Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode No 43 44
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 17/10/2025
672 Views
Episode No 43 44
’’یہ بھی خوب کہی تم نے! کہ مجھے اپنی سابقہ محبت کو اپنانے کا موقع مل گیا تھا۔۔اس سابقہ محبت کو میں اسی دن بھول گیا تھا جس دن تم میرے نکاح میں آئی تھیں۔مگر ہاں مجھے اس بات سے ہر گز بھی انکار نہیں کہ میرے دل کے ایک کونے میں وہ ہمیشہ رہی ہے۔پہلی محبت کو بھول جانا اتنا بھی آسان نہیں ہوتا یہ بات تم سے بہتر اور کون جان سکتا ہے حیات افگن!‘‘سینے سے لگی بیٹھی حیات کی کمر سہلاتا وہ نرمی سے بولا تھا،وہ ابھی بھی ہچکیاں بھر رہی تھی۔ ’’میری جیسی محبت آپ سے کوئی نہیں کر سکتا!‘‘وہ اپنی بات پر قائم تھی۔ ’’اس بات میں کوئی شک نہیں۔اور تمہیں پانے کے بعد مجھے اس بات کا شدت سے احساس جاگا ہے کہ چاہنے سے زیادہ چاہے جانے کا احساس زیادہ خوبصورت اور جان لیوا ہوتا ہے۔اُجالا اس دل میں تھی،مگر اب تم ہو اور ہمیشہ اس دل کے ،سب سے اونچے درجے پر رہو گی جہاں کوئی نہیں آسکتا!مگر ہاں ایک لڑکی ایسی ضرور ہے جو مجھے ہمیشہ تم سے زیادہ عزیز ہوگی۔‘‘ وہ سنجیدگی سے بولتا یکدم شرارت پر آمادہ ہوا۔ ’’پھر اُجالا!وہ خفا ہوتی دور ہونے لگی۔ ’’یار ہماری بیٹی!دیکھو وہ میری سب سے زیادہ لاڈلی ہوگی ناں۔پھر میں تمہاری جگہ کہاں سے بناؤ گا۔۔‘‘وہ شررات سے بولا۔تو وہ روتے روتے مسکرا دی تھی۔ ’’آئی ہے نہیں،،لاڈلی ہوگی،‘‘وہ بڑبڑائی تو وہ قہقہہ لگاتا اسے خود میں بھینچ گیا۔ ’’دیکھو دو لڑکیاں ایسی ہیں جنہیں میں تم سے زیادہ پیار کرتا ہوں۔ایک میری بیٹی دوسری میری عابثہ!‘‘ وہ دل سے مسکراتا عابثہ کو یاد کر مطمئن ہوگیا تھا۔۔جو آرتضی کے ساتھ خوشی اور مطمئن تھی۔۔ ’’ایک منٹ !ایک منٹ!یہ عابثہ کا ذکر کہاں سے آگیا۔۔آپ اس کا ذکر دو بار کر چکے ہیں،کیا لگتے ہیں آپ عابثہ کے۔‘‘وہ سخت پریشانی کے عالم میں مخمصے میں گھری ایک بار پھر خوفزدہ ہوئی۔ ’’میرا واحد خونی رشتہ،میری بچی،میری شہزادی ہے وہ،میری پہلی اولاد ،میری عابثہ۔‘‘وہ اسے یاد کر محبت سے بولا تو حیات نے ناسمجھی سے اس کی جناب دیکھا۔ ’’مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا!‘‘ ’’تم اپنا دماغ نہ چلاؤ ،گھس جائے گا۔‘‘وہ دوبارہ اپنا سر اسی پوزیشن میں رکھتا شرارتی لہجے میں بولا۔ ’’بتائیں ناں!کون ہے عابثہ!‘‘وہ شدید پریشانی سے دوچار تھی۔۔ ’’ ہر وقت مجھے شک نہیں کی نگاہ سے نہ دیکھا کرو حیات بیگم،وہ بھانجی ہے میری!‘‘وہ آنکھوں میں خفگی سموئے ،ذرا نارض لہجے میں بولا تو حیات کو تو اچھو ہی لگ گیا تھا۔۔ ’’کیا؟؟؟؟بھانجی؟؟اتنی بڑی عمر کی بھانجی؟؟مطلب آپ اس کے ماموں ہیں۔اور میں مامی؟؟؟‘‘ وہ ہونق ہوئی حیرت سے بولی۔ ’’ظاہر سی بات ہے۔‘‘اس کا اطمینان قابل دید تھا۔ ’’اور ارتضیٰ بھائی۔۔۔وہ۔اوہ مائی گاڈ۔۔۔‘‘ ’’وہ کمینہ میرا داماد۔۔۔ہاہاہاہاہا۔۔۔‘‘اپنی بات کو کہ کر اس نے خود ہی انجوئے بھی کیا تھا۔حیات کے چہرے پر تو بارہ بج گئے تھے۔ ’’یہ سب کیا چکر ہے۔۔مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا افگن۔۔کبھی اُجالا کبھی عابثہ۔۔۔آپ کہنا کیا چاہتے ہیں۔۔‘‘وہ برُی طرح سٹپٹا کر رہ گئی تھی۔ جبکہ وہ یکدم سنجیدہ ہوگیا تھا۔جس حقیقت پر سے وہ پردہ اُٹھانے جارہا تھا وہ بے شک تلخ تھی مگر حیات کا جاننا بھی بہت ضروری تھا۔ ’’میری بات سُنو حیات!‘‘ وہ اس کا چہرہ تھام کر نزدیک کرتا نرمی سے بولا،جو مکمل طور پر اُس پر جھکی بیٹھی تھی۔۔۔۔ ’’میری ماں ایک ریپ وکٹم تھی۔۔اور میں اس وحشی درندے صفت انسان کی اولاد شیر افگن ہاشمی!‘‘ یکایک اس کے لہجے میں شدید تلخی سمٹ آئی تھی۔حیات نے اپنا سانس تک روک لیا تھا،اس کی آنکھیں افگن کے چہرے پر منجمند ہوگئی تھیں،جو اپنا نگاہوں کا رخ پھیرتا اُس کی گود میں چہرہ چھپاتا اس کی بے یقین نظروں سے بچتا آنکھیں میچتا اپنے آنسو پی گیا۔۔۔۔۔کون کہتا ہے کہ مرد نہیں روتے۔وہ واقعی نہیں رورہا تھا مگر حیات کاظمیٰ کے سامنے اس کی بنجر آنکھیں بھی خود میں سمندر برابر آنسوؤں کو سموئے ہوئے جیسی لگی تھیں۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔
Comments
Leave a Comment
Hina Batool
Fri Oct 17 2025
Zaberdast ♥️ But bhut khubsurt ♥️♥️
Jia
Sat Oct 18 2025
Uffff super say bhi uper Mind blowing
