Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 06
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 27/09/2025
5 Views
Episode no 06
#دھوپ_چھاؤں_سا_ہرجائی #از_ہما_قریشی #قسط_نمبر_6 ___________________________ "ہیلو!"آج سنڈے تھا تو وہ ذرا دیر تک سوتا رہا تھا۔ "ہیلو کے بچے!کہاں ہے توبھائی ؟تو تو ہمیں بالکل بھول ہی گیا ہے۔آج صائم کا برتھڈے ہے۔ہم لوگ فارم ہاؤس پر جارہے ہیں۔اس كنوارے کو تو بول دیا تھا۔بھائی تو بھی آجا اپنی وائف کو لے کر۔"نعمان نے ڈائریکٹ بولنا شروع کردیا تھا۔ "یار!!میں تو مصروف ہوں ابھی۔۔"آنکھیں مسل کر کہنیوں کے بل اٹُھتا وہ ابھی شاور لے کر باہر آتی حیات کو دیکھ بیزاری سے بولا۔ "تیری مصروفیات بھی اچھے سے معلوم ہیں مجھے۔سہی ہے بھائی۔۔تو مصروف رہے۔ہم كنوارے خود ہی اپنی پارٹی انجوئے کر لیں گے۔"وہ منہ بنا کر بولا تھا۔ "ارتضی آرہا ہے کیا ؟"وہ آئی برو اُٹھا کر سوالیہ بولا۔جبکہ حیات اب آئینہ کے سامنے کھڑی بال جھٹک کر سُکھانے میں مصروف تھی۔ "نہیں!وہ بھی تو تیری طرح مصروف آدمی ہے۔ابھی اس کی بیوی نہیں آئی تو یہ حال ہے۔بعد میں تو شاید دوستوں کو منہ بھی نہیں لگائے گا۔"نعمان تو تپا ہی بیٹھا تھا۔ "اچھا چل تو ارحم اور اپنی گرل فرینڈز کے ساتھ صائم کی برتھڈے سلیبریٹ کرلے۔میں پھر کبھی اؤنگا۔چل اب رکھ صبح صبح نیند خراب کردی۔"وہ جمائی روک کر بولتا کھٹ سے موبائل آف کر چکا تھا۔ "کیا ہوا؟"حیات آئینے سے مسلسل شیر کی نظریں خود پر مركوز دیکھ چونک کر پلٹی۔ "کچھ نہیں۔۔۔بس ایسے ہی۔"وہ نرمی سے مسکرایا۔ "اچھا! مجھے لگا میں آج زیادہ پیاری لگ رہی ہوں۔"اِس کی شوخی پر شیر نے خفگی سے گھورا۔ "ہاہاہا!!!حیات ڈارلنگ ذرا خوابوں کی دنیا سے باہر آجائیں۔"وہ اُٹھ کر اس کے پیچھے آکھڑا ہوا تھا۔ "آپ ابھی کس سے بات کر رہے تھے؟وہ پلٹ کر سوالیہ لہجے میں بولی۔ "یار ایک دوست تھا۔فارم ہاؤس پر بلا رہا تھا۔"وہ اس کے پشت پر پھیلے سلکی لنبے بالوں میں ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا کیچر اٹُھا کر لگتا نرم لہجے میں بولا۔ "تو پھر آپ نے منع کردیا۔"وہ سینے پر دونوں ہاتھ رکھتی استفساریہ بولی۔۔ "ہاں!کیونکہ آج میرا ارادہ اپنے کسی بہت خاص سے ملنے کا ہے۔"اُس کے ہاتھ تھام کر لبوں سے لگاتا وہ شرارت سے مسکرایا۔ "همم!!اب یہ خاص شخصیت کون ہے؟"حیات نے سمجھنے والے انداز میں سر ہلا کر پوچھا۔ "بس ہے میری ایک گرل فرینڈ!"اب وہ اس کے تاثرات سے حظ اٹُھا رہا تھا۔۔جبکہ وہ حیرت سے منہ کھولے دنگ رہ گئی۔ "کیا؟آپ نے میرے ہوتے ہوئے بھی گرل فرینڈ رکھی ہوئی ہے؟" "ظاہر ہے۔ایک گھر والی اور دوسری باہر والی۔"شیرافگن ہولے ے اس کا گال تھپتھپاتا، ڈریسنگ روم کی جانب بڑھا تھا۔ "ایک منٹ!ایک منٹ۔۔۔آپ مجھ سے مذاق کر رہے ہیں ناں؟"حیات کی تو جان پر بن گئی تھی۔ "بالکل نہیں۔۔۔"شیر سینے پر بازو لپیٹتا دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑا ہوتا اُس کی چہرے کے اُتار چڑھاؤ دیکھنے میں مصروف تھا۔۔ "افگن!حیات جھٹ آنکھوں میں آنسو بھر لائی تھی۔ "کیا افگن؟؟؟تمھیں یہ خوش فہمی کیوں ہے کہ میں صرف تم سے بات کرتا تھا ؟"افگن نے آئی برو اُٹھا کر استہزایہ مسکراہٹ سے پوچھا تھا۔ "تو پھر؟ایک آنسو ٹوٹ کر گال پر پھسلتا بے مول ہوا تھا۔ "تو پھر یہ حیات بیگم میں تو ایک I love you کا میسج لکھ کر سینڈ ٹو آل گرل فرینڈز کرتا تھا۔"شیرافگن نے جتنے سپاٹ انداز میں بولا تھا حیات کی آنکھوں میں بے یقینی سے اتر آئی تھی۔ "اوہ!میں کیسے بھول گئی۔۔آپ کو تو عادت ہے مذاق کرنے کی۔"جلدی سے اپنے آنسو صاف کرتی وہ سمجھ آنے پر مسکرائی تھی۔ "تمھیں میرے لہجے سے لگ رہا ہے کہ میں مذاق کر رہا ہوں۔"شیر کا لہجہ مذاق اُڑاتا ہوا تھا۔آئی برو اُچکاکر بولتا وہ اس کا دل دہلا گیا تھا۔۔۔ "ہاں!آپ یہ بات مذاق میں کر رہے ہیں۔ورنہ اگر آپ اتنے ہی دل پھینک قسم کے انسان ہوتے تو آج اس روم میں میری جگہ کوئی اور ہوتی۔یا پھر کوئی بھی نہ ہوتی۔"حیات کے لہجے میں محبّت کا مان واضح تھا۔ "واہ بھئی!بڑا یقین ہے اپنی محبّت پر۔"شیراس کا گال دو انگلیوں سے بجاتا واپس روم میں آتا جتاتے لہجے میں بولا۔۔ "ہاں ہے یقین جبھی تو میں یہاں پر موجود ہوں۔"اب وہ بھی ساتھ ہی ڈریسنگ روم سے باہر آئی تھی۔ "چلو پھر تم اپنی محبّت کے اس کچے مینار پر اپنے یقین کا پرچم بلند رکھو۔میں ذرا ایک ڈیٹ بھگتا آؤں۔"معنی خیزی سے آنکھ کا کونہ دباتا وہ واش روم میں بند ہوگیا تھا۔ "ہاں ہاں ضرور جائیں۔۔اور شوق سے جائیں۔اتنا تو میں اپنے شیرافگن کو جانتی ہوں۔وہ کسی لڑکی کے ساتھ ڈیٹ پر نہیں جاسکتے۔جب تین سال کے ہمارے ریلیشن شپ میں آپ نے کبھی مجھے ڈیٹ کے لئے فورس نہیں کیا۔تو کسی اور کو کیا کریں گے۔میرا دل نہیں جلنے والا۔"وہ واشروم کے گیٹ کے نزدیک آتی زور سے بولی تھی۔وہ دانت پیس کر مسکراتا کر ایک جھٹکے سے گیٹ کھول کر باہر آیا تھا۔ "وہ کیا ہے ناں حیات بیگم میری ساری گرل فرینڈز تمہاری طرح مڈل کلاس نہیں ہیں۔ان کے لئے یہ معمولی سی ڈیٹ وغیرہ کوئی بڑی بات نہیں۔اب یوں میرے سر پر سوار نہیں ہو۔جاكر ناشتہ تیار کرواؤ۔"شیرافگن دل جلاتی مسکراہٹ کے ساتھ بول کر حکم سنُاتا واشروم میں غائب ہوگیا تھا۔ "میں مڈل کلاس۔۔۔"حیات کو اپنے اندر یکدم کچھ ٹوٹتا ہوا محسوس ہوا تھا۔اور پھر نظر بھر کر ہاشمی ولا کے محل جسے کمرے کو دیکھا تھا۔اور پھر روہانسو سی صوفے پر جاكر بیٹھ گئی۔ "اب کیا سوگ منانے بیٹھ گئی ہو۔جاؤ جاكر گھر کے کام وغیرہ دیکھو ذرا۔"وہ ایک بار پھر دروازہ کھول کر سر نکال کر بولا۔ "جارہی ہوں۔۔مگر یاد رکھئے گا۔اگر آپ نے کسی چڑیل کو ڈیٹ پر لے جانے کے بارے میں سوچا بھی ناں تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا۔"وہ ایک بار پھر باور کروانا ہرگز نہیں بھولی تھی۔ "ویسے یہ کونسی دوست ہے آپ کی۔جو صبح سویرے ہی ڈیٹ پر جانے کو مری جارہی ہے۔"وہ گال پر ہاتھ رکھتی پر سوچ ہوئی۔ "اب ہر کوئی تمہاری طرح پاگل تو نہیں ہوتا ناں جو دن رات کا حساب ہی لگاتا رہے۔"وہ اب باہر ہی اگیا تھا۔ "یہ آپ شاور لینے گئے تھے یا پھر پانی کو چھونے گئے تھے۔"وہ اسے یونہی دیکھ طنزیہ بولی۔ "شاور میں بعد میں لونگا۔پہلے ذرا تمھیں اس کمرے سے تو باہر نکال دوں۔"وہ ایک لمحے میں اس کا بازو پکڑ کر کمرے سے باہر نکال چکا تھا۔ "بدتمیز۔"حیات اسے روم لوکڈ کرتا دیکھ بڑبڑآتی ہوئی وہاں سے نکل آئی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "عابثہ۔۔۔"وہ اُچھلتی کودتی ابھی گھر میں داخل ہوئی تھی۔جبھی نانی بیگم کی پاٹ دار آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی۔ "جی ۔۔"اتنی تابعداری۔۔افف۔۔نانی بیگم نے ناک پر رکھا عینک درست کر کے تنقیدی نگاہوں سے اپُر سے لے کر نیچے تک اس کا جائزہ لیا تھا۔ "اِدھر اؤ۔۔وہ آج بہت کچھ سوچے بیٹھی تھیں۔ "جی بولیں۔"وہ ساتھ آبیٹھی تھی۔ "دیکھو لڑکی۔ویسے تو تم ہمیں ایک آنکھ نہیں بھاتیں۔"انہونے بات کا آغاز کیا۔ "کوئی نئی بات کریں۔"وہ ہلکی آواز میں بڑبڑآئی۔ "بالکل سیدھی اور کھری بات یہی ہے کہ ہم اب مزید تمہیں اس گھر میں برداشت نہیں کرسکتے۔تو جلدی ہی تمہارے لئے کوئی مناسب رشتہ دیکھ کر چلتا کریں گے۔"وہ ناگواری سے بولی تھیں۔ "مجھے شادی نہیں کرنی۔بہتر ہے کہ آپ میرے بارے میں فکر کرنا چھوڑ دیں۔"وہ آج تلخ ہوگئی تھی۔ "دنیا دکھاوے کو ہی سہی مگر بی بی تم ہماری ذمہ داری ہو۔عزت سے اس گھر سے رخصت ہوجاؤ۔پھر تم جانو اور تمہارے کام۔"وہ بھی دو لمحوں میں عزت صاف کر گئی تھیں۔ "کہا ناں آپ کو میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔اپنی فکر
