Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 48
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 17/10/2025
5 Views
Episode no 48
کو دیکھا اور پھر دوسری جانب غصےٰ سے سیخ پا ہوتے ناصر صاحب کو۔۔۔۔اور پھررابطہ منقطع کر گیا۔۔ ’’ہیلو!ارتضیٰ پولیس یہیں آرہی ہے۔زیادہ سے زیادہ دس منٹ میں پولیس یہاں پہنچ جائے گی۔۔میں حیات کو لے کر نیچے آرہا ہوں۔۔اِسے گھر چھوڑ کر آ۔اور پلیز ہو سکے تو عابثہ کو کہنا کہ اس کے ساتھ رہے۔۔اکیلا نہ چھوڑے جب تک میں واپس نہ آجاؤں۔‘‘ وہ رُخ پلٹ کر تیزی سے دو چار اور باتیں کرتا حیات کی جانب پلٹا،جو بے یقینی سے اُس کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔آخر وہ اُسے اکیلا چھوڑ کر کہاں جارہا تھا۔۔ ’’حیات میری بات غور سے سُنو۔۔۔وہ ویڈیو ڈلیٹ ہوگئی ہے۔۔اور اب ایسا دوبارہ کبھی نہیں ہوگا۔۔۔تم ریلیکس رہو۔میں ہوں ناں تمہارے ساتھ۔لیکن مجھے ابھی ارجنٹ کام سے شہر سے باہر جانا ہے۔۔میرے پیچھے میں تم کوئی اُلٹا سیدھا قدم نہیں اُٹھاؤگی۔۔۔سمجھ رہی ہوناں میری بات!‘‘وہ قریب آتا اس کا چہرہ ہاتھوں میں بھرتا محبت سے بولا،اس کی کنڈیشن ایسی نہیں تھی کہ اُسے اکیلا چھوڑا جاتا۔لیکن مجبوری تھی۔۔ ’’لیکن!آپ۔۔۔آپ کہاں جارہے ہیں شیر؟میں۔۔۔مجھے معاف کردیں۔۔مجھے چھوڑ کر مت جائیں پلیز۔۔مجھ سے غلطی ہوگئی۔۔‘‘ وہ خوفزدہ سی بولتی تیزی سے رُونے لگی تھی۔۔اُس کا ہاتھ سختی سے تھام رکھا تھا جیسے وہ ابھی جھٹک دے گا۔۔۔وہ بے بس سا اسے دیکھ کر رہ گیا۔۔۔ ’’حیات!یہ رونے کا وقت نہیں ہے۔۔۔ تم ارتضیٰ کے ساتھ گھر جارہی ہو اور میں باہر!سمجھ میں آئی بات۔۔۔تم میری غیر موجودگی میں اپنے ساتھ کچھ غلط نہیں کرو گی۔۔آنڈاسٹینڈ!‘‘ وہ اس بار سخت لہجے میں بولا تھا جس کا پورا وجود کپکپا رہا تھا۔۔۔ ’’نہیں میں۔۔۔‘‘ ’’شش!بس۔۔۔آگر تم نے خود کو نقصان پہنچانے کی یا کچھ بھی اُلٹا سیدھا کرنے کی کوشش کی۔۔۔آئی سیور میں پھر تمہیں اپنے ہاتھوں سے مار ڈالونگا۔۔۔‘‘ وہ بُری طرح روتی حیات کو خود میں سختی سے بھینچتا شدت سے بولا۔۔۔جو مسلسل نفی میں سر ہلا رہی تھی۔۔ ’’آئی لو یو!پریشان نہ ہو۔۔سب ٹھیک ہوجائے گا۔تمھیں مجھ پر یقین ہے ناں۔‘‘حیات نے رُوتے ہوئے سر ہلا کر حامی بھری تھی۔۔ُاس کی سُرخ آنکھوں پر اپنے لب رکھتا پیشانی سے پیشانی ٹکائے کتنی ہی دیرخود سے لگائے اُسے محسوس کرتا رہا تھا۔اپنے ساتھ کا مان بخشتا رہا تھا۔۔یا پھر اُسے حوصلہ دلا رہا تھا۔۔۔اب وہ نہیں جانتا تھا کہ اس کا اور حیات کا سامنا کب ہوتا۔۔یا پھر زندگی میں اب ایسا ممکن تھا بھی یا نہیں۔۔۔۔ ’’حیات!چلو یہاں سے فوراً۔۔‘‘وہ اُسے ہاتھ پکڑ کر گھسیٹتا ہوا لفٹ کے زریعے نیچے لایا تھا۔۔جس نے اس کا ہاتھ سختی سے تھام رکھا تھا۔۔جیسے اب آگر یہ ہاتھ چھوٹ گیا تو سب ختم ہوجائے گا۔۔ ’’ارتضیٰ اِسے لے کر جا یہاں سے فوراً!بلکہ ایک کام کر فی الحال اپنے گھر لے جا۔۔۔وہاں مام ہونگی۔۔۔اور وہ مزید اسے میٹلی ٹارچر کریں گی۔۔‘‘وہ زبردستی حیات کو فرنٹ سیٹ پر بیٹھاتا ارتضیٰ سے مخاطب تھا جبکہ نظریں حیات کے سُرخ چہرے پر تھیں جو اس کا ہاتھ تھامے،برُی طرح رُوتی ابھی بھی نفی میں سر ہلاتی جانے سے انکار کر رہی تھی۔۔۔ ’’اوکے فائن!‘‘وہ تیزی سے ڈرائیونگ سیٹ کی جانب بڑھا۔۔جبکہ وہ اس کا ہاتھ دباتا بامشکل اُس کی گرفت سے اپنا ہاتھ آزاد کرا گیا۔۔۔اور بس یہی وہ لمحہ تھا۔جب ارتضیٰ نے گاڑی آگے بڑھا دی تھی۔۔وہ گلاس ونڈو اُپر چڑھا چکا تھا۔۔ حیات نے ٹھر کر خالی سڑک اور اپنے خالی ہاتھ کو دیکھا۔۔جہاں کچھ لمحے قبل افگن کے ہاتھوں کا لمس موجود تھا۔۔۔اور بس پھر وہ خاموش سی محض اپنے ہاتھ کو ہی تکتی رہ گئی تھی۔۔پیچھا کھڑے افگن کی نگاہوں نے دور تک اسکی گاڑی کا پیچھا کیا تھا۔۔جس میں اُس کی زندگی اُس سے دور جا رہی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔۔
