Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 50
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 18/10/2025
5 Views
Episode no 50
قسم کی ایکٹیوٹیز میں مبتلہ ہے۔تو ملک اور معاشرے ترقی کیسے کرے گا؟؟؟اب تو سوشل میڈیا پر باقاعدہ گروہ بن گئے ہیں، جو نوجوان نسل تو تباہ کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اب کیا لڑکے اور لڑکیاں ،آپ سوشل میڈیا پر کیسی پر آندھا اعتبار نہیں کر سکتے۔اپنی ذاتی تصویریں کسی بھی غیر ،یا فیس بک پر ملنے والے سو کالڈ دوست کسی اجنبی شخص کے ساتھ نہ شئیر کریں۔آپ نہیں جانتے کہ اس شخص کے دل میں کیا ہے۔۔۔میں آپ تمام ماؤں ،بہنوں ،بیٹیوں سے یہی کہونگی کہ ابھی بھی وقت ہے۔اپنے بچوں کو انٹرنیٹ کی دنیا کے دلدل میں گرنے سے بچا لیں ورنہ ہماری تباہی یقینی ہے۔۔۔شکریہ۔۔۔‘‘ وہ اپنی بات مکمل کرتیں،ڈائس پر سے ہٹ گئیں تھیں۔۔البتہ وہاں موجود خواتین کے ذہنوں میں ایک نئی فکر اُجاگر کر گئیں تھیں۔۔۔اور اس فکر کا نام تھا۔۔۔ اپنی قوم کا سرمایہ اپنی نوجوان نسل کو دماغی مفلوج ہونے سے بچا لیں۔۔ انہیں تعلیم فراہم کریں اور ٹیکنولجی کی دنیا سے انٹرڈیوس لازمی کریں مگر اس کے مثبت اور منفی نتائج سے ضرور آگاہ کریں۔۔شعور کی فراہمی انہیں اپنا اچھا بُرا سوچنے پر خود مجبور کردے گی۔۔آپ کا کام محض تربیت کرنا ہے۔۔ ہر لحاظ کی تربیت۔دینی ،دنیاوی اور اب ٹیکنلوجی کی دنیا کی بھی تربیت۔کیونکہ تربیت کے بغیر مثبت نتائج کی توقع بیکار ہے۔۔۔جس کی ہمیں اشد ضرورت ہے۔۔۔ حیات کی چھوٹی بہن سامنے کی نشستوں سے اُٹھ کر اُس کے نزدیک آئی تھی۔۔تو وہ گڑ بڑا کر اُٹھ گئی تھی۔اس کا دماغ تو ان لفظوں کے سحر مین کہیں جکڑ کر رہ گیا تھا۔۔اپنی غلطیوں کو مدِنظر رکھتے وہ ایک بات تو طے کر چکی تھی کہ جو غلطیاں اور کوتاہیاں اس کے ماں،باپ سے ہوئیں تھیں،وہ غلطیاں وہ اپنی اولاد کی تربیت میں نہیں کرے گی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احمر اَب مکمل تندرست تھا۔۔کیس ری اوپن ہونے کا اب کوئی ڈر نہیں تھا۔کیونکہ کیس لڑنے والا تو خود دنیا میں نہیں رہا تھا۔۔تو پاکستان واپس آنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آنے والی تھی۔۔۔۔ وہ پچھلے ایک ماہ سے پاکستان میں تھا۔۔ وہ کھلے عام مزے سے گھوم رہا تھا۔۔نہ اُجالا رہی تھی۔نہ شیر افگن۔۔اور سُننے میں آیا تھا کہ اس کی بیوی حیات بھی نجانے کہاں غائب تھی۔۔وہ ایک ماہ سے حیات کی تلاش میں تھا۔۔مگر وہ کہیں نہیں ملی۔۔ خیر وہ لعنت بھیجتا ایک بار پھر اپنی رنگینوں میں مصروف ہوگیا تھا۔جبھی اس پر چار روز قبل عقد کھلا تھا کہ عدالت میں اس کے خلاف کیس نہ صرف ری اُپن کیا گیا ہے،بلکہ اس بار ریپ وکٹم کوئی اور نہیں بلکہ اُجالا تھی۔۔۔ ساتھ ہی اس پر شیر افگن ہاشمی کے قتل کا کیس سیو کیا گیا ہے۔۔ ‘‘یہ خبر اس وقت ملک کے ہر نیوز چینل کی ہیڈ لائن بنی ہوئی تھی۔۔۔ ’’یہ کیا ہے!اب پھر پیشائیاں بھگتاؤں میں۔‘‘ وہ عاجز دکھائی د ے رہا تھا۔ ’’فکر نہیں کرو۔۔یہ اس کے لاڈلے دوست کا کام ہے۔جلد اس کیس کو نمٹا لیں گے۔‘‘صفدر صاحب بالکل چل موڈ میں تھے۔۔۔۔ ’’ مگر کیسے!وہ اُجالا کیس اتنا سیدھا نہیں ہے۔۔آگر میں پھنس گیا تو۔‘‘ وہ چڑ گیا تھا۔کیونکہ اس کی گرفتاری کے وارنٹس جاری تھے۔۔وہ پولیس سے چھُپتا پھر رہا تھا۔۔ملک سے باہر وہ جا نہیں سکتا تھا۔۔آخر کب تک چھپ کر بیٹھ سکتا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔
