Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 50
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 18/10/2025
5 Views
Episode no 50
بولے تو اس کی ذہنی حالت کو دیکھتے ہوئے وہ خاموش ہوگئیں۔جو ہر وقت بس روتی رہتی تھی۔یا شیر افگن کو پکار پکار کر اُداس ہوجایا کرتی تھی۔جبھی ان کی نظر سامنے مرجھائی سی صورت لئے نزدیک آتی حیات پر پڑی تھی۔جو افگن کی سنگت میں کھلتا گلاب ہوا کرتی تھی۔اور اب اُس کی جدائی میں بالکل کملا کر رہ گئی تھی۔۔ ’’میں جاؤں آنٹی!‘‘وہ پہلے اِن کی اجازت چاہتی تھی۔زرین آگر اس کے لئے بہت اچھی نہیں ہوئیں تھیں۔۔تو اب بُری بھی نہیں رہیں تھیں۔۔شاید بیٹے کو کھو کر عقل آگئی تھی۔ ’’جاؤ۔مگر اپنا بہت خیال رکھا۔۔ورنہ جانتی ہو ناں افگن ناراض ہوجائے گا تم سے۔‘‘انہونے تنبیہ ضروری سمجھی۔ ’’اب میں ناراض ہوں اِن سے۔۔اب وہ آئیں تو اُن سے کہیے گا ۔اب میں جب تک واپس نہیں آؤنگی۔۔جب تک وہ مجھے لینے نہیں آئیں گے۔۔ٹھیک ہے ناں انکل!‘‘وہ ناراضگی کا اظہار کرتی ناصر صاحب کی جانب پلٹتی معصومیت سے بولی،تو وہ ضبط سے سُرخ پڑتی آنکھوں سے سر ہلا گئے،زرین نے اپنی آنکھیں جھپک کر آنسو چھپائے تھے۔ ’’چلیں بیٹے!آپ کی مما آپ کی منتظر ہونگی۔‘‘ وہ اِن کے ساتھ آج ہاشمی ولا کو اس وقت تک کے لئے،خیر باد کہ چکی تھی۔جب تک افگن واپس نہیں آجاتا۔۔۔اب جانے اس کا انتظار کتنا طویل ہونے والا تھا،یا پھر انتظار انتظار ہی رہ جاتا۔۔ایک لمحے کو پلٹ کر پیچھے دیکھا کہ شاید کہیں سے افگن نمودار ہوجائے مگر ہمیشہ کی طرح اس کی نگاہیں مایوس ہی لوٹ آئیں تھیں۔ افگن اپنی زندگی میں ہی حیات کی والدہ کا پتہ لگا چکا تھا۔۔وہ انہیں حیات سے ملانا چاہتا تھا مگر وہ ناراضگی ظاہر کرتیں اس سے اپنے تمام رشتے بھی ختم کر چکی تھیں۔مگر جب انہیں افگن کے اس دنیا سے جانے کی خبر ملی تو ان کی ممتا بیٹی کی محبت میں تڑپ اُٹھی تھی۔کچھ روز قبل ہی ناصر صاحب کے تھرو انہونے حیات سے رابطہ کیا تھا۔ اُن کے پاس محض افگن کا ہی نمبر تھا۔جو اب ناصر صاحب کےپاس محفوظ تھا۔جس پر زیادہ تر حیات کے نمبر کی کالز ہی موصول ہوتی تھیں۔ حیات ماں کی آواز سُن بس مسلسل معافیاں مانگے جارہی تھی۔۔شاید اُس کی ماں کی بدعا لگ گئی تھی اُسے۔۔اور اب وہ افگن سے ناراض ہوکر جارہی تھی۔ویسے بھی وہ اسے پیار نہیں کرتا تھا۔تو اب وہ بھی اس سے ناراض ہو گئی تھی۔۔ شاید کبھی واپس نہ آنے کے لئے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ناصر صاحب کو حیدرآباد پہنچتے پہنچتے خاصی رات ہوگئی تھی۔حیات کی طبیعت کے پیش نظر وہ بہت سلو ڈرائیو کر کے وہاں پہنچے تھے۔جبکہ وہ ماں کو دیکھتے ہی جیسے ہرغم بھول گئی تھی۔۔۔۔ ’’ماما مجھے معاف کردیں۔۔معاف کردیں اپنی حیات کو۔۔جب تک آپ معاف نہیں کریں گی ناں۔افگن واپس نہیں آئیں گے۔۔آپ مجھے معاف کردیں۔۔بہت دل دکھایا ہے ناں میں نے آپکا، اور بابا کا۔۔بہت بُری بیٹی ہوں میں۔۔۔سب کو بہت تنگ کیا ہے۔‘‘ وہ ماں کے سینے سے لگی مسلسل بَڑ بَڑا رہی تھی۔۔جبکہ اپنی بیٹی کی حالت دیکھ اُن کا کلیجہ منہ کو آرہا تھا۔۔۔۔ ’’نہیں حیات میرا بچہ!بھلا میں اپنی لاڈلی بیٹی سے ناراض ہوسکتی ہوں؟؟نہیں ناں۔۔تم نے ایسا کیوں سوچا۔۔میں اور تمہارے بابا تم سے بالکل بھی ناراض نہیں تھے۔۔ بس تم ٹھیک ہوجاؤ جلدی سے۔‘‘ وہ اس کے ماتھے پر پیار کرتیں محبت سے پُر لہجے میں بولی تھیں۔۔۔۔ ’’نہیں ماما!آپ اور بابا ناراض ہیں ،جبھی تو افگن واپس نہیں آرہے۔۔زرین آنٹی کہتی ہیں وہ کبھی واپس نہیں آئینگے۔۔مگر مجھے معلوم ہے وہ جلد واپس آجائیں گے۔جب آپ مجھے معاف کردیں گی۔۔‘‘وہ منہ بسور کر کسی چھوٹے بچے کے آنداز میں ضدی لہجے میں بولی۔ ’’حیات !چلو اُٹھو اپنی بہن سے بھی نہیں ملیں تم۔۔جلدی سے ملو اِس سے۔۔اور دیکھو ناصر صاحب بھی کھڑے ہیں۔۔ وہ کیا سوچیں گے ہم مہمان نواز لوگ نہیں ہیں۔‘‘انہونے بیٹی کو بہلایا۔جو ناصر صاحب کو دیکھ جلدی سے اُٹھی۔۔۔ ’’بابا!آ پ کھڑے کیوں ہیں۔۔بیٹھے ناں۔‘‘وہ ان کی جانب بڑھی ،جو مسکرائے۔ ’’نہیں بیٹا!بس میں نکلونگا۔۔تم اپنا خیال رکھنا۔اور آگر کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو فوراً اپنے بابا کو یاد کرنا !اوکے!‘‘ وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھتے شفقت بھرے لہجے میں بولےتھے۔۔ ’’ نہیں بھائی صاحب!کھانا کھا کر جائیے گا۔‘‘حیات کی والدہ جلدی سے بولیں۔۔ ’’نہیں بہن بہت شکریہ۔بس اب نکلونگا۔۔زرین میرا انتطار کر رہی ہونگی۔‘‘ وہ انکار کر چکے تھے۔ ’’بابا رُک جائیں آپ ، صبح چلے جائیے گا۔‘‘‘حیات لاڈ سے بولی۔ ’’نہیں میرا بچہ!آپ کی آنٹی میر انتظار کر رہی ہیں۔میں اپنی بیٹی سے ملنے آتا رہونگا۔‘‘ اس گھر میں کوئی مرد نہیں تھا۔اور وہ وہاں مزید ٹھرنا نہیں چاہتے تھے۔ان کا ارادہ ایک عدد کئیر ٹیکر بھی ساتھ بھیجنے کا تھا۔۔مگر وہ محسوس نہ کریں یہ سوچ کر وہ ٹھر گئے تھے۔مگر ایک گاڑی اور ڈرائیور کو وہ پہلے ہی بلا چکے تھے۔جو کچھ دیر میں بس پہنچنے والا تھا۔۔ ’’بہن !اب ہماری بیٹی آپ کے حوالے ہے۔۔اس کا بہت خیال رکھیے گا،،اور گاڑی اور ڈرائیور اب سے یہیں رہیں گے۔منع نہ کیجئے گا پلیز۔‘‘انہیں منہ کھولتا دیکھ انہونے باز رکھا۔ ’’حیات کی حالت ایسی نہیں ہے کہ کوئی رسک لیا جائے۔۔ اور آگر آپ بُرا نہ مانیں تو میں حیات کے ساتھ ایک نرس رکھنا چاہتا ہوں۔جس کی حیات کو اشد ضرورت ہے۔‘‘بلآخر وہ بول ہی گئے تھے۔حیات کی والدہ نے ایک نظر حیات کو دیکھا اور پھر خاموش ہوگئیں۔ ’’جیسے آپ کی مرضی! حیات بہو ہے آپ کی۔اس کا خیال رکھنے کے لئے جو آپ کو بہتر لگے وہ کیجئے۔‘‘ وہ انکاری نہیں ہوئیں تھیں۔بلکہ انہیں تو اپنی بیٹی کی قسمت پر رشک آیا تھا۔اس کے سسُر بیٹے کے گزر جانے کے بعد بھی اِس کی بیٹی کو اتنی محبت دے رہے تھے۔۔تو اس کا شوہر کتنا پیارا ہوگا۔ ’’اللہ حافظ میرا بچہ!اپنا بہت خیال رکھیئے گا۔‘‘وہ ُاس کے سر پر ہاتھ رکھ کر وہاں سے نکل آئے تھے۔جبکہ حیات اپنی بہن کے گلے لگی ایک بار پھر ماضی یاد کر آنسو بہانے لگی تھی۔۔اتنے مہینوں بعد وہ سب سے مل رہی تھی۔ کچھ لمحے کو ہی سہی مگر وہ اپنی ماں اور بہن کے ساتھ اپنا ہر غم فراموش کر گئی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حیات کو حیدرآباد آئے ایک ماہ ہونے کو آیا تھا۔وہ اپنی ماں اور بہن میں گُھل مل کر کچھ حد تک سنبھل گئی تھی۔اب وہ اپنی بہن کے ساتھ باقاعدہ ایک انسٹیٹوٹ میں جانے لگی تھی،جہاں اسلامی ،اور دنیاوی ہر لحاظ سے لیکچر اور سیشن ہوتے رہتے تھے۔ وہ ایک درمیانی سطح کا انسٹیوٹ تھا جو کسی اسکول میں قائم تھا۔صبح میں یہاں کلاسز ہوتی تھیں۔اور شام میں یہ انسٹیوٹ چل رہا تھا جو دراصل نو عمر لڑکیوں کے لئے ایز آ میرج انسٹیوٹ کا کام کر رہا تھا۔فی الحال میڈم کے لیکچر اس کے لئے تھراپی کا کام کر رہے تھے۔وہ بس اپنی مرضی کے سیشن لیا کرتی تھی۔۔اُس کی بہن شادی شادہ زندگی کے گُر سیکھنے میں بڑی متجسس تھی۔کیونکہ کچھ ماہ میں اس کی شادی تھی۔ البتہ اُن سیشنز کا یہ فائدہ ضرور ہوا تھاکہ اب اُس کی دماغی حالت میں بہت حد تک سُدھار آگیا تھا۔۔اب وہ اپنا خیال رکھنے لگی تھی۔مگر شیر افگن کا انتطار اُسے آج بھی تھا۔اس کا دل کہتا تھا کہ شیر افگن ہاشمی کبھی کسی مشکل وقت میں اس کا ساتھ نہیں چھوڑ سکتا تو اب کیوں؟وہ آج بھی معمول کے مطابق اپنی کلاس میں آگئی تھی۔جہاں کسی نیو ٹیچر کا سیشن تھا۔ ’’آپی!آپ بیٹھیں میں وہاں اپنی دوست کے پاس آگے جا رہی ہوں۔‘‘ حیات اپنی ویڈیو لیک
