Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 48
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 17/10/2025
5 Views
Episode no 48
کہ اس بات میں کتنی سچائی ہے۔۔نہیں۔۔خود سے ہی سب سوچ لیا۔۔اور تیری ہمت کیسے ہوئی میری بیوی کے ساتھ یہ سب۔۔۔‘‘وہ ایک بار پھر اس پر چڑھ دوڑا تھا۔۔ارتضیٰ نے بامشکل اسے سنبھالا تھا۔۔جس کا موبائل بار بار بج رہا تھا۔۔ لیک ویڈیو کے ڈاؤنلوڈز صرف ڈیڑھ گھنٹے میں پندرھ لاکھ سے اپُر چلے گئے تھے۔۔ ویڈیو بہترین وقت کو مد نظر رکھتے ہوئے۔ پرائم ٹائم میں اپلوڈ کیا گیا تھا۔جس وقت ہر پلیٹ فارم پر عوام کا ٹریفک ہوتا ہے۔اور جن اکاؤنٹس کے تھرویڈیو وائرل ہوا تھا۔انہیں ہیک کرنا اتنا بھی آسان نہیں تھا۔۔ ’’افگن!افگن چلو یہاں سے۔۔ہم اس سے عدالت میں نمٹ لیں گے۔۔چلو!‘‘ وہ جب اپنا غصہٰ اُتار کر بُری طرح تھک چکا تھا تو بال پکڑ کر زمین پر بیٹھ گیا۔۔آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا تھا۔۔ ہر طرف سے ایسا محسوس ہورہا تھا۔۔جیسے لوگ اس پر ہنس رہے ہوں۔۔۔ ’’ہاں ہاں!جاؤ۔۔ویسے معلوم نہیں کہ تمہاری شریف زادی بیوی یہ ویڈیو دیکھ چکی ہے یا نہیں۔۔مگر میں اپنا فرض نبھاتے ہوئے،یہ نایاب ویڈیو آپ کی زوجہ کے نمبر پر سینڈ کر چکا ہوں۔۔آگر وہ واقعی کسی غیرت مند باپ کی اولاد ہوگی تو اب تک واقعی مر چکی ہوگی۔‘‘خون سے لت پت برُی طرح لہو لہان وہ مُسکرایا تھا۔۔یہ سنتے ہی افگن کے جسم میں بجلی سی کوند گئی تھی۔ ’’تم!باسٹرڈ!‘‘ارتضیٰ نے اسے بامشکل سنبھالا تھا۔۔۔ ’’دیکھو افگن ہم دونوں کی جو بھی لڑائی تھی ،وہ اب ختم کرو۔تمہاری وجہ سے میری بہن مر گئی ،اور اب میں نے اس کا بدلہ تمہاری اس دو نمبر بیوی سے لے لیا۔۔ تو بس اب دشمنی ختم۔اب ہم دوست ہیں۔۔‘‘‘ افگن نے ارتضٰی کی گرفت سے ہی پاس رکھا واز اُٹھا کر اس کی طرف پھینکا تھا۔ ’’شٹ اپ!تمہاری بہن ۔اپنی غلطیوں کی وجہ سے مری تھی۔۔میں نے نہیں کہا تھا اُس سے کہ وہ مجھ سے محبت کرے۔۔میں نے نہیں کہا تھا کہ وہ میری جگہ خود کھائی میں جاگرئے۔۔میں نے کبھی اس کی طرف آنکھ اٹُھا کر بھی نہیں دیکھا سمجھے۔۔۔الزام لگانا بند کرو۔یو۔۔۔۔۔‘‘ وہ شدید غصےٰ میں مُغَلَّظات بکتا شدید کرب سے دوچار تھا۔۔۔ ’’تم نے میری بہن کی نادانی کو اس کی اتنی بڑی سزا بنا دیا تھا کہ وہ اپنی جان لینے سے بھی باز نہ آئی۔۔آج تم۔۔۔نے اس دو ٹکے کی لڑکی کو بھی تو اپنے دل میں جگہ دی ہے ناں۔۔کیا چلا جاتا آگر تم میری بہن کو بھی وہی عزت ،جگہ ،محبّت دے دیتے جس کی وہ طلب گار تھی۔۔صرف تم سے محبّت کی تھی ،کوئی گناہ نہیں کیا تھا ُاس نے۔۔آج وہ تمہاری بیوی،تم سے اپنی محبت کا دم بھرتی ہے تو تم اس کے آگ پیچھے گھومتے ہو۔۔ جو تم سے نہیں صرف تمہارے نام،اور اسٹیٹس سے محبت کرتی ہے۔۔مگر نہیں۔۔۔شیر افگن صاحب کو تو اُجالا چاہئے تھی۔۔جاؤ اب قبر سے لے آؤ اُجالا کو۔۔میں نے تمہیں کہیں کا نہیں چھوڑا شیر افگن ہاشمی۔۔آگر بینا سلطان نہیں تو نہ اُجالا نہ حیات۔۔۔۔۔۔‘‘ گھر میں اس وقت کوئی بھی موجود نہیں تھا۔۔ دروازے پر موجود گارڈز کو وہ اشارے سے ہی باہر نکال چکا تھا۔۔کیونکہ وہ شیرافگن کی بے بسی کا وہ عالم دیکھنا چاہتا تھا۔جیسا اُس وقت اِس نے اپنی بہن کو قبر میں اُتارتے وقت محسوس کیا تھا۔جبکہ شیرافگن اس وقت بے بس زخمی شیر بنا محض اِس پر دهاڑنے کے سِوا کچھ نہیں کرسکتا تھا۔۔۔ ’’میری بیوی کے بارے میں ایک اور لفظ کہا تو ،میں تمہیں جان سے مار دونگا۔۔‘‘آگر ارتضیٰ نے اسے قابوں نہ کیا ہوتا تو وہ سچ میں ایسا کر گزرتا۔۔ ’’تمہاری بیوی۔۔۔۔ہاہاہاہاہاہاہاہا۱!جیسے بھی ہو آفٹر آل دوست ہو میرے۔۔ایک مخلصانہ مشورہ دوں۔۔وہ لڑکی کبھی تمہاری نہیں ہوسکتی۔۔میں نے تین سال ڈیٹ کیا ہے تمہاری بیوی کو شیر افگن بن کر۔۔ وہ لڑکی میرے ایک اشارے پر کچھ بھی کرنے کو تیار تھی۔جو مجھ پر آندھا اعتماد کر کے اپنی سینکڑوں تصاویریں،ویڈیوز بھیج سکتی ہے۔تو سوچوں شیر افگن وہ کیا کچھ نہیں کر سکتی۔۔۔اور ہاں وہ تمہارے نکاح میں آنے سے قبل دو راتیں میرے آدمیوں کے پاس رہی ہے۔۔صاف بات ہے میں نے تو کبھی اُسے ہاتھ بھی نہیں لگایا۔۔کیونکہ آفٹر آل میری ہونے والی بھابھی تھی۔اور بھائی کے حق پر میں ڈاکا مار نہیں سکتا۔اب اتنا بھی بے غیرت نہیں۔"وہ استہزائیہ مسکرایا۔ "مگر میرے آدمیوں نے آگر۔۔۔۔وہ دوسری ویڈیو تو دیکھی ہے ناں تم نے۔"وہ خون میں لت پت ہونے کے باوجود ذومعنیت سے بولتا ایک لمحے کو ٹھرا۔۔جبکہ اُس کا ضبط جواب دے گیا تھا۔۔وہ ارتضٰی کو پیچھے دهکیلتا اس کی جانب لپکا۔۔ "تمہاری بیوی جھوٹی ہے۔۔۔جھوٹ بولتی ہے تم سے۔۔۔ایک آوارہ۔۔۔۔‘‘ ہانپتے ہوئے احمر کے باقی کے الفاظ شیر افگن کی جانب سے سر پر لگائی جانے والی ضرب سے ادَھورے ہی رہ گئے تھے۔۔اس کی گردن دوسری جانب لڑکھ گئی تھی۔۔ ’’افگن یہ کیا کیا!‘‘وہ صوفے سے زمین پر گر پڑا تھا۔۔نجانے سانسیں چل بھی رہی تھیں یا نہیں۔۔مگر وہ خاموش ہوگیا تھا۔۔۔آگر وہ خوش تھا کہ اس نے آج شیر افگن ہاشمی کو برباد کر دیا تو وہ بالکل درست تھا۔۔۔ہاں آج افگن نے خود کو دنیا کا بد قسمت اور برباد شخص محسوس کیا تھا۔۔۔ ’’یہ بکواس کر رہا ہے حیات کے بارے میں!‘‘وہ عجیب سی کیفیت میں ارتضیٰ کی جانب رُخ کر کے بولتا گویا اس سے زیادہ خود کو یقین دلا رہا تھا۔۔ارتضیٰ کو اس کی مینٹلی کنڈیشن اپ سیٹ لگی تھی۔۔ ’’چل یہاں سے۔۔۔‘‘ ’’نہیں ۔۔میں اِسے جان سے مار کر اب سیدھا جیل جاؤں گا۔۔‘‘وہ اَدھ مرے احمر کی جانب بڑھتا جنونی ہو رہا تھا۔ ’’انف !گھر چل،آگر واقعی اس کی بات میں کوئی سچائی ہوئی تو سوچ اس وقت حیات کا کیا حال ہوگا ،اپنی۔۔۔اس طرح کی ویڈیو۔۔۔پلیز !ٹرائے تو آنڈاسٹینڈ!سنبھال خود کو۔۔‘‘ وہ بامشکل اسے گھسیٹا ہوا باہر لایا تھا۔۔افگن کے کپڑوں پر لگا خون دیکھ گارڈز تیزی سے دوڑ کر گھر کے آندرونی حصےٰ کی جانب بھاگے تھے۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’حیات جو افگن کے جانے کے بعد پریشان سی کچن سمیٹ کر روم میں آئی تھی۔۔اب بے چین سی روم کے چکر لگا رہی تھی۔دل میں بے چینی سی بڑھتی جارہی تھی۔۔وہ افگن کو کال کرنے کی غرض سے سائید ٹیبل پر رکھا اپنا موبائل اُٹھاتی اپنی کال ہسٹری چیک ہی کر رہی تھی۔۔کہ واٹس ایپ کی نوٹیفیکشن جگمگائی تھی۔وہ ان نان نمبر سے ویڈیو پیغام دیکھ متعجب ہوئی۔ ویڈیو چار سیکنڈ کے ڈاؤن لوڈ کے بعد پلے ہوگئی تھی۔۔۔۔اور حیات جیسے جیسے نیم برہنہ اور قابل اعتراض حالت میں موجود تصاویروں پر ویڈیو پر اپنا چہرہ دیکھ رہی تھی،اس کی حالت خراب ہوتی جا رہی تھی۔۔ ’’’یہ۔۔۔۔‘‘ہاتھ کانپنے لگے تھے۔۔۔۔ااس کی کئی تصاویریں بھیجی گئی تھیں۔۔ہاں وہ تصاویریں اسی کی تھیں جو اس نے کبھی افگن کو سینڈ کی تھیں۔کہیں وہ مُسکرا رہی تھی۔تو کہیں کوئی خوبصورت سا پوز تھا۔۔مگر اس کی انہی تصاویروں کو بہت صفائی سے ایڈٹ کر کچھ اس طرح جوڑا گیا تھا۔کہ وہ دیکھنے والوں کو اصل ہی لگتیں۔۔اور وہ آخری ویڈیو۔۔اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے وہ آخری ویڈیو آن کی تھی۔۔جو محض پندرہ سیکنڈ کی تھی۔۔ مگر وہ منظر۔۔۔حیات نے شدت سے رُوتے ہوئے موبائل فون کو کسی گندی چیز کی طرح خود سے دور کر دیا تھا۔۔اور زمین پر بیٹھتی چلی گئی تھی۔۔چہرہ ہاتھوں میں چھپاتی وہ خود کو نوچنے کھوسٹنے پر آگئی تھی۔۔اس کی یہ حماقت آخر کب تک اس قدر تلخ حقیقت کا رُوپ دھار کر اس کے سامنے رہے گی۔۔وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھی۔۔ ’’یا اللہ!مجھے معاف کردے۔۔۔ بخش دے مجھے۔۔۔‘‘سجدے کی صورت وہ زمین پر گری
