Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 05
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 27/09/2025
5 Views
Episode no 05
۔بھاگ دوڑ میں انہیں لنچ کرنے کا وقت ہی نہیں ملا تھا۔ ابھی بھی وہ اپنے اسٹور کے لیئے سائٹ وزٹ پر تھا۔اس کاارادہ پاکستان کے بعد ورلڈ وائیڈ اپنے گروسری اسٹورز ،اور ہوٹل کی ایک چین بنانے کا تھا۔جس کے لیے وقت کے ساتھ ساتھ بہت محنت بھی درکار تھی۔وہ دونوں اس وقت ایک رستوران میں موجود تھے ۔آرڈر وہ پہلے ہی دے چکے تھے۔ہلکی پھلکی سی باتوں میں مصروف وہ سنجیدگی سے کسی موضوع پر محو گفتگو تھے۔ لذیز کھانوں کی اشتہاانگیز خوشبوں پورے رستوران میں پھیلی ہوئی تھی۔کچھ ہی دیر میں کھانا سرو کردیا گیا تھا۔وہ دونوں اپنی باتوں میں محوِ رغبت سے کھانا کھانے میں مصروف تھے۔جب کوئی نازک وجود ان کے ساتھ آ بیٹھا تھا۔دونوں کھانے سے ہاتھ روک کر چونک کر ٹھر گئے تھے۔جبکہ عابثہ مزے سے جگہ سنبھال چکی تھی۔ ’’آپ کون؟‘‘وہ حیرانگی سے گویا ہوئے ۔ارتضیٰ عباس نے اچھنبے سے اس کی ڈریسنگ پر غور کیا تھا۔جو ٹائٹ جینز اور شارٹ ٹاپ پر سر پر خوبصورتی سے اسکارف لپیٹے ہوئے تھی۔۔جبکہ عابثہ کی آنکھوں میں شرارت ر قص کر رہی تھی۔سانولے سے ہاتھوں میں لززش واضح تھی۔ ’’میں؟میں وہ۔۔۔ آپ مسٹر زبیر ہیں ناں۔‘‘وہ گڑبڑا کر سیدھی ہوتی ناسمجھی سے بولی ۔ ’’نہیں۔۔‘‘وہ دونوں ہی ساتھ میں انکاری ہوئے تھے۔ ’’اوہ!سوری سوری میں غلطی سے بیٹھ گئی۔رئیلی سوری ۔۔‘‘وہ جلدی سے مسکرا کر بہانہ گھڑتی دور ٹیبل پر براجمان شخصیت کی جانب بڑھی جو مسکراہٹ روک رہی تھی۔ ’’کون تھی بھائی یہ لڑکی؟‘‘شیر نے مسکراکرحیرانگی سے پوچھا۔ ’’پتہ نہیں یار! چھوڑ ایسے یہ بتا ہم کہاں تھے۔‘‘وہ نخوت سے سر جھٹک گیا۔عابثہ کے کپڑے اور اس اسکی حرکت دونوں نے اس کا دماغ ٹھٹھکا دیا تھا۔ ’’مجھے تو لگا وہ تیری وجہ سے آئی تھی۔‘‘شیر کا آندازہ تقریبً درست ہی تھا۔ارتضی نے گھوری سے نوازتے مسکراہٹ روکی۔۔ ’’صبح شام ایسی پتہ نہیں کتنی ملتی ہیں یار۔۔بس ایسے بھی میرا نمبر چاہیے ہوگا۔‘‘ارتضیٰ عباس کھانے سے بھرپور انصاف کرتا سر جھٹک کر گویا ہوا۔ ’’ہاہاہا! دے دیتا کیا ہوا تو۔کیا پتہ اس بار مجھے بھی بھابھی مل جاتیْ‘‘وہ ایک آنکھ کا کونا دبا کر شرارت سے مسکرایا۔ ’’اتنا گیا گزرا بھی نہیں ہے میرا اسٹیندرڈ۔۔کہ ہر راہ چلتی کو تیری بھابھی بنادوں۔‘‘وہ اس کے کلر کمپلیکشن پر طنز کر گیا تھا۔جو دور بیٹھی مسکرا کر کسی سے باتوں میں مشغول تھی۔جبکہ شیر افگن کی مسکراہٹ پھیکی پڑ گئی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’السلام و علیکم!‘‘افگن لنچ کے بعد سیدھا گھر واپس آیا تھا۔ناصر صاحب جو آفس سے آنے کے بعد کیجول ڈریس میں ملبوس ٹی وی لاؤنج میں بیٹھے موبائل پر مصروف تھے کہ سامنے سے آتے شیرافگن کو دیکھ چونک گئے۔ ’’وعلیکم السلام برخورادر!فرصت مل گئی گھر چکر لگانے کی؟‘‘وہ طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ بولے۔رف اینڈ ٹف سے حلیہ میں ملبوس افگن جو پشت پر کوٹ ڈالے ان سے بات کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ان کا انداز دیکھ اراداہ ملتوی کرتا سر جھٹک کر ایک گہری سانس فضا کے سپرد کر اپنے کمرے کی جانب بڑھا۔ ’’یہاں آؤ!مجھے کچھ بات کرنی ہے۔‘‘اس کے سیڑھیوں کی جانب جاتے قدم ٹھٹھک کر ٹھرے تھے۔ ’’جی کہیں!‘‘وہ کالر کا بٹن کھولتا سامنے کے صوفے پر نشست سنبھال گیا۔ ’’خیر سے تمہارے جلد بازی کے نکاح کو مہینہ ہونے والا ہے۔میں سوچ رہا ہوں کہ شادی تو ہوہی چکی اب ولیمہ کی دعوت میں باقاعدہ تمہاری شادی کی اناؤنسمنٹ کردی جائے۔‘‘وہ زرا پر سوچ دکھائی دے رہے تھے۔ ’’جو دل میں آئے وہ کریں مجھ سے کیوں پوچھ رہیں ہیں؟‘‘شیر کی تیوری چڑھ گئی تھی۔ ’’صاحب زادے پوچھ نہیں رہا بتا رہا ہوں۔‘‘وہ بھی اسی کے باپ تھے۔شیر نے دانے کچکچائے۔ ’’اچھا!تو پھر میں جاؤں۔‘‘شیر جزبز ہوا۔ ’’’ہاں جاؤ!مگر میری ایک بات کان کھول کر سن لو۔اب تمہاری شادی ہوگئی ہے۔شادی کے بعد انسان پر زمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔تم اپنا بزنس شروع کرنا چاہ رہے ہو۔اچھی بات ہے۔مگر میرے نزنس میں بھی زرا ہاتھ بٹاؤ میں کب تک اکیلے سب سنبھالوں گا۔‘‘ان کی بات میں وزن تھا۔ ’’میری کیا ضرورت پڑ گئی آپ کو۔اتنے سالوں سے بھی تو ہاشمی بلڈرز کام کر رہی ہے نا تو ابھی بھی کر لے گی۔‘‘وہ نخوت سے بولا۔ ’’بکواس نہیں کرو،بیٹے ہو تم میرے۔‘‘وہ تیز لہجے میں بولے۔ ’’اور جب جائیداد سے عاق کرنے کی دھمکی دے رہے تھے۔جب بیٹا کہاں چلا گیا تھا۔‘‘وہ بھی سلگ کر رہ گیا تھا۔ ’’تم تو جیسے بڑے میری دھمکی میں آنے والی شے ہو نا۔‘‘ان کے گھورنے پر وہ منہ بنا گیا۔مگر خاموش رہا۔ ’’ اس وقت غصہٰ میں تھا۔تمہاری وجہ سے اس معصوم کی زندگی خراب ہوگئی اور تم نکاح سے انکاری ہورہے تھے،تو طیش میں مجھے اس وقت جو صحیح لگا میں نے وہی کیا۔‘‘ان کا لہجا ابھی بھی سردگی لئے ہوا تھا۔ "جیسے میں نے تو آپ کی دھمکی میں آجانا تھا۔"وہ استہزائیہ مسکرایا۔۔ ’’اچھا میں جا رہا ہوں ۔دراصل میری پیاری بیوی میرا انتظار کر رہی ہوگی۔آپ کی بیوی کی طرح نہیں ہے۔جو ہر وقت پارٹیز میں رہے۔‘‘پلٹ کر جاتا وہ انہیں تپانا نہیں بھولا تھا۔ ’’شٹ اپ!ماں ہے تمہاری۔‘‘ان کو کبھی کبھی سمجھ نہیں آتا تھا کبھی اتنے چہیتے ماں بیٹا بن کر گھومتے تھے۔اور کبھی آگ اور پانی بن جاتے تھے۔ ’’خیر حیات بیٹی کو اس کی پسند سے شاپنگ کروا دو۔ایسے بالکل بھی اکیلا پن محسوس نہیں ہونا چاہیے۔بڑی پیاری بچی ہے۔‘‘حیات کے زکر پر ان کے لہجے میں شفقت در آئی تھی۔ ’’جی !غلام کے لیے اور کوئی حکم۔‘‘وہ سر پھینک کر بولا۔ ’’اور ہاں!اپنے ان آوارہ دوستوں کی گیدرنگ چھوڑ دو۔اور آئند تم مجھے ڈرنگ کرتے ہوئے نظر بھی آئے ناں تو بغیر بتائے ہی عاق کردوں گا۔‘‘ناصر صاحب کی نصحیتیں تو ختم ہونے والی تھیں نہیں۔وہ خود ہی بڑ بڑاتا ہواکمرے کی جانب بڑھا ۔جنہیں ساری غلط رپورٹیں جانے فراہم کون کرتا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئٹہ شہر کے اونچے ہیبت ناک پہاڑوں پر جون جولائی میں بلا کی گرمی تھی۔ ٹھنڈے علاقوں کے رہنے والوں کو تو ویسے بھی گرمی ناقابل برداشت ہوتی ہے۔شہر میں درجہ حرارت کوئٹہ کے شہریوں کے لحاظ سے خاصہ زیادہ ہی تھا۔ کوئٹہ کے عباسی ہاؤس میں اس وقت خاصی چہل پہل تھی۔دن ڈھل چکا تھا۔سورج اپنی کرنیں سمیٹتا پہاڑوں کے پیچھے غروب ہونے کو تھا۔ڈبل اسٹوری بنگلو کے گارڈن میں عبّاس صاحب کے نواسی نواسے کھیل کود میں مصروف تھے،جبھی ارتضیٰ عباس کی کار صدر دروازے سے داخل ہوتی ایک جھٹکے سے پورچ میں ٹھری تھی،آنکھوں پر گلوگز لگائے ارتضیٰ بچوں پر ایک نظر ڈالتا گراؤنڈ فلور پر بنے دادی کے کمرے کی جانب بڑھاتھا۔ ’’السلام وعلیکم!دادی جانی۔‘‘ ’’ارتضیٰ میرا بچہ!‘‘وہ جو ابھی نماز پڑھ کر ہی بیٹھی تھیں کہ پیچھے سے آنکھوں پر کسی کے ہاتھوں کا جانا پہچانا سا لمس محسوس کرتیں خوشی سے چہک اُٹھی تھیں۔ ’’کسی ہیں دادی جانی؟‘‘وہ ان کی گود میں ہی سر رکھ کر نیم دراز ہوچکا تھا۔ ’’میں ٹھیک ہوں۔آپ کیسے ہیں میرا بچہ؟‘‘ ’’میں بالکل ٹھیک ہوں دادی ڈارلنگ !یہ بتائیں کیا آپ کو میری یاد نہیں آتی؟‘‘وہ مصنوعی ناراضگی سے بولتا آنکھیں میچ کر لیٹ گیا ۔ماں کے بعد یہ واحد عورت تھی جس کی آغوش میں آکر ایک الگ ہی سکون ملتا تھا۔ ’’ وہ لمحہ بتا دیئجے جس میں ہم اپنے جگر کے ٹکرے کو نہ یاد کرتے ہوں۔‘‘وہ آبددیدہ ہوگئیں تھیں۔ ’’تو پھر آپ میرے پاس آتی کیوں نہیں ہیں؟کیوں اتنا صبر کرواتی ہیں مجھے؟‘‘وہ اُٹھ کر بیٹھ گیا تھا۔ ’’بیٹا میں بوڑھی جان تمہارے اس محل جیسے گھر میں اکیلے کیا کرونگی؟اور پھر تم کبھی
