Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 01
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 11/05/2026
12 Views
Episode no 01
ہوئی تھیں۔۔جبھی مزمل نے گاڑی سے باہر آتے سوال کیا۔۔ایک پاؤں ابھی بھی گاڑی میں ہی تھا۔۔ ’’ابھی بتاتا ہوں کیا مسٔلہ ہے میرے ساتھ۔۔۔‘‘اس نے یکدم ہی ڈیش بورڈ پر پڑی اپنی گن نکل کر اس پر تان لی تھی۔۔مزمل نے حیرت سے اسکی جانب دیکھا۔ ’’یہ کیا کر رہا ہے شارق ۔۔ اب آگر تو ریس ہار گیا تو ،اپنی خار اس طرح نکالے گا۔‘‘مزمل طیش سے چیخ تھا۔۔ ’’بہت غرور ہے ناں تیرے اندر۔۔۔بہت اُچھل رہا تھا تو شارق علوی کو ہارا کر۔۔۔تیزی یہ آکڑ تو آج میں نکالونگا۔۔‘‘اس نے ایک لمحے میں آؤ دیکھا تھا نہ تاؤ اور چار گولیاں مزمل کے سینے کے پار اُتار دی تھیں۔۔وہ یکدم ہی لہرا کر زمین بوس ہوا تھا۔۔۔رَات کی پُرسکون فضا میں اَرتعاش برپا کرتی گولیوں کی آواز نے اِرد گرد میں آباد سوسائیٹی میں ہلچل سی مچا دی تھی۔۔۔ جبکہ وہ اب حواس باختہ سا جلدی سے گاڑی میں بیٹھتا زن سے کار بھگا لے گیا تھا۔۔۔جبکہ آخری سانسیں بھرتے مزمل کی آنکھوں کے سامنے اپنی ماں کو رُوتا بلکتا چہرہ گھوم گیا تھا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’کہاں ہے میرا بھائی؟؟کیا ہوا اسے؟؟انسپکیٹر کچھ بولتے کیوں نہیں ہو۔۔۔‘‘احد مطلوبہ ہسپتال میں پہنچتے ہی وہاں موجود پولیس ڈیپارٹمنٹ کے لوگوں پر چلایا تھا۔۔۔جبکہ زنیرہ بیگم اس تک بے ہوش دوسرے روم میں تھیں۔۔۔ ’’احد صاحب۔۔۔‘‘ایس ایچ او نے آگے بڑھ کر اسے تسلی دینی چاہی۔۔۔ ’’میرا بھائی؟؟؟میرا بھائی کیسا ہے۔۔۔کہاں ہے وہ۔۔۔‘‘ اس کی دھاڑ سے ہسپتال کے درو دیوار تک ہل گئے تھے۔۔ ’’احد صاحب!ریلیکس!‘‘اس نےا سے ٹھنڈا کرنا چاہا تھا۔۔ ’’کیسے ریلیکس کروں۔۔۔تم مجھے میرے بھائی کے بارے میں بتا کیوں نہیں رہے۔۔۔‘‘جبھی آئی سی یو سے ڈاکٹرز باہر آئے تھے۔۔ ’’ائی ایم رئیلی سوری مسٹر احد! گولیاں دل کے بے حد نزدیک لگی تھیں۔۔ہم نے ہر ممکن کوشش کی تھی انہیں بچانے کی ۔۔مگر جو اللہ کی مرضی!‘‘ڈاکٹر کے اس قدر سخت لفظوں پر احد کو لگا وہ دوسرا سانس نہیں لے سکے گا۔۔وہ چھے فٹ کا لمبا چوڑا مرد ایک دم لڑکھڑا کر دو قدم پیچھے ہوا تھا۔۔۔ ’’احد صاحب سنبھالیں خود کو۔۔۔‘‘ایس ایچ او نےا سے پکڑ کر کرسی پر بیٹھایا تھا،جو پتھر کا ہو گیاتھا۔اسکا لاڈلا چھوٹا بھائی یوں اسے تنہا کر گیا تھا،وہ چاہ کر یقین نہیں کر پارہا تھا۔۔ گویا سوچنے سمجھنے کی تمام صلاحیتیں مفلوج ہوکر رہ گئیں تھیں۔۔۔ ’’میرا بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماں۔۔۔‘‘لبوں نے بے آواز سر گوشی کی تھی۔۔آنکھ سے کتنے ہی آنسو ٹوٹ کر گالوں پر پھسلے تھے۔۔او ر پھر وہ دیوانہ وار آئی سی یوکی جانب بھاگا تھا جہاں اس کا معصوم بھائی ایک پل میں اُسے چھوڑ کر چلا گیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’بابا مجھے ابھی اور اسی وقت دبئی جانا ہے۔۔پلیز کسی سے بھی کہہ کر میری اگلے ایک گھنٹے کی دبئی کی سیٹ بک کرائیں۔۔‘‘ وہ حواس باختہ سا گھر میں داخل ہوتا سیدھا باپ کے کمرے میں آیا تھا۔۔ ’’’ہوا کیا ہے؟؟کچھ بتاؤ گے ؟‘‘وہ سوالیہ گویا ہوئے۔۔۔جس کا چہرہ پسینے سے شرابور تھا۔۔ ’’بابا۔۔۔مجھ سے۔۔۔مجھ سے قتل ہوگیا ہے۔۔‘‘بمشکل لبوں سے لفظ آزاد ہوئے تھے۔۔۔ ’’کیا؟؟کیا بکواس کر رہے ہو ڈیم اٹ!‘‘وہ باآواز بلند دھاڑے۔۔ ’’بابا پلیز!میری دبئی کی سیٹ کنفرم کرائیں فوراً ،ورنہ پولیس مجھے لے جائے گی۔۔۔‘‘وہ اپنا غصہٰ تو اُتار آیا تھا۔۔۔مگر اب خوف سے جان ہوا ہو رہی تھی۔۔ ’’یہ کیا کر آئے ہو بیو قوف لڑکے۔۔۔کہا بھی ہے کہ اپنے غصےٰ پر قابوں رکھا کرو۔۔‘‘وہ شدت سے چنگھاڑے تھے۔۔ ’’ائی ایم رئیلی سوری بابا!مجھ سے غلطی ہوگئی۔۔‘‘وہ لب دانتوں تلے دبا گیا۔۔ ’’ایسے کیسے غلطی ہوگئی تم سے ہاں۔۔قتل بھی غلطی سے ہوتا ہے۔۔‘‘انہیں سمجھ نہیں آیا وگرنہ وہ اپنے بیٹے کا کچھ کر ڈالتے۔۔ ’’بابا۔۔۔پلیز میرے پاس وقت برباد کرنے کا ٹائم نہیں ہے۔آپ جلد از جلد مجھے یہاں نکلوائیں۔۔۔۔اپنے کسی دوست کو کال ملائیں۔۔مجھے پاکستان سے نکلنا ہے ابھی اور اسی وقت۔۔۔‘‘وہ بھاگتے قدموں سے اپنے کمرے کی جانب بھاگا تھا،،تاکہ اپنا پاسپورٹ وغیرہ نکال سکے۔ ’’یا میرے اللہ!یہ کیسی اولاد دے دی تو نے مجھے۔۔‘‘وہ اپنا سر تھام گئے تھے۔۔اور جلدی سے اپنے اثرو سوخ والے دوستوں کا نمبر لگایا تھا۔۔۔
