Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 48
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 17/10/2025
5 Views
Episode no 48
دھوپ_چھاؤں_کا_عالم_رہا #از_ہما_قریشی #قسط_نمبر_48 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شدید ضبط سے سُرخ ہوتی آنکھیں اُس کی بے بسی کا چیخ چیخ کر اعلان کر رہی تھیں۔ وہ موبائل ہاتھ میں تھامے بیٹھا،محض اسکرین کو ہی گھور رہا تھا۔جہاں وہ معنی خیز لفظ اس کی ہار کی چیخ چیخ کر نوید سُِنا رہے تھے۔۔ حیات کی ایک لیک ویڈیو ارتضیٰ کی طرف سے موصول ہوئی تھی۔۔اور ایک اس ان نان نمبر سے۔۔جس نے اُسے آنکھیں میچنے پر مجبور کر دیا تھا۔۔۔ جس رات کو حیات کڈنیپ کیا گیا تھا۔۔یہ اسی رات کی ویڈیو تھی۔۔جس میں حیات نیم برہنہ حالت میں نجانے کن لوگوں کی تحویل میں تھی۔۔مگر ابھی وہ ویڈیو لیک نہیں کی گئی تھی۔۔کیونکہ یہ تو ابھی صرف وارننگ تھی۔۔۔۔۔ نہ اُس نے ارتضیٰ کے کسی میسج کاجواب دیا تھا۔۔اور ناں ہی وہ کچھ بول رہا تھا۔۔حیات ناراض سی ابھی تک روم میں ہی بیٹھی ہوئی تھی۔مگر وہ اسے منانے نہیں آیا تھا۔۔۔ وہ اُٹھا۔بہت ہمت جٹائی تھی۔قدم لڑکھڑا گئے تھے۔۔گھر کی عزت جب بھرے بازار رسوا ہوجائے،اس کے نام کی بولی لگائی جانے لگے،جب بیوی کی عزت نیلام ہوجائے تو یہ وقت کسی بھی غیرت مند آدمی کے لئے ڈوب مرنے کا مقام ہوتا ہے۔۔اور شیر افگن برداشت کرتا کرتا اب وہ واقعی ٹوٹ گیا تھا۔۔ موبائل کی گھنٹی ایک بار پھر بج اُٹھی تھی۔۔۔ ’’ہیلو!‘‘آواز میں صدیوں کی تھکن واضح تھی۔ارتضیٰ کو کچھ غلط ہونے کا شدت سے احساس ہو تھا۔ ’’تو ٹھیک تو ہےناں۔۔یار میں آرہا ہوں۔۔بس دو منٹ دے مجھے۔فکر نہیں کر ویڈیو۔۔‘‘ وہ شدید تذبذب کا شکار تھا۔۔ ’’نہیں !تو وہیں رُک میں آرہا ہوں۔۔یہاں حیات ہے۔۔میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ آخر زندگی میرا اور کتنا امتحان لے گی۔‘‘وہ جانے کے لئے پلٹا ہی تھا کہ اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا گماں سا گزرا تھا۔وہ آنکھیں میچ گیا۔کانوں میں کچھ ماہ قبل کے حیات کے لفظ بازگشت کرنے لگے تھے۔۔ ’’اوہ ہر وقت تو آپ ،ہر اینگل سے میری نت نئی تصاویریں مانگا کرتے تھے۔اور کہ رہے ہیں کہ اب میں اچھی لگنے لگی ہوں ۔‘‘ شیر افگن نے جب آنکھیں کھولیں تو وہ شدید ضبط کے باعث سُرخ انگارا ہورہی تھیں۔۔۔ ’’ کیا ہوا؟آپ موبائل پر ارتضی بھائی سے ایسا کیوں بول رہے ہیں افگن!سب ٹھیک تو ہے ناں!‘‘وہ پریشانی کے عالم میں گھوم کر سامنے آئی تھی۔کتنی ہی دیر وہ خاموشی سے اس کا متفکر آنداز دیکھتا رہا تھا۔۔کیا واقعی میں اس کی کوئی غلطی نہیں تھی۔۔ کیا واقعی میں یہ بدنامی محض اس کا نصیب ٹھرائی گئی تھی؟‘‘ان سوالوں کے جواب وہ خود بھی دینے سے قاصر تھا۔۔ ’’’ہاں سب ٹھیک ہے۔۔میں ذرا کام سے جارہا ہوں۔۔۔تم ۔۔۔تم خیال رکھنا اپنا۔۔‘‘وہ نظریں چُراتا تیزی سے فلیٹ سے نکل آیا تھا۔۔یہ جانے اور سوچے بغیر کہ ایک عدد موبائل فون حیات کے بھی زِیر استعمال تھا۔جو تمام تر فساد کی جڑ تھا۔۔وہ بھونچکا رہ گئی تھی۔ ’’اللہ خیر کرے۔۔۔ ایسا کیا ہوا اچانک سے!‘‘وہ جانتی تھی کہ افگن بس مذاق کر رہا تھا۔۔جب کافی دیر تک وہ روم میں نہیں آیا تو وہ خود ہی باہر نکل آ ئی تھی۔مگر وقت بہت ظالم تھا۔۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ یہ اس کی حماقت کی سزاؤں کا آغاز باب ہونے جارہا ہے۔۔جہاں اب بس زندگی کی کٹھنائیوں کی انتہا تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’افگن!ریلیکس یار!جوش سے نہیں ہوش سے کام لے۔۔میں نے اپنے بہت سے آئی ٹی ایکسپرٹ دوستوں سے رابطہ کیا ہے۔۔بس کچھ دِیر اور میرا وعدہ ہے یہ ویڈیو تمام پلیٹ فارمز پر سے ڈلیٹ ہوجائے گی۔‘‘وہ بھپرے شیر کی مانند تیز رفتار سے گاڑی چلاتے افگن کو بامشکل سمجھانے کی غرض سے بولا جس کا سیدھا رُخ احمر کے گھر کی جانب تھا۔۔۔عدالت کی کاروائی کے بعد بھی آج دن میں احمر سلطان کی بیل ہوچکی تھی۔۔کیسے۔۔اس کا جواب جاننے کی کوئی خاص ضرورت نہیں تھی۔۔۔ آگر آپ کے پاس پیسہ ہے تو جتنی تگڑی رشوت دی جاتی ہے، اس کے عوض سفارش بھی اتنی ہی اپُر سے لگائی جاتی ہے۔۔اور پاکستان تو وہ واحد ملک ہے جہاں انسان کی زندگی ،وقت،اس کی مجبوری،عزت نفس سب چند ٹکوں کی چھنکارپر گھنگھرو باندھ کر آپ کی من مرضی کا رقص کرنے کو تیار ہوجاتی ہیں۔یہاں پیسے کے بل پر سب کچھ خریدا جاسکتا ہے۔حتٰی کہ ضمیر بھی۔۔ ’’کیا کہنا چاہتے ہو تم ارتضیٰ!کیا تم نے صرف ایک گھنٹے میں ویڈیو ڈاؤن لوڈز دیکھیں ہیں؟‘‘ون ملین کراس کر گئے ہیں۔۔۔ایک لیک ویڈیو اتنی جلدی کیسے وائرل ہوسکتی ہے۔۔تم کہتے ہو کہ ریمو ہوجائے گی۔۔۔آخر کیسے۔۔۔یہ تصاویریں۔۔۔میری بیوی کی گئی عزت۔۔۔کیا وہ سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔بولو۔۔‘‘وہ غصےٰ سے پاگل ہورہا تھا۔۔وہ خود پر جتنا ضبط کرنے کی کوشش کرتا تھا۔۔قسمت اُسے اُسی دہرائے پر واپس لاکھڑا کرتی تھی،جہاں سے آغاز باب ہوا تھا۔۔۔ ’’ریلیکس!جب میں تجھ سے کہ رہا ہوں۔۔سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔تو مطلب سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔ میرے بہت سے واقف کار ہیکرز ہیں۔۔میں سب سے رابطے میں ہوں۔۔بس کچھ یر میں یہ ویڈیو نہ صرف ہر شخص کے موبائل سے ڈلیٹ ہوگئی بلکہ تمام سوشل میڈیا فلیٹ فارمز پر سے بھی ڈلیٹ ہوجائے گی۔۔‘‘اسے ٹھنڈا کرنے کی ایک نکام سی کوشش تھی۔۔مگر کیا وہ نادان تھا۔بھلا گئی عزت بھی کبھی واپس آئی ہے۔۔ ’’نہیں ارتضیٰ!اب آر یا پار!یہ شخص دوستی کی آڑ میں اور کتنا برباد کرنا چاہتا ہے مجھے۔۔آج یا تو میں زندہ رہونگا یا پھر احمر سلطان کی قبر میرے ہاتھوں بنے گی۔۔۔" ’’افگن!کوئی بھی انتہائی قدم اٹُھانے سے پہلے ایک بار تو سوچ ان لوگوں کے بارے میں ،جو تیری ذات سے وابسطہ ہیں۔۔اس سب میں واقعی آگر کسی کا نقصان ہے تو وہ ہے حیات بھابھی!عزت تو پہلے ہی چلی گئی۔۔اب آگر شوہر بھی چلا جائے گا، تو سوچ کیا قیامت گزرے گی ،اُن پر۔‘‘ ارتضیٰ نے اِسے ٹھنڈا کرنا چاہا۔۔۔ ’’اچھا ہے ناں!بہت اچھی بات ہے کہ میں نہیں رہونگا۔۔اسے بھی تو پتہ چلنا چاہیے ناں کہ اس کی غلطی کس قدر سنگین تھی۔۔ اسے بھی تو یہ احساس ہو کہ اس نے کیا گنوا دیا ہے۔۔۔ جو ازیت اس وقت میں محسوس کر رہا ہوں ،تو اس کا ایک پرسنٹ بھی نہیں محسوس کر سکتا ۔۔سمجھا۔۔اِس لئے منہ بند رکھ۔‘‘ شاید زندگی میں پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ افگن اس قدر بُری طرح چنگھاڑا تھا۔۔گاڑی صفدر ہاؤس کی بلڈنگ کے عین سامنے جھٹکے سے ٹھری تھی۔۔۔ اور وہ بھاگتے قدموں سے اپنے دشمن کے گھر میں داخل ہوا تھا،جہاں اس طرح بھاگتے ہوئے کبھی اُس کا بچپن گزرا تھا۔گارڈز کی اتنی ہمّت نہیں تھی کہ وہ اسے روک سکتے۔۔مگر کون جانتا تھا کہ حالات ایسا پلٹا کھائیں گے۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’احمر سلطان!باہر آ !بزدل انسان!مجھے نہیں معمول تھا۔۔کہ تو میری آستین کا اتنا بڑا سانپ نکلے گا۔۔ورنہ جبھی تیرا سر کچل دیتا!‘‘وہ مین ہال میں کھڑا شدت سے دھاڑا تھا۔۔جبھی وہ مسکراتا ہوا روم سے باہر نکلا تھا۔۔ ’’اوہ ہائے بڈی! ویلکم ویلکم!‘‘وہ خباثت سے مسکراتا نزدیک آیا۔۔ ’’یو!‘‘وہ شدید جذبات میں اس پر بُری طرح جھپٹ پڑا تھا۔۔جبکہ وہ خاموش تھا۔۔کوئی مزاحمت نہیں کی گئی تھی۔۔۔ ’’کیا ہوا ،تکلیف ہو رہی ہے۔۔بُرا لگ رہا ہے۔۔جب دوست آپ کی پیٹھ میں خنجر گھونپے تو کیسا لگتا ہے۔۔اب پتہ چلا۔۔مجھے بھی ایسا ہی محسوس ہوا تھا۔۔جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ جیسے میں نے بھائیوں کی طرح سمجھا تھا وہ میری بہن کی موت کا ذمہ دار ہے۔‘‘ ناک سے بہتا خون آستین سے رگڑتا وہ انتہائی نفرت سے بولا تھا۔وہ دونوں ہی بری طرح ہانپ گئے تھے۔۔ ’’دوست!دوست تیرے جیسے ذلیل نہیں ہوتے۔۔ تو نے ایک بار بھی مجھ سے پوچھا
