Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 01
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 11/05/2026
12 Views
Episode no 01
قصویٰ جبران صاحب اور فرناز کی سب سے چھوٹی اور اكلوتی بیٹی تھی۔۔۔جو ثمرہ اور شارق سے عمر میں کافی چھوٹی تھی۔۔۔شارق کے لئے تو اسکی دونوں بہنیں ہی برابر تھیں مگر باپ کے لئے بڑی کے لئے دل میں ہمیشہ سے تنگ جگہ پانچ سال قبل ہوئے واقعہ کے بعد سے مزید تنگ ہوگئی تھی۔۔۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب ثمر ہ نے اپنی پسند کا اظہار کیا تھا۔۔۔یونیورسٹی کے زمانے میں وہ جس کمپنی کے ساتھ انٹرن شپ کر رہی تھی،وہاں کے سی ای او نے اسے پرپوز کیا تھا اور پھر باقاعدہ طور پر اسکا رشتہ لے کر آیا تھا۔۔مگر پھر معلوم ہوا کہ وہ اسکی سوتیلی ماں کے کوئی دور کے جاننے والے تھے،جن کے خاندان سے ان کا ماضی میں کبھی جائیداد کا تنازعہ رہا تھا۔۔۔پھر یہ کیسے ممکن تھا کہ اسکی سوکالڈ ماں اسے اسکی مرضی چلانے دیتیں۔۔وہ تو ویسے بھی اس سے بلاوجہ کی کھار کھاتی تھیں۔۔جبکہ شارق پر وہ ہمیشہ واری قربان رہتی تھیں۔۔یہی وجہ تھی کہ گھر میں سب کو ثمرہ ہی غلط لگتی تھی۔۔۔جبکہ اب وہ سب کی برداشت کرتے کرتے اب ذر ا باغی ہوگئی تھی۔۔۔۔ ***** مصطفیٰ پیلس میں اس وقت افرا تفری کا عالم تھا۔۔۔آج مصطفیٰ پورے پانچ سال بعد پاکستان واپس لوٹ رہا تھا۔۔وہ گزشتہ پانچ سال کے عرصے میں ان سے دو بار ملنے دبئی تک ضرور آیا تھا مگر پاکستان وہ آج لوٹ رہا تھا۔۔۔زنیرہ بیگم تو بیٹے کی واپسی پر خوشی سے پھولے ہی نہیں سما رہی تھی۔۔گھر میں سب کی دوڑے لگی ہوئی تھیں۔۔۔۔۔ ’’نیرہ بیگم اور وجدان مصطفیٰ کے دوہی بیٹے تھے۔۔بڑا بیٹا احدمصطفیٰ اور چھوٹا بیٹامزمل وجدان مصظفیٰ۔۔دس سال قبل شوہرکے گزر جانے کے بعدانکی کل کائنات انکے دونوں بیٹے ہی تھے. جن میں انکی جان بستی تھی۔۔۔۔بڑا بیٹا پانچ سال قبل آسٹریلیا جا بسا تھا۔۔جبکہ چھوٹا تھا جو یونیورسٹی ختم ہونے کے بعد ماں کے پاس ہی تھا۔۔۔آج سالوں بعد انکا بیٹا اپنا بزنس وائینڈاپ کرتا واپس آرہا تھا۔۔بھلا اس سے زیادہ اچھی اور کیا بات ہوسکتی تھی۔۔۔ ****** ’’ماما یہ ثمرہ کہاں غائب ہے۔۔۔۔میں جب سے آئی ہوں ایک بار بھی مجھ سے ملنے نہیں آئی؟‘‘قصویٰ نے بہن کی غیر موجودگی محسوس کر پوچھا۔۔وہ سب اس وقت کھانے کی میز پر موجود تھے۔۔۔ ’’اپنے روم میں ہے۔۔۔پتہ تو ہے تمہیں،اس کا ہر وقت کسی نہ کسی بات پر منہ ہی بنا رہتا ہے۔۔‘‘انہونے ذرا ناگواری سے کہا۔۔ ’’شائستہ۔۔۔شائستہ!‘‘اس نے ملازمہ کو آواز دی۔۔جبکہ جبران لاتعلقی کا مظاہرہ کرتے کھانے میں مگن تھے۔۔شارق آج بھی ابھی تک گھر نہیں لوٹا تھا۔۔ ’’جی بی بی!‘‘وہ بوتل کے جن کی مانند غائب ہوئی تھی۔۔ ’’ثمرہ بی بی کو بلا کر لاؤ۔۔‘‘وہ آپی بولنے کا تکلف ہر گز نہیں کرتی تھی۔ ’’وہ بی بی۔۔۔بڑی بی بی نے کہا ہے انکے سر میں درد ہے اس لئے انہیں کوئی ڈسٹرب نہ کرے۔‘‘ملازمہ نے سر جھکا کر اسکا پیغام دیا۔۔ ’’اہمم!اچھا جاؤ تم۔۔‘‘اس نے اسے چلتا کیا۔۔جو سر ہلاتی مودب سی کچھ قدم دور ہاتھ باندھ کر کھڑی ہوگئی تھی۔۔۔ ’’بابا آج کچھ ہوا تھا کیا گھر میں؟‘‘اس نے ماں کے بجائے باپ کو مخاطب کیا۔ ’’کچھ نہیں ہوا قصویٰ تم اپنا کھانا کھاؤ بیٹا۔۔‘‘ فرناز نے بیٹی کو باز رکھا۔۔ ’’مگر مما!‘‘ اس نے باپ کو خاموشی سے رغبت سے کھانا کھاتا دیکھ کچھ ناسمجھی سے کہنا چاہا۔۔ ’’بس بچے خاموش ہوجاؤ۔۔۔‘‘اس بار وہ سر جھٹکتی خاموش ہوگئی،جبکہ کھانا بہت خاموشی سے کھایا گیا تھا۔۔۔ ****** ’’یار بس میں اب نکلوں گا۔۔۔آج بھائی واپس آرہے ہیں۔۔انکے لوٹنے سے قبل مجھے گھر پہنچنا ہے۔۔‘‘مزمل جو شام سے ٹریک پر ہی موجود تھا،اب گھڑی میں رات کے آٹھ بجتے دیکھ بولا۔۔ ’’چل ٹھیک ہے۔۔ویسے میں سوچ رہا تھا کہ شارق کی گاڑی پر ایک چکر لیا جائے۔۔۔بہت مزہ آئیگا یار!‘‘ا س کے دوستوں نے اکسایا۔۔ ’’ہاہاہاہا!ضرور کیوں نہیں۔۔مگر آج نہیں ۔۔پھر کبھی۔۔۔ابھئ بس میں گھر کے لئے نکل رہا ہوں۔۔ویسے بھی اب گاڑی تو ہماری ہی ہے۔۔‘‘اس نے نرم لہجے میں کہا تھا۔۔۔ ’’اچھا چل ٹھیک ہے۔۔پھر تو نکل ہم بھی چلتے ہیں۔۔‘‘وہ زن سے گاڑی بھگا لے گیا تھا۔۔۔ ***** چھٹ فٹ قد ،کسرتی وجود ،تواناسینہ، گہری ذہین آنکھیں ،اٹھی مغرور ناک ،سنجیدہ وجیہہ جاذب نظر چہرہ ،پولو کے ٹراوزر ٹی شرٹ میں ملبوس وہ ڈرائیور کی ہمراہی میں سیدھا ایئرپورٹ سے مصطفیٰ پیلس پہنچا تھا۔۔۔جہاں سناٹے میں ڈوبے گھر میں زنیرہ بیگم کی نم آنکھوں نے اسکا استقبال کیا تھا۔۔۔۔ ’’میرا بچہ!اتنے سالوں میں تمہیں ماں کی ذرا بھی یاد نہیں آئی۔۔۔ایک بار بھی نہیں سوچا کہ تمہاری بیوہ ماں تمہاری کمی کس حد تک محسوس کرتی ہے۔۔‘‘ وہ کتنی ہی دیر سے مصطفیٰ کو سینے سے لگائے بیٹھی تھیں۔۔جو ماں کا ماتھا چومتا بارہا انہیں خاموش کرا چکا تھا۔۔مگر آنسو تھے کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔۔ ’’اب تو میں واپس آگیا ہوں ناں ممی!پلیز خاموش ہوجائیں۔۔۔‘‘وہ انہیں چپ کراتا صوفے پر بیٹھا تھا۔۔ ’’ایسی بھی کوئی سزا سناتا ہے اپنی ماں کو۔۔‘‘انہونے دوپٹے سے آنسو پونچھتے ایک بار پھر شکوہ کیا تھا۔۔ ’’اچھا بس اب پلیز معاف کردیں۔۔‘‘اس کے ہاتھ تھام کر لبوں سے لگا گئیں تھیں۔۔ ’’ویسے یہ آپ کا لاڈلا کہاں ہے۔۔۔اتنی رات ہورہی ہے،ابھی بھی گھر سے باہر ہے۔۔میری واپسی کا سن کر بھی جلدی گھر آنے کی زحمت نہیں کی لاڈلے نے؟‘‘اس نے ذرا خفگی سے استفسار کیا۔۔ ’’تمہارے بھائی کو کار ریسنگ کا شوق چڑھا ہوا ہے کچھ سالوں سے۔۔بس اس چکر مین رات کو دیر تک باہر رہتا ہے۔۔میں تو سمجھا سمجھا کر تھک چکی ہوں۔۔۔اب تم واپس آگئے ہو ناں۔۔۔اب تم خود ہی سنبھالنا سب ۔۔‘‘ انہونے ذرا تاسفی آنداز میں کہا تو وہ لب بھینچ گیا۔۔۔ ’’آپ فکر نہ کریں۔۔اب میں واپس آگیا ہوں ناں۔۔سب سنبھال لونگا۔۔‘‘وہ بیٹے کی تسلی پر دھیرے سے مسکرائیں۔۔ ’’میڈم آپ کے لئے فون ہے۔‘‘وہ دونوں ماں بیٹا ابھی باتوں میں ہی مگن تھے کہ ملازمہ زنیرہ بیگم کا موبائل اٹھائے قریب چلی آئی تھی۔۔ ’’لاؤ مجھے دو۔۔‘‘انہونے موبائل لے کر کان سے لگایا تھا۔۔ ’’ہیلو!‘‘ ’’جی میں مزمل کی والدہ بات کر رہی ہوں!‘‘ ‘‘ ’’جی میں مزمل کی والدہ بات کر رہی ہوں؟‘‘مصطفیٰ نے ناسمجھی سے ماں کی جانب دیکھا۔۔جن نے چہرے پر ہوائیاں اڑی ہوئیں تھیں۔۔ ’’ماں!کیا ہوا؟‘‘اس نے ماں کو سکت میں دیکھ موبائل لے کر کان سے لگایا تھا۔۔جبکہ دوسری جانب سے جو خبر سنائی گئی تھی۔۔وہ اسکے پاؤں تلے زمین کھینچ گئی تھی۔۔۔۔جبکہ زنیرہ بیگم لہرا کر اسکے بازؤں میں جھول سی گئیں تھیں۔۔۔۔ ’’ماما!!مما!کیا ہوگیا آپ کو۔۔۔۔۔شفیق۔۔۔شفیق جلدی سے گاڑی نکالو۔۔‘‘دوسری جانب سے ملنے والی خبر نے اسکے حواس تک جھنجھوڑ کر رکھ دئیے تھے۔۔۔مگر فی الحال ماں کی غیر ہوتی حالت نے اسکے ہاتھ پاؤں پھولا دئیے تھے۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مزمل اس وقت تیز رفتاری سے گانے گنگناتافل مستی میں جھومتا ہوا اپنے گھر کے راستے کی جانب گامزن تھا۔جبھی اُسے محسوس ہوا کہ کوئی گاڑی اس کے تعاقب میں آرہی تھی۔۔سائیڈ مرر سے غور کیا تو اسے آندازہ ہوا یہ شارق کی گاڑی تھی۔۔جو بہت اسپیڈ میں اسکی جانب آرہی تھی۔۔وہ فوری الرٹ ہوا۔۔۔اور گاڑی کی اسپیڈ بڑھا دی تھی۔۔۔جبکہ وہ بھی اسپیڈ بڑھا چکا تھا۔۔سن سان سڑکوں پر ان دونوں کی گاڑیاں ہوا کی سی رفتار سے دوڑ رہی تھیں۔۔۔ ’’اب اُسے کون سا دورہ پڑ گیا ہے۔۔‘‘وہ گاڑی بھگاتا سن سان گلیوں میں گھس گیا تھا۔۔۔ساتھ ہی گاڑی گول گول گھماتے سڑک کنارے لگائی تھی۔۔ ’’کیا مسٔلہ ہے بھئی تیرے ساتھ!میرا پیچھا کیوں کر رہا ہے۔۔‘‘ان دونوں کی ہی گاڑیاں آنے سامنے لگی
