Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 06
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 27/09/2025
5 Views
Episode no 06
کرنے کو میں اکیلی ہی بہت ہوں۔اور میری فکر کرنے والے ابھی زندہ ہیں۔اپنی یہ ہمددیاں اپنے پاس ہی رکھیں آپ سمجھیں۔"وہ ٹرخ کر بولی تھی۔ "تو بی بی جاؤ اپنے انہی ہمدردوں کے پاس۔یہاں کیا کر رہی ہو۔"وہ غصّہ ہوئیں تھیں۔ "چلی جاؤنگی بہت جلد چلی جاؤنگی۔۔۔۔۔۔"عابثہ غصّے سے بولتی سیڑھيان پھلانگتی اپنے کمرے میں جاكر بند ہوگئی تھی۔۔جبکہ وہ جو کام ماہ بعد کرنے کا ارادہ رکھتی تھیں ،اب وہ یہ نیک کام اسی ہفتے کو پائے تكمیل تک پہنچانے کی ٹھان چکی تھیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شام کے پانچ بج رہے تھے وہ آدھا دن حیات کے ساتھ گزارنے کے بعد اب اُجالا سے ملنے کے لئے ایک کافی شاپ میں بیٹھا تھا۔جو جینز کے ساتھ ٹاپ پہنے گلے میں اسٹولر ڈالے پلکیں جھکائے بیٹھی تھی۔۔ "مطلب تم شادی کر چکے ہو۔"وہ ساری بات سنتی ایک سرد سانس کھینچ کر بولی تھی۔ "همم!!"شیر نے ہنکار بھرا۔ "ویسے تم تو مجھے لائک کرتے تھے۔"اس کی بات پر شیر نے مسکراہٹ ضبط کی تھی۔ "مگر اب میں اپنی پیاری بیوی حیات سے محبّت کرتا ہوں۔"اس کے لہجے اور آنکھوں میں حیات کے ذکر پر ایک نرم سا تاثر اُبهرا تھا۔۔ "شکر ہے تمھیں تمہاری حیات تاحیات کے لئے مل گئی۔ورنہ مجھے تو ساری زندگی یہی ٹینشن رہتی کہ تم شادی کب کرو گے۔"وہ شرارت سے مسکرائی تھی۔شیرافگن کے چہرے پر بھی گہری مسکراہٹ نے اپنی چھاپ دکھلائی تھی۔۔ "اب میں نے تو تمھیں اپنی ٹینشن بتا دی ہے۔آج کل تو میں اپنے بڈی کے لئے ٹینشن میں ہوں۔"وہ مزید گویا ہوا۔ "اور تمہارا بڈی پہلے ہی مجھے گھاس نہیں ڈالتا۔۔"وہ ذرا خفگی سے بولی۔ "ہاہاہاہا!!یار وہ خشک انسان تو مجھے بھی گھاس نہیں ڈالتا۔میں تو خود ہی بے غیرتوں کی طرح اس کے ساتھ چمٹا رہتا ہوں۔"افگن کی بات پر وہ پھیکا سا مسکرائی تھی۔ "مگر مجھے میں اور تم میں بہت فرق ہے۔"وہ استہزایہ مسكرائی۔ "بے شک۔"وہ کافی کا گھونٹ بھر کر بولتا متفق نظر آرہا تھا۔۔ "میں ارتٰضی سے محبّت کرتی تھی۔۔۔۔۔"اس نے" تھی "پر زور دیا تھا۔وہ چونکا۔ "مگر اب میں اپنی زندگی میں آگیے بڑھنا چاہتی ہوں۔کیونکہ تمہارا دوست مجھے ایک بار نہیں کئی بار ریجیکٹ کر چکا ہے۔تو اب میں مزید اپنی سلف رسپیکٹ کا گلا نہیں گھونٹ سکتی ۔"شیر نے سمجھنے والے انداز میں سر ہلایا تھا۔ "مطلب!!میں ارتضٰی کو شدہ سنگل ہی سمجھ لوں اب۔۔کیونکہ منگنی تو اب تم دونوں ہی نہیں رکھنا چاہتے ہو۔"شیر منہ پر مٹھی جماتا کچھ دیر کے وقفے سے گویا ہوا۔ "ہاں!ایسا ہی ہے۔"وہ جھٹ سے بولتی پیچھے کو ہو کر بیٹھ گئی تھی۔ "هممم!!چلو یار پھر میں نكلتا ہوں۔۔۔ویسے ہی میں اپنی بیوی کو کہ کر آیا ہوں۔کہ میں اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ ڈیٹ پر جارہا ہوں۔"شیر نے مزے سے اپنا کارنامہ بتایا تھا۔ "کیا؟افگن تم اتنے چیپ کب سے ہوگئے۔"وہ منہ کھولے حیرانگی سے گویا ہوئی۔ "جب سے بیوی والا ہوا ہوں۔اور اسے جيلس ہوتا دیکھ مجھے جتنا لطف آتا ہے ناں شاید ہی کبھی آیا ہوگا۔۔"وہ شرارت سے بولا تو وہ بے ساختہ کھلکھلائی تھی۔شیر کی غیر ارادی سی نگاہ اس کے چہرہ پر ہی ٹہر گئی تھی۔ "اہم اہم!!افگن صاحب اب آپ بیوی والے ہو گئے ہیں ذرا کنٹرول۔۔۔"وہ شرارت سے آنکھیں چلا کر جتاتے لہجے میں بولی تو شیرافگن اپنی بے اختیاری پر ذرا جزبز سا ہو کر مسکرایا۔۔ "ویسے ذرا اِدھر اؤ۔اک سیلفی تو لیں ساتھ۔اب جانے کب ملاقات ہو۔"شیر کے دماغ میں ایک مزید خرافاتی آئیڈیا آیا تھا۔ "شیور!وہ اُٹھ کر اس کے ساتھ آکھڑی ہوئی تھی۔ "ذرا نزدیک تو اؤ۔"وہ خشمگیں نظروں سے گھورتی نزدیک ہوئی۔تو شیر نے دو سے تین سیلفیز ایک ساتھ کلک کی تھیں۔ "ویسے یہ پکچرز بھی یقیناً تم نے اپنی وائف کو جلانے کے لئے لی ہونگی۔"وہ جو دانت میں ہونٹ کا کونہ دبائے۔حیات کے نیو نمبر پر پکچرز سینڈ کرنے میں مصروف تھا۔بے ساختہ ہی قہقہہ لگا اٹُھا تھا۔ "اب میری ساری رات ہی رُوٹھتے مناتے گزر جانی ہے۔"وہ نرمی سے مسکرایا تو وہ بھی بجھُے دل سے مسکرائی تھی۔ "میں اُمید کرونگا کہ تم نے میری بات کو انڈراسٹینڈ کیا ہوگا۔اور یہ بات ہمارے درمیان ہی رہے گی۔"وہ اس کے چہرے پر ایک آخری نگاہ ڈال کر ذرا سنجیدگی سے گویا ہوا۔ "بالکل!میں ویسے بھی موو آن کر چکی ہوں۔۔۔وہ مسُکرائی۔ "ہم کل بھی اچھے دوست تھے اور آیندہ بھی اچھے دوست ہی رہیں گے۔۔"شیرافگن ایک آخری جملے کا تبدلہ کرتا اب کافی شاپ سے نکلنے لگا تھا۔کیونکہ اب اس کا موبائل مسلسل وائیبریٹ کر رہا تھا۔ "بائے!!اُجالا بھی ہاتھ ہلاتی بجھُے دل سے کافی شاپ سے باہر نکل آئی تھی۔۔۔جبکہ وہ بھی مُسکراتا ہوا تیزی سے اپنی کار کی جانب بڑھا تھا۔۔ "گاڑی سٹارٹ کرتی اُجالا نے مسکراتے افگن پر ایک آخری نظر ڈال کر اپنی آنکھ سے بہتا آنسو بیدری سے صاف کیا تھا۔آج وہ زندگی کی کتاب سے اپنی سالوں پرانی محبّت کا ایک خوبصورت سا باب پھاڑ کر یہیں پھینکے جارہی تھی۔جس کا لفظ لفظ اس نے بہت محبّت اور چاہت سے لکھا تھا۔۔۔۔ محبتیں عذاب ہوتی ہیں چاہتیں سراب ہوتی ہیں دل لگی میں اگ ہوتی ہیں عشق میں فراق یار ہوتی ہیں بن مانگی مراد سی یہ محبتیں عام سے لوگوں کے لئے بہت نایاب ہوتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کمرے میں داخل ہوا تو توقع کے عین مطابق حیات منہ پھلائے کمرے میں اندھیرا کئے صوفے پر پیر اُپر کئے بیٹھی تھی۔ "حیات بیگم!!ابھی سے اتنا اندھیرا آج جلدی سونے کا ارادہ ہے کیا۔"وہ اپنے پاؤں شوز سے آزاد کرواتا شرارت سے بولا۔جس کا چہرہ اندھیرا ہونے کے باعث واضح نہیں تھا۔ "کچھ بولو بھی اب۔۔۔خاموش کیوں بیٹھی ہو۔"دوسری جانب ہنوز خاموشی تھی۔ "نہیں بات کرنی تو تمہاری مرضی۔میں تو ویسے بھی ایک شاندار سا دن گزارنے کے بعد بہت تھک گیا ہوں۔۔اب تو آرام کرونگا۔"وہ لائٹ آن کرنے کا اراده ترک کرتا دھڑام سے بستر پر گرا تھا۔ "افف!!اتنے روز بعد آج اُجالا کے ساتھ ٹائم اسپینڈ کیا ہے۔اتنا مزہ آیا مجھے تو۔"وہ معنی خیزی سے مسُکراتا دوسری جانب کا رئیکشن دیکھنا چاہتا تھا۔ "ویسے اُجالا میں یہی بات سب سے اچھی ہے۔بندے کو بور نہیں ہونے دیتی۔اتنی باتیں کرتی ہے۔مجھے تو ویسے بھی باتیں کرنے والی لڑکیاں زیادہ پسند ہیں۔بانسبت خاموش طبع لڑکیوں کے۔"شیر افگن نے اس کی ساری کالز میسجز سب اگنور کیا تھا۔اور اب شاید وہ بدلہ لے رہی تھی۔ "چپ کا روزہ رکھ لیا ہے کیا۔"وہ کہنی سر کے نیچے لگا کر تھوڑا اونچا ہوا۔ "اچھا بھئی!نہیں بات کرو۔تمہاری مرضی پیاری بیگم۔پھر میں اپنی ہونے والی دوسری بیوی سے بات کر لیتا ہوں۔پہلی والی تو منہ ہی نہیں لگا رہی۔تو ظاہر ہے اب دوسری والی کا ہی انتظام کرنا پڑے گا۔وہ کلائی کی گھڑی اُتارتا اب سر تکیہ پر رکھ چکا تھا۔ "ہاں تو دوسری بیوی کو ابھی ہی ساتھ لے آتے ناں تاکہ وہ اچھے سے انٹرٹینٹ کر دیتی آپکو۔۔"رونے کے باعث رندھی ہوئی آواز سے وہ کر تلخی سے بولی۔ "حیات تم روتی رہی ہو؟"اس کی ساری شوخی اس کی آواز میں گھلی نمی محسوس کر پل میں ہوا ہوئی تھی۔ "مجھے کیا ضرورت پڑ گئی رونے کی۔"دُکھ کے باعث آواز مزید گلے میں پھنس گئی تھی۔جبکہ آنسو تھے کہ بس گالوں پربہتے ہی چلے جا رہے تھے۔ "اوہ مائی گاڈ لڑکی۔۔۔۔۔تم جب سے رو رہی ہو "شیر جلدی سے بیڈ چھوڑ کر کھڑا ہوا تھا۔ "یہاں دیکھو میری طرف، تم ابھی بھی رو رہی ہو۔"وہ لائٹ آن کرتا اس کے پاس چلاآیا تھا۔جو رُخ پھیر کر بیٹھ گئی تھی۔
