Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 05
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 27/09/2025
5 Views
Episode no 05
اس شہر کبھی اس شہر!ایک جگہ پر ٹھرو تو میں کچھ سوچوں بھی۔‘‘وہ نرم نگاہوں سے دیکھتی شکوہ کر گئیں۔ ’’کیا کروں دادی جانی!کام ہی ایسا ہے میں آپ کو بہت مس کرتا ہوں۔آپ نے تو بالکل ہی اکیلا کردیا ہے مجھے؟‘‘وہ ان کی گود میں شکوہ کرتا بالکل معصوم بچہ لگا تھاْ۔ ’’آپ کچھ بھی نہ کرو میرا بچہ !آپ شادی کرلو۔اب میں تمہاری دلہن دیکھنا چاہتی ہوں۔اپنے بچے کو آباد اور خوش دیکھنا چاہتی ہوں۔‘‘دادی نے اپنی دل کی بات کہی تو ارتضیٰ جھٹ سے آنکھیں موند گیا۔ ’’ارتضیٰ!‘‘ ’’جی ددای بولیں ناں میں سُن رہا ہوں۔‘‘ زینت خاتون نے اس کے سر پر ایک چپت لگائی تھی۔ ’’ارتضیٰ اس بوڑھی دادی کی آخری خواہش پوری کردیں۔اور کسی اچھی سی لڑکی سے شادی کرلیں۔‘‘وہ ایسے قائل کرنا چاہ رہی تھیں۔ ’’کرلوں گا۔پہلے بزنس سیٹ کرلوں۔پھر آپ کی پسند سے ہی کرونگا۔‘‘وہ آنکھیں میچے انہیں تسلی کرا گیا تھا۔ ’’اچھا اُٹھیں جلدی سے اپنی نواسی سے کہیں اپنے شوہر کی خدمتیں بعد میں کرے پہلے مجھے اپنے ہاتھ کا پلاؤ بنا کر کھلائے۔پھر رات میں مجھے واپسی کے لیے بھی نکلنا ہے۔‘‘وہ ان کا زہن بھٹکانے کے لیے ایک دم ہی اُٹھا تھا۔جبکہ وہ اس کے جانے کا سُن کر اُداس ہوگئی تھیں۔مگر پابندیاں لگانا اور کسی کو روکنا تو زینت بیگم نے سیکھا ہی نہیں تھا۔وہ اس کی رضا میں راضی تھیں۔ ’’ہاں ہاں!ابھی بولتی ہوں۔جاؤ تم چینچ کر کے آؤ۔۔۔‘‘وہ بھی اس کی پسند کا خیال کرتیں جلدی سے اُٹھی ٹھیں۔جبکہ اس کا اِرادہ دادی کے بستر پر تھوڑا اور لیٹنے کا تھا۔ ’’ابھی کرتا ہوں۔بس آپ جلدی سے بول کر واپس آئیں میں نے آپ سے بہت ساری باتیں کرنی ہیں۔‘‘وہ آنکھیں موند کر لیٹ گیا تھا جبکہ وہ جائے نما ز ایک جانب رکھتیں اٹھ کھڑی ہوئی تھیں۔ زینت خاتون اور ارتضی کے داداپرویز کا آبائی گھر کوئٹہ میں ہی تھا۔قیام پاکستان کے وقت وہ انڈیا سے ہجرت کر کے کوئٹہ شہر میں ہی آئے تھے۔اور یہیں اپنی نسل کو پروان چڑھایا تھا۔ارتضیٰ عباس کے والد اور والدہ یونیوسٹی کے زمانے کے دوست تھے۔پھر ارتضیٰ عباس کی پیداش کے بعد فہمیده بیگم کے بےحد اسرار پر وہ پاکستان سے باہر موو کر گئے تھے۔ فہمیده کی فیملی ہمیشہ کے لیے پاک سے امریکا موو کر گئی تھی۔ایسے میں انہیں کوئٹہ شہر میں رہنا خاصہ برا لگتا تھا۔مگر وقت گزرا اور ولید صاحب بیگم کی سخت مخالفت کے باوجود ان کی نہ کو کسی بھی خاطر میں لائے بغیر ارتضیٰ کو ماں کی گرتی طبیعت کے پیش نظر پاک بھیج چکے تھے۔اس کی اسکولنگ امریکا میں ہی ہوئی تھی جبکہ اعلی تعلیم پاکستان سے ہی مکمل کی تھی۔ارتضیٰ عباس دادی سے خاصہ مانوس ہوچکا تھا۔جبھی پھر وہ کبھی پلٹ کر امریکا واپس نہیں گیا تھا۔پرویز کے علاوہ ان کی دو بیٹیاں بھی تھیں ایک کی شادی اسلام آباد میں جبکہ دوسری شادی کے بعد جاپان شفٹ ہو گئیں تھیں۔پرویز صاحب نے کبھی اپنے کسی بچے پر کسی قسم کی کوئی پابنندی نہیں لگائی تھی۔سب کے بچے اپنی زندگیوں میں مگن تھے جبکہ دوسری بیٹی کی سب سے بڑی بیٹی کا خاوند سرکاری ملازم تھا اور آج کل اس کی پوسٹنگ کوئٹہ شہر میں ہونے کے باعث وہ انہی کے ساتھ رہ رہا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’بس اب مجھ سے مزید نہیں چلا جا رہا۔آپ جائیں شاپنگ کریں میں جا رہی ہوں۔‘‘حیات کی بس ہوگئی تھی۔پچھلے تین گھنٹوں سے طارق روڈ کے ڈالمین مال میں گھومتا شیرافگن اس کے لیے پتہ نہیں کیا کچھ خرید چکا تھا۔ ’’ارے یار!لڑکیوں کو تو اتنا شوق ہوتا ہے شاپنگ کا اور تم ہو کہ زرا سا چل کر ہی تھک گئی ہو۔‘‘شیر کو اُلجھن سی ہوئی۔ ’’لڑکیوں کو ہوتا ہوگا۔مجھے یعنی حیات کاظمی کو بالکل بھی شاپنگ کا شوق نہیں ہے۔اور پچھلے تین گھنٹوں میں ہم شاپنگ ہی کر رہے ہیں ۔‘‘حیات کو چڑ سی ہوئی تھی۔مطلب وہ ابھی صرف کیجول ڈریسسز کی شاپنگ پر آئے تھے۔اور شیر نے اس کے لئے چیزوں کی دکان لگا دی ولیمہ کی شاپنگ پر یہ بندہ نا جانے کیا کرنے والا تھا۔ ’’چلو یار آؤ!پھر پہلے کچھ کھا لیتے ہیں پھر گھر چلیں گے۔‘‘اس کا ارادہ فوڈ کورٹ میں جاكر پیٹ پوجا کرنے کا تھا۔مگر حیات نے فورا انکار کیا۔ ’’نہیں پلیز افگن!! ابھی میرا بالکل بھی دل نہیں کر رہا کیا ہم ابھی گھر نہیں چل سکتے۔‘‘وہ معصوم سا منہ بنا کر التجائیہ بولی۔شیر نے اس کی قاتلانہ اداؤں پر آنکھیں گھمائیں۔ ’’اوکے وائفی!چلو۔۔‘‘مسکرا کر اس کے گلے میں بازؤں کا حصار ڈالتا مال کے اگزٹ دور کی جانب بڑھا تھا۔جبکہ دور سے دو آنکھوں نے یہ منظر بڑی نفرت سے دیکھا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’یار تو کہاں غائب ہے آج کل؟‘‘نعمان ارتضیٰ عباس کے آفس میں آندھی طوفان کی مانند سیلابی ریلے کی طرح بغیر اجازت ہی داخل ہوا تھا۔ ’’یہیں ہوں میں مجھے کہاں جانا ہے۔‘‘لیپ ٹاپ پر بزی ارتضیٰ عباس نے محض ایک نظر اُٹھا کر اس پر ڈالی تھی۔جو ہمیشہ کی طرح ہوا کے گھوڑے پر سوار تھا۔ ’’وہی تو میں پوچھ رہا ہوں نا دوستوں کے ساتھ بیٹھک لگا رہا ہے۔ناہی کسی پارٹی میں ہوتا ہے ،اور وہ شیر افگن خفیہ شادی کر کے وہ تو بیوی کاہی ہو کر رہ گیا ہے۔بھائی وہ تو شادی شدہ ہوگیا ہے۔مگر تیری تو ابھی شادی بھی نہیں ہوئی اتنا آدم بیزار کیوں ہے تو۔‘‘نعمان کے تبصرے پر اس کے ماتھے پر بل پڑ گئے تھے۔ ’’یہ تم دیسی بیویوں کی طرح کے سوال جواب نہیں کیا کرو مجھ سے۔‘‘وہ سرد لہجے میں بولا تھا۔ ’’تو پھر تو بتا دے ۔کیا پوچھوں تجھ سے۔۔کہ کنوارے بھائی لائف کیسی چل رہی ہے؟‘‘وہ تنک کر بولا۔ ’’بھابھی اور بچے کیسے ہیں؟‘‘وہ مزید طنزیہ لہجے میں بولا۔مگر مقابل بہرا ہوا بیٹھا تھا۔ ’’تم کچھ نہیں پوچھوں فارغ آدمی بلکہ سیدھی طرح سے نکل جاؤ یہاں سے ۔ورنہ گاڑدز کو بلاؤنگا۔۔‘‘وہ چئیر پر آرام دہ آنداز میں بیٹھتا اس کی عزت افزائی کر گیا ۔ ’’ہاں جارہا ہوں ۔مجھے تو ویسے بھی یہ فائلز اور تجھ جیسے کھڑوس دوست کو دیکھ کر وحشت سی ہونے لگی ہے۔‘‘نعمان جھرجھری لے کر قیاسہ آرائی کرتا سر جھٹک گیا۔ ’’ویسے خیر میں تجھے بتانے آیا تھا کہ کل ہم لوگ فارم ہاؤس پر جارہے ہیں تو بتا آرہاہے ناں پھر؟‘‘وہ اطلاع دینے کے ساتھ اس کی رائے کا منتظر کھڑا تھا۔ ’’دیکھوں گا وقت ملا تو آجاؤ ں گا۔‘‘وہ بیزاری سے ٹال کر لیپ ٹاپ پر مصروف ہو گیا۔ ’’ چل خیر ہے ۔۔میں نکلتا ہوں شینہ کو پک بھی کرنا ہے مجھے یونی سے۔‘‘وہ کلائی پر بندھی ریسٹ واچ پر وقت کی رفتار دیکھ فوراً سے بھاگا تھا ورنہ اس نے ناراض ہو جانا تھا۔ ’’پلیز جاؤ!مہربانی ہوگی۔‘‘ارتضیٰ عباس کو کام کے بیچ میں کسی بھی دوسرے کی مداخلت سر چوٹ لگتی تھی۔جبکہ نعمان بڑبڑا کر آفس سے باہر نکل گیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔
