Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 05
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 27/09/2025
5 Views
Episode no 05
لائحہ عمل سوچنے کے قابل ہوا تھا۔ ’’چلو ٹھیک ہے مجھے انتظار ہے ولیمے کے چاولوں کا۔‘‘وہ جتانا نہیں بھولا تھا۔ ’’چپ کرو!بھوکے۔۔‘‘میسج سینڈ کر کے وہ کچھ سوچ کر مسکرائی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شیر افگن اور حیات کاظمی کے ایمرجینسی نکاح کو عمل میں آئے ہوئے پندرہ دن کا عرصہ بیت چکا تھا۔دونوں ہی فریقین اپنی اپنی جگہ خاموش تھے۔حیات شیر افگن کی غیر موجودگی کے باعث ہر وقت غم میں ڈوبی رہتی تھی۔ تو شیر آج کل ارتضیٰ عباس کے ساتھ اپنا نیو بزنس سیٹ کرنے میں مصروف تھا۔ناراضگی کے باعث ناصر صاحب کے آفس میں تو اس نے جھاکنا بھی چھوڑ دیا تھا۔روز کی طرح وہ آج بھی لیٹ نائٹ ہی لوٹا۔ جب تک حیات سو چکی تھی۔حیات کو شیر کی شکل پورے چوبیس گھنٹوں میں سے ایک بار دن کے ُاجالے میں ہی دیکھنے کو ملتی تھی۔اپنے قول کے مطابق وہ اس کی ضرورت کی ایک ایک چیز انلائن آرڈر پر منگواچکا تھا۔جو اب اس کے زیِر استعمال تھیں۔ناصر صاحب اپنے بزنس میں مصروف ایک میٹنگ کے سلسلے میں آوٹ اف کنٹری تھے جبکہ زرین بیگم کو اپنی کیٹی پارٹیز سے ہی فرصت نہیں تھی۔ پنک کلر کے شارٹ شرٹ اور ٹراؤزر پر مشتمل نائٹ ڈریس میں ملبوس وہ سنگھار آئینے کے عین سامنے چئیر پر بیٹھی سوچوں میںُ گم بالوں کی لمبی آبشار میں ہئیر برش پھیرنے میں مصروف تھی۔جبھی کوئی آہستہ سے کمرے کا دروازہ کھولتا سست روی سے قدم اُٹھاتا اس کے نزدیک آرہا تھا۔وہ اپنی سُوچوں میں اس قدر محو تھی کہ ایسے تھری پیس میں ملبوس شیر افگن کی آمد کی خبر ہی نہیں ہو سکی تھی۔ جو ہاتھ پر موجود براؤن کوٹ صوفے پر ڈالتا اس کے عین پیچھے آکر ٹھرا تھا۔مگر اس کے ہاتھ اب بھی بالوں میں ہی اُلجھے ہوئے تھے۔جبکہ اس کی جائزہ لیتی گہری نگاہیں اُس کے جھلملاتے سراپے میں اُلجھ سی گئیں تھیں۔ شیرافگن نے اس کا اور اپنا عکس بڑی دلچسپی سے آئینہ میں دیکھا تھا۔سیاہ آنکھوں پر گزار پلکوں کی چلمن گرائے وہ تیکھے نین نقش والی پری پیکر اس کی دن بھر کی ساری تھکان ہوا کر گئی تھی۔جبکہ وہ خود اب وائٹ شرٹ کو کہنیوں تک فولڈ کیے ڈریس پینٹ میں ملبوس اس کے ساتھ پرفیکٹ لگ رہا تھا۔ ’’کہاں گم ہیں مسز!‘‘شیرافگن کی آنکھوں میں یکدم شرارت ابُھری تھی۔عقب سے حیات کے گرد بازؤں کا حصار ڈالے وہ زرا جھک کر اپنی تھوڑی اس کے کندھے پر ٹیکاتا گڑبڑانے پر مجبور کر گیا ۔۔۔ ’’آپ؟آپ کب آئے۔‘‘حیات خفت سے سُرخ پڑتے چہرے پر ہاتھ پھیرتی ،اُس کی پرشوق نظروں سے نگاہیں چراتی خائف سی ہوگئی تھی۔ ’’جبھی جب آپ میرے خیالوں میںُ گم تھیں۔‘‘شیر کو اب اسے چھیڑ کر مزہ آنے لگا۔۔ ’’ہیں کب؟میں تو آپ کے بارے میں بالکل بھی نہیں سو چ رہی تھی۔‘‘حیات نے خشک سے لہجے میں اس کی خوش فہمی دور کی تھی۔ ’’اچھا میرے بارے میں نہیں سوچ رہی تھیں۔تو پھر بتائیں مسز کے میری غیر موجودگی میں آپ کی سُوچوں پر کس کا قبضہ تھا۔‘‘وہ اسے چئیر پر سے کھڑا کرتا اپنے مقابل لاتا مصنوعی سنجیدگی سے بولا۔ حیات دھیمی مسکراہٹ سے مسکرائی جو اب نرم لہجے میں بہت ہی محبت سے مخاطب ہوا تھا۔ ’’میں تو نہیں بتاؤنگی!‘‘حیات کی شرارتی طبیعت نے اچانک انگڑائی لی تھی۔ ’’اچھا! تو نہ بتائیں مگر مجھے تو معلوم ہے۔‘‘شیر جھک کر اپنی ناک اس کی ناک سے مس کرتا مسکرا کر بولا۔ ’’بتائیں پھر کہ میں کس کو یاد کر رہی تھی؟‘‘حیات نے آنکھیں چلا کر پوچھا۔ ’’گارنٹی کے ساتھ کہ آپ مجھے ہی یاد کر رہی تھیں۔اگر آپ اب نہیں مانیں تو وہ ایک الگ بات ہے۔‘‘وہ اس کی شرارت سمجھتا چھوڑ کر اب ڈریسنگ روم کی جانب بڑھا تھا۔ ’’جی نہیں!میں تو ٹرکش ہیرو یمان کے بارے میں سوچ رہی تھی۔کتنا کھڑوس ہے نا وہ۔‘‘حیات قدم اُٹھاتی اس کے پیچھے ڈریسنگ روم میں ہی آگئی تھی۔جو سلائیڈر بند کرتا ایک جھٹکے سے پلٹا تھا۔ ’’اب یہ یمن چمن کون ہے؟‘‘شیر نے ماتھے پر بل ڈالے خفگی سے گھورا۔ ’’لو بھول گئے آپ!ایک دفعہ میں نے بتایا تو تھا میرا فیورٹ ہیرو ہے۔‘‘وہ اس کے تاثرات سے حظ اٹُھاتی ڈریسنگ روم میں اپنی ہنسی کی جلترنگ بکھیر گئی تھی۔شیر کا دھیان اس کے لفظوں کے بجائے اس کی ہنسی پر تھا جو ہنستے ہوئے انتہا کی خوبصورت لگ رہی تھی۔ ’’اور آپ نے کتنا غصہٰ کیا تھا کہ حیات کاظمی آئندہ تمہارے لبوں سے میرے نام کے علاوہ کسی غیر محرم کا نام ادا نہیں ہونا چاہیے۔‘‘وہ ماضی میں کھوئی شیر کے بگڑے تاثرات کا نوٹس ہی نہیں لے سکی تھی۔جس کے ماتھے پر اس کے حوالہ دینے پر بل پڑ گئے تھے۔ ’’اور جب میں نے تمہیں کہا تھا کہ تم میرے علاوہ کسی کا نام نہیں لے سکتیں تو پھر تم کیوں اپنے شوہر کے سامنے کسی غیر کا زکر کر رہی ہو۔‘‘وہ اچانک ہی اسے کمر سے پکڑ کر اپنے قریب کھینچتا سرد لہجے میں بولا۔حیات جو کھلکھلا کر مسکرارہی تھی اس اچانک افتاد پر کھنچتی چلی آئی۔اس کا سر سیدھا اس کے کندھے سے مس ہوا تھا۔ ’’ہاں!وہ تو بس ایونہی مجھے اس کی یاد آرہی تو سوچا آپ کو بتا کر آپ کی غلط فہمی بھی دور کردوں۔‘‘شرارت سے مسکراتی وہ کندھے اچُکا کر بے نیازی سے بولی تھی۔ ’’مطلب تم میرے ہوتے ہوئے کسی غیر مرد کو یاد کر رہی تھیں۔اور یہ بات مجھے بتا کر تم میرے جذبات کی ناقدری بھی کر رہی ہو۔‘‘شیر افگن کو نجانے کیوں بے ساختہ ہی غصہٰ آیا تھا۔اس کی آنکھوں میں چھائی سُرخی دیکھ اب اسے بھی سنجیدہ ہونا پڑا۔ ’’شیر میں صرف مذاق کررہی تھی۔‘‘شیر کی آنکھوں میں پھیلی وحشت نے کہیں نا کہیں اسے سکون سا دیا تھا،جو شاید اس سے خفا ضرور تھا مگر اب بھی محبت انتہا کی کرتا تھا۔ ’’میں آئندہ ایسا فضول مذاق ہر گز بھی برداشت نہیں کرونگا۔میری بات کان کھول کر سنُ لو۔وہ بے ساختہ ہی جھک کر ماتھا چھوتا خود کو کمپوزڈ کرتا پیچھے ہوا ۔حیات نے اُلجھ کر اُسے دیکھا تھا جو اب اپنا نائٹ ڈریس لیے واشروم میں بند ہوچکا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہفتہ کا پہلا دن تھا آج صبح سے ہی شیرافگن ہاشمی اور ارتضیٰ عباس بزنس کے چکروں میں گم گھن چکر بن کر رہ گئے تھے۔ہاشمی بلڈرز اور عباس انٹرپرائز شروع سے ہی شئیرز ہولڈر ہونے کے ساتھ ساتھ بزنس پارٹنرز بھی رہے تھے ۔ ارتضیٰ عباس کے ایک پروجیکٹ میں شیر زاتی طور پر فورٹی نائن پرسنٹ کا شئیر ہولڈر بھی تھا۔مگر ناصر صاحب سے ناراضگی کے بعد شیر پر اپنا الگ بزنس اسٹبلیشڈ کرنے کی ایک الگ ہی دھن سوار تھی جنہونے حیات سے نکاح کرنے کے لئے اس بیس پر مجبو کیا تھا کہ اگر وہ اس رشتہ سے انکاری ہوتا ہے تو وہ ایسے اپنی تمام تر جائیداد سے عاق کر دیں گے۔اب تک اس نے کبھی بزنس میں دلچسپی نہیں لی تھی مگر اب وہ واقعی اپنے بلبوتے پر انہیں کچھ کر کے دکھانا چاہتا تھا۔جس میں ارتضیٰ اس کی بھرپور مدد کر رہا تھا۔اپنے والدین کے گزرجانے کے بعد اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد ہونے کے باعث بزنس کی تمام تر زمہ داریاں پچھلے پانچ سالوں سے وہ باخوبی نبھا رہا تھا۔ تھری پیس سوٹ میں ملبوس سلیوز کہنیوں تک فولڈ کیے کوٹ کو کرسی کی بیک پر ڈالے وہ بڑے ریلیکس آنداز میں بیٹھے تھے۔اس وقت شام کے چار بج رہے تھے
