Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode No 43 44
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 17/10/2025
672 Views
Episode No 43 44
دھوپ چھاؤں سا ہرجائی از ہما قریشی قسط نمبر 43 & 44 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’کیا کرنے گئیں تھیں تم نیچے!میں نے تم سے کافی کا کہا تھا۔۔۔کہاں ہے کافی!‘‘ وہ کمرے میں آتے ہی دروازہ تیزی سے بند کرتا حیات پر برس پڑا تھا،وہ جو اپنی سوچوں میں گم تھی گڑبڑا کر ہوش میں آئی۔ ’’افگن میں تو بس۔۔وہ آنٹی!‘‘اسے سمجھ ہی نہ آیا کیا جواز پیش کرے۔ ’’ جب تمہیں معلوم ہے کہ زرین بیگم کو عادت ہے اپنی فرینڈز کے سامنے فضول بکواس کرنے کی تو تم وہاں کیوں گئیں؟‘‘نیچے ہوا تماشہ اور اپنی ذات کی تزلیل اسے بُری طرح کھٹک رہی تھی۔ ’’افگن وہ!‘‘حیات جو پہلے ہی افگن کی ذات کو لے کر ہونے والا اِنکشاف سُن سکت میں تھی،اب بالکل خاموشی سے اِس کا چہرہ دیکھ رہی تھیں۔جہاں ازیت کی ایک داستان رقم تھی۔ ’’کافی لے کر آؤ میرے لئے!‘‘وہ اِسے خاموش دیکھ نظریں چُراتا خود واشروم کی جانب بڑھنے لگا تھا جبھی اس نے شانے سے پکڑ کر روکا ۔حیات کی عمیق نگاہوں سے اُس کی نم آنکھیں ہر گز بھی مخفی نہیں تھیں۔جو ٹھرا ضرور مگر پلٹا نہیں تھا۔۔۔۔ ’’آپ مجھ سے نظر یں کیوں چُرا رہے ہیں؟‘‘وہ گھوم کر عین اس کے مقابل آتی سوالیہ گویا ہوئی۔ ’’میں فی الحال تمہارے کسی سوال کا جواب نہیں دینا چاہتا۔‘‘وہ اب بھی سامنے دیوار کو ہی تک رہا تھا۔ ’’کیوں؟اور میں نے آپ سے کوئی سوال کیا ہی کب ہے؟میں تو بس آپ کی اور میری بات کر رہی ہوں۔‘‘وہ متوازن مگربڑے لاپرواہ لہجے میں بولی تھی۔افگن نے طنزیہ مسکراہٹ سے اس کی جانب دیکھا تھا۔ ’’مجھ سے ہمدردی نہ جتاؤ حیات کاظمیٰ،ہمدردی اور ہمدرد دونوں سے سخت چڑ ہے مجھے۔‘‘ وہ جب جب غصےٰ میں ہوتا یا اس سے خفا ہوتا تھا اسے حیات کاظمیٰ کہ کر پکارتاتھا۔اور اب یہ بات حیات کو بخوبی سمجھ آگئی تھی۔۔ ’’نہ تو آپ مظلوم ہیں اور نہ ہی میں ہمدرد فاؤنڈیشن کی ٹرسٹی!جو آپ سے ہمدردی جتاؤں۔‘‘وہ کچھ لمحے قبل کی تلخی زائل کرنا چاہ رہی تھی۔ ’’تمہیں لگ رہا ہے میں مذاق کے موڈ میں ہوں۔‘‘وہ ناراض لہجے میں بولا۔مگر نگاہیں ملانے کی غلطی اب بھی نہ کی تھی۔ ’’وہاں دیوار کے دوسری طرف کیا آپ کی کوئی محبوبہ بیٹھی ہے جو مسلسل ِاسی جانب دیکھے جارہے ہیں۔‘‘وہ ماتھے پر بل ڈالتی ذرا مصنوعی خفگی سے بولی۔ ’’ جو تھی وہ اب ہمیشہ کے لئے جا چکی ہے۔‘‘ لفظ ادا نہیں ہوئے تھے نہ ہی اس کا ایسا کوئی ارادہ تھا، مگر دل آپ سرگوشیانہ گویا ہوا تھا۔ ’’کیا ہوا؟کیا ڈھونڈ رہیں ہیں بھئی!‘‘وہ زچ ہوئی۔۔۔ ’’حیات میرے سر میں بہت درد میں ۔میں فی الحال تمہاری چپڑ چپڑ نہیں برداشت کر سکتا ۔میرے لئے کافی لاؤ،اور خاموشی سے آکر لیٹ جاؤ۔اور آگر خاموش نہیں رہ سکتیں تو پلیز تم اس وقت دوسرے کمرے میں چلی جاؤ۔‘‘نرمی سے اُس کے ماتھے پر بوسہ دیتا،وہ اس وقت شدید رنج سے دوچار تھا۔ جبھی ہاتھ پکڑ کر اِسے پیچھے کرتاخود حد درجہ بے رُخی جتاتا سائیڈ سے نکلنے لگا تھا۔جبھی وہ تیزی سے آگے بڑھتی پنجوں کے بل اُو نچی ہوتی اس کے سینے سے جا لگی تھی۔دونوں بازو محبت سےگردن میں ڈال کر وہ اُسے ہمیشہ کی طرح لاجواب کر گئی تھی۔ ۔ ’’یو نیڈ آ ٹائٹ ہگ شہر افگن ہاشمی!‘‘ اُس کی گردن سے چہرہ اُٹھا کر مسکراتی آنکھوں سے اُس کی جانب دیکھتی، ذرا شرارتی لہجے میں بولی تھی۔ ’’تمہیں بس مجھ ہینڈسم مین پر لائن مارنے کا موقع ملنا چاہئے!‘‘وہ جانتا تھا کہ اُس کی یہ معصوم حرکتیں محض اس کا موڈ ٹھیک کرنے کی خاطر تھیں۔جبھی خود بھی محبت سے اُسے خود میں بھینچتا ہنوز سنجیدگی سے بولا تھا۔جس نے گھور کر دیکھا تھا۔ ’’ذرا مسکرا تو لیں۔اتنی پیاری بیوی بیٹھے بیٹھائے مل گئی ہے تو قدر ہی نہیں ہے۔مل جاتی کوئی ڈائن ٹائپ پھر پتہ چلتا۔‘‘ وہ ہنوز اِسی پو زیشن میں کھڑی شرارتی لہجے میں بولی۔ ’’آئی نیڈ یور ہگ ناٹ آ لیکچر بے بی!‘‘وہ آنکھوں میں معنی خیزی سموئےاُسے تھوڑا سا ہوا میں بلند کرتا اپنے چہرے کے عین مقابل لایا تھا۔۔جس کی نظروں میں ہمیشہ کی طرح افگن کے لئے محبّت ہی محبّت تھی۔۔ ’’کیا ہوا؟‘‘ خود کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھتے افگن سے اشارتاً آئی برو اُٹھا کر پوچھا ۔زبان خاموش تھی۔دونوں کے چہرے بے حد نزدیک تھے۔ وہ اب اسکے پاؤں پر پاؤں رکھے پنجوں کے بل اُونچی ہوئی کھڑی پوری طرح اس پر جھکی ہوئی تھی۔ ’’ویسے تمہاری کچھ فضول حرکتیں دیکھ کر دل تو نہیں چاہتا کہ تمہیں پیار کیا جائے مگر اس معصوم چہرے سے عشق ہونے لگا ہے۔‘‘وہ سنجیدگی سے ٹرانس میں بولا،جس نے پہلےاُس کے لفظوں پر گھُور کر دیکھا اور پھر کھلکھلا کر ہنس پڑی تھی۔ ’’ارے واہ !اِس کا مطلب!اب میرے پا س ہمارے بچوں کے سُنانے کے لئے ہماری ایک عدد انٹرسٹنگ سی لو اسٹوری موجود ہوگی۔‘‘ وہ شرارتی لہجے میں آنکھوں میں انوکھی سی چمک لئے مزے سے بولی تھی۔افگن اکثر ہی اس کی غیر متوقع حرکتوں اور جملے بازی پر حیران رہ جاتا تھا مگر اب تو جیسے عادت ہونے لگی تھی۔ ’’کوئی شرم ہوتی ہے۔کوئی حیا ہوتی ہے مگر حیات میڈم کیا جانیں وہ کیا ہوتی ہے۔‘‘ وہ بھرپور سنجیدگی کا اظہار کرتا اُسے گھور کر بولا۔۔ ’’جس نے کی شرم اس کے پھوٹے کرم!‘‘ وہ آنکھ کا کونا دبا کر بولی تو وہ ہولے سےمسکرا اٹُھا تھا۔ ’’مبارک ہو!‘‘وہ یکدم بولی،وہ حیران ہوا۔ ’’کس بات کی؟‘‘ وہ ہونق سا سوالیہ بولا جو مسکراہٹ ضبط کر رہی تھی۔ ’’ عید کا چاند نظر آنے کی!‘‘ وہ اس کی مسکراہٹ کی جانب اشارہ کرتی طنزیہ لب و لہجے میں گویا ہوئی تھی۔ ’’چلو پھر اسی خوشی میں کچھ میٹھا ہوجائے!‘‘ اس بار وہ بھی بھرپور شرارتی لہجے میں جوابی کاروائی کرتا اسے بوکھلا گیا ،اور بس یہیں آکر حیات کا سارا کنفیڈینس ہوا ہوجاتا تھا۔ ’’ ہاں کیوں نہیں!آج میں آپ کی کافی میں دو نہیں بلکہ چار چھے چمچ جینی ایڈ کرونگی تاکہ آپ میں بھی ذرا میٹھاس آئے۔۔‘‘وہ تیزی سے بات کا رُخ تبدیل کر چکی تھی۔ اور فاصلہ بھی قائم کرنا چاہا،جبکہ اُس نے ایسا ہونے نہیں دیا تھا۔ ’’آہاں!حیات جانو میری ایک بہت گندی عادت ہے،میٹھا اور ِاس کی مقدار میں ہمیشہ اپنی مرضی کی ہی لینا پسند کرتا ہوں۔‘‘وہ مسکراہٹ ضبط کئے سنجیدگی سے بولا۔ ’’ہاہاہاہا!وری فنی!‘‘اُس کی لُو دیتی نظروں سے پیچھا چھوڑاتی گھور کر بولی جو اِسے سختی سے خود میں بھینچتا آنکھیں موند گیا۔۔حیات وہ واحد ہستی تھی جو اس وقت اس کا دُکھ بانٹ سکتی تھی۔ویسے بھی میاں ،بیوی تو ہر خوشی غمی کے ساتھی ہوتے ہیں۔ جبکہ وہ اس کے سینے پر سر رکھتی آنکھیں موند کر اپنی میٹھی سرگوشیوں سے اس کا دل ہلکا کر گئی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاشمی پیلس میں اِس قدر ہنگامے کے بعد عابثہ اور ارتضیٰ بھی مزید وہاں نہیں ٹھرے تھے۔بلکہ فوراً ہی وہاں سے نکل آئے تھے۔۔فی الحال ارتضیٰ نے اسے ڈسٹرب کرنا ضرور نہیں سمجھا تھا جو پہلے ہی اُجالا کی اچانک موت کی وجہ سے اچھا خاصہ ڈسٹرب تھا۔ایسی صورت حال میں زرین بیگم کی اس حرکت نے اُسے دلی طور پر رنج پہنچایا تھا۔مگر خیر اُسے سنبھالنے کے لئے اس کے پاس اس کی بیوی موجود تھی۔ شکر تھا کہ دادی اپنی طبیعت کی ناسازی کے باعث پہلے ہی گھر کے لئے نکل چکی تھیں۔سفر خاموشی سے کٹ رہا تھا۔ ’’زرین آنٹی کا بی ہیویر کس قدر روڈ تھا
Comments
Leave a Comment
Hina Batool
Fri Oct 17 2025
Zaberdast ♥️ But bhut khubsurt ♥️♥️
Jia
Sat Oct 18 2025
Uffff super say bhi uper Mind blowing
