Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 48
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 17/10/2025
5 Views
Episode no 48
رُو رُو کر گڑا گڑا کر اپنی اس غلطی کی معافی مانگ رہی تھی،جو اُس نے اپنی بیوقوفی میں کی تھی۔۔وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔۔کہ اس کی یہ چھوٹی چھوٹی سی ٹک ٹاک ویڈیوز جو پرائیویٹ اکاؤنٹ سے محض اس افگن نامی شخص کو سینڈ کی گئی تھیں۔جن میں زیادہ تر فرمائشی ویڈیو ہوا کرتی تھیں۔جو زیادہ تر بغیر دوپٹے کے بنائی گئی تھیں۔۔جو اکثر ہی لڑکیاں جب ریلشن شپ میں ہوں تو اپنے پارٹنر،یا فیانسی کے ساتھ شئیرکردیتی ہیں۔۔۔مگر وہ اس قدر بھیانک روپ دھار کر اُس کے سامنے پیش ہونگی،اِس کا تو اُسے آندازہ بھی نہیں تھا۔۔ جب وہ اپنی قسمت کو کوس کوس کر تھک گئی تو اُسے افگن کا خیال آیا تھا۔۔اس کی سُرخ آنکھیں۔۔خالی نظروں سے اُس کا چہرہ دیکھتا افگن اسےکس قدر ازیت میں لگا تھا۔۔ اور وہ کیوں نہ ہوتا حیات کاظمیٰ سے محبت کرنے کی اتنی بڑی سزا جو مل رہی تھی اُسے۔۔۔خوف کے مارے اس کی ہچکی بندھ گئی تھی۔۔۔آگر افگن نے اسے چھوڑ دیا تو۔آگر اس سے نفرت کرنے لگا۔۔۔۔۔وہ کیسے سامنا کرے گی اس شخص کا۔جسے زندگی میں سب سے زیادہ چاہا ۔۔جس کے حصول کی خاطر ہر اچھا بُرا فراموش کردیا۔۔اپنے سگّو ں سے بغاوت کی۔۔اپنے باپ کی موت کی زمہ دار بنی۔۔۔آخر وہ کیسے اس شخص کی نفرت یا دھتکار کو برداشت کرسکے گی۔۔جس نے اسے مان دیا۔عزت دی محبت دی۔۔۔اور اس نے کیا کیا۔۔۔سب ختم کردیا۔۔۔ہاں سب ختم ہوگیا تھا۔۔۔سب ختم ہوگیا تھا۔۔۔آج حیات کاظمیٰ بھی ختم ہوگئی تھی۔۔ ’’نہیں!نہیں۔۔میں اپنی وجہ سے آپ کی زندگی کو سزا نہیں بننے دونگی۔۔میں یہ وجہ ہی ختم کر دونگی جو شیر افگن کی زندگی کا ناسور ہے۔۔۔‘‘وہ سسک سسک کر روتی!اپنے آنسو پونچھتی تیزی سے کچن کی جانب بڑھی تھی۔۔ہذیانی سی کیفیت میں مبتلہ، وہ مطلوبہ چیز کےملتے ہی بے انتہا سفاکیت سے آنکھیں میچتی چھری اپنی کلائی پر پھیرنے ہی لگی تھی۔۔کہ کسی نے تیزی سے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ پکڑ کر جھٹکا تھا۔۔حیات نے پٹ سے آنکھیں کھولیں تھیں۔جہاں وہ سامنے کھڑا غصّے سے اُسے ہی گھور رہا تھا۔۔حیات کا دم خشک ہوگیا تھا۔۔۔ ’’کیا کر رہی ہو حیات؟ پاگل ہوگئی ہو کیا؟؟‘‘شیر افگن جو رش ڈرائیونگ کرتا گھر پہنچا تھا،اُسے سامنے ہی کچن میں کھڑا دیکھ وہ کسی انہونی کے ڈر سے دُوڑ کر نزدیک آیا تھا۔۔جو ایک اور حماقت کرنے جارہی تھی۔ارتضیٰ تاسف سے نفی میں سر ہلاتا دروازے سے ہی پلٹ گیا تھا۔۔۔ ’’کیا کرنے جارہی تھیں۔۔بولو،ہمت کیسے ہوئی تمہاری یہ قدم اُٹھانے کی۔۔۔‘‘وہ حیات کا خوفزدہ چہرہ دیکھ،اُس سے بھی زیادہ خود خوف میں مبتلہ تھا۔۔ابھی ایک غم بھرا نہیں تھا کہ دوسرا! ’’میں۔۔۔۔۔۔‘‘وہ خوفزدہ سی اُس سے چار قدموں کے فاصلہ پر کھڑی ،کانپتی ہوئی برُی طرح سے رو رہی تھی۔۔آج اپنے درمیان یہ فاصلہ صدیوں پر مشتمل لگ رہا تھا۔۔جیسے شاید اب وہ کبھی طے نہیں کر سکتی تھی۔کپکپاتی تھوڑی،آنسوؤں سے نم چہرہ،لفظ اپنے آپ ہی دم توڑ گئے تھے۔۔۔اُس کی حالت کے پیش نظر اُس نے خود آگے بڑھ کر اُسے سینے سے لگایا تھا۔۔جو ُاس مہربان کا سہارا پاتے ہی بکھر گئی تھی۔جبھی وہ سینے سے ماتھا ٹیکائے سسک سسک کررو پڑی تھی۔ جبکہ وہ اب کافی حد تک اپنی حالت پر کنٹرول کر چکا تھا۔۔۔ جو برباد ہونا تھا وہ ہوچکا تھا۔۔اب حقیقت کو نہیں بدلہ جا سکتا تھا۔۔مگر جو رہ گیا تھا۔۔اب وقت اسے بچانے کا تھا۔۔ ’’وہ۔۔۔۔۔۔وہ۔۔۔مجھے معاف۔۔میں نے جان کر نہیں۔۔۔۔۔میں نے جان بوجھ کر کچھ نہیں۔۔۔میں اچھی نہیں ہوں۔۔بالکل بھی اچھی نہیں ہوں۔۔میرے ساتھ یہی ہونا چاہیے تھا۔۔میری آندھے اعتبار کی یہی سزا ہونی چاہئے تھی۔۔۔مجھے معاف۔۔۔۔میری وجہ سے آپ کی۔۔۔۔۔‘‘وہ بے ربطہ سے جملے ادا کرتی شدید ازیت کی انتہاؤں کو چھو رہی تھی۔۔جبکہ وہ اس کی پیٹھ سہلانے کے علاوہ دلاسے کا ایک لفظ بھی ادا نہیں کر سکا تھا۔۔۔ ’’مجھے معاف کردیں۔۔۔یہ سب میری وجہ سے۔۔۔‘‘وہ ایک بار پھر سسکی تھی۔ ’’شش!بس خاموش ہوجاؤ۔۔جو ہونا تھا وہ ہوگیا۔۔اب کچھ بدلا نہیں جاسکتا حیات۔۔۔‘‘جب وہ کافی دیر تک رو رو کر تھک گئی۔۔اپنا سارا غبار نکال چکی۔۔تو اسے پکڑ کر کچن میں رکھی، ہائی چئیر پر بیٹھایا تھا۔۔۔جس کی ہچکیاں بندھی ہوئی تھی۔۔۔ ’’لو پانی پیو!‘‘وہ ہچکی بھرتی ،ہاتھ سے گلاس دور کر گئی۔ ’’پانی پیو حیات!وہ زبردستی اُس کے لبو ں سے گلاس لیتا، سختی سے بولا۔۔جس نے بامشکل دو چار گھونٹ ہی پانی پیا تھا۔۔جبکہ وہ خود ایک ساتھ دو سے تین گلاس چڑھا گیا تھا۔۔۔اوراب وہ اس کے مقابل چئیر پر خاموش بیٹھا تھا۔۔دونوں ہی فریقین کے پاس کہنے کو کچھ نہ تھا۔۔دونوں اپنی اپنی جگہ خاموش تھے۔۔وقت تیزی سے بیت رہا تھا۔رات کا نجانے کونسا پہر تھا۔۔جبھی افگن کا موبائل بلنک ہوا تھا۔۔حیات نے چونک کر دیکھا۔۔افگن نے اُسے ایک نظر دیکھ کر کال ریسیو کی۔۔۔۔ ’’ہیلو!‘‘دوسری جانب سے خاموشی محسوس کر وہ خود ہی بولا تھا۔۔ ’’سب ٹھیک ہے!‘‘ارتضیٰ ابھی تک آپارٹمنٹ کے باہر کھڑا تھا۔ ’’ہمم!کہاں ہے؟‘‘وہ اپنی آنکھیں مسلتا ضبط سے بولا۔ ’’یہیں ہوں۔خیر جن اکاؤنٹس سے ویڈیو اپلوڈ ہوئی تھی وہ سب اکاؤنٹس ڈی ایکٹیویٹ کر دیے گئے ہیں۔۔اور سائیبر کرائم کے تحت ان تمام لوگوں کو جلد حراست میں لیا جائے گا۔۔جن اکاؤنٹس کے تھرو یہ کام ہوا تھا۔۔اور میں نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ ویڈیو ہر پلیٹ فارم پر سے ڈلیٹ ہوجائےمگر۔۔۔۔‘‘ باقی کے لفظ وہ ادھورے چھوڑ گیا تھا۔۔ ’’ہاں قانون کی مدد لینے سے ایک فائدہ ضرور ہوا تھا کہ اب وہ ویڈیو آگر دوبارہ سسٹم پر اپلوڈ کی جاتی تو پھر کیمیونٹی اسٹینڈرز ،کونٹینٹ وائلیشن کے تھرو کونٹینٹ خود ہی ریمو ہوجاتا۔۔اب وہ مزید شئیر نہیں ہوسکتی تھی۔۔۔مگر موبائل گیلری سے ریمو کرنا مشکل کام تھا۔۔ ’’اچھا!‘‘وہ ماوف دماغ سے بس اتنا ہی بولا تھا۔۔ ’’میرا یہی مشورہ ہے کہ تو فی الحال ابھی فوری ٹکٹ لے اور بھابھی کو لے کر کہیں دور چلا جا!احمر کا باپ اس کی یہ حالت دیکھ خاموش نہیں بیٹھے گا۔بلکہ اب تک تیرے خلاف پرچہ کٹ چکا ہوگا۔‘‘اس نے آئندہ حالات سے آگاہ کرنا ضروری سمجھا تھا۔۔۔ ’’اِس کی کوئی ضرورت نہیں ہے!میں کل ہی گھر واپس جارہا ہوں۔‘‘ وہ اتنا تو سمجھ گیا تھا کہ اب حیات کا یہاں اکیلے رہنا بالکل بھی سیو نہیں تھا۔۔۔ ’’ہمم!جو بھی کرنا ہے دھیان سے کرو!‘‘ دونوں طرف سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔۔حیات سر جھکائے بیٹھی اپنی ہتھیلیاں گھوررہی تھی۔ بال سارے چہرے پر بکھرے ہوئے تھے۔۔ ’’حیات جاکر ریسٹ کرو!‘‘ وہ ایک نظر اس کے سر پر ڈال کر گھر سے باہر نکلنے لگا تھا۔جبھی وہ تیزی سے بھاگتی ہوئی اس کی راہ میں حائل ہوئی تھی۔ ’’کہاں۔۔۔کہاں جارہے ہیں؟‘‘وہ خوفزدہ سی ہوگئی تھی۔ ’’کیا ہوگیا ہے یار۔روم میں جاؤ۔۔ارتضیٰ کھڑا ہے نیچے۔کام سے جارہا ہوں۔۔واپسی میں دیر ہو جائے گی۔‘‘وہ سمجھانے والے لہجے میں بولا تھا۔ ’’نہیں!میں اکیلے نہیں۔۔مجھے چھوڑ کر تو نہیں جارہے ناں!‘‘اس کے لہجے سے ڈر عیاں تھا۔ ’’ایسا کچھ۔۔۔۔وہ ابھی کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ ناصر صاحب کے نمبر سے کالنگ جگمگانے لگا۔۔وہ متعجب سا جلدی سے کال پِک کر چکا تھا۔ ’’افگن!کیا ہے یہ سب۔۔۔یہ پولیس تمہیں احمر کو قتل کی کوشش کے جرم میں تمھیں گرفتار کرنے آئی ہے کیوں؟‘‘دوُسری جانب سے وہ غصےٰ سے بولے۔۔افگن نے پریشانی سے انگھوٹے سے نے اپنا ماتھا بجایا ۔۔ ’’ ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔آپ ریلیکس رہیں۔۔میں آرہا ہوں۔‘‘ وہ اپنے باپ کا سُوچ جلدی سے بولا۔ ’’یہاں آنے کی ضرورت نہیں۔کیونکہ پولیس تمہیں ڈھونڈتی ہوئی وہیں آرہی ہے۔۔یہ کیا چکر ہے بیٹا!‘‘ وہ راستے میں ہی تھے۔۔افگن نے رُوتی ہوئی حیات
