Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode No 43 44
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 17/10/2025
672 Views
Episode No 43 44
ناں !‘‘ فرنٹ سیٹ پر موجود عابثہ کے لہجے میں افسوس بول رہا تھا۔۔۔۔ ’’ہمم!‘‘سنجیدگی سے ڈرائیو کرتا ارتضیٰ چونکا،اور ہنکار بھر کر رہ گیا۔۔ ’’بھلا اتنا تماشہ کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔آگر انہیں افگن بھائی اتنے ہی ناپسند تھے تو پہلے پالا ہی کیوں؟‘‘وہ ذرا تلخی سے بولی۔اس کے صرف یہی تو منہ بولے رشتے تھے،جن کا بھرم اور احسان چکانے کی خاطر اس نے کبھی عابثہ اور اپنے رشتے کو دنیا کے سامنے عیاں نہیں کیا تھا۔۔۔ ’’ان کے گھر کا ذاتی مسٔلہ ہے،ہم کیا کہ سکتے ہیں۔‘‘ موڑ کاٹتے ارتضیٰ نے ایک نظر اسے دیکھا، جو پستہ رنگ سمپل سے شلوار سوٹ میں ملبوس گلے میں دوپٹہ ڈال کر بیٹھی کچھ زیادہ ہی افسردہ دکھائی دے رہی تھی۔ ’’تو اب وہ کیا کریں گے،مطلب افگن بھائی کی باتوں سے تو یہی لگ رہا تھا کہ وہ گھر چھوڑ دیں گے۔کیا آپ کو اس حقیقت کا علم تھا؟‘‘وہ باقاعدہ طور پر اُس کی جانب گھومی،دل اس کے بارے میں سوچ سوچ کر پریشان ہوا جارہا تھا۔ ’’ناصر انکل ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے۔ افگن بھلے خود کو کتنا بھی لاپرواہ اور غیر زمہ دار شو کرلے مگر،انکل کا کہا کبھی نہیں ٹالتا۔۔ اور میرے لئے یہ حقیقت کسی شاکڈ سے کم ہر گز نہیں کہ زرین آنٹی افگن کی والدہ نہیں ہیں۔‘‘وہ پرسوچ لہجے میں بولا تو عابثہ لب چبا کر رہ گئی۔۔۔ ’’اپنے کسی عزیز کے بارے میں اس طرح کی کسی سچائی کا ادرک ہونا کس قدر تکلیف دہ ہوتا ہے ناں !‘‘وہ گزرے وقتوں میں کھوئی افسردہ مسکراہٹ سے گویا ہوئی تھی۔۔۔ ’’مجھے اس بات کا دکھ تو نہیں!مگر گلہ ضرور ہے کہ اس کمینے نے مجھے،اپنے بیسٹ فرینڈ تک کو کبھی نہیں بتایا!‘‘ وہ خفا ہوا تھا جیسے افگن اس کے سامنے ہی بیٹھا ہو۔عابثہ نے چونک کر اس کے تاثرات چانچنا چاہے تھے۔ماتھے پر ناگوار شکنیں نمودار ہوئیں تھیں۔۔ ’’آگر کبھی میرے بارے میں آپ کو کوئی غیر متوقع بات معلوم ہو تو آپ کا کیا ریکشن ہوگا ارتضیٰ!‘‘وہ یونہی پوچھ بیٹھی تھی، کیونکہ جو شخص بچپن کے دوست سے خفا ہوسکتا تھا تو وہ تو پھر چند دنوں کی زبردستی کی بیوی تھی۔اور یہ حقیقت کوئی چھوٹی بات تو ہر گز نہیں تھی۔۔ ’’طبیعت تو ٹھیک ہے تمہاری!ان باتوں کو خود پر سوار نہیں کرو! ریلیکس یار!میں جانتا ہوں کہ تم نے اب تک کس طرح کی زندگی گزاری ہے۔مجھ پر اعتبار کرنا،میرا وعدہ ہے کہ تم مجھے اپنے معاملے میں ہمیشہ باظرف ہی پاؤ گی۔‘‘وہ ایک میچور مرد تھا،چہروں پر لکھی پہلیاں پڑھنے کے ہنر سے آراستہ،آگر چہ وہ دونوں اس رشتے سے مطمئن تھے مگر وہ جانتا تھا کہ اعتبار کا رشتہ قائم ہونے میں ابھی وقت لگنا تھا۔ ’’تھینک یو!‘‘وہ مان بھرے آنداز میں اس کا ہاتھ تھام کر محبت سے بولی تھی۔ ’’اہمم!اس لفظ کی جگہ کچھ اور بھی بولا جا سکتا تھا۔‘‘وہ ذرا ذو معنیت سے بولا تھا۔ ’’جیسا کہ!‘‘وہ سمجھنے کے باوجود آئی برو اٹھاتی انجان بنی۔ ’’آئی لو یو!‘‘اُس کا وہی ہاتھ تھام کر ہونٹوں سے لگاتا وہ اسٹیرنگ وهیل پر رکھ چکا تھا۔ ’’کیا بولنا ضروری ہے؟‘‘وہ پل میں سُرخ ہوتی نگاہیں پھیر کر دھیمے لہجے میں بولی تھی۔ ’’بندہ خوش ہوجاتا ہے۔‘‘وہ مزے سے بولا تو عابثہ کو شرارت سوجھی۔ ’’پھر تو آپ کو مجھے خوش کرنے کے بارے میں تفصیل سے سوچنا چاہئے!‘‘ وہ اس کی بات پر قہقہہ لگا اُٹھا تھا۔ ’’گڈ آئیڈیا!میں اُس مفید مشورے پر میں گھر جاکر غور کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔‘‘وہ آنکھ کا کونا دباتا اُسے مسکرانے پر مجبور کر گیا،جو آگے بڑھ کر اُس کے شانے سے چہرہ ٹکاتی تیزی سے بھاگتی دوڑتی گاڑیوں کی رفتار دیکھنے میں کھو گئی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’یہ لیں آپ کی کافی!‘‘وہ ڈیسنگ روم میں موجود لاکر کھولے کھڑا تھا جبھی حیات چھوٹی سی ٹرے میں کافی کے دو مگ لئے روم میں آنٹر ہوئی تھی۔ ’’آج تو کافی کڑوی نہیں ہے ناں!‘‘وہ کچھ ضروری فائلز میں سر دئے کھڑا مصروف سا بولا،جبھی سائیڈ ٹیبل ہر ٹرے رکھتی حیات خود بھی وہیں آگئی تھی۔ ’’نہیں!بالکل بھی نہیں،ویسے بھی میں نے ایک سپ لے لیا،اب یہ کڑوی ہو ہی نہیں سکتی۔‘‘افگن نے بے ساختہ اس کی جانب دیکھا جو زبان دکھا کر چڑانے لگی تھی۔ ’’تمہاری باتوں سے ایک بات تو آج واضح ہوہی گئی کہ تم شادی سے پہلے ڈراموں اور فلموں کی کس قدر شوقین رہی ہوگی۔‘‘ فائل واپس لاکر میں رکھ کر الماری بند کرتا وہ اس کی جانب پلٹا۔ ’’میں یہ فضولیات نہیں دیکھتی!‘‘وہ ناک بھنویں سمیٹ کر بولی ۔ ’’اچھا!چلو اچھی بات ہے!خیر تھوڑی دیر میں اپنا اور میرا ضرورت کا سامان پیک کر لینا!‘‘ وہ ہئیر برش سے اپنے بال سیٹ کرتا مصروف سے لہجے میں بولا۔ ’’کیوں؟ہم کہیں جا رہے ہیں کیا؟‘‘ وہ شدید حیرت سے گنگ بولی تھی۔۔جو ایک نظر اسے دیکھ روم میں آگیا تھا۔ ’’ہاں!کل ہم یہ گھر چھوڑ کر جارہے ہیں۔‘‘وہ اپنا کافی کا مگ اُٹھاتا بالکنی میں چلا گیا تھاوہ بھی اپنی کافی کا مگ ہاتھ میں اٹھآتی تیزی سے پیچھے گئی تھی۔ ’’مگر کیوں؟‘‘ ’’تمھیں ابھی بھی اس سوال کا جواب چایئے!‘‘وہ ایک سپ لیتا آئی برو اُٹھا کر بولا۔ ’’آپ یہ سب میری وجہ سے کرر رہے ہیں۔یہ کوئی بات نہیں ہے،کوئی اپنا گھر نہیں چھوڑتا۔میں کل آنٹی سے سوری کر لونگی۔‘‘وہ جو بالكنی کی ریلنگ پر ہاتھ دھرے کھڑا اُپر سے نیچے دیکھنے میں محو تھا حیات کے لفطوں پرگھور کر رہ گیا۔جس کے چہرے سے پریشانی عیاں تھی۔ ’’اور ایسا کرنے کو کس نے کہا ہے تم سے؟‘‘وہ ناگواری سے بولا۔ ’’کہا نہیں!مگر غلطی میری۔۔۔ ’’تم ناں حیات اپنا دماغ ذرا کم چلایا کرو۔ویسے ہی بہت تھوڑا ہے گھس جائے گا۔‘‘ وہ طنزیہ لہجے میں بولتا کافی ختم کر چکا تھا۔ ’’مگر افگن!‘‘وہ مزید کوئی بات کہتی یا افگن اس کی صحیح سے کلاس لیتا موبائل کی گھنٹی نے دونوں کی بات کا تسلسل توڑ دیا تھا۔افگن نے ٹراؤزر کی پاکٹ سے موبائل نکال کر اسکرین کو دیکھا جہان ارتضیٰ کالنگ جمگما رہا تھا۔وہ اسے روم میں جانے کا اشارہ کرتا خود ارتضی سے باتوں میں مشغول ہوگیا تھا۔جو اُسے ایک خفا نگاہ سے نوازتی خود اُس کے ہاتھ سے کافی کا خالی مگ لیتی روم میں آئی تھی۔جبکہ اب وہ مطمئن سا اس کی جھڑکیاں سُن رہا تھا۔جس نے نجانے رات تک کیسے صبر کیا تھا۔۔۔ ............ ’’میں ہی پاگل ہوں!جو ہر وقت بولتی رہتی ہوں۔کرنی تو اس شخص نے ہمیشہ اپنے من کی ہی ہوتی ہے۔‘‘‘ وہ ابھی ابھی نائٹ سوٹ چینج کرتی ڈریسنگ روم سے باہر آئی تھی۔اور سنگھار آئینے کے عین مقابل چیئر پر بیٹھی ہاتھوں پر لوشن ملتی مسلسل بڑبڑا رہی تھی۔جبکہ وہ ارتضٰی سے طویل ترین گفتگو میں مصروف نجانے کونسے رازو نیاز کر رہا تھا۔ ’’وہ مسلسل بڑبڑاتی کمرے کی لائٹ آف کر کے سائیڈ لیمپ روشن کرتی اس کے انتظار میں نیم دراز ہوئی آنکھوں پر ہاتھ رکھتی آنکھیں موند گئی۔اورانتظار کرتے کرتے کب اس کی آنکھ لگ گئی اسے خبر تک نہ ہوئی تھی۔ ارتضیٰ سے بات ختم کرتا وہ روم میں آیا تو کمرہ نیم تاریکی میں ڈوبا ہواتھا اور وہ دشمن جاں دونوں پاؤں سمیٹ کر بیٹھنے کے سے آنداز میں لیٹی ہوئی تھی۔ایک گہری بوجهل سانس فضا کے سپرد کرتا وہ خاموشی سے چلتا اس کے نزدیک گیا،اور پھر اس کی گود میں سر رکھ کر مزے سے پھیل کر لیٹ گیا تھا۔وہ ذرا چونک کر کچی نیند سے بيدار ہوتی
Comments
Leave a Comment
Hina Batool
Fri Oct 17 2025
Zaberdast ♥️ But bhut khubsurt ♥️♥️
Jia
Sat Oct 18 2025
Uffff super say bhi uper Mind blowing
