Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 50
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 18/10/2025
5 Views
Episode no 50
دھوپ چھاؤں کا عالم رہا از ہما قریشی قسط نمبر ۵۰ (Second Last) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عابثہ اس وقت شدید رنج کی کیفیت سے دوچار غیر مرئی نکتُے کو گھور رہی تھی۔وہ ابھی حیات سے ملاقات کر کے آرہی تھی۔۔ جس کی حالت قاِبل رحم تھی۔۔کیا کوئی محبت میں اِس حد تک بھی پاگل ہوسکتا تھا۔۔عابثہ کو بھی حیات کی طرح آج تک یقین نہیں آیا تھا کہ افگن اُن کے بیچ نہیں رہا۔۔ اُس کے قریبی رشتے نجانے کیوں ،بچھڑنے میں اِس قدر جلدی کرتے تھے۔وہ سمجھنے سے قاصر تھی۔وہ خاموش بیٹھی تھی۔۔جبھی کھٹکے کی آواز پر متوجہ ہوئی جہاں حواس باختگی کے عالم میں ملازمہ کمرے میں داخل ہوئی تھی۔ ’’کیا ہوا نصرت آنٹی!‘‘ عابثہ اُنہیں کچھ بولنے کی کوشش میں حواس باختہ سا دیکھ خود بھی اُٹھ کر اُن کی جانب بڑھی۔ ’’وہ بی بی جی ! وہ ڈرائیور کی کال آئی تھی۔۔ارتضیٰ صاحب پر کسی نے قاتلانہ حملہ کیا ہے۔وہ اِس وقت ہسپتال میں ہیں۔‘‘وہ بڑی دکت کے بعد بولنے کے قاِبل ہوئی۔ ’’کیا؟کیا بکواس ہے یہ؟کیا ہوا ارتضیٰ کو؟‘‘وہ شدید گھبراہٹ میں مبتلہ تھی۔ ’’پتہ نہیں!دادی جان کو تو میں نے اِبھی نہیں بتایا ہے۔آپ جلدی چلیں پلیز!ہمیں فوری ہسپتال جانا ہے۔‘‘عابثہ کے ہاتھ پاؤں پھول گئے تھے۔۔۔اُس نے کپکپاتے ہاتھوں سے ناصر صاحب کا نمبر ڈائل کیا تھا۔۔وہ ایک وہی واحد شخصیت تھے۔۔جو اِس مشکل وقت میں کام آسکتے تھے۔ ’’ڈرائیور کو کہو گاڑی نکالے۔۔میں بس ابھی آئی۔۔۔اور ہاں دادو کا خیال رکھنا تم۔۔اور انہیں ابھی کچھ بتانے کی ضرورت نہیں ہے سمجھیں۔‘‘ وہ گھبراہٹ میں مبتلہ جلدی جلدی بولی تھی۔تو ملازمہ سر ہلاتی وہاں سے تیزی سے غائب ہوئی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اور ناصر صاحب کچھ لمحوں کے فرق سے ہی ہسپتال میں داخل ہوئے تھے۔عابثہ بھاگ کررسپشن پر گئی تھی۔۔۔۔۔ ’’ارتضیٰ کیسے ہیں انکل !‘‘وہ مطلوبہ فلور پر پہنچتے ہی ویٹنگ آئیریا میں بیٹھے،ناصر صاحب کے پاس آئی۔۔۔ ’’بیٹا!ٹینشن کی کوئی بات نہیں ہے۔۔گولی کندھے کو چھو کر گزری تھی۔۔ بس بینڈیج ہورہی ہے۔۔ ارتضیٰ بالکل ٹھیک ہیں۔‘‘وہ اِس کے سر پر ہاتھ رکھتے شفقت بھرے آنداز میں گویا ہوئے۔جو شیر افگن کے رشتے سے انہیں ہمیشہ بہت عزیز رہی تھی۔۔۔ ’’ڈاکٹر کیا میں ارتضیٰ سے مل سکتی ہوں۔‘‘وہ ڈاکٹر کے باہر آتے ہی پریشانی سے بولی۔تو وہ پروفیشنل مسکراہٹ کے ساتھ ہی اِسے اجازت دے چکے تھے۔۔ جبکہ ناصر صاحب اب ڈاکٹرز کے بعد پولیس کی جانب بڑھے تھے۔جو ارتضیٰ کا بیان لینے کے منتظر تھے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ارتضیٰ کیا ہوا آپ کو؟‘‘وہ بھاگ کر نیم دراز ارتضیٰ کے نزدیک جاتی رندھی ہوئی آواز میں بولتی، سیدھا سینے سے جا لگی تھی۔جو ِاسے دیکھ دھیرے سے مسکراتا اس کے گرد اپنا حصار بنا گیا۔ ’’کچھ نہیں ہوا یار!بس چھوٹی سی چوٹ ہے۔‘‘وہ کسی ڈاکٹر کی طرح اب باقاعدہ اُس کے زخم کا جائزہ لے رہی تھی۔۔ ’’یہ اتنا بڑا زخم ہوگیا ۔۔اور آپ کہ رہے ہیں۔کچھ نہیں ہوا۔۔کون تھا وہ شخص جس نے گولی ماری تھی؟‘‘کمر پر ہاتھ رکھے وہ اس وقت وہ پُرانی نڈر عابثہ کے روپ میں موجود تھی۔ ’’یار !اب مجھے کیا معلوم کہ کون تھا۔۔بس جو بھی تھا۔اب وہ مجھ سے بچ نہیں سکتا۔‘‘وہ اپنے قریب ہی تھوڑی سی جگہ میں اُسے زبردستی اپنے پاس بیٹھاتا سنجیدگی سے بولا۔ ’’میں ڈر گئی تھی۔‘‘وہ اُس کے سینے سے لگی،ابھی بھی خوف کے حصار میں تھی۔ ’’کیوں؟جہاں تک مجھے پتہ ہے تم دُوسروں کو ڈرا دیتی ہو۔۔ڈر کیسے گئیں۔‘‘وہ شرراتی لہجے میں بولا تو عابثہ نے خفا نِگاہوں سے اُسے گھورا۔ ’’میں سچ میں ڈر گئی تھی۔آگر آپ کو کچھ ہوجاتا تو۔‘‘ وہ اپنے لفظ ادھورے چھوڑ گئی۔ارتضیٰ نے خاموشی سے اس کی نم خوف زدہ نگاہوں کو دیکھا ۔۔جہاں اِسے کھو دینے کا ڈر واضح دکھائی دے رہا تھا۔۔ ’’ایسا کچھ نہیں ہوگا۔۔سو ریلیکس رہو۔۔بس تھوڑی دیر میں گھر چلتے ہیں۔‘‘‘ وہ دھیرے سے جھک کر اس کی سُرخ ہوتی ناک پر اپنے لب رکھتا محبت سے بولا۔ ’’اچھا روئی کیوں تھیں۔‘‘ اب وہ اس کی نم آنکھیں دیکھ شرارت سے چھیڑ رہا تھا۔ ’’روئیں میرے دشمن !وہ تو تیز ی سے بھاگنے کی وجہ سے میری آنکھوں میں پانی آگیا۔‘‘اس نے جلدی سے بہانہ تراشہ۔ارتضیٰ نے مسکراہٹ ضبط کی تھی۔ ’’اچھا جی تو یہ بات ہے!مطلب میں ایویں پریشان ہورہا تھا کہ میری بیوی نے رُو رُو کر اپنی خوبصورت آنکھیں سوجھا لی ہونگی۔‘‘وہ دھیرے اس کے گال سے گال مس کرتا شرارت سے باز نہ آیا تھا۔ ’’ہونہہ!اب ایسا بھی کچھ نہیں ہے کہ گولی چھو کر گزر جائے اور میں رُونے بیٹھ جاؤں۔‘‘وہ فوراً انکاری ہوئی۔ ’’مطلب اگلی بار گولی دل پر کھانی پڑے گی۔‘‘وہ ہنوز شرارت کے موڈ میں تھا۔ ’’ ارتضیٰ!میں ناراض ہوجاؤں گی۔‘‘وہ سینے سے سر اُٹھاتی خفا ہوئی۔ ’’مذاق کر رہا ہوں میری جان!‘‘ اس کے سر پر لب رکھتے سختی سے خود میں بھینچا تھا۔۔بھلا وہ کہاں اب اس کی ناراضگی افورڈ کر سکتا تھا۔ ’’مجھ پرقاتلہ نہ حملہ ہوا ہے اس بات کا دادو کو تو نہیں بتایا ناں عابثہ!‘‘اِسےکچھ لمحوں بعد خیال آیا۔ ’’نہیں!ابھی نہیں بتایا!مگر دیکھیے گا،اب وہ کتنی پریشان ہوجائیں گی۔‘‘وہ ذرا فاصلہ پر ہوئی۔ ’’نہیں ہوتیں۔اور دادو کو بتانے کی کوئی خاص ضرورت بھی نہیں۔ان کی طبیعت پہلے ہی ٹھیک نہیں رہتی۔۔تم آج حیات بھابھی سے ملنے گئیں تھیں۔ٹھیک ہیں وہ؟‘‘ وہ یونہی پوچھ بیٹھا۔ ’’حیات بھابھی سے یاد آیا ناصر انکل باہر کھڑے ہیں۔اور پولیس بھی۔میں بُلاتی ہوں اُنہیں۔‘‘وہ تیزی سے اُٹھی۔ ’’ہاں انکل کو آندر بھیج دو۔۔اور ان سے کہو یار یہ پولیس وغیرو کو نہ بلائیں ابھی۔۔میں فی الحال کسی سے بات نہیں کرنا چاہتا۔۔‘‘وہ بیزاریت سے بولا تو وہ سر ہلاتی باہر کی جانب بڑ ھ گئی تھی۔جبکہ ارتضیٰ کا دماغ عدیل صاحب کی دھمکیوں میں اُلجھ کر رہ گیا تھا۔۔یہ گولی انہی نے چلوائی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ( چار ماہ بعد) حیات کی طبعیت بہت زیادہ خراب رہنے لگی تھی۔وہ ہر وقت شیر افگن کو یاد کر کے روتی رہتی تھی۔جو نجانے اِسے چھوڑ کر کہاں چلا گیا تھا۔۔اس وقت بھی وہ بیڈ پر نیم دراز آنکھوں میں آنسو لئے اس کی اور اپنی تصویر تک رہی تھی۔ جس میں وہ شررات سے اس کی جانب جھکا کان میں کچھ کہ رہا تھا۔ ’’ آپ واپس نہیں آرہے ناں افگن!اب بس ٹھیک ہے۔۔میں بھی ناراض ہوں آپ سے۔۔اب میں یہاں نہیں رہونگی۔۔میں مما کے پاس چلی جاؤنگی۔۔ویسے بھی وہ مجھے بُلا رہی تھیں۔اب وہ مجھ سے ناراض بھی نہیں ہیں۔۔ہاں میں کل چلی جاؤنگی ماما پاس۔۔پھر آپ ہوتے رہیے گاناراض۔۔اب حیات بھی آپ سے ناراض ہے۔‘‘وہ تصویر سے ایسے باتیں کر رہی تھی، گویا وہ سچ میں اُس کے مقابل بیٹھا ہوا۔۔اور پھر کب اس کی آنکھ لگ گئی ،اسے خود نہیں پتہ لگا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ناصر صاحب!ہوش کے ناخن لیں۔۔آپ اس کی ذہنی حالت تو دیکھیں ذرا ، اتنے ماہ ہوگئے مگروہ شیر افگن کے صدمے سے نکلنے کو تیار ہی نہیں ہے۔۔ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ آگر،اس لڑکی کی یہی حالت رہی تو آئندہ وقت میں بہت کمپلیکیشنز ہو سکتی ہیں۔۔اور آپ اِس حالت میں اِسے اس کی ماں کے گھر لے جارہے ہیں۔‘‘ زرین کو ناصر صاحب کا فیصلہ ایک آنکھ نہیں بھایا تھا۔۔جو حیات کی ضد پر راضی ہوگئے تھے۔ ’’زرین اِسے اس صدمے سے نکالنے کے لئے اپنوں کی ضرورت ہے۔یہی رہے گی تو کبھی افگن کی یاد سے نہیں نکل سکے گی۔۔اچھا ہے اپنوں میں جائے گی تو اس کا غم ذرا ہلکا ہوجائے گا۔۔اور بھلا ماں سے زیادہ کون خیال رکھ سکتا ہے۔‘‘وہ سمجھانے والے لہجے میں
