Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 50
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 18/10/2025
5 Views
Episode no 50
کے بعد بہت محتاط ہوگئی تھی۔۔وہ کسی کی نظر میں نہ آنے کی وجہ سے یہاں اپنا چہرہ کور کر کے ہی آتی تھی۔ہاشمی ولا میں ہوتے ہوئے کسی کی اتنی جرات نہیں تھی کہ وہ اس خاندان کی بہو سے کوئی سوال کر سکتے۔۔مگر یہ محلہ ٹائپ آئیر یا تھا اور اب گھر کے باہر گارڈز اور گاڑی دیکھ ویسے ہی علاقے کے لوگ بڑے ہی متجسس رہتے تھے۔وہ اپنی ماں ،بہن کے لئے پریشانی کا باعث نہیں بن سکتی تھی۔ حیات خاموشی سے اپنی مطلوبہ جگہ پر بیٹھ گئی تھی۔۔آج صبح سے افگن کی بہت یاد ستا رہی تھی۔دل میں درد سا ہو رہا تھا۔اُس کی ڈلیوری کے دن قریب آتے جارہے تھے۔۔وہ ویسے ہی بہت احتیاط سے کام لیتی تھی۔۔مگر آج کا سیشن لینے سے وہ خود کو باز نہیں رکھ سکی تھی۔جس کا ٹاپک ہی ’’ویڈیو لیک اینڈ ہاؤ ٹو یوز سوشل میڈیا ُُ‘‘تھا۔ ڈائس پر ایک خاتون اپنی جگہ سنبھال چکی تھی۔سب ہی لڑکیاں، خواتین اُن کی جانب متوجہ ہوئیں،جو سلام دعا ہلکے پھلکے تعارف کے بعد اب آہستہ آہستہ مدعا پر آئیں تھیں ۔۔۔ ’’آج آپ اتنی ساری خواتین یہاں مووجود ہیں۔آگر میں یہ کہوں کہ آپ ہمارے ملک و معاشرے کا بہترین ایسٹ ہیں۔تو غلط نہیں ہوگا۔کیونکہ آپ ماں کے رتبے پر فائز ہیں ،کچھ ہونے جارہی ہونگی اور کچھ آئندہ سالوں میں یہ منزل بھی طے کر لیں گی۔۔ ’’ماں۔‘‘ جہاں یہ لفظ آجائے وہاں ممتا،تڑپ،محبت،لاڈ، پیارہر لازوال احساس دماغ میں آتا ہے۔ماں کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔۔مگر کیا آپ جانتی ہیں،جب اسی ماں سے آگر جان انجانے میں اپنی اولاد کی تربیت میں کسی قسم کی کوئی غفلت ہوجائے تو اس کا خمیازہ صرف وہ گھر خاندان نہیں بلکہ پورا معاشرہ بھگتا ہے۔۔۔‘‘کلاس میں موجود تمام خواتین دم سادھے سُن رہی تھیں۔ ’’آپ لوگ یقیناً اس بات سے بخوبی واقف ہونگے کہ کچھ ماہ قبل ایک لڑکی کی ویڈیو لیک ہوئی تھی۔جس میں وہ بے ہوش بستر پرقابلِ اعتراض حالت میں تھی۔اور بھی کئی اس طرح کی ویڈیوز لیک ہونا اب ہمارے یہاں بہت عام ہوگیا ہے۔۔‘‘حیات کا سانس سینے میں اٹک گیا تھا۔۔ شاید وہ کسی اور ویڈیو کا حوالہ دے رہی تھیں۔۔۔مگر اس کی ویڈیو بھی تو اسی طرح کی تھی۔۔۔ ’’وہ ویڈیو یقیناً کسی بڑے باپ کی بیٹی کی تھی۔۔کیونکہ وہ ویڈیو تمام سوشل پلیٹ فارمز پر سے صرف چند گھنٹوں میں نہ صرف ڈلیٹ ہوگئی تھی بلکہ اس کونٹینٹ پر رسٹرکشنز عائد ہیں کہ آگر کوئی بھی دوبارہ اس ویڈیو کو شئیر کرنے کی کوشش کرے گا تو وہ کونٹینٹ وائلیشن کی وجہ سے خود ہی ریمو ہوجائے گا۔ویڈیو لیک میں استعمال کئے گئے تمام اکاؤنٹس ہیک ہوگئے تھے۔حتی ٰکہ وہ ویڈیو پلے ہونے میں بھی بہت وقت لے رہی تھی۔۔تو آپ خود سوُچ لیجئے کہ اس لڑکی کے گھر والوں کی سورسز کہاں تک ہونگے۔جو سائیبر کرائم کے تحت فوری ایکشن لئے گئے تھے۔‘‘حیات کو لگا،وہ ابھی اس کا نام لیں گیں،اور سب رُخ موڑ کراُس کی جانب دیکھیں گے،اُس پرہنسیں گے۔اِسے حقارت بھری نظُروں سے دیکھیں گے۔سب اُس پر تہمت لگائیں گے۔اِسے بدکردار کہیں گے۔۔اور وہ ایک بار پھر زمانے بھر میں رُسوا ہوجائے گی۔۔۔۔۔ ’’خیر ہم اِس بچی اور ِاس جیسی تمام بچیوں کے لئے دُعا ہی کر سکتے ہیں کہ اللہ پاک اِنکی نجی زندگی کے باقی کے معاملات میں خیر رکھے۔مگر یہاں جو بات سب سے زیادہ دلچسپ ہے وہ جانتی ہیں کیا ہے؟‘‘ انہونے ایک لمحے کو ٹھرکرسب کی جانب دیکھا تھا۔سب خاموش تھے۔۔ ’’ محض چند گھنٹوں میں اس ویڈیو کہ پندرہ لاکھ سے اُپر ڈاؤنلوڈز تھے۔۔۔اس بات سے آپ اس ملک کے نوجوان نسل کی زہنی پستی کا آنداز بخوبی لگا سکتے ہیں۔۔‘‘ حیات تو گویا پتھر کی ہوگئی تھی۔۔۔۔ ’’سب سے پہلے تو آپ یہ دیکھیں کہ ہماری قوم کس قدر فارغ ہے۔اور دوسری جانب بے حس اور بے غیرت ہوچکی ہے۔۔مطلب ہماری نظر میں آگر کسی کی بہن بیٹی کی عزت نیلام ہورہی ہے۔۔تو کوئی ایک غیرت مند ایسا نہیں ہے جو آگے بڑھ کر اس بے حیائی کو روک سکے۔یا کچھ نہیں کر سکتا تو غلط کو غلط ہی کہ سکے۔مگر نہیں ۔ہم سب نیوٹرل بن کر پیچھے کھڑے ہوکر تماشہ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔۔۔اور جس سے شکوہ کیا جائے وہ کہتا ہے آخر میں ایک اکیلا کر ہی کیا سکتا ہوں؟ اور غلطی تو اس لڑکی کی ہے۔‘‘ وہ تلخی سے مسکرائی تھیں۔ ’’مطلب غلطی لڑکی کی ہے تو وہ جانے اور اس کا اللہ جانے۔۔آپ کون ہوتے ہیں سزا یا جزا یا پھر نیک اور بد کردای کا فیصلہ کرنے والے؟نہیں دوسروں پر کیچڑ اُچھالنے کے لئے ہم نعوذباللہ گویا اللہ سے اجازت لے کر آئے ہیں۔ہمارے نزدیک دنیا کے بہترین انسان ہم بد ذات خود ہیں اور پوری دنیا بُری۔‘‘کلاس میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔بس اُن کی آواز تھی جو سماعتوں میں کڑوی حقیقت اُنڈیل رہی تھی۔ ’’جس معاشرے میں ایک لیک ویڈیو کے چند گھنٹے میں لاکھوں میں ڈاؤن لوڈز ہوں۔تو ذرا سوچیں ،وہ معاشرہ کس قدر پستی میں جارہا ہے۔۔ہمارے مسلم معاشرے میں سوشل میڈیا کے ذریعہ نو جوان نسل کی کس قسم کی ذہن سازی کی جارہی ہے۔ جن کی زندگی کا مقصد بس ہنسی ،ٹھٹھہ یا پھر دوسروں کی عزتوں کو نیلام ہوتا دیکھنا انٹر ٹینمنٹ کا ذریعہ ہو۔‘‘وہ ایک لمحے کے لئے چپ ہوئیں۔ ’’ اچھا سوال یہ اُٹھتا ہے کہ معاشرے میں بڑھتے ِاس بِگاڑ میں کیا صرف واحد قصور وار سوشل میڈیا ہے؟‘‘ ’’جواب ہے نہیں۔۔پتہ ہے کیوں۔۔‘‘ ’’کیوں کہ بگاڑ سوشل میڈیا نہیں بلکہ اس کا غلط استعمال ہے۔۔اور غلط استعمال کی بڑی وجہ ہمارے یہاں شعور کا فقدان ہے۔۔جس کی سب سے اہم وجہ تعلیم کی کمی ہے۔۔ ہم نے جن ہاتھوں میں سب سے پہلے کتاب پکڑانی تھی ہم نے ان ہاتھوں میں موبائل اور انٹرنیٹ پکڑا دیا۔تو نتائج تو بھیانک ہونے ہی تھے۔۔۔ہمارے ملک کے ایسے گاؤں اور شہروں میں بھی انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے،جہاں آج تک ایک پراپر اسکول تک تعمیر نہیں کیا گیا۔میں یہ نہیں کہتی کہ انٹرنیٹ نہیں ہونا چاہئے بلکہ انٹرنیٹ سے پہلے انہیں کتاب کی خوشبو سے آشنا کروائیں،انہیں شعور کی آنکھ سے نوازنے کا ضامن بنیں۔انہیں پہلے ٹیکنولجی کی الف ،ب تو سیکھائیں ،انہیں ڈائریکٹ اُٹھا کر انٹرنیٹ کے زریعہ ایسی دنیا میں پھینک دینا جس کا کبھی انہوں نے تصور بھی نہیں کیا۔یہ زیادتی ہے نا صرف ان لوگوں کے ساتھ بلکہ ہمارے معاشرے کے اہم سرمائے ہماری نوجوان نسل کے ساتھ۔۔۔"تیز لہجے میں بولنے کی باعث ان کا چہرہ سُرخ پڑ گیا تھا۔۔۔ یہ تو بات ہوگئی ان پڑھ معاشرے کی ۔وہ تو چلیں سیدھے سادے لوگ ہیں۔اتنا قصور ان کا بھی نہیں ہے۔۔مگر یہاں دوسری بڑی غلطی ہمارے پڑھے لکھے ماں ،باپ کر رہے ہیں،جو پرائیوسی کے نام پر اپنی اولاد پر چیک ہی نہیں رکھتے کہ آخر ہماری اولادیں گھنٹوں موبائل میں مصروف ہیں تو آخر کر کیا رہیں ہیں۔ہم لگتا ہے کہ وہ پڑھ رہیں ہیں،یا اپنی تعلیم سے متعلق ہی کسی ایکٹیویٹی میں مشغول ہیں،جبکہ ایسا نہیں ہے وہ تو فضول سی ٹک ٹاک،اور فیس بک کی فحاش ویڈیو دیکھنے میں مصروف ہیں۔۔‘‘ کلاس میں موجود خواتین میں یکدم چہ مگوئیاں ہونے لگی تھیں۔۔کیونکہ اکثریت مائیں تھیں۔اور اس بات سے بھی بخوبی واقف تھیں کہ پانچ میں سے چار لڑکیوں کو اب اس طرح کی فضول وڈیوز بنانے کا کریز چڑھ گیا ہے۔جو ان کی زندگی تباہ و برباد کر دیتا ہے۔۔ ’’ اب معاشرے میں بڑھتے اس
