Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 06
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 27/09/2025
5 Views
Episode no 06
"حیات!!!!!"وہ زبردستی اس کا چہرہ اپنی طرف کرتا بھونچکا رہ گیا تھا۔رونے کے باعث آنکھیں گلابی ہو رہی تھیں۔گال پر مٹے مٹے آنسوؤں کے نشان اور کپکپاتی توڑی دیکھ افگن کو شرمندگی ہوئی تھی۔ "اففف!!!یار میں مذاق کر رہا تھا۔۔اُٹھو یہاں سے۔۔"وہ اسے زبردستی اُٹھا کر بیڈ تک لایا تھا جو اب آنسوؤں سے رونے لگی تھی۔ہچکیاں لیتا وجود۔۔۔اب وہ زور زور سے باآواز رونے لگی تھی۔جبکہ وہ اسے تاسف سے دیکھتا، اپنا سر پکڑے بیٹھا تھا۔۔ "کچھ دیر شیر نے اُسے رونے دیا پھر خود ہی خاموش ہوگئی تھی۔اور خفگی سے اسے دیکھتی رُخ پھیر گئی۔ "بس یا ابھی مزید آنسو بہا کر اپنا حال برُا کرنا ہے۔"وہ جگ سے پانی گلاس میں اُنڈیلتا ہوا بولا۔ "آپ کو۔۔۔ہچکی۔۔ کیا فرق پڑتا ہے۔۔"سسکیوں اور ہچکیوں کہ درمیان بولتی وہ شیر کو اور کیوٹ لگی تھی۔جبکہ وہ زبردستی گلاس منہ سے لگاگیا۔ خفگی سے گھور لر ،بس دو ہی گھونٹ حلق میں اُتارئے تھے۔ "مجھے فرق نہیں پڑتا تو تم ابھی تک اسی صوفے پر بیٹھ کر رُو رہی ہوتیں۔"وہ گلاس سائیڈ میں رکھتا اس کے ،آنسو پونچھ کر نرم لہجے میں گویا ہوا تو حیات نے خفگی سے گھورا تھا۔ "ہاں تو رهتے اس اندھیرا اُجالا کے پاس ہی۔۔۔"اس کا ہاتھ جھٹک کر اب وہ ناگواری سے بولی۔ "ہاہاہا!!!حیات وہ جسٹ میری فرینڈ ہے۔ایک بہت ضروری کام تھا مجھے اس سے۔۔بس تمھیں چڑانے کے لئے ذرا پرینک کرلیا۔مگر مجھے کیا معلوم تھا میری شرارت مجھ ہی پر اتنی بھاری پڑجائے گی۔"وہ اُسے پھر سے روتی شکل بناتا دیکھ سیریس ہوا۔ "یہ جسٹ فرینڈ پکچرز کیوں لے رہی تھی آپ کے ساتھ۔وہ بھی اتنی کلوز ہو کر۔"جلدی سے آنسو گال پر سے رگڑ کر اب وہ تفشیشی افسر بن گئی تھی۔ "اب میری گرل فرینڈ کیا میرے ساتھ ایک پک بھی نہیں لے سکتی۔۔"وہ شرارت سے بول کر بیڈ پر پیچھے گرا۔حیات نے بے ساختہ ایک تھپڑ اس کے کندھے پر لگایا تھا۔ "نہیں ۔۔۔میرے علاوہ کوئی بھی نہیں لے سکتا۔"حیات کو اتنی دیر سے اپنا خون جلانے پر غصّہ آیا۔ "حکم !!اب ذرا یہ آنسو صاف کرلو۔یقین مانو رات کے اس اندھیرے میں پوری چڑیل لگ رہی ہو۔"افگن کی شرارت پر وہ گھور کر اسے پیٹھ دے کر بیٹھ گئی تھی۔یہ ناراضگی کا اظہار تھا۔ "ویسے میں حیران ہوں۔تم میرے معاملے میں اتنی ٹچی ہو کہ زرا سا مذاق بھی برداشت نہیں ہوا تم سے۔"شیر کے لہجے میں حیرانگی واضح تھی۔ "ہاں آپ کے معاملے میں ایسی ہی ہوں میں۔اور خبردار جو اب کبھی اس اندھیرا اُجالا سے ملے بھی تو۔"غصّے سے ایک جھٹکے سے مڑتی وہ انگشت شہادت اٹھا کر تببیہ لہجے میں بولی۔ "اوکے باس!شیر تابعدار بچوں کی طرح سر ہلا کر بولا تو حیات گھور کر انگلی پیچھے کر گئی۔۔ "اور کچھ ہدایات معصوم سے شوہر کے لئے ظالم بیوی یا بس آج کا کوٹہ اتنا ہی تھا۔"شیر اب اسے خاموشی سے گھورتا دیکھ شرارت سے بولا تھا۔ "نہیں آج کے لئے اتنا ہی بہت ہے۔اور ہاں آئندہ میری کال اور میسجز اگنور کرنے کی قطعا کوئی ضرورت نہیں ہے۔"وہ یاد آنے پر پھر سے باور کرواتے لہجے میں بولی تو وہ مسکراہٹ چھپاتا سر ہلاگیا۔ "اب کھانا بھی پوچھو گی یا ڈانٹ سے پیٹ بھر لوں۔"وہ آنکھیں چلا کر گھومی۔ "کیوں جسٹ فرینڈ کے ساتھ نہیں کیا ڈنر؟"طنزیہ لہجے میں بولتی وہ مزید سیخ پا ہوئی تھی۔ "نہیں میں نے سوچا روتی شکل بیوی کے ساتھ کرونگا۔"حیات نے گھور کر دیکھا۔پھر ایک تیز گھوری سے نوازتی سیدھی ہوئی۔ "چینج کر کے نیچے آجائیں۔میں کھانا گرم کرتی ہوں۔ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہوتی اپنا حلیہ درست کرتی وہ آرڈر دینے والے انداز میں بولی۔ "ذرا اچھے سے صاف کرو۔کہیں میں رات میں ڈر ہی نہ جاؤں ۔۔حیات افگن کے روپ میں کسی واہیات بھوتنی کو دیکھ کر۔"وہ اٹھ کر اس کے نزدیک کھڑا ہوتاذرا شر ارت سے بولا تھا۔ "افگن۔۔۔"اس بار حیات دانت کچکچا کر آگے بڑھی تھی۔مگر وہ جھپک سے اٹھتا واشروم میں بند ہوگیا تھا۔۔۔ اب میں ایسے ہی رہونگی صبح تک۔اسی طرح بھوت والی شکل ہی دیکھئے گا اب میری۔۔"اؤنچی آواز میں ہانک لگاتی وہ جتاتے لہجے میں بول کر روم سے باہر نکل گئی تھی۔۔جبکہ واشروم کے دروازہ پر کھڑا وہ نفی میں سر ہلآتا اپنی بچکانہ حرکتوں پر دل کھول کر مُسکرایا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ دونوں ہلکی پھلکی نوک جهونک کے ساتھ ڈنر کرنے کے بعد ابھی روم میں آئے تھے۔۔حیات نائٹ ڈريس پہننے کی غرض سے ڈریسنگ میں روم میں بندھ ہوگئی تھی۔جبکہ وہ سنجیدگی سے موبائل پر مصروف تھا۔وہ اس وقت حیات کا موبائل ہاتھ میں تھامے میں بیٹھا تھا۔جبھی کھٹکے کی آواز پرچونکا۔جہاں سامنے ہی وہ گلابی رنگ سلك کی نائیٹی پہنے ،بالوں کو پشت پر کھلا چھوڑے فریش چہرے سے اپنی ہی جون میں باہر آئی تھی۔۔وہ بغور اس کا جائزہ لیتا ، زیرِ لب مسکراتا واپس موبائل میں مصروف ہوگیا تھا۔جبھی وہ کمفرٹر کھول کر پاس ہی لیٹ گئی تھی۔۔ "اب کیا کر رہے ہیں آپ ؟سونے کا ارادہ نہیں ہے کیا ؟"وہ اسے مگن دیکھ جل کر بولی۔وہ اتنی محنت لگا کر اُس کے لئے ریڈی ہوئی تھی اور اُسے رتی برابر بھی پرواہ نہیں تھی۔۔ "تم بتاؤ کہ تمہارے کیا ارادے ہیں۔۔"ایک نظر اس کے خفا سے چہرے پر ڈالتا،وہ موبائل سائیڈ پر رکھتا ذرا قریب ہوتا اس پر جھکا تھا۔جو اچانک افتاد پر سٹپٹا کر رہ گئی۔۔ "کیا مطلب ہے کیا آرادے ہیں۔۔سونا نہیں ہے ؟"وہ اسے پیچھے دھکیلتی خفگی سے بولی۔۔افگن کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔۔ "فی الحال تو میرا ارادہ اپنی ناراض بیوی کو منانے کا ہے۔جو میرے لئے اتنی وقت اور محنت لگا کر تیار ہوئی ہے ۔"ایک شرارتی سی لٹ سے کھیلتا وہ معنی خیز مسکراہٹ سے بولتا دھیرے سے جھکتا اس کا رخسار چوم گیا۔۔ "میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ویسے بھی مجھے نیند آرہی ہے۔آپ کو جاگنا ہے تو شوق سے جاگتے رہیں۔"وہ حیا سے سُرخ پڑتی نظریں چرا گئی۔۔جبکہ وہ قہقہہ لگاتا۔نرمی سے اسے سینے سے لگاتا بالوں میں انگلیاں چلاتا پرسکون کرگیا۔جس کی دھڑکنوں میں طغیانی برپا تھی۔۔ "ویسے بیوی کو صبح شام محبّت کا اظہار نہیں کرنا چاہیے کہ جب شوہر اظہار کے موڈ میں آئے تو آپ کے چودہ طبق روشن ہوجائیں۔"اس کے لہجے سے شرارت عیاں تھیں۔ وہ خاموشی سے اس کے گرد حصار ڈالتی آنکھیں موند گئی۔۔جبکہ وہ اس ادا پر نہال ہوتا نرمی سے اُسے خود میں سمیٹ گیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "ارتضی پھر آج شام چل رہا ہے ناں پارٹی میں۔"نیوی بلیو سوٹ میں ملبوس شیرافگن ابھی آ فس سے فری ہوتا اب گھر نکلنے لگا تھا۔مگر گھر جانے سے قبل ارتضٰی کے آفس آگیا تھا۔جو وائٹ شرٹ کے كفس فولڈ کئے کوٹ اسٹینڈ پر ڈالے ریلیکس بیٹھا تھا۔۔۔ "ہاں یار جانا تو لازمی ہے۔میں بس گھر ہی جارہا ہوں۔رات میں ملاقات ہوتی ہے پھر۔۔"وہ بھی اسٹینڈ سے کوٹ اٹھا کر پہنتا،ساتھ ہی اُٹھاگیا تھا۔ "اور تو بتا۔۔۔کچھ پتہ چلا۔۔تیری وائف کو کس نے ٹریپ کیا تھا۔"ارتضی اور وہ اب ساتھ ساتھ ہی لفٹ تک آئے تھے۔ "نہیں یار!!میری سمجھ سے باہر ہے آخر کون ہے۔حیات اپنے ساتھ موبائل وغیرہ کچھ بھی نہیں لائی۔کہ میں کسی طرح اِس شخص تک پہنچ سُکوں۔"شیر ذرا مایوسی سے بولا تھا۔ "تو تم ڈائریکٹ اپنی وائف سے پوچھوناں یار۔۔"ارتضی نے تاسف بھرے انداز میں کہا تھا۔۔۔ "اس بیوقوف کو تو خود کچھ نہیں معلوم۔۔اگر کچھ کہوں تو رُونے لگتی ہے۔اگر میں نے سیدھی سیدھی حقیقت بتادی تو فضول میں ذہنی بیمار ہوجائے گی۔اور اب اتنا
