Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 01
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 11/05/2026
12 Views
Episode no 01
ہارا جنون از_ہما_قریشی قسط_نمبر_۱ ’’آجا ہمارےیار!مجھے پتہ تھا یہ ریس تو ہی جیتے گا۔۔۔‘‘وہ اِس وقت ریس ٹریک پر موجود تھے۔۔جبکہ مزمل مسکراتا ہوا،ریس لگا کر لوٹا تھا۔۔۔جبھی اُسکے دوست نے گلے میں بانہیں ڈال کر پرجوش لہجے میں سراہاتھا۔۔ ’’ہاہاہاہا!شارق کی شکل دیکھ یار!‘‘اِس نے دور کھڑے شارق کی جانب اشارہ کیا تھا جو ریس ہارنے کے بعد غصےٰ سے پاگل ہو رہا تھا۔۔۔کیونکہ وہ صرف ریس نہیں ہارا تھا بلکہ اپنی فیورٹ کار بھی ہار گیا تھا۔۔۔۔۔۔ ’’ابے چھوڑ!تو یہ بتا کہ اب ہمیں ٹریٹ کیا دے رہا ہے۔۔‘‘عاطف نے مزید کہا۔ ’’تو بتا کہاں چلیں۔۔آج جو تو بولے گا بس ہم وہیں کریں گے۔مزمل اپنی ہی خوشی سلیبریٹ کرنے میں لگا تھا۔۔جبھی کسی نے اُسے گریبان سے پکڑ کر اسکا رُخ اپنی جانب کیا تھا۔۔۔ ’’یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔۔‘‘شارق نے مزمل کا گریبان پکڑ کر اس قدر شدت سے مکا بنا کر چہرے پر جڑا تھاکہ اس کے چودہ طبق رُوشن ہوگئے تھے۔۔ ’’تو کیا سمجھتا ہے کہ میں یہ ریس ہار کر اپنی فیورٹ گاڑی تجھے دے دونگا؟‘‘اس نے شدّت سے سُرخ پڑتی آنکھوں سے گھور کر دیکھا تھا۔۔جبکہ مزمل کے دوست ایکدم بیچ میں آئے تھے۔۔ ’’شارق اب تو بے ایمانی نہیں کر سکتا۔۔یہ وعدہ تھا کہ یہ ریس جیتنے کے بعد اپنی گاڑی فاتح کو دینی پڑے گی۔‘‘منتظمِ ریس بیچ میں آیا تھا۔۔ ’’تو چپ کرجا۔۔۔بہت خوش ہورہا ہے یہ ۔۔۔۔ابے میں کہتا ہوں۔۔۔آ ایک ریس اور لگاتے ہیں۔۔پھر دیکھتے ہیں کون جیتتا ہے۔۔۔‘‘اس نے للکارنے والے آنداز میں کہا تھا۔۔ ’’ابے جا بزدل انسان۔۔۔۔ہار کر بلبلا رہا ہے۔۔اتنا ہی مرد کا بچہ ہے تو اپنی ہار تسلیم کر۔۔۔۔ایک گاڑی کے لئے مر رہا ہے۔۔‘‘مزمل نے استہزائیہ آنداز میں قہقہہ لگایا تھا جبکہ اب باقی سب بھی زور سے ہنسے تھے۔۔۔ ’’چپ!ورنہ جان سے مار دونگا۔۔۔‘‘وہ ایکدم چنگھاڑا ۔ ’’شارق دیکھ ہلکا ہوجا۔۔۔میں تیری کار کی چابی مزمل کے حوالے کر رہا ہوں کہ جیتنے کے بعد اب یہ اس کی ملکیت ہے۔‘‘مینجمنٹ کے بندے کی آواز پر وہ خون کے گھونٹ بھر کر رہ گیا تھا۔۔؎ ’’ہاہاہاہاہا!حامد بھائی لگتا ہے آپ کے شیر سے ہار ہضم نہیں ہورہی۔۔‘‘مزمل کی آواز پر ایک بار پھر سب کا قہقہہ بلند ہوا تھا۔جبکہ وہ دو قدم نزدیک آیا۔۔ ’’جتنا مسکرانا ہے مسکرا لے کیونکہ اب تیرے رُونے کے دن شروع ہونے جا رہے ہیں۔۔‘‘وہ درشتگی سے چنگھاڑا۔۔ ’’ابے جا!کمینے انسان۔۔‘‘اس نے سینے پر دونوں ہاتھ رکھ کر پَرے دھکیلا تھا۔۔ساتھ ہی چابی انگلی پر گھماتا اسکی فیورٹ کار کی ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتا زن سے گاڑی بھگا لے گیا تھا۔۔۔ ******* ہم بنے ہی تھے تباہ ہونے کے لئے۔۔ تیرا ملنا تو محض ایک بہانہ تھا (جون ایلیا) ڈھلتا سورج اپنی کرنیں سمیٹ رہا تھا،وہ رُوم ونڈو کے پاس فلور کشن سے ٹیک لگائے بیٹھی،گہری سُوچوں میں غوطہ زن ہاتھ میں کتاب تھامے ،یک ٹک ڈوبتے سَورج کو تک رہی تھی۔جبھی سماعتوں سے کسی کی آواز ٹکرائی تھی۔۔جس نے سُوچوں میں خلل ڈالنے کا کام کیا تھا۔۔ ’’ثمرہ بی بی!‘‘وہ یکدم چونکی تھی۔۔پھر گہری سیاہ آنکھیں موند کر خود کو تسلی کرائی۔۔ ’’جی!‘‘وہ دھیمی سی آواز میں سوالیہ گویا ہوئی۔۔۔رُخ پلٹ کر تِرچھی نگاہ سے سامنے کھڑی شکورن بی کو دیکھا تھا۔۔ ’’سر نے آپ کو نیچے بلایا ہے۔۔‘‘اس نے گہری سانس بھری۔ ’’آپ چلیں میں آتی ہوں۔۔‘‘وہ جواب دیتی دُوپٹہ درست کرتی فوراً سے بیشتر اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔۔اور اب اسکا رُخ نیچے کی جانب تھا،جہاں اسکا باپ اسکا منتظر تھا۔۔۔۔۔ ****** کتابی چہرہ،گندمی رنگت،بڑی بڑی گہری سیاہ آنکھیں،مغرور ناک،کمان کی طرح بنے اَبرو، بھرے بھرے سےرُخسار،اور ساری شام کی اُداسی سمیٹی آنکھوں پر سجدہ ریز گھنی پلکیں ،شولڈر کٹ سلکی بالوں کی چہرے پر آتی لٹوں کو ہاتھ کی مدد سے پیچھے کرتی وہ دھیرے دھیرے قدم اُٹھاتی نیچے کی سمت قدم بڑھارہی تھی۔۔۔۔ ’’جی بابا آپ نے مجھے بلایا!‘‘ اس نے دھیمے سے لہجے میں سوالیہ آنداز میں پوچھا تھا۔۔وہ جو لاؤنج میں موجود گلاس ونڈو سے باہر کے مناظر پر نظریں جمائے کھڑے سگار پھونک رہے تھے،بیٹی کی دھیمی سی آواز پر چونک گئے تھے۔۔۔جبکہ بیگم نے ذرا نخوت سے اسکی جانب دیکھا تھا۔۔۔ ’’ہمم!‘‘اس کی جانب رُخ پلٹتے انہونے ہنکار بھرا۔۔۔اسکی شکل دیکھتے ہی انہیں اپنی بے وفا بیوی کی یاد ستانے لگتی تھی۔۔جو مشکل وقت میں دو بچوں سمیت انہیں تنہا کر گئیں تھیں۔۔۔وہ بالکل اپنی ماں کا عکس تھی۔۔۔ ’’آپ نے اپنی مام سے بدتمیزی کی تھی؟؟‘‘اس بار وہ سختی سے بولے،تو ثمرہ کے لَبوں پر قفل پڑا تھا۔۔ ’’بس رہنے بھی دیں جبران!میں نے کہا بھی تھا بچی ہے۔۔۔اس میں اتنا سین کریئٹ کرنے والی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔‘‘اپنی عمر سے کم نظر آنے والی فرناز نے ان کے نزدیک آکر نزاکت سے کہا تھا۔۔ ’’پہلے تو آپ نے ڈیڈ سے میری شکایت لگا دی۔۔۔اب کیوں اچھی بننے کا ڈٖرامہ کر رہی ہیں۔۔‘‘وہ بغیر لحاظ کئے غصّے سے پھنکاری تھی۔۔۔۔۔۔۔ ’’ثمرہ!یہ کس آنداز میں بات کر رہی ہو تم اپنی ماں سے۔۔‘‘ وہ درشتگی سے چنگھاڑے۔۔ ’’بس جبران کیا ہوگیا ہے جوان بیٹی ہے۔۔۔‘‘ان کے کندھے پر ہاتھ دھرتے انہونے نزاکت سے کہا تھا۔۔ ’’اس کو بیٹی ہونے کا لحاظ ہے۔۔جب سے ہم نے اس لڑکے کے رشتے سے انکار کیا ہے،یہ تو بالکل ہی باغی ہوکر رہ گئ ہے۔۔‘‘انہونے باپ ہوکر اسکے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کیا تھا۔۔پلکیں جھپک کر بمشکل آنسو ضبط کئے تھے۔۔ ’’صحیح کہہ رہے ہیں اتنی پیاری بچی تھی ہماری،پتہ نہیں کیا جادو کیا تھا اس بدبخت نے اس پر۔۔۔‘‘انہونے ذرا افسوس بھرے لہجے میں کہا تھا۔۔۔وہ خاموشی سے سفید چمچماتے ٹائلز کو گھورتی لب دانتوں تلے دبا گئی۔۔ ’’باپ کی عزت تو پہلے ہی خاک میں ملا دی۔۔اب پتہ نہیں کیا چاہتی ہے۔۔ہر وقت گھر میں مظلومیت کی تصویر بنی گھومتی ہے جیسے پتہ نہیں کونسا ظلم کا پہاڑ ے توڑ دیا ہو ہم نے اس پر۔۔۔‘‘اس بار وہ لہجے میں شدید ناگواری سمو کر بولے تھے۔۔۔جبکہ وہ اب بھی خاموش رہی۔۔ ’’اب جاؤ کھڑی کھڑی شکل کیا تک رہی ہو۔۔۔۔باپ کا بلڈ پریشر ہائی کرا کر ہی سکون ملتا ہے تمہیں۔۔۔بالکل اپنی ماں پر گئی ہے۔۔۔‘‘فرناز نے ناگواری سے کہتے جبران کے سینے پر ہاتھ رکھتے ٹھنڈا کرنا چاہا۔۔۔جو باقاعدہ ہانپنے لگے تھے۔۔۔اس بار ثمرہ کی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر گالوں پر پھسل گیا تھا۔۔۔اور وہ رخ پلٹ کر بھاگتے قدموں سے سیڑھیاں چڑھنے لگی تھی،کہ جبھی ایک دلکش اور معصوم سی آواز اسکی سماعتوں سے ٹکرائی تھی۔۔۔۔۔ ’’سرپرائز!‘‘اس کی سوتیلی چھوٹی بہن قصویٰ تھی۔۔جو ماں ،باپ کی لاڈلی اور انتہا کی حسین صورت لڑکی تھی۔۔۔ ’’اوہ مائی ڈاٹر!واٹ آ پلیزنٹ سرپرائز!‘‘انہونے آگے بڑھ کر بیٹی کو سینے سے لگایا تھا۔۔۔جو آج پورے ایک ماہ بعد پاکستان ٹور سے واپس لوٹی تھی۔۔۔ ’’آپ کو میرا سرپرائز اچھا لگا۔۔۔‘‘وہ گلابی گڑیوں جیسی خوبصورت ،اور نازک تھی۔جھیل جیسی آنکھیں اشتیاق سے بڑی کئے وہ مزے سے سوال کر رہی تھی۔۔جبکہ وہ دونوں ہی اسے پیار کرنے میں مصروف تھے۔۔۔ثمرہ کو اپنا آپ بہت بے مول اور غیر ضروری لگا تھا۔۔ ’’بہت۔۔۔۔سرپرائز ہو اور وہ بھی ہماری بیٹی کا۔۔۔تو بھلا کسے نہ پسند آئے گا۔۔۔‘‘انہونے محبت سے اسکا ماتھا چوما تھا۔۔۔سیڑھیوں پر کھڑی یہ منظر دیکھتی ثمرہ کی آنکھیں دھندلا گئی تھیں۔جب وہ مزید اس منظر کی تاب نہ لاسکی تو بھاگتی ہوئی سیڑھیاں چڑھ گئی تھی۔۔۔۔۔ ****** علوی ہاؤس میں جبران صاحب اپنی تین اولادوں اور شریک ِ حیات کے ساتھ رہائش پذیر تھے۔۔۔شارق اور ثمرہ انکی پہلی بیوی سے تھے جو علیحدگی کے بعد کسی دوسرے ملک جابسی تھیں،جبکہ
