۔۔۔انہیں یہ گوارہ ہی نہیں کہ انکی بیٹی مصطفیٰ خاندان کی عزت بنتی۔۔۔بالکل اسی طرح اب مجھے گوارہ نہیں کہ میں آپ کے خاندان کو اپنے بھائی کا خون معاف کردوں۔۔۔آگر یہ قتل محض کسی غلط فہمی،یاواقعی سو کالڈ غلطی کے تحت ہوا ہوتا نا تو میں کبھی آپ کو اتنا مجبور نہیں کرتا۔۔۔مگر نہ تو میں اپنی ماں کی حالت بھول سکتا ہوں اور نہ ہی آپ کے بد دماغ بھائی کو معاف کر سکتا ہوں۔۔اور اتنا کم ظرف تو ہر گز نہیں ہوں کہ مردوں کے کئے کا بدلہ اس گھر کی عورت سے لوں۔۔تو بہتر یہی ہے کہ آپ یہاں سے تشریف لے جائیں۔۔۔‘‘ثمرہ کو اب آٹک آٹک کر سانس آرہا تھا۔۔جبھی اسکی گود میں رکھا موبائل تھرتھرایا تھا،اور اسکی اسکرین روشن ہوئی تھی،اسکی ایک غیر ارادی سی نگاہ پڑی تھی جہاں اسکی سوتیلی ماں کا پیغام جگمگا رہا تھا۔۔ ’’ثمرہ بی بی!آگر مصطفیٰ کو راضی کرنے میں کامیاب ہوجاؤ تو بھی یہاں واپس آنے کی قطعً کوئی ضرور نہیں ہے کیونکہ میں تمہارے جذباتی باپ کو پھر بھی اپنی تمام تر جائیداد تم دونوں منحوس بہن بھائیوں پر وارنے نہیں دونگی۔۔۔ تو بہتر یہی کہ کچھ بھی کرو،اپنی کوئی بھی ادا دکھاؤ مگر مصطفیٰ کو راضی کر کہ وہیں مرجاؤ۔۔‘‘ثمرہ کے پاؤں سے زمین اب نکلی تھی۔۔اسکی سوتیلی ماں حد سے زیادہ ڈائن تھی۔۔۔مصطفیٰ اسے نظریں جھکائے بیٹھا دیکھ ذرا پریشان ہوا۔۔ ’’آر یو اوکے؟؟‘‘ثمرہ نے بیدردری سے اپنی آنکھیں پونچھ کر اسکی جانب دیکھا تھا۔۔ ’’آپ خون بہا میں اپنی بے عزتی کا بدلہ لینا چاہتے ہیں؟‘‘مصطفیٰ نے ناسمجھی سے اسکی جانب دیکھا۔۔ ’’آپ چاہتے ہیں کہ خون بہا میں ،میں اپنا آپ آپ کے حوالے کردوں رائٹ؟‘‘اس بار مصطفیٰ کو اسکی ذہنی حالت پر شبہ ہوا تھا۔۔ ’’ جی نہیں!میں ایسا کچھ نہیں چاہتا۔۔قتل آپ کے بھائی نے کیا ہے تو سزا بھی اسے ہی ملے گی۔‘‘مصطفیٰ نے اسکی خوش فہمی دور کی تھی۔۔ ’’لیکن اب میں ایسا ہی چاہتی ہوں۔اور اب آپ اپنی بات سے پھر نہیں سکتے مسٹر احد مصطفیٰ!‘‘وہ سفاکیت سے بولیئ۔۔ ’’آپ کی ذہنی حالت درست نہیں ثمرہ!‘‘اسے اسکا لہجا عجیب لگا تھا۔۔۔ ’’میری ذہنی حالت بالکل درست ہے۔۔اور آپ نے کہا کہ آپ خون بہا میں اپنی بےعزتی کا بدلہ لینا چاہتے ہیں، خون بہا میں جبران علوی کی بیٹی کو لے کر،تو اب آپ اپنی بات پر قائم رہیں۔‘‘ مصطفیٰ نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر گہری سانس بھری۔۔۔ ’’ٹھیک ہے پھر ابھی چلیں میرے ساتھ، مسجد میں چل کر نکاح کرتے ہیں،مگر پھر میری ایک بات یاد رکھئے گا،آپ کا اپنے گھر والوں سے کوئی واسطہ نہیں رہے گا۔۔آپ ان سے کبھی نہیں ملیں گی۔۔‘وہ اسے ٹٹول رہا تھا،وہ جانتا تھا کہ وہ اس وقت یہ سب صرف جذبات میں بول رہی تھی۔ ’’مجھے منظور ہے۔۔‘‘ا س بار اسکی حیرت کی انتہا نہیں رہی تھی۔۔۔ثمرہ کیا کہتی کہ وہ تو یہاں ساری کشتیاں جلا کر آئی تھی،واپس لوٹنے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔۔۔۔ ’’ثمرہ آپ گھر جائیں پلیز!‘‘ اس بار اس نے رسانیت سے کام لیا تھا۔ ’’آپ اپنی بات سے پیچھے مت ہٹیں مصطفیٰ!کیونکہ میں یہاں سے کہیں بھی واپس نہیں جاؤنگی ،اور آگر آپ اپنی زبان سے مکرے تو میں ابھی کسی گاڑی کے سامنے آکر اپنی جان دے دونگی۔۔‘‘مصطفیٰ اس بار بوکھلایا تھا،اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ یہ کس طرح کی سچوئشن میں پھنس چکا تھا۔۔ ’’دماغ خراب ہوگیا ہے آپ کا؟‘‘اس نے ضبط سے آنکھیں میچ کر کھولیں ۔ ’’جی !اور اِس سے زیادہ ہوگا آگر اب آپ اپنی مرضی کے خون بہا کے لئے تیار نہیں ہوئے تو۔۔۔۔‘‘وہ انتہائی غصےٰ سے بولی۔۔ ’’ٓوکے فائن!آگر آپ یہی چاہتی ہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔۔مگر ایک بار یاد رکھئے کہ خون بہا میں آئی لڑکی کی معاشرے میں کوئی عزت نہیں ہوتی۔‘‘اس نے ایک بار پھر اسے احساس کرانا چاہا،مگر وہ چہرے پر سپاٹ تاثرات سجائے خاموش رہی۔۔۔ ’’چلیں!‘‘وہ اپنی گاڑی کی چابی اور کوٹ اسٹینڈ پر سے اپنا کوٹ اُٹھاتا آفس سے باہر نکل گیا تھا،جبکہ وہ بھاری دل کے ساتھ مرے مرے قدموں سےاسکے پیچھے گئی تھی۔۔ خون بہا میں اسنے اپنی عزت کا سودا کردیا تھا،یہ چیز اسکی سانسیں روکنے کے لئے کافی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈرائیونگ سیٹ پر براجمان مصطفیٰ کا سنجیدہ چہرہ ہر قسم کے تاثر سے عاری بالکل سپاٹ تھا۔وہ بہت سنجیدگی سے ڈرائیونگ کر رہا تھا ،جبکہ اسکے برابر میں فرنٹ سیٹ پر رُخ پھیر کر بیٹھی ثمرہ مسلسل سسک رہی تھی۔۔۔کچھ دِیر پہلے ہی اِن دونوں کا نکاح ہوا تھا۔۔۔۔گاڑی ایک جھٹکے سے رکی تھی ثمرہ چونک کرہوش میں آئی تھی۔۔ "ہم یہاں کیوں آئے ہیں ؟؟"اس نے حیرانگی سے اپنا گھر دیکھا تھا۔ "کیونکہ یہی آپ کی بےجا ضد کی سزا ہے۔۔آپ کیا چاہتی ہیں میں آپ کو اپنے گھر لے جاؤں ؟؟؟آپ نے
