Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode No 43 44
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 17/10/2025
672 Views
Episode No 43 44
اپنی گود میں رکھے افگن کے سر کو دیکھ خاموش ہی رہی۔جو مسکراتی آنکھوں سے اس کا روشن چہرہ دیکھ رہا تھا۔سائیڈ لیمپ اور کھڑکیوں کے جھرکوں سے آتی چاند کی مدھم روشنی کے باعث کمرے میں فسوں ناک ماحول بنا ہوا تھا۔۔ ’’ناراض ہو!‘‘اس کا ہاتھ تھام کر اپنے عین دل کے مقام پر رکھا تھا۔ ’’جانتا ہوں تم مجھ سے ناراض ہوہی نہیں سکتیں۔‘‘دوسری جانب خاموشی دیکھ وہ خود ہی بول اُٹھا تھا۔ ’’جانتی ہو حیات جب آج مام نے کہا ناں کہ میں ایک لے پالک کبھی ان کا سگا نہیں ہوسکتا!تو یہاں درد ہوا تھا۔‘‘وہ اس کا تھاما ہوا مومی ہاتھ دل کے مقام پر بجاتا شدید رنج کی کیفیت سے دوچار بولا۔۔۔ ’’اور آج سے کچھ سال قبل جب مجھے اس حقیقت کا علم ہوا کہ میں تو ناصر ہاشمی اور زرین ہاشمی کی سگی اولا ہی نہیں تو بھی یہاں درد ہوا تھا۔ اور جب جب درد ہوا جب میں اپنی شناخت ڈھونڈنے میں نکام رہا۔ عابثہ کو محفوظ سائبان فراہم کرنے میں نکام ہوا۔اُجالا کو وہ تحفظ فراہم کرنے میں نکام ہوا جو اس کا حق تھا اور میری زمہ داری۔‘‘وہ اُس کی انگلی میں موجود رنگ سے کھیلتا بس بولتا جارہا تھا۔ ’’مگر پھر میری زندگی میں تم آگئیں!اچانک سے آئیں اور سب کچھ بدل دیا، میں وہ افگن ہی نہیں رہا جو سب سے چڑتا تھا،لاپرواہ،خود میں مگن رہنے والا۔۔ آگر میں نے زندگی میں واحد کسی شے کی تمنا کی تھی تو وہ اجُالا کی ذات تھی،مگر شاید وہ میرا نصیب ہی نہیں تھی۔‘‘وہ ٹرانس میں بولتا جارہا تھا جبکہ شدید ضبط سے سنتی حیات اس نام پر آکر ہمیشہ کی طرح بے بس ہوئی تھی۔ہاتھ کی مٹھی بھینچ لی تھی۔ ’’جانتی ہو میں اپنی مرحوم ماں کا وہ بیٹا ہوں!جس کی کوئی شناخت ہی نہیں ہے۔۔۔بلکہ میری اصل شناخت جان کر تو شاید تمہیں میرا ساتھ بھی گوارہ نہ ہو۔‘‘وہ یکدم تلخ ہوتا اس کا تھاما ہوا ہاتھ چھوڑ چکا تھا۔اور اُٹھنے کے لئے بے چین ہوا،جو کندھوں پر زور ڈالتی اس کی کوشش نکام بنا گئی۔ ’’ایسا کبھی نہیں ہوسکتا افگن !میں نے تین سال صرف آپ کی تصویر سے عشق کیا ہے۔اب جو شخص میری آنکھوں کے سامنے ، ایک جیتی جاگتی تصویر کی صورت موجود ہو کیا میں اس سے بلا وجہ نظریں پھیر سکتی ہوں؟کیا میں آپ سے کبھی نفرت کر سکتی ہوں۔آپ کی جو بھی شناخت ہو لیکن اب میری شناخت شیر افگن ہاشمی کے نام سے ہی ہے۔‘‘ وہ ذرا شکوہ کناں لہجے میں مگر بہت مان سے بولی تھی۔جبکہ وہ اِس دیوانی لڑکی کی آنکھوں میں تیرتی نمی دیکھ خود باخود نرم پڑ گیاتھا۔یہ لڑکی خود میں ایک عجیب ہی مقناطیسی سی طاقت رکھتی تھی جو شیر افگن کا دل ہمک ہمک کر ہمیشہ اُسی کی ساتھ کی ضد کرنے لگا تھا۔وہ ایک بار پھر اس کا نرم مومی ہاتھ اپنی گرفت میں لے چکا تھا۔جس نے کوئی مزاحمت نہیں کی تھی۔۔۔ ’’میں نے اُجالا سے کوئی نکاح نہیں کیا تھا۔وہ سب بس دنیا دکھاوا تھا۔‘‘ وہ اُس کی مڈل فنگر میں اپنی پہنائی ہوئی انگوٹھی پر نظریں ٹیکائے بہت دھیمے لہجے میں گویا اعتراف جرم کر رہا تھا۔مگر دوسری جانب سے ہنوز خاموشی برقرار رہی تو اس نے نظر اُٹھا کر حیات کا چہرہ دیکھا جس کی ناک میں پڑا ہیرے کا وہ سفید چمکتا موتی اس کی توجہ بُری طرح اپنی جانب کھینچ رہا تھا۔ ’’کچھ کہو گی نہیں!‘‘وہ اس کے چہرے پر ہاتھ رکھ کے نادم لہجے میں گویا ہوا،جو ایک گہری سانس بھرکر اپنی آنکھیں پونچھ گئی تھی۔ ’’کیا چلا جاتا آگر آپ یہ بات طریقے سے بتا دیتے،اُس روز کیا ملا تھا آپ کو ولیمے میں بھری محفل میں میرا تماشہ لگا کر۔‘‘ وہ اپنا ہاتھ اُس کی گرفت سے آزاد کراتی تیز مگر شکوه کناں لہجے میں بولی تھی۔گویا یہ ناراضگی کا اظہار تھا۔مگر وہ اس کی مزاحمت کو بغیر کسی خاطر میں لائے زبردستی اُسی ہاتھ کی انگلیوں کے پوروں کو ایک ایک کر اپنے لبوں سے چھوتا ،اپنے انداز سے محبّت جتاتا گویا اپنی غلطی کا ازالہ کرنا چاہتا تھا۔۔ ’’اُس فنکشن کے خراب ہونے کا جتنا دُکھ تمہیں ہے،اُس سے کہیں زیادہ دکھ مجھ بھی ہے۔مگر میں کیا کرتا حالات ہی ایسے تھے کہ مجھے جو بہتر لگا میں نے وہی کیا۔‘‘حیات کی شکوہ جتاتی نگاہوں میں دیکھ وہ نظروں کا زاویہ بدل گیا۔ ’’یہ بات اُجالا مجھے بہت پہلے ہی بتا چکی تھی۔جو بات آپ کو آج بتانا یاد آرہی ہے۔‘‘ وہ ذرا طنزیہ لہجے میں بولی تھی،شیر افگن یکدم ٹھٹھک کر ٹھرا تھا۔۔ ’’مطلب وہ یکایک تمہارے رویے کی تبدیلی اس وجہ سے تھی؟‘‘وہ مشکوک ہوا۔تو وہ کندھے اُچکا گئی۔ ’’ میں بھی سُوچوں تم جو ہر دوسری لڑکی کے پیچھے پنجے جھاڑ کر پڑ جاتی ہو،یکایک اپنی سوکن کو لے کر تمہارے دل میں اتنی نرمی کہاں سے آگئی۔‘‘ وہ ذرا سی گردن اٹُھا کر اسے گھورتا واپس سر اس کی گود میں رکھ گیا۔جس نے کینہ توز نگاہوں سے اپنے شوہر کو گھور کر دیکھا تھا جو طعنے دینے میں پاکستانی پھپھو کو بھی پیچھے چھوڑ چکا تھا۔ ’’ ظاہر سی بات ہے،میں کیوں برداشت کروں اپنے شوہر پر کسی بھی چھچھوری لڑکی کی نظر!یو آر مائین۔‘‘ وہ شدید جذباتیت سے بولی تھی تو وہ تاسف سے نفی میں سر ہلا کر رہ گیا۔غصےٰ کی شدت سے جس کی سُرخ ناک پھول کر کپا ہوگئی تھی۔ ’’اور اُجالا کے لئے مجھے ہمیشہ افسوس رہے گا۔اس رات وہ مجھے اس نکاح کی حقیقت بتا چکی تھی،مگر اس کا ریپ ہوا اس بات کا ادراک مجھے آپ کی اُس خبر کی وجہ سے ہوا تھا۔‘‘وہ اگلی صبح ہونے والے انکشاف کا حوالہ دیتی افسوس بھرے لہجے میں بولی تھی،تو وہ یکدم خاموش ہوگیا۔جیسے اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا ہو۔ ’’آپ کو معلوم تھا کہ میں آپ کو کسی کے ساتھ شئیر نہیں کر سکتی مگر پھر بھی جان بوجھ کر وہ سب کیا!مجھے تکلیف دی۔ذہنی ٹارچر کیا،میری سائیکی کے ساتھ کھیل کھیلا،میری بے بسی کا مذاق بنایا آپ نے۔مجھے بتاتے تو سہی،نہیں،آپ کو فوراً موقع مل گیا تھا اپنی سابقہ محبت کو پورا کرنے کا۔‘‘اُس کا ضبط یکدم ہی ٹوٹا تھا اور وہ پھوٹ پھوٹ کرباآواز اونچا اونچا رونے لگی تھی۔وہ بوکھلا کر اُٹھ بیٹھا تھا۔ ’’حیات!‘‘وہ اسے سنبھالنے کی غرض سے آگے بڑھا۔جو پیچھے کو دھکا دیتی خود مسلسل رو رہی تھی۔کتنے دنوں کا غبار تھا ،ذہنی ازیت تھی جو آنسوؤں کے زریعے باہر نکل رہی تھی۔ ’’اپنی بے عزتی کے لئے میں آپ کو کبھی معاف نہیں کرونگی!‘ ‘سُرخ چہرہ لئے وہ انگشت شہادت اُٹھاتی غصےٰ سے بولی تھی۔جو اِسے زبردستی تھام کر سینے سے لگاتا سر تھپکنے لگا تھا جو مسلسل شکوے شکایات کر رہی تھی۔ ’’حیات بس اب خاموش ہوجاؤ!طبیعت خراب ہوجائے گی تمہاری!‘‘جب وہ مسلسل روتی رہی تو اب بار وہ سختی سے بولا۔ ’’ہر بار آپ کی مرضی نہیں چلے گی۔میں رونگی۔جتنا دل چاہے گا اتنا رونگی۔۔آپ کو کیا تکلیف ہے۔‘‘وہ اس کی سختی پر بپھر کر بولی۔ ’’اوکے اوکے!میں کچھ نہیں کہ رہا یار!مگر پلیز اتنا مت رو۔دیکھوں تمہاری آنکھیں سوجھ گئیں ہیں۔‘‘باری باری اُس کی سُرخ متورم آنکھوں پر لب رکھتا وہ محبت سے بولا،جو اب ہلکی ہلکی سسکیاں لے رہی تھی۔ ’’لو پانی پیو !‘‘ساتھ رکھے جگ سے پانی گلاس میں انڈیل کر اس کی جانب بڑھایا جو اُسے گھور کر ایک ہی سانس میں پانی ختم کر چکی تھی۔
Comments
Leave a Comment
Hina Batool
Fri Oct 17 2025
Zaberdast ♥️ But bhut khubsurt ♥️♥️
Jia
Sat Oct 18 2025
Uffff super say bhi uper Mind blowing
