Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 50
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 18/10/2025
5 Views
Episode no 50
بگاڑ کا ایک واحد حل تو سب سے پہلے تعلیم دینا ہے۔۔ہمارا معاشرہ اس وقت تک نہیں سُدھر سکتا جب تک تعلیم لگژریز میں نہیں بلکہ بیسک نیڈیز کے طور پر فراہم کی جائے۔تعلیم ہر سمجھ بوجھ والے انسان کا بنیادی حق ہے،جبکہ پاکستان میں تعلیم صرف ان لوگوں کا حق ہے جن کے اکاؤنٹس نوٹوں سے بھرے پڑے ہیں۔قصہٰ مختصریہ ہے کہ جو بس صاحبہ استطاعت ہوں۔۔ مڈل کلاس لوگ معمولی سے پرائیویٹ اسکولز میں اپنے بچوں کو کس مشکل سے پڑھاتے لکھاتے ہیں یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی ہر گز نہیں۔۔مگر کیا صرف یہی تعلیم کا میعار ہے؟؟نہیں۔کتابوں کے رٹائیں لگانا اور شعور کی کمی یہی ہے معاشرے میں بڑھتی کرپشن کی سب سے بڑی وجہ۔۔۔تعلیم سےمحرومی کی وجہ تو ہماری نااہل سرکار ہے۔۔ ’’خیر ہمارا اصل مدعا تعلیم کی فراہمی نہیں سوشل میڈیا کا غلط استعمال ہے۔۔آخر اِسے کس طرح قابو کیا جائے۔اب اتنے بگاڑ کے بعد بھی آگر ہم نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو عنقریب ہم اپنے بچوں کو دماغی مفلوج کر دیں گے۔ ‘‘سب نے متفقانہ انداز میں سرہلائے تھے۔ ’’سب سے پہلے تو ہماری ماؤں کو ذرا ساس بہو کہ لڑائی جھگڑوں اور کس کے گھر میں کیا ہورہا ہے جیسی کن سوئیاں لینے والے کاموں سے ذرا اجتناب برتنا ہوگا اور اپنا سارا فوکس اپنے بچے پر کرنا ہوگا۔۔‘‘وہ دھیرے سے مسکرائیں۔پوری کلاس بھی ساتھ مسکرائی تھی۔ ’’ آپ کی زمہ داری تین یا بیس سال کے بچے کو اسکول ٹیوشن ، مدرسہ،یونیورسٹی بھیج دینے سے ختم نہیں ہوتی۔بلکہ اسکول ،یونیورسٹی ،ٹیوشن صرف بچوں کی اچھی نشو نما کا ذر یعہ ہیں۔ اصل تربیت کی زمہ داری تو ماں پر عائد ہے۔۔جس میں غفلت بڑی تباہی ہے۔کیونکہ ایک انسان ایک معاشرہ بناتا ہے۔اور وہ معاشرہ ایک ماں تشکیل دیتی ہے۔‘‘ ’’ہمارے یہاں اب چھوٹے چھوٹے سے بچوں کے ہاتھوں میں موبائل ہے۔کیا یہ آپ کا لاڈ،پیار ،محبت ہے؟؟؟؟ نہیں یہ محبت نہیں بلکہ آپ اپنے بچے سے دشمنی کر رہے ہیں۔۔‘‘بچوں کو اٹھارہ سال کی عمر سے پہلے یا کم از کم میٹرک سے پہلے تو ہر گز بھی ان کا پرسنل سیل فون نہ دیں۔ ہاں بچوں کو باز رکھنا تھوڑا مشکل ہے۔۔آپ انہیں اپنا سیل فون دیجیے۔۔اور آگر انہیں موبائل دے بھی رکھا ہے تو اُن پر چیک رکھیں۔۔ ان کا اسکرین ٹائم محدود کریں۔ان پر چیل کی سی نگاہ رکھیں کہ آخر وہ کر کیا رہیں۔انہیں اس گیجٹ کے صحیح اور غلط دونوں کے فائدے اور نقصان بتائیے۔انہیں بتائے کہ یہ گیجٹ آپ کو تباہ کرنے کے لئے نہیں بلکہ آپ کی زندگی آسان کرنے کے لئے بنایا گیا ہے۔۔ ماں ،باپ اور اولاد کے درمیان کوئی پرائیوسی نہیں ہوتی۔۔ دوسری بات انہیں اعتماد دیں۔۔ اپنے بچوں پر کڑی نگاہ رکھیں،ان پر کبھی آندھا اعتماد نہ کریں ، مگر کبھی ان پر یہ ظاہر نہ کریں کہ آپ ان کی ذات کو لے کر مشکوک ہیں۔۔انہیں ہمیشہ مان دیں،محبت دیں۔۔انہیں یہ احساس دلائیں ،کہ آپ ان پر اندھا اعتماد کرتے ہیں ۔۔آپ کا دیا جو یہ اعتبار ہے یہ ان کے ڈگمگاتے قدموں کو کبھی جگہ سے اُکھڑ نے نہیں دے گا۔۔۔بلکہ اِن کے دل میں آپ کا خوف نہیں بلکہ محبت ،مان ہوگی جو کبھی غلط راہ پر جانے نہیں دے گی۔۔۔ اولاد کو آگر ہیڈل کرنا ہے تو نرمی سے پیار سے۔۔سختی برتنے سے اولاد ہو یا کوئی بھی رشتہ،خوفزدہ ہوجاتا ہے۔۔اور جہاں خوف ہو وہاں بغاوت ضرور ہوتی ہے۔۔ اولاد کو باغی نہیں کرنا بلکہ اپنا کرنا ہے۔۔اور اولاد اپنی جبھی ہوتی ہے ،جب آپ انہیں اپنی زندگی کے قیمتی لمحات میں سے وقت دیں گے۔اعتماد،مان،بھروسہ،پیار،آپ کی آج کی یہ انوسیٹمنٹ،مستقل میں سودد سمیت آپ کے پاس اچھی طرز میں لوٹ کر ضرور آئے گی۔اور آگر اولاد کو پیار نہیں دیں گے،اِن پر بھروسہ نہیں کریں گے۔انہیں اپنا ساتھ،مان نہیں بخشیں گے ،جبروسختی کریں گے تو آپ اِنہیں کھو دیں گے۔۔دنیا کی سب سے پیاری زبان پیار کی زبان ہے۔۔جوجانوار کوبھی اپنا بنا دیتی ہے پھر یہ تو آپ کی پیدا کی ہوئی اولاد ہیں۔۔ناخن گوشت سے جُدا نہیں۔۔۔ ہمارے یہاں اکثر اوقات ماں ،باپ اولاد کی خواہشات پوری کرنے کے حصول میں سب کچھ کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔۔مگر ہر بنیادی ضرورت اور چیز کی ایک عمر ہوتی ہے،عمر سے پہلے چیز کی فراوانی بگاڑ کا باعث ہے۔۔مثال کے طور پر کیا آپ لوگوں کے ماما ،بابا نے عمر سے پہلے دو ڈھائی سال کی عمر میں آپ کی شادی کی تھی؟‘‘ کلاس میں یکدم ہلکا ساقہقہہ بلند ہوا تھا۔۔۔ ’’نہیں کی ناں!کیونکہ وہ آپ کی عمر کی ضرورت نہیں تھی۔تو اسی طرح تما م تر ضروریات بھی اک عمر میں اچھی لگتی ہیں۔۔گاڑی چلانے کے لئے اٹھارہ سال کی عمر تو موبائل کے لئے دو سال کیوں مختص ہوگئی ہے۔یہاں بےبی دنیا میں آتا ہے اور دوسرے سال اس کا ٹیبلٹ آجاتا ہے۔جو غلط ہے۔‘‘وہ بولنے کے ساتھ دھیرے سے مسکرائی بھی تھیں۔۔کیونکہ کلاس میں موجود تمام خواتین نے چورنظروں سے ایک دوسرے کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ ’’اب سوال یہ اُٹھتا ہے کہ اتنی لمبی تقریر کی آخر وجہ کیا ہے؟؟؟ "جواب ہے تربیت۔۔۔ہمارے معاشرے کو تربیت کی اشد ضرورت ہے۔۔جس طرح پانی پینے کے آداب،کھانا کھانے کے آداب، کپڑے پہنیں کے ہر چیز کے آداب سیکھائے جاتے ہیں۔۔اسی طرح ہماری قوم کو سوشل میڈیا کے دُرست استعمال کرنے کا طریقہ کار سیکھانے کی بھی اشد ضرورت ہے۔انہیں سیکھانا پڑے گا کہ یہ موبائل ٹک ٹاک جیسے آیپلیکشنز پر رقص کرنے کے لئے نہیں ہے۔یہ عزتیں نیلام کرنے کے لئے نہیں ہے۔۔۔۔۔ہمارے یہاں انٹرنیٹ کا استعمال اِس قدر غلط آنداز میں کیا جارہا ہے۔جس کی کوئی انتہا نہیں۔ہمیں اپنے بچوں کو،ٹیچرز کو، گو کہ ہر چھوٹے بڑے کو یہ تربیت دینی پڑے گی کہ ہم انٹرنیٹ اور سمارٹ فونز کا دُرست استعمال کیسے کر سکتے ہیں۔ ہمیں اتنے کرپٹ ہوچکے ہیں۔ہمیں انہیں سیکھانا ہوگا کہ یہ محض فلمز ،ڈرامے یا دوسری قسم کا فحش مواد دیکھنے کے لئے،یا پھر دھوکے بازی کرنے کے لئے نہیں،بلکہ آپ کا مستقبل سنوارنے اور آپ کی ریگولر زندگی کو آسان بنانے کے لئے بہترین کردار ادا کر سکتا ہے۔۔۔پاکستان میں اِس قدر مہنگائی ہوگئی ہے اور جابز نہ ہونے کے برابر ہیں،ہم نیٹ اور سمارٹ فون ،انہی دو چیزوں کے مثبت استمعال سے اپنی زیادہ نہیں تو بہت سی پریشانیاں دُور کر سکتے ہیں۔مگر ہم نے اپنے ُاپر سارے دروازے خود بند کر رکھیں ہیں۔۔۔کہ انٹرنیشنل لیول پر بڑی بڑی ای کومرس مارکیٹ پلیس ہوگئے،یا فیس بک،یو ٹیوب جیسے بڑے پلیٹ فارمز وہ سب آپ کو تو بہت اچھے سے یوز کر رہے ہیں۔۔مگر ان ایپلیکشنز کے استعمال سے آپ کو کوئی فائدہ نہیں ہورہا۔اور اس کی وجہ ہماری دو نمبری ہے۔ کوئی باہر کا بندہ ہم پر جلدی ٹرسٹ نہیں کرتا۔بزنس میں ہاتھ نہیں ڈالتا۔بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیز پاکستان میں کام کرنے سے انکار کر دیتیں ہیں۔ وجہ ہماری قوم کے چند نوسر باز لوگ جن کی وجہ سے پوری قوم بدنام ہوتی ہے۔ہمارے ہر غلط کام میں سوشل میڈیا ساٹھ فیصد کردار ادا کر رہا ہے۔۔لیکن یہ غلطی سسٹم کی نہیں بلکہ سسٹم کو یوز کرنے والوں کی ،یعنی آپ کی اور میری ہے۔ کچھ نہ بھی کریں تو اپنے بچوں پر کم از کم چیک اینڈ بیلنس لازمی رکھیں۔کیونکہ فحش مواد دیکھنے میں ہماری قوم دنیا میں پہلے نمبر پر آتی ہے۔۔ اور ہماری قوم کی ایک بڑی تعداد نوجوانوں پر مشتمل ہے۔۔تو آپ خود سوچ لیں کہ ہماری نوجوان نسل کس
